سات سال، سات سو کالم، سات کمائیاں


میرے لیے ’ہم سب‘ پر سات سالوں میں سات سو کالم لکھنے کا تجربہ ایک خوش آئند و خوش گوار تخلیقی و سماجی تجربہ تھا۔ میں جب ان سات سالوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں نے اس عرصے میں سات چیزیں کمائیں۔

میری پہلی کمائی یہ ہے کہ میں نے اپنی تخلیقات سے اپنے قارئین اور ناقدین کا اعتماد و اعتبار حاصل کیا۔ جب میں نے لکھنا شروع کیا تھا تو میرے قارئین میرے حد سے زیادہ سچ بولنے سے پریشان ہو جاتے تھے۔ ان کے لیے یہ بات عجیب تھی کہ کوئی شخص اس بات کا خود اقرار و اعتراف کرے کہ وہ

نہ کسی خدا کو مانتا ہے نہ کسی مذہب کو
شادی سے زیادہ محبت پر ایمان رکھتا ہے
اور
رنگ نسل زبان اور مذہب سے بالاتر ہو کر سب انسانوں کو گلے لگاتا ہے۔

شروع میں میرے طرز زندگی اور نظریہ حیات پر بڑی سنگباری ہوئی لیکن میں خاموش رہا۔
دھیرے دھیرے میرے قارئین کو اندازہ ہوا کہ
نظریاتی اختلاف الرائے اور ذاتی دشمنی میں بڑا فرق ہے۔

آہستہ آہستہ میرے قارئین پر میرا انسان دوستی کا فلسفہ منکشف ہونے لگا وہ مجھ سے دور ہونے کی بجائے میرے قریب آتے گئے۔

پچھلے دنوں جب ایک نئے قاری نے مجھے چند آیتیں اور حدیثیں پڑھنے کا مشورہ دیا تو میرے کسی پرانے قاری نے انہیں مشورہ دیا کہ اگر آپ ڈاکٹر سہیل سے سنجیدہ مکالمہ کرنا چاہتے ہیں تو ان سے سائنس فلسفہ نفسیات اور انسانی حقوق کے حوالے سے سوال پوچھیں۔

مجھے اس قاری کا کمنٹ پڑھ کر تسلی ہوئی کہ میرے قارئین اب مجھے جان بھی گئے اور پہچان بھی گئے ہیں۔

میری دوسری کمائی یہ ہے کہ سات سالوں میں میرے قارئین کا حلقہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا۔ پہلے جو قارئین تھے ان کا مجھ سے عمر میں

بیس برس کا فرق تھا
پھر تیس برس کا ہوا
پھر چالیس برس کا
اب پچاس برس کا فرق بھی موجود ہے۔

پچھلے دنوں ایک اکیس برس کے نوجوان نے مجھ سے مذہب، محبت اور موت کے بارے میں سنجیدہ سوال پوچھے تو مجھے حیرانی بھی ہوئی اور خوشی بھی۔

میں نوجوانوں کے سنجیدہ سوالوں کے سنجیدہ جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔

میری تیسری کمائی یہ ہے جب کوئی شاعر ادیب یا دانشور کینیڈا آتا ہے تو مجھے پیغام بھیجتا ہے اور ملنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے اور ہم مل کر ڈنر اور ڈائلاگ کرتے ہیں۔ جن دوستوں سے تفصیلی ملاقات ہوئی ان میں

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی
ثروت محی الدین اور
شیراز راج
سر فہرست ہیں۔

میری چوتھی کمائی یہ ہے کہ جب میں پاکستان گیا تو میں دوستوں کی محبت کی بارش میں اندر تک بھیگ گیا۔ ان میزبان دوستوں میں

