اسرائیل کی دہشت گردی
لبنان میں دو روز کے اندر جنگجو گروہ حزب اللہ کے زیر استعمال ہزاروں پیجرز اور واکی ٹاکیز پھٹنے سے اب تک 26 افراد جاں بحق اور چار ہزار کے لگ بھگ زخمی ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں زیادہ تر شہری آبادیوں میں موجود افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ البتہ امریکہ سمیت کسی ملک نے اسے دہشت گردی کی کارروائی قرار دے کر اسرائیل کی مذمت نہیں کی۔ اس کے برعکس اسرائیل کے خلاف کسی بھی کارروائی کے حوالے سے مغربی ممالک کے مذمتی بیانات کا احاطہ کیا جائے تو امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کا دوغلا پن واضح ہوتا ہے۔
آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 124 ارکان کے ووٹوں سے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں اسرائیل کو ایک سال کے دوران فلسطینی مقبوضہ علاقوں سے نکل جانے کا کہا گیا ہے۔ گو امریکہ و اسرائیل سمیت 12 رکن ملکوں نے اس قرار داد کی مخالفت میں ووٹ دیا لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ دنیا کے ممالک کی بھاری بھر کم اکثریت مشرق وسطی کی ایک دہشت گرد ریاست کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ ویسے تو دیکھنے میں آیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی اگر کوئی قرارداد منظور کر لے تو اس پر بھی اس وقت تک عمل درآمد نہیں ہو سکتا جب تک امریکہ کو اپنا مفاد متاثر ہوتا دکھائی نہ دے۔ ان میں اسرائیل کے علاوہ کشمیر کے معاملہ پر منظور ہونے والی قراردادیں بھی شامل ہیں جن پر عمل درآمد کی کبھی نوبت نہیں آتی۔ دوسری طرف جنرل اسمبلی میں ہر ملک کو جمہوری اصول کے مطابق مساوی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ یعنی کوئی ملک اکثریت کی رائے پر مبنی کسی قرار داد کو سلامتی کونسل کے برعکس ویٹو کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اسی لیے اس عالمی ادارے کی حیثیت شاید کسی ربر اسٹیمپ سے زیادہ نہیں ہے۔
اس کے باوجود جب دنیا کے ممالک کی کثیر تعداد دو ٹوک الفاظ میں باور کروا رہی ہو کہ مشرق وسطی میں بھڑکی ہوئی آگ کو بجھانے اور مختلف اقوام کو اچھے ہمسایہ ملکوں کی طرح امن سے رہنے پر اسی وقت مجبور کیا جاسکتا ہے جب سب ممالک عالمی اصولوں کو تسلیم کریں اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ البتہ امریکہ کی براہ راست ہلہ شیری کی وجہ سے اسرائیل مشرق وسطیٰ میں بے مہار جنگلی جانور کی طرح تباہی پھیلانے اور دنیا کے امن کو داؤ پر لگانے کا سبب بنا ہوا ہے لیکن کسی ملک میں اتنا حوصلہ نہیں ہوتا کہ اس دیدہ دلیری کی مذمت کی جائے۔
لبنان میں کل اور آج کے دوران میں ہونے والے دھماکہ خیز حملے درحقیقت اسرائیلی ایجنسی موساد کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں جس کے ذریعے حزب اللہ کے مواصلاتی نظام کو نشانہ بنا کر اس کی جنگی طاقت کو غیر موثر کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ افواج کو اب شمال یعنی لبنان کی سرحد کی طرف منتقل کر رہی ہے تاکہ فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیا جائے۔ اسرائیل کے وزیر دفاع یواؤ گالنٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل جنگ کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کر رہا ہے۔ وسائل اور افواج کی منتقلی کے ذریعے اب جنگ کا رخ شمال کی جانب موڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس جنگ کے لیے بڑی ہمت، عزم و استقامت کی ضرورت ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع کے اس بیان کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی جنگ کا رخ لبنان کی جانب موڑ رہا ہے۔ حزب اللہ کے راکٹ اور ڈرون حملوں کی وجہ سے ان علاقوں میں تقریباً 60 ہزار اسرائیلی شہری اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ رواں ہفتے کے اوائل میں اسرائیلی حکومت نے ان شہریوں کی واپسی کو جنگ کا ایک اہم ہدف قرار دیا تھا اور وزیر دفاع نے کہا تھا کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوتی ہے تو فوجی کارروائی ہی واحد حل ہو گا۔ یہ بیان اور دو روز کے دوران حزب اللہ کو دہشت گرد حملوں کے ذریعے نشانہ بنانے کے طریقے سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل اب براہ راست لبنان پر حملہ کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس دوران میں امریکی صدر جو بائیڈن کی کوششوں کے باوجود اسرائیلی وزیر اعظم نے غزہ میں قیام امن کے کسی منصوبہ کو منظور کرنے سے انکار کیا ہے۔ گویا جس سفارتی ناکامی کا حوالہ دیا جا رہا ہے، وہ حماس یا دیگر ممالک کی بجائے اسرائیل کی مرہون منت ہے۔
لبنان پر پیجرز اور واکی ٹاکیز کے ذریعے ہونے والے حملے کل اور آج کے دوران ہوئے۔ گزشتہ روز حزب اللہ کے کارکنوں کے زیر استعمال پیجرز میں دھماکے ہونے سے 12 افراد جاں بحق اور ساڑھے تین ہزار کے لگ بھگ زخمی ہو گئے تھے۔ یہ حملہ غیر متوقع اور اچانک تھا اور اس سے حزب اللہ کے مواصلاتی نظام کے علاوہ اس کے سکیورٹی نظام کو بھی شدید دھچکا لگا تھا۔ ابھی لبنان اور حزب اللہ کی طرف سے ان حملوں میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے الزامات ہی عائد کیے جا رہے تھے کہ آج حزب اللہ کے زیر استعمال واکی ٹاکیز میں دھماکے ہونے سے 14 افراد جاں بحق اور ساڑھے چار سو زخمی ہو گئے۔ ان دھماکوں میں زخمی ہونے والے دو سو سے زائد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ لبنان کے سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی نے کئی ماہ قبل لبنانی گروپ حزب اللہ کی طرف سے درآمد کیے گئے 5 ہزار پیجرز میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔ منگل کو ہزاروں پیجرز پر ایک ہی پیغام بھیجا گیا۔ اس کوڈڈ پیغام کے ملتے ہی ہزاروں پیجرز دھماکے سے پھٹے اور ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔ یہ دھماکے پورے لبنان میں ہر جگہ پر سنے گئے۔ اکثر لوگ پیجر جیب میں رکھے معمولات زندگی میں مشغول تھے۔ یہ لوگ عام طور سے شہری آبادیوں، دکانوں، منڈیوں یا ایسے ہی عوامی مقامات پر تھے کہ دھماکہ سے دہشت اور خوف کی فضا پیدا ہو گئی۔ اسی طریقے کو آج واکی ٹاکیز میں نصب دھماکہ خیز مواد کو اڑا کر دہرایا گیا اور حزب اللہ کو مزید نقصان برداشت کرنا پڑا۔
حزب اللہ کی قیادت نے کچھ عرصہ پہلے موبائل فونز کو ناقابل اعتبار قرار دیتے ہوئے اس کے استعمال کو ترک کرنے اور ان کی جگہ پیجرز استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پیجرز موبائل عام ہونے سے قبل پیغام بھیجنے کے ذریعے کے طور پر استعمال ہوتے تھے لیکن موبائل دستیاب ہونے سے اس ٹیکنالوجی کا استعمال ویسے ہی بند ہو گیا تھا جیسے ای میل عام ہونے سے خط بھیجنے کا طریقہ ترک کر دیا گیا ہے۔ البتہ حزب اللہ کی قیادت کا خیال تھا کہ پیجرز انہیں اسرائیلی در اندازی سے محفوظ رکھ سکیں گے۔ البتہ یہ خیال خام اور ناقص ثابت ہوا۔ لبنانی سیکورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ حزب اللہ نے پانچ ہزار پیجرز تائیوان کی کمپنی گولڈ اپولو سے منگائے تھے۔ البتہ دھماکوں کے بعد کمپنی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈیوائسز ہم نے تیار نہیں کیے۔ یہ ڈیوائسز ہنگری کی بی اے سی نامی کمپنی نے بنائے ہیں جس کے پاس ہمارے برانڈ کو استعمال کرنے کا لائسنس ہے۔ لیکن کمپنی نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی ایجنسی موساد نے بوڈاپسٹ میں ان پیجرز کی تیاری کے دوران دھماکہ خیز مواد ان میں نصب کیا تھا۔ اسے اس طریقے سے پیجرز میں لگایا گیا کہ کسی سکیورٹی چیک کے دوران میں اس کا سراغ نہیں مل سکا۔
یہ تو درست ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ ایک دوسرے کے علی الاعلان دشمن ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ پر حملے شروع کیے تو شمال کی جانب حزب اللہ نے محاذ سنبھال لیا اور مسلسل اسرائیل پر راکٹوں سے حملے کیے جاتے رہے۔ البتہ اس کے باوجود کسی فوجی طاقت کو نشانہ بنانے کے لیے یہ احتیاط کرنا ضروری ہوتا ہے کہ اس سے شہری آبادی یا بے گناہ شہری متاثر نہ ہوں۔ البتہ لبنان میں پیجرز اور واکی ٹاکیز میں دھماکے عام گزرگاہوں اور آبادیوں میں ہی ہوئے۔ اس سے عام لوگوں میں کھلبلی مچ گئی اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوا۔ اگرچہ اسرائیل نے ابھی تک ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن لبنان کی حکومت اور حزب اللہ کے علاوہ نیویارک ٹائمز اور رائیٹرز نے بھی اپنے ذرائع سے یہی تصدیق کی ہے کہ یہ کارروائی اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے کی ہے۔ اس طرح اسرائیل نے ایک جنگ میں شہریوں کو نشانہ بنا کر تمام عالمی ضابطوں اور قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان حملوں کو دہشت گرد کارروائی کے سوا کوئی نام نہیں دیا جاسکتا لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ امریکہ یا دیگر مغربی ممالک کی طرف سے اس بزدلانہ دہشت گردی پر اسرائیل کی سرزنش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
امریکہ اور اس کے حلیف اسرائیل کی سلامتی کے نام پر نہ صرف اسے مہلک ہتھیار فراہم کرتے ہیں بلکہ امریکی بحری بیڑا اور دیگر ملکوں کی فضائیہ اسرائیل کی حفاظت کے لیے سرگرم رہتی ہے۔ لیکن غزہ میں گیارہ ماہ سے جاری اور انسانوں کی زندگیاں جہنم بنانے والی جنگ کے دوران میں کسی ملک نے اسرائیل کو اس جنگ سے باز رہنے کی ہدایت نہیں کی۔ اسی حوصلہ افزائی کی بنا پر اسرائیل نہ صرف فلسطینیوں بلکہ پورے مشرق وسطی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ پیجرز دھماکوں کے بعد اسرائیلی جنگی صلاحیت کے علاوہ دشمنی میں تمام انسانی ضابطے روندنے کے ارادے واضح ہوئے ہیں۔ اسرائیل نہ صرف فلسطینی علاقوں پر غیر قانونی طور سے قابض ہے بلکہ روزانہ کی بنیاد پر مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کو بے گھر کر کے وہاں یہودی بستیاں آباد کی جا رہی ہیں۔ شمال میں اپنے پچاس ساٹھ ہزار شہریوں کی منتقلی کو جنگ کا عذر بتانے والی اسرائیلی حکومت غزہ میں پچیس لاکھ بے گناہ انسانوں کو گیارہ ماہ سے بے گھر رہنے پر مجبور کر رہی ہے۔ ان لوگوں کو بنیادی ضروریات کی ترسیل مشکل بنائی جاتی ہے۔ عالمی ضمیر ٹسوے بہانے کے علاوہ کوئی ٹھوس قدم اٹھانے میں ناکام ہے۔
اسرائیل نے لبنان کی سرحد پر جنگ کے جس ارادے کا اظہار کیا ہے، وہ مشرق وسطی کے علاوہ پورے عالمی امن کے لیے خطرہ کا سبب بن سکتی ہے۔ امریکہ سمیت مہذب دنیا سکیورٹی کے نام پر اسرائیل کے ہر ظلم اور دہشت گردی کو قبول کر کے دنیا کو تباہی کی طرف دھکیلنے کا موجب بن رہی ہے۔


