رنجیت سنگھ اور قلعہ کسک کے راجہ کے مابین تاریخی معرکے کی کہانی

کوہستانِ نمک کے جنجوعہ راجاؤں کی بدقسمتی ہی یہی تھی کہ ان کا ہر فرد فنِ سپہ گری کا پہلوان تو تھا ہی مگر اس جری قوم کو نہ ہی کوئی ہومر مل سکا جو اس قوم کی بہادری کے قصے کو ایک طویل رزمیہ نظم میں پروتا اور نہ ہی ڈیوڈ بینیوف جیسے کسی مصنف اور نہ ہی وولفگانگ پیٹرسن جیسے کسی ہدایت کار کی نظر اس قوم کے تابناک ماضی پر پڑی کہ وہ اس قوم کے بہادروں کے کارناموں پر ٹرائے جیسی شاہکار فلمیں تخلیق کرتے۔ ہماری تیرہ بختی کا آج بھی یہ عالم ہے کہ آسمانوں نے اب تک ہمیں کوئی سنجے لیلا بھنسالی بھی نہیں دیا جو جنجوعہ قوم کے آخری حکمران سلطان فتح محمد خان اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مابین ہونے والے تاریخی معرکے کو سکرین کی زینت بنا دیتا۔
کوہستانِ نمک (سالٹ رینج) کی پہاڑیوں کی عمر اتنی طویل ہے کہ چشمِ تصور میں بھی نہ سما سکے۔ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے مطابق سالٹ رینج کی پہاڑیاں اسی کروڑ، جی ہاں اسی کروڑ برس قبل وجود میں آئیں۔ اس سے پہلے اس علاقے میں سمندر ہوتا تھا۔ یونیسکو نے سالٹ رینج کو ”AN OPEN BOOK OF GEOLOGY“ ، یعنی علمِ ارضیات کی ایک کھلی کتاب کا نام دے رکھا ہے۔ زمانہِ قدیم سے ہی خواہ وہ لاہور اور دہلی کے تاج کی ہوس میں مبتلا غیر ملکی حملہ آور ہوں یا بھلے تجارت کی غرض سے آنے والے تاجر ہوں، انڈیا کے دل تک پہنچنے کے لیے ان غیر ملکیوں کو سالٹ رینج سے ہی گزرنا پڑتا تھا کہ ہندوستان کو وسطی ایشیا سے ملانے والی واحد گزر گاہ ”نندنہ پاس“ ہی تھا۔
غیر ملکی تاجر تو سالٹ رینج کے راجاؤں کو راہداری دے کر نکل جاتے تھے لیکن بیرونی حملہ آوروں کو سالٹ رینج سے گزرنے کے لیے یا تو سالٹ رینج کے حکمرانوں کو جنگ میں شکست دینا ہوتی تھی یا پھر ان کے ساتھ مذاکرات کر کے انہیں رام کرنا ہوتا تھا۔ اس منفرد جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے سالٹ رینج کے حکمرانوں پر مسلسل بیرونی حملہ آوروں کی یلغار کا خطرہ منڈلاتا رہتا تھا جبکہ گکھڑوں کے ساتھ بھی ان کی مڈبھیڑ رہتی۔ اپنی حفاظت کے لیے جنجوعہ قوم کے حاکموں نے پہاڑوں کی چوٹیوں پر قلعے تعمیر کیے۔ آج بھی سالٹ رینج میں کئی تاریخی مقامات کے آثار موجود ہیں۔ قلعہ کسک ان تاریخی مقامات میں سے ایک ہے جس کے آثار آج بھی چکوال شہر سے 38 کلو میٹر کے فاصلے پر تحصیل چوآسیدن شاہ کی دلربا وادیِ جھنگڑ میں کوہِ جودھ کی ایک پہاڑی کی چوٹی پر موجود ہیں۔ قلعہ کے کسک کے علاوہ سالٹ رینج میں ملوٹ، کٹاس، نندنہ، ثمر قند، مکھیالہ اور روہتاس جیسے تاریخی قلعے بھی موجود ہیں۔
قلعہ کسک پر پہلی باقاعدہ یلغار خلجی خاندان کے بانی جلال الدین فیروز شاہ خلجی نے 1290 میں کی۔ فیروز شاہ خلجی سے شکست کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سالٹ رینج کے جنجوعہ راجاؤں نے اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو بحال کر لیا۔ 1398 میں ایک اور بیرونی حملہ آور امیر تیمور کے ہاتھوں کسک کی راجدھانی لٹنے والی ہی تھی کہ اس کے راجہ نے ہوش مندی سے کام لیتے ہوئے امیر تیمور کو دہلی کے تخت کے حصول کی خاطر ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرا دی۔ سال 1810 کسک کا واٹر لو ثابت ہوا جب رنجیت سنگھ جیسے طاقتور مہاراجہ نے مسلسل پانچ ماہ تک کسک کا محاصرہ کیے رکھا اور آخر کار پانی کی فراہمی معطل ہونے اور اس سے بڑھ کر اپنی زبان کی لاج رکھتے ہوئے کسک کا راجہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گیا۔
چوآسیدن شاہ شہر سے ایک سڑک منہالہ گاؤں کو نکلتی ہے۔ سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی یہ سڑک منہالہ اور وٹلی سے گزرتی ہوئی چھوٹے سے گاؤں کسک میں جا کر ختم ہو جاتی ہے۔ کسک گاؤں پہاڑ کے دامن میں واقع ہے۔ جیسے ہی گاؤں میں داخل ہوں تو سب سے پہلے کسک کا مسحور کن تالاب آتا ہے۔ تالاب کی سیڑھیاں، کنارے پر لگے صدیوں پرانے بوہڑ کے درخت، تالاب کے دوسرے کنارے پر قدیم کنواں اور کنویں سے تھوڑا آگے صدیوں پرانا آم کا درخت دیکھنے والوں کو سحر زدہ کر دیتے ہیں۔ تالاب کنارے لگے بوہڑ کے ان درختوں کی چھاؤں میں کسک کے باسی گپ شپ کرتے نظر آتے ہیں جبکہ قدیم کنویں سے آج بھی کسک کی عورتیں پانی بھرتی ہیں۔ جس پہاڑ کے دامن میں کسک گاؤں آباد ہے اسی پہاڑ کی چوٹی پر قلعہ کسک کے مٹتے ہوئے آثار موجود ہیں۔
یہ قلعہ نہیں بلکہ کسی عقاب کا نشیمن تھا۔ اس پہاڑی کے تین اطراف سے پہاڑی پر چڑھنا انسان تو کیا کسی جنگلی جانور کے لیے بھی نا ممکن ہے کہ تینوں اطراف سے یہ پہاڑی بالکل عمودی ہے۔ اس کی چوتھی سمت پر اک زگ زیگ رستہ ہے جس پر چل کر پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنا کوئی آسان کام نہیں۔ اس شمالی سمت پر لگ بھگ 370 فٹ اونچی اور مضبوط دیوار بنائی گئی تھی جو آج بھی اپنی خستہ حالی کے باوجود قائم ہے۔ اس دیوار میں دو چھوٹے چھوٹے دروازے رکھے گئے تھے۔ مورخین کے مطابق اس قلعہ کا احاطہ 13 ایکڑ ہے جس میں سپاہیوں اور ان کے خاندان کے رہنے کے لیے 70 کے قریب کمرے بنائے گئے تھے جبکہ راجہ کے لیے ایک محل نما رہائش گاہ تعمیر کی گئی تھی۔ قلعہ کے وسط میں عبادت کے لیے ایک مندر بنایا گیا تھا جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس قلعہ کی تعمیر کے وقت جنجووں کا دھرم ہندو مت ہی تھا۔ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے قلعہ کے احاطہ میں دو تالاب بنائے گئے تھے جن میں پانی اس پہاڑ کے دامن میں واقع کسی آبی ذخیرے سے لا کر ڈالا جاتا تھا۔ قلعہ کی تعمیر میں سرخ پتھر استعمال کیا گیا۔