میاں چنوں کے عبدالستار
اسلام آباد کے سلیم ملک اور جمشید اقبال
لاہور میں عائشہ اسلام، دعا عظیمی، مقدس مجید، رضوانہ شیخ
عمر، عثمان، یاسر پیر زادہ اور شہزاد نیر
کراچی کے ایاز مورس، شاہد رسام اور عمران اشرف ساجن
سر فہرست ہیں۔

میری پانچویں کمائی یہ ہے کہ پاکستان کے سفر کے دوران میرے تفصیلی انٹرویو ہوئے جنہیں ریکارڈ کیا گیا
کراچی میں انٹرویو ماسٹر ٹی وی کے ایاز مورس کے ساتھ
اسلام آباد میں انٹرویو بلیک ہول کی میزبان عنبرین عجائب کے ساتھ
لاہور میں پی ٹی وی کے میزبان وجاہت مسعود کے ساتھ
انٹرویو ہوا۔

میری چھٹی کمائی یہ ہے کہ میرے سانجھ کے پبلشر امجد سلیم منہاس نے میرے حوالے سے باغ جناح میں قائد اعظم لائبریری میں میری کتابوں کی رونمائی کی رسم کا اہتمام کیا جس میں رابعہ الربا اور وجاہت مسعود کے علاوہ شہر کے اور بھی بہت سے لکھاریوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔

میری ساتویں کمائی یہ ہے کہ مجھے بہت سے نفسیاتی مسائل کا شکار لوگوں کی مدد کرنے کا موقع ملا۔ اس کمائی کا کریڈٹ تنویر جہاں کو جاتا ہے جنہوں نے وجاہت مسعود کو مشورہ دیا کہ وہ میرا ہم سب پر ایک ماہر نفسیات کے حوالے سے تعارف کروائیں تا کہ لوگ اپنے نفسیاتی مسائل کے حوالے سے مجھ سے مشورہ کر سکیں اور میرے جواب سے سب قارئین استفادہ کر سکیں۔ میں نے قارئین کے مسائل سے بہت کچھ سیکھا، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مجھے مختلف مردوں کے پیغام آئے کہ وہ شادی شدہ ہیں لیکن اپنی بیوی سے رومانوی طور پر اجتناب کرتے ہیں۔

میں نے جب پوچھا کہ کیا آپ گے ہیں؟
تو ان کا جواب اثبات میں تھا۔

ایک صاحب نے تو مجھے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے مکے اور مدینے جا کر دعائیں مانگیں کہ خدا ان سے ہم جنسی جذبات واپس لے لے لیکن ان کی دعاؤں کا کچھ اثر نہ ہوا۔

میں نے انہیں بتایا کہ
بعض انسان ہیٹروسیکشول پیدا ہوتے ہیں
بعض ہوموسیکشول
اور بعض بائیسیکشول۔

انہوں نے مجھ سے مشورہ مانگا تو میں نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ کتنا اچھا ہو اگر وہ اپنی بیوی سے جدا ہو جائیں انہیں طلاق دے دیں انہیں آزاد کر دیں تا کہ وہ کسی ایسے مرد سے شادی کریں جو ان سے محبت کرتا ہو۔

میں نے جب ان مردوں سے پوچھا کہ آپ نے کس وجہ سے مجھ پر اعتماد و اعتبار کیا تو وہ کہنے لگے
آپ کے کالم پڑھ کر

میرے قارئین اب سمجھ گئے ہیں کہ میں لامذہب سہی لیکن اپنے مریضوں کا علاج عبادت سمجھ کر کرتا ہوں چاہے وہ خدا کو ماننے والے ہوں یا نہ ماننے والے۔

اب میرے قارئین نے مجھ سے ہی نہیں میری انسان دوستی سے بھی دوستی کر لی ہے۔

میں ’ہم سب‘ کے مدیران، قارئین اور ناقدین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جن کی تحریک کے بغیر میں سات سالوں میں سات سو کالم کبھی نہ لکھ پاتا۔ آخر میں میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں

THANKS FOR YOUR APPRECIATION AND INSPIRATION

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail