کہ ہر گرہ کی گرہ میں ہیں تین چار گرہ!
انیس سو چھیانوے میں گھومتے گھماتے اتفاق سے ہم نشتر ہسپتال جا پہنچے۔ وارڈ نمبر سولہ جوائن کر لیا۔ ہمیں کوئی نہیں جانتا تھا۔ ہم بھی بنا کسی دوست ادھر ادھر گھومتے رہتے۔
ایک دن آپریشن تھیٹر میں جب کچھ سینئر صاحبان آپریشن کر رہے تھے، کچھ سرجنز آفس میں بیٹھے تھے اور ہم چھوٹا بنے چائے پانی کا انتظام کر رہے تھے کہ سرجنز آفس کے سامنے سے گزر ہوا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا اور ایک خوش پوش صاحب سامنے صوفے پہ بیٹھے تھے۔ نہ جانے انہیں کیا سوجھی کہ ہمیں اشارے سے اندر بلا لیا۔ صاحبو ویسے تو ہم افسر کی اگاڑی اور گھوڑے کی پچھاڑی سے ہمیشہ ڈرتے ہیں لیکن جانا پڑا۔
نام پوچھا، کام پوچھا۔ نام تک تو ٹھیک تھا مگر کام۔ کچھ نہیں۔
بتایا کہ کچھ دن ہوئے ہیں جوائن کیے ہوئے۔ گھور کر دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے۔ سرجیکل گرہ لگانی آتی ہے انگلیوں سے؟ نفی میں ہم نے سر ہلا دیا۔
ماسک کدھر ہے تمہارا۔ انہوں نے ڈپٹ کر پوچھا۔
سرکاری ہسپتال میں ڈسپوزیبل ماسک تو تھے نہیں، کپڑے کا بنا ہوا ماسک جیب سے برامد کیا اور ان کی خدمت میں پیش کیا۔
انہیں نے ماسک کی ڈوریوں کو کرسی کے بازو کے گرد لپیٹا اور بجلی کی سی تیزی سے گرہ لگائی۔
یہ دیکھو پہلی گرہ۔ اس میں دائیں ہاتھ کی انگلیوں کا استعمال ہو گا اور یہ دیکھو دوسری گرہ۔ اس میں بائیں ہاتھ کی انگلیاں کام کریں گی۔
صاحب قسم لے لیجیے جو کچھ پلے پڑا ہو۔ بس ان کی انگلیاں آپس میں گتھم گتھا نظر آئیں اور پھر بس۔ گرہ لگی نظر آئی جیسے بادلوں کی کڑک کے ساتھ ایک لحظے کو بجلی چمکے۔
سر۔ پلیز دوبارہ لگائیں۔ ہم نے ہکلاتے ہوئے کہا۔
بجلی پھر سے چمکی۔
سر کیا آپ آہستہ آہستہ لگا کر دکھائیں گے۔ ہم نے پھر فرمائش کی۔
وہ اچھے موڈ میں تھے سو اب کے بجلی میں اس قدر زور نہیں تھا۔
طبیعت کی جولانی زوروں پہ تھی سو کہنے لگے۔ جاؤ سسٹر سے بغیر سوئی کے دھاگہ لے کر آؤ۔
ہم نے محاورہ پاؤں میں جوتا بھی نہ پہنا اور بھاگے سسٹر کی طرف۔ ہانپتے کانپتے فوراً واپس آئے کہ کہیں موڈ نہ بدل جائے۔ اب انہوں نے سرجیکل دھاگے سے وہ جادو دکھایا۔ ہم منہ کھولے آنکھیں پھاڑے ان کی انگلیوں کی حرکت دیکھتے رہے۔
اب جاؤ۔ پریکٹس کرو دو چار ماہ۔ پھر تمہارا امتحان لوں گا۔ وہ بولے۔
دو چار ماہ؟ ہم پہ بجلی گر پڑی۔
سر اتنی دیر تو نہیں لگے گی سیکھنے میں۔ ہم نے درخواست گزاری۔
لگتی ہے بھئی۔ مشکل ہوتا ہے انگلیوں سے گرہ لگانا۔
نہیں سر۔ ہم جلدی کر لیں گے۔ ہم نے اصرار کرتے ہوئے کہا۔
انہوں نے غور سے ہمیں دیکھا۔ شاید ہم کچھ زیادہ ہی اناڑی اور بے وقوف لگ رہے تھے۔ جان چھڑانے کے لیے بولے۔
اچھا چلو جب گرہ لگا کر دکھاؤ گی نا، ہم اسی دن تمہیں سیزرین کرنا سکھائیں گے۔
سر۔ کیا واقعی؟ ہم اچھل پڑے۔
سر۔ وعدہ۔
ہاں بھئی۔ وعدہ۔ انہوں نے سر ہلایا۔ انہیں کیا علم تھا کہ انہوں نے اپنی شامت کو خود آواز دی تھی۔
یہ خوش مزاج و خوش لباس صاحب ڈاکٹر اعجاز احمد تھے جو حال ہی میں انگلستان سے لوٹے تھے اور وہاں کے قصے سناتے نہ تھکتے تھے۔ ان کی قصہ گوئی اور سامعین کا انہماک دونوں خاصے کی چیز تھے۔ ڈاکٹر اعجاز نے گرہ لگانی سکھائی تھی ایک رنگروٹ کو جو گائنی کی پیچیدگیوں سے قطعاً نابلد تھی، اب کچھ تو ہم نے بھی کر کے دکھانا تھا۔