سالٹ رینج میں جنجوعہ قوم کا پہلا باقاعدہ حکمران راجہ مل تھا جس نے دسویں صدی میں قلعہ ملوٹ تعمیر کیا۔ کہا جاتا ہے راجہ مل اس وقت مسلمان ہو گیا جب محمود غزنوی نے ہندوستان پر قبضہ کرنے کے لیے سالٹ رینج کے حکمرانوں سے نبرد آزما ہونا تھا۔ سر لیپل گرفن اپنی کتاب پنجاب چیفس میں لکھتے ہیں کہ راجہ مل کے پانچ بیٹے تھے جن کے نام ویر، جودھ، کہلا، ترلونی اور ککھا تھے۔ راجہ کہلا کی اولاد کہوٹہ اور کلر سیداں جا بسی جبکہ ترلونی کی اولاد کے حصے میں امب اور اٹک آئے۔ ککھا کی اولاد نے مظفرآباد، کوٹ ککھا اور جموں کے قریبی دیہات کو اپنا مسکن بنایا۔ لیپل گرفن زیادہ توجہ ویر اور جودھ پر دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ راجہ مل کی وفات کے بعد ویر کے حصے میں کھیوڑہ میں نمک کی کانیں، پنڈ دادن خان اور کہون کا علاقہ آیا جبکہ راجہ جودھ نے مکراچھ میں نمک کی کانیں لیں اور مکھشالہ پر قبضہ کر لیا۔ راجہ جودھ نے بعد میں مکھشالہ کو مکھیالہ کا نام دیا اور یہاں ایک قلعہ تعمیر کروایا۔ مکھیالہ کسک سے قریب ہی ہے۔ اس علاقے کے پہاڑ کو راجہ جودھ کی نسبت سے ہی کوہِ جودھ کا نام دیا گیا۔
قلعہ مکھیالہ تو راجہ جودھ نے تعمیر کروایا تھا لیکن قلعہ کسک کا بانی کون تھا؟ اس سوال کا کوئی حتمی جواب آج تک نہیں مل سکا۔ کئی تاریخ دان یہ دعوی کرتے آئے ہیں کہ قلعہ کسک بھی راجہ جودھ نے گیارہویں صدی میں تعمیر کروایا تھا۔ لیکن ایک تو اس قلعے کی باقیات سے یہ ہر گز نہیں لگتا کہ یہ قلعہ، ملوٹ اور مکھیالہ کے دور کا ہے بلکہ اس کی باقیات سے ایسا لگتا ہے کہ قلعہ کسک، ملوٹ اور مکھیالہ سے کہیں زیادہ قدیم ہے۔ مجھے تو قلعہ کسک اور قلعہ نندنہ کی باقیات میں مماثلت نظر آتی ہے۔ اگلے دن کسک کی تاریخ کھوجتے کھوجتے میرے ہاتھ مشہور برطانوی میگزین ”دی سپیکٹیٹر“ (جسے دنیا کا سب سے پرانا میگزین ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور جو آج بھی ہفتہ وار چھپتا ہے ) کا 1894 میں شائع ہونے والا ایک شمارہ لگ گیا جس میں قلعہ کسک پر ایک انتہائی دلچسپ اور معلومات افزا مضمون چھپا ہوا تھا۔ اس مضمون میں مہاراجہ رنجیت سنگھ اور والیِ کسک راجہ سلطان فتح محمد خان کے مابین پانچ ماہ تک جاری رہنے والے تاریخی معرکے کی انتہائی متاثر کن روداد لکھی ہوئی ہے۔ ”دی سپیکٹیٹر“ لکھتا ہے کہ، ”اگر سر الفریڈ لیال یا رڈیارڈ کپلنگ اس جنگ کی رزمیہ داستان لکھتے تو دنیا بول اٹھتی کہ اس سے بہتر موضوع آج تک کسی اور جنگی نغمے کو نصیب نہیں ہوا“ ۔
