آپ کا پیکج ہے؟


khawar jamal

میرے پاس تقریباً 20 سال سے ایک ہی یو فون کا نمبر ہے۔ بہت سال پہلے یہ نمبر میں نے پوسٹ پیڈ سروس پر تبدیل کروا لیا تھا لہٰذا اب مجھے ”پیکج“ کروانے کی کوئی خاص ضرورت نہیں پڑتی کہ ہر جگہ مثلاً گھر اور آفس میں وائی فائی موجود ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے یہاں ہر اگلا بندہ ”پیکج“ کا ضرور ذکر کرتا ہے اگر اس کے پاس کسی اور کمپنی کا نمبر ہو۔ بہت سے لوگوں نے دو نمبر رکھے ہوتے ہیں۔ ایک صاحب نے کسی کام کے لیے نمبر مانگا اور اتنے افسوس اور حسرت سے کہنے لگے ”ہا! آپ کے پاس ‘جائز’ کا نمبر نہیں ہے؟“ اور مجھے ایسا لگا جیسے میرا یو فون کا نمبر ”ناجائز“ ہے۔

پھر فون کرنا ہو تو پیکج کا ذکر آتا ہے۔ اکثر اوقات کچھ لوگ صرف ”مس بیل“ دیتے ہیں۔ یہ اس بات کا عندیہ ہوتا ہے کہ بھائی میرے پاس ”پیکج“ نہیں ہے اس وقت لہٰذا آپ مجھے فون کریں۔ یا پھر ایک مسکین سا ایس ایم ایس آتا ہے کہ ”کال می“ ۔ ضروری بات ہو تو بھی دو روپے خرچ کرنے کے بجائے ”مس بیلوں“ کا تانتا بندھ جاتا ہے جس سے کوفت میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔ اکثر اچھے خاصے معزز دکھنے والے لوگ بھی انتہائی اہم اور ضروری بات کے لیے یہ راستہ اپناتے ہیں اور اس کے بعد واٹس ایپ پر مفت رابطے کی سہولت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔

واٹس ایپ پر کال کرنے کی وجہ سے صورت حال زیادہ تر ایک لمبی ”ہیں“ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اب موبائل کمپنیوں نے اپنے سگنل پھینکنے والی مشینوں کو ڈانس کلاسس جوائن کروا دی ہیں۔ یہ سگنل آپ کے اطراف اب ناچتے پھرتے ہیں اور آپ کو ان کے پیچھے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے۔ آفس میں واٹس ایپ پر فون آ جائے تو بات کرتے ہوئے سگنل کی تلاش میں بندہ اتنی دور نکل جاتا ہے کہ واپسی پر رکشہ کرانا پڑ جاتا ہے۔ خود ایک بار میں نے کال ریسیو کی تو میں اپنی سیٹ پر تھا اور جب ہیں؟ ، اب آ رہی ہے آواز اور پھر ”ہیں“ کرتے کرتے کال ختم ہوئی تو میں نے اپنے آپ کو موٹر سائیکل سٹینڈ کی پارکنگ میں موجود پایا۔

یہ پیکج سسٹم ایک عفریت کا روپ دھار لیتا ہے اگر قسمت سے آپ کا اور فون کرنے والے کا نمبر ایک ہی کمپنی کا ہو۔ پھر چھوٹی سے چھوٹی بات کے لیے بھی باقاعدہ فون آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ یہی سسٹم ”پیکج لوورز“ کے لیے باعث رحمت ثابت ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے اپنے پیکج سے لمبی لمبی باتیں کرنی ہوتی ہیں۔

پیکج کروانے والوں کو ایک خاص فکر یہ لاحق ہوتی ہے کہ پیکج ختم ہونے سے پہلے اگر ایزی لوڈ کروا لیا جائے تو کمپنی کی طرف سے دیا گیا سیکڑوں جی بی ڈیٹا بچا کر اگلے پیکج میں ملنے والے ڈیٹا کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد دوستوں میں ایک شان بے نیازی سے سینکڑوں ایکڑ اراضی کے حامل چوہدری کی طرح یہ ”پھڑ“ ماری جاتی ہے کہ بس یار اپنے پاس تو ڈیٹا ہی بہت ہے۔

میری رائے میں یہ سیکڑوں جی بی ڈیٹا کے حامل چوہدری ہی ہمارے دیسی یو ٹیوبرز کے اصلی اور نسلی گاہگ ہوتے ہیں۔ ٹک ٹاک پر جاذب نظر غیر اخلاقی ریلز سے لے کر یو ٹیوب پر ”حقیقت کیا ہے حریم شاہ نے سب بتا دیا“ جیسی ویڈیوز کے ویوز بڑھانے میں یہی سیدھے سادھے اور معصوم عوام شامل ہیں۔ پیکج سے حاصل شدہ ڈیٹا کا اس سے بہترین مصرف اور ہو بھی کیا سکتا ہے، صاف ظاہر ہے۔

Facebook Comments HS

خاور جمال

خاور جمال 15 سال فضائی میزبانی سے منسلک رہنے کے بعد ایک اردو سوانح ”ہوائی روزی“ کے مصنف ہیں۔ اب زمین پر اوقات سوسائٹی میں فکشن کے ساتھ رہتے ہیں۔ بہترین انگریزی فلموں، سیزن اور کتابوں کا نشہ کرتے ہیں۔

khawar-jamal has 54 posts and counting.See all posts by khawar-jamal