نجی پاور پلانٹس اور ملکی معیشت


بجلی پونے دو روپے فی یونٹ پھر مہنگی کردی گئی۔ نیپرا نے یہ اضافہ سہ ماہی اور فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا ہے اور اگلے تین مہینوں تک بجلی ہمیں پونے دو روپے فی یونٹ مزید مہنگی ملے گی۔

خطے میں اس وقت سب سے مہنگی بجلی پاکستان فروخت کر رہا ہے۔ جس کی کم سے کم قیمت 29 روپے 33 پیسے فی یونٹ ہے اور اس کی آخری حد 76 روپے فی یونٹ ہے۔ پاکستان میں 100 یونٹ استعمال کرنے والوں کو بجلی کا بل 29 روپے 33 پیسے کے حساب سے ادا کرنا پڑ رہا ہے جس میں ٹیکس شامل نہیں ہے۔ ہر سو یونٹ کے بعد ٹیرف بدل جاتا ہے۔ یعنی جس نے 200 یونٹ کی بجلی استعمال کی وہ پہلا 100 یونٹ 29 روپے فی یونٹ سے ادا کرے گا پھر اگلے 100 یونٹ کی ادائیگی تقریباً 38 روپے فی یونٹ کے حساب سے ہوگی۔ صارف کو ٹوٹل بلنگ پر مختلف ٹیکسز ادا کرنے ہوں گے جس کے مطابق بجلی کا بل کم از کم 9 ہزار تک ہو گا لیکن جیسے ہی اس کے یونٹ 300 پر پہنچیں گے پھر صارف کو 15 ہزار کا