”دی سپیکٹیٹر“ کے مطابق کسک کا آخری حاکم سلطان فتح محمد خان تھا جس کی ملکیت میں کسک قلعہ کے علاوہ ستائیس دیہات بھی تھے۔ سلطان ایک نڈر آدمی تھا جو جنگ کے لیے ہمہ وقت تیار بیٹھا ہوتا۔ اس جنجوعہ حاکم کے خزانے کا منہ دوستوں کے لیے اور اس کے محل کا دروازہ اجنبیوں کی مہمان نوازی کے لیے ہمیشہ کھلا ہوتا۔ میگزین لکھتا ہے، "بیس صدیوں سے اس (سلطان) کے آبا و اجداد قلعہ کسک پر قابض رہے ہیں اور اپنے اس عقابی نشیمن سے سینکڑوں فتوحات کے ترانے سنتے آئے ہیں۔ وہ تب بھی کسک پر ہی تھے جب سکندرِ اعظم نے ہندوستان پر یلغار کی۔ انہوں نے مقدونیوں کے آہنی دستوں کو اپنے پاس سے گزرتے دیکھا، انہوں نے سکندر اعظم کی فوج کے بحری دستے کے کمانڈر نیارخوس کو اپنے بحری بیڑوں کو منظم کرتے ہوئے دیکھا، امیر تیمور کے وحشی گھوڑوں کی ہنہناہٹ سنی اور پانی پت کی تین جنگیں ہارنے والے لشکروں کو پسپا ہوتے ہوئے دیکھا ”۔
کسک کے سلطان نے رنجیت سنگھ کی برتری تسلیم کر رکھی تھی لیکن بعد میں نمک کے محصولات پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پنڈ دادنخان میں بیٹھے رنجیت سنگھ کے ایک سکھ گورنر کو یہ لگا کہ کسک کا حاکم نمک کے محصولات کم دیتا ہے۔ اس نے سلطان فتح محمد کو پیغام بھیجا کہ وہ اس کے در بار میں حاضر ہو۔ جنجوعہ راجپوت نے سکھ گورنر کے پیغام کو حقارت سے ٹھکراتے ہوئے قاصد کو کہا کہ گورنر نے مجھ سے ملنا ہے تو کسک آ کر ملے۔ سکھ گورنر ایک بڑے قافلے کے ساتھ کسک آ گیا۔ گورنر اور اس کے بیس ساتھیوں کو قلعہ کے اندر جانے دیا گیا جبکہ باقی ساتھیوں کو قلعہ کے باہر ہی کھڑا کیا گیا۔ مذاکرات کے دوران کچھ ایسی تلخ بات ہو گئی جس سے کسک کے راجہ سلطان فتح محمد خان کا خون کھول اٹھا۔ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر سلطان نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ سکھوں کو گرفتار کر کے دو دو سکھوں کو جوڑے کی شکل میں کمر سے کمر لگا کر باندھ دیں اور پھر قلعہ کی مشرقی چوٹی سے نیچے پھینک دیں۔ سوچیں یہ منظر ان افراد کے لیے کیسا ہو گا جن کو قلعہ سے باہر کھڑا کیا گیا تھا؟ دو گھنٹے پہلے انہوں نے اپنے جس گورنر کو قلعے میں جاتے ہوئے دیکھا اب اسی گورنر کو قلعہ کی چوٹی سے نیچے آتے ہوئے دیکھا۔ دہشت زدہ دستہ واپس بھاگا اور رنجیت سنگھ تک خبر پہنچائی۔ کسک کا بوڑھا سلطان بھی جانتا تھا کہ اس کے عمل کا ردِعمل کیا ہو گا۔ سلطان نے عورتوں کو ایک اور قریبی قلعے میں بھیج دیا اور اپنی فوج کو ممکنہ حملے کے لیے تیار کیا۔ سرما کی بارشوں کی وجہ سے کسک قلعہ کے تالاب پانی سے بھر چکے تھے۔
