کڑی دھوپ میں ”سائبان“ کی خبر
صاحبو، ایک ایسے عہد خانہ خراب میں، جب بہتوں کے لیے کوئی سائبان نہیں ہے، ہمیں ”سائبان“ میسر ہے، جو ادب اور جمالیات کا آئینہ دار ہے، جس کا مرکز لاہور ہے۔ لاہور، جہاں سے مجھے بوئے یار آتی ہے، جہاں میرا دل دھڑکتا ہے وہاں ”بہاؤ“ جیسے ناول کا مصنف بستا ہے کہ وہاں میرا دوست محمود الحسن ادب کے تانے بانے بنتا ہے۔
وہیں ایک شخص، ایک درویش، حسین مجروح بھی ہے، جو والٹیئر کے کردار کاندید کی طرح سر جھکائے کام میں مصروف ہے کہ اس کے نزدیک یہی حالات کو قابلِ برداشت بنانے کا اکلوتا طریقہ ہے۔
وہ ہمارے سامنے ”سائبان“ پیش کرتا ہے، ایک موقر ادبی جریدہ۔ اس کا ساتواں شمارہ میرے سامنے ہے، میں اسے دیکھتا ہوں، پلٹتا ہوں، پرکھتا ہوں، اس میں اترتا چلا جاتا ہوں۔
احسن سلی مرحوم کے ساتھ ہم نے ”اجرا“ کا اجرا ہوتے ہوئے دیکھا، اس کے دوران پیش آنے والی دقتوں کا مشاہدہ اور تجربہ کیا۔ بعد ازاں، اپنے اس عزیز دوست کے انتقال کے بعد ”اجرا“ کو جاری رکھنے کا بیڑا اٹھایا۔
گو اس سلسلے میں جناب شاہین نیازی، سید ایاز محمود صاحب، جناب ناصر شمسی اور برادرم رفیع اللہ میاں کا تعاون حاصل رہا، مگر مجھے اندازہ ہے کہ یہ عمل کتنا کٹھن، کتنا دشوار ہے۔
ایسے میں جب میں حسین مجروح کے ”سائبان“ کے سال نامے کو دیکھتا ہوں تو جی خوش ہو جاتا ہے۔ ذرا فہرست پر نظر ڈالیے، یہاں ڈاکٹر خورشید رضوی بھی ہیں، سرمد صہبائی بھی۔ اس عہد کے ممتاز نقاد جناب ناصر عباس نیر نے جناب خالد جاوید کے ادبھت ناول ”ارسلان اور بہزاد“ پر قلم اٹھایا ہے، ناول، جو چند روز ادھر میرے مطالعے میں رہا، اور اب بھی مجھ میں کہیں موجود ہے۔
جناب خالد فتح محمد اکیسویں صدی کے اردو افسانے کا جائزہ پیش کرتے ہیں۔ اور ایم خالد فیاض صاحب مقبول عام اور سنجیدہ دب کی شعریات کا تجزیہ۔ خالد اختر کے سفرناموں کے کرداروں سے متعلق ڈاکٹر خالق تنویر کا مضمون بھی دیکھیے۔
آگے بڑھیں، تو غزلوں کا سیکشن ہے، جس کے بعد افسانوں کا حصہ شروع ہوتا ہے۔ یہاں محمود احمد قاضی، فیصل عجمی، عرفان جاوید، نجم الدین احمد اور محمد عاطف علیم جیسے پختہ فکشن نگاروں کی تخلیقات آپ کو متوجہ کرتی ہیں۔
ایک حصہ ہے جس کا عنوان ہے ”دھیان کا صندل“ اور یہاں پہ میرے بھائی رفاقت حیات نے ہمارے زمانے کے باکمال خاکہ نگار، عرفان جاوید کا ایک طویل انٹرویو کیا ہے، جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
ایک حصہ فلسطین کے لیے مختص ہے، اور پھر سب سے اہم ہے مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک مذاکرہ۔ یہ ایک نیا تصور ہے، ایک نیا تجربہ ہے، جو کاغذ کی دنیا میں حسین مجروح نے سجایا ہے اور یہ واقعی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں کچھ گفت گو اس حقیر فقیر کی بھی ہے۔
اچھا، ہمارا ایک مضمون ہیرمین ہیسے کے ناول ”سدھارتھ“ سے متعلق بھی ہے، جس میں اس بے بدل ناول کا ”تھری ایکٹ اسٹوری اسٹرکچر“ کی مدد سے تجزیہ کیا گیا ہے۔ بہتوں نے اسے پسند کیا۔ شاید اس کا سبب بدھ کی تذکرہ ہو۔ ورنہ ہمارا کمال۔
اگر آپ تک یہ شمارہ پہنچا ہے، تو اسے پڑھ کر اپنا تجربہ اوروں سے ضرور بانٹیں، تاکہ حسین مجروح اور ان کی ٹیم کی اس کاوش کا چرچا ہو۔ اگر سہولت ہو تو پرچے کے سالانہ خریدار بن جائیں، تاکہ اس ادبی سلسلے کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
حسین مجروح صاحب کا نمبر میں آپ سے شیئر کر رہا ہوں :
03004375871
۔ ۔ ۔