اگلے دس دن اس طرح گزرے کہ آپریشن تھیٹر کی نرس نے ہماری بار بار کی فرمائش سے تنگ آ کر ہمیں دھاگہ دینے سے انکار کر دیا اور ہمارے گھر میں موجود سلائی مشین کے ڈبے میں کوئی دھاگہ نہ بچا۔ گھر پہنچنے کے بعد کچھ دیر سو کر اٹھتے، چائے پیتے اور پھر رات کو بستر میں جانے تک ہمارا ایک ہی کام ہوتا۔ دھاگہ، انگلیاں اور گرہ۔ جب کرسی کا ہتھا میسر نہ ہوتا، تب ہم پاؤں کے انگوٹھے کے گرد دھاگہ لپیٹتے ہوئے گرہ لگاتے۔ ایک بار ٹھیک نہ لگتی، دوسری، تیسری بار بھی نہ لگتی مگر چوتھی پانچویں بار لگتا کہ ہم سیدھے راستے پر جا رہے ہیں۔
صاحب اور بیٹی بڑی دلچسپی سے ہمارا یہ کھیل دیکھتے۔ اس کا پس منظر تو ہم انہیں بتا چکے تھے اور اب وہ یہ جانتے تھے کہ ہم اس کا پیچھا اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک اس میں ماہر نہ ہو جائیں۔ امی کی بیٹی ہونے کا کچھ تو فائدہ ہمیں تھا۔
دس دن بعد ؛
ہم نے سرجنز آفس میں جھانکا۔ ڈاکٹر اعجاز احمد کسی پیچیدہ مسلے پہ گفتگو فرما رہے تھے۔ ہم نے کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد موقع دیکھ کر کہا
سر۔ وہ۔ آپ دیکھ لیں پلیز۔
کیا؟ کیا دیکھنا ہے؟ وہ شاید بھول چکے تھے۔
سر۔ وہ آپ نے کہا تھا نا سرجیکل گرہ کا۔ ۔ ۔ وہ۔ ۔ ۔ ہم نے ہکلاتے ہوئے کہا۔
ارے لڑکی۔ Take your time۔ اتنی جلدی کاہے کی ہے۔
نہیں سر۔ ابھی دیکھ لیں
دیکھو تمہیں میں نے کہا تھا کہ خوب پریکٹس کرنی ہے۔ تاکہ اگر بند آنکھوں کے ساتھ بھی انگلیاں گرہ لگانا چاہیں تو اسی آسانی سے لگائیں۔
جی سر۔ میں نے بہت پریکٹس کر لی۔
بہت پریکٹس؟ ابھی کل دس بارہ دن ہوئے کہ میں نے تمہیں گرہ لگانی سکھائی ہے۔ دیکھو بھئی پریکٹس کرو ابھی۔ پھر دو چار ماہ کے بعد دیکھ لیں گے۔ وہ بے نیازی سے بولے۔
دل ایک بار تو تھم گیا لیکن ہم کہاں ہارنے والے تھے۔
ان کی سامنے والی کرسی پہ بیٹھے۔ جیب سے دھاگہ نکالا اور کرسی کے بازو کے گرد لپیٹتے ہوئے گرہ لگانی شروع کر دیں۔ دس دن جو کام ہم نے صبح شام کئی کئی گھنٹے کیا تھا، ہماری انگلیوں نے ہمارا بھرم رکھ لیا۔
بجلی چمکنے کا استعارہ تو استعمال نہیں کر سکتے مگر ہماری انگلیاں ادھر ادھر تھرک رہی تھیں۔ سر جیسی مہارت تو نہیں تھی مگر آثار خوش آئند تھے۔
ڈاکٹر اعجاز نے ہمارے مظاہرے کے بعد ایک بلند آہنگ قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔ لڑکی لگتا ہے چیلنج دل پہ لے لیتی ہو۔
جی۔ بلکہ لکھ لیتی ہوں دل پہ۔ ہم نے شوخی سے کہا۔
واہ بھئی تمہیں تو کوئی انعام دینا پڑے گا۔
سر وہ اپنا وعدہ پورا کر دیجیے۔ ہم نے کہا۔
کیا وعدہ تھا بھلا؟ وہ بھول چکے تھے۔
آپ ہمیں سیزیرین کرنا سکھائیں گے۔ ہم نے یاد دلایا۔
اوہ ہاں۔ ہاں بھئی اب تو کوئی راہ فرار نہیں۔ بس کل ہی تم میرے ساتھ سکرب ہو گی۔
اگلے دن ڈاکٹر اعجاز احمد نے ہاتھ پکڑ کر چاقو تھامنے سے لے کر جسم کی ہر تہہ کاٹنے اور سینے کا وہ طریقہ بتایا جو وہ انگلستان سے سیکھ کر آئے تھے۔
ہماری تربیت کا پہلا دن ہی شاندار تھا اور اس عمارت کی پہلی اینٹ ڈاکٹر اعجاز کے ہاتھوں رکھی گئی تھی۔
ہماری گرہ آج بھی ایسی ہے کہ اگر کوئی اوزار بیچ میں آ جائے تو اس کا نکلنا مشکل ہوتا ہے اور دیکھنے والے کہتے ہیں۔ آپ سرجیکل ناٹس بہت اچھی لگاتی ہیں۔
کیا بتائیں۔ انیس سو چھیانوے میں سیکھی تھیں کیا اب تک اچھی بھی نہ ہوتیں؟
شکریہ ڈاکٹر اعجاز!


Kudos for both the student and the teacher
تم میں بہترین وہی ہے جو خود علم حاصل کرے اور دوسروں کو بھی سکھائے
ایک بزرگ نے ایک محفل میں مجھ سے کہا تھا زندگی میں کہاں جھک ماررہے ہو۔
علم دو ہی ہیں۔
علم الابدان (یعنی ڈاکٹری)
اور دوسرا علم الادیان۔
اور میں نہ ادھر کا رہا نہ ادھر کا۔
کمال مہارت، کمال تحریر