رنجیت سنگھ جیسا طاقتور حکمران خود کسک پر حملہ آور ہوا۔ اس کی پشت پر پیادہ فوج کی بارہ رجمنٹس تھیں اور ساتھ گھڑسوار دستوں کی ایک پوری بریگیڈ تھی۔ رنجیت سنگھ کی فوج کے پاس اٹھارہ توپیں تھیں جن کو وہ تربیت یافتہ یورپی فوجی چلاتے تھے جو مارینگو، جینا اور واٹر لو کے محاذوں میں حصہ لے چکے تھے اور جنہوں نے اپنے وقت کے بہترین آرٹلری افسران سے جنگی حربے سیکھے ہوئے تھے۔ لیکن قلعہ کسک ناقابلِ تسخیر تھا اور اس پر بمباری اثر نہیں کر سکتی تھی۔ جب بمباری ناکام ہوئی تو رنجیت سنگھ نے قلعے پر چڑھائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ کوشش بھی کامیاب نہ ہوئی۔ رنجیت سنگھ نے تین دفعہ خالصہ فوج کے بہترین جنگجو قلعہ کو سر کرنے کے لیے بھیجے اور وہ تینوں دفعہ ہی پیچھے دھکیل دیے گئے۔
”دی سپیکٹیٹر“ کے مطابق تیسرے حملے میں ایک انوکھا واقعہ پیش آیا۔ سکھ فوج کے سپہ سالار نے چھ دفعہ قلعے کو جاتے ہوئے زگ زیگ رستے سے اپنے دستوں کو قلعے میں داخل ہونے کے لیے بھیجا لیکن ہر دفعہ ان دستوں کو قلعے سے برسنے والی آگ نیچے گرا دیتی۔ ساتواں حملہ زیادہ دلیرانہ تھا۔ اس حملے کے دوران اس دستے کا علمبردار ایک بگلر کے ہمراہ گولوں کی بوچھاڑ کے باوجود قلعہ کے دروازے تک صحیح سلامت پہنچ گیا۔ خیال تو یہ کیا جا رہا تھا کہ جیسے ہی یہ دونوں سکھ دروازے پر پہنچیں گے تو دروازے پر تعینات وہ سپاہی جنہوں نے چند روز پہلے گورنر اور اس کے بیس سپاہیوں کو چوٹی سے نیچے پھینکا تھا ان دونوں کو بھی ایسے ہی اونچائی سے نیچے پھینک دیں گے لیکن جیسے ہی یہ دونوں سکھ دروازے پر پہنچے تو دروازہ اچانک کھل گیا۔ ان دونوں سکھوں کے استقبال کے لیے جو معجزانہ طور پر دروازے تک پہنچ گئے تھے سلطان فتح محمد خان اپنے جنگجووں کے ہمراہ خود دروازے پر کھڑا تھا۔ دونوں سرداروں نے سنجیدگی سے ایک دوسرے کو سلام کیا۔ ”واپس پلٹ جاؤ“ ، کسک کے سلطان نے کہا۔
”میں اللہ اور اس کے رسول کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم لوگ محفوظ ہو۔ تم اتنے بہادر ہو کہ تمہیں بھیڑوں کی طرح ذبح نہیں ہونا چاہیے۔ میں اور میرے ساتھی جانتے ہیں کہ تم جیسے بہادروں کی عزت کیسے کرنی چاہیے“ ۔
