آئینی عدالتیں : عالمی مثال اور پاکستان میں ان کا قیام


حالیہ دنوں میں پاکستان میں آئینی عدالتوں کے قیام کی بحث جاری ہے، اور اس حوالے سے قومی میڈیا پر کئی گمراہ کن بیانات دیے جا رہے ہیں۔ بعض حکومتی افراد (جن میں بیرسٹر بھی شامل ہیں ) کا دعویٰ ہے کہ دنیا بھر کے ممالک میں آئینی عدالتیں قائم ہیں، اور یہ ایک معمول کا عمل ہے۔ تاہم، حقیقت اس سے مختلف ہے۔

آئینی عدالتیں دنیا کے چند گنتی کے ممالک میں ہی موجود ہیں۔ ان اہم ممالک میں جرمنی، فرانس، آسٹریا اور اٹلی میں ہی قائم ہیں۔ لیکن ان کا دائرہ کار بھی مخصوص ہوتا ہے اور وہ سپریم کورٹ کے متوازی یا اس کے اوپر بطور ایمپائر کام نہیں کرتیں جیسے کہ جو مسودہ اب تک ہمارے سامنے آیا ہے اس کے مطابق پاکستان میں ہونے جا رہا ہے۔ آئینی عدالتوں کا بنیادی مقصد صرف آئین کی تشریح اور آئینی مسائل پر فیصلے دینا ہوتا ہے، لیکن یہ عدالتیں سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کرتیں بلکہ ایک طرح سے حکومت کو کسی آئینی مسئلے میں درپیش ڈیڈ لاک میں معاونت فراہم کرتی ہیں۔ دنیا کے جن چند ممالک میں آئینی عدالتیں موجود ہیں وہاں بھی آئینی عدالتیں اور سپریم کورٹ علیحدہ علیحدہ کام کرتی ہیں اور ان کے فرائض میں واضح فرق ہوتا ہے۔ آئینی عدالتیں عموماً صرف آئینی معاملات پر فیصلے دیتی ہیں، جیسے کہ آئین میں کسی شق کی تشریح، آئین کی خلاف ورزی کا معاملہ، یا حکومت کی آئینی حیثیت۔ دوسری جانب سپریم کورٹ ملک کے عدالتی نظام کی اعلیٰ ترین عدالت ہوتی ہے جو فوجداری، دیوانی، اور دیگر قانونی معاملات میں فیصلے دیتی ہے۔

یہ فرق اہم ہے کیونکہ آئینی عدالتیں سپریم کورٹ کی جگہ نہیں لے سکتیں اور نہ ہی ان کے اختیارات میں مداخلت کر سکتی ہیں۔ سپریم کورٹ اپنے دائرہ کار میں ہمیشہ برتر رہتی ہے، اور آئینی عدالتیں ان کی معاون ہوتی ہیں۔

پاکستان میں آئینی عدالتوں کے قیام کی باتیں کرنے والے لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں ایسی عدالتیں قائم ہیں، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، انڈیا سمیت دنیا کے زیادہ تر ممالک میں آئینی عدالتیں سرے سے ہی موجود نہیں، اور جہاں ہوتی ہیں، ان کا کردار مخصوص اور محدود ہوتا ہے۔

پاکستان میں آئینی عدالتوں کے قیام کی تجویز پر یہ خدشات ہیں کہ حکومت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو غیر فعال بلکہ کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آئینی ترامیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرنے کی بات کی جا رہی ہے، جو کہ عدلیہ کی خودمختاری اور قانون کی بالادستی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

آئینی عدالتوں کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب آئین کی تشریح یا آئینی بحران سامنے آئے اور آئینی عدالتوں کا قیام صرف اس وقت مفید ہوتا ہے جب ان کے اختیارات اور حدود واضح ہوں اور وہ عدلیہ کے دیگر اداروں، خصوصاً سپریم کورٹ، کے دائرہ کار میں مداخلت نہ کریں۔ اگر پاکستان میں ایسی عدالت کی ضرورت ہے تو دنیا میں موجود یہ چند مثالیں پاکستان میں آئینی عدالتوں کے قیام کے لیے ایک ماڈل بن سکتی ہیں، لیکن یہ ضروری ہے کہ ایسی عدالتیں سپریم کورٹ کی خودمختاری کو متاثر کیے بغیر قائم کی جائیں۔ حکومت کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ آئینی ترامیم سے عدلیہ کا ادارہ کمزور نہ ہو اور عدالتوں کے درمیان اختیارات کا توازن برقرار رہے۔

پاکستان میں آئینی ترامیم اور عدالتوں کے اختیارات کو بہتر طریقے سے متعین کرنا وقت کی ضرورت ہے، تاکہ عدلیہ کا ادارہ مضبوط اور موثر رہے اور ملک میں آئین و قانون کی بالادستی برقرار رہے۔

اس کے لئے ایک وسیع بحث کی ضرورت تھی۔ اس بحث میں آئینی ماہرین، پروفیسرز، وکلا، بار ایسوسی ایشنز، سول سوسائٹی کے لوگ شامل ہوتے۔ اس کا مسودہ اصل جگہ یعنی پارلیمنٹ میں پیش ہوتا، نہ کہ حکومتی سینیٹرز کو یہ پیغام دیا جاتا کہ آپ کو مسودے کی کیا ضرورت ہے آپ نے تو ووٹ دینا ہے بس۔ بلکہ اس کے ایک ایک نکتے پہ بحث ہوتی، ترامیم جو مولانا فضل الرحمن کے گھر میں ہو رہی ہیں پارلیمنٹ میں ہوتیں۔ ووٹوں کے لئے قائل کیا جاتا، خریدنے کی کوشش نہ ہوتی۔ لیکن یہاں حکومت جلدی میں نظر آ رہی ہے۔ نہ جانے کس چیز کی جلدی ہے؟

Facebook Comments HS