دونوں دلیر سکھ فوجیوں نے سلطان سے ہاتھ ملایا اور محفوظ واپس آ گئے۔ قلعہ کسک کو فتح کرنے کے امکانات اور بھی کم ہو گئے لیکن رنجیت سنگھ جانتا تھا کہ اگر اس نے قلعہ کو فتح نہ کیا تو اس کا وقار خاک میں مل جائے گا۔ رنجیت نے جنگ بندی کے لیے مطالبات رکھ دیے۔ ”اگر والیِ کسک ہتھیار ڈال دیتا ہے تو اسے ساری زندگی پندرہ دیہات کا مالیہ ملتا رہے گا اور اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں کو سات دیہات کا مالیہ ملے گا“ ۔
پانچ ماہ کے مسلسل محاصرے کی وجہ سے کسک قلعہ کے تالاب خشک ہونے کو تھے کہ بارشیں بھی اس وقت تاخیر کا شکار ہو گئی تھیں جب ان کی زیادہ ضرورت تھی کہ گرمیاں بھی آ چکی تھیں۔ پانچ ماہ کے محاصرے کے بعد کسک کے راجہ، سلطان فتح محمد خان نے رنجیت سنگھ کے مطالبات مان لیے۔ یہ فیصلہ ہو گیا کہ قلعہ رنجیت سنگھ کے حوالے کر دیا جائے گا اور اگلے دن قلعہ سے فوج نکل جائے گی۔ خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ دن کو رنجیت سنگھ اور سلطان فتح محمد خان کے درمیان یہ معاہدہ طے ہوا اور شام کو موسلا دھار بارش ہو گئی جس نے قلعے کے سوکھے تالابوں کو پانی سے بھر دیا۔ کسک کے سلطان کے آدمیوں نے معاہدے پر نظر ثانی کرنے کی منتیں کیں کہ اب تالاب بھر جانے سے وہ پانچ چھ ماہ اور جنگ لڑ سکتے تھے۔ رنجیت سنگھ کو دھڑکا لگا کہ شاید اب سلطان پھر جنگ شروع کر دے لیکن جنجووں کا یہ آخری حکمران اپنی زبان پر قائم رہا اور معاہدے کی پاسداری کی۔
قلعہ کسک کے حاکم سلطان فتح محمد خان اور رنجیت سنگھ کا یہ معرکہ دنیا کی جنگی تاریخ کا ایک حیران کن معرکہ ہے۔ ایک طرف سالٹ رینج جیسے چھوٹے سے علاقے پر حکومت کرنے والا جنجوعہ راجپوت تھا تو دوسری طرف متحدہ پنجاب جیسی بڑی سلطنت کا مہاراجہ تھا لیکن اس کے باوجود کسک کے حاکم نے رنجیت سنگھ کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ اس معرکے پر کیا ہی شاندار فلم بن سکتی ہے لیکن ہماری قسمت میں ایسے ہیرے کہاں جو ایسے موضوعات پر فلمیں بنائیں۔
قلعہ کسک اور اس کے ارد گرد کی جاگیر آج بھی کسک کے حکمرانوں کی اولاد کی ملکیت ہے۔ مسلم لیگ نون کی ایم پی اے مہوش سلطانہ کا خاندان کسک سٹیٹ کا مالک ہے۔ مہوش سلطانہ کے والد راجہ سلطان عظمت حیات مرحوم بھی مسلم لیگ نون کے ایم پی اے رہے ہیں۔
”دی سپیکٹیٹر“ کے مطابق جنگ کی یہ حیران کن کہانی والیِ کسک کے وارثان نے قلعہ کسک کے احاطے میں بیٹھ کر ”دی پاینیئر میل“ کے ایک لکھاری کو سنائی۔
نوٹ: اس مضمون کی تیاری کے لیے ڈسٹرکٹ گزیٹیر جہلم 1904، پنجاب چیفس از سر لیپل گرفن، سالٹ رینج اینڈ پوٹھوہار پلیٹو از سلمان رشید، ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال جرنل، دی سپیکٹیٹر میگزین اور یونیسکو کی ویب سائیٹ سے مدد لی گئی ہے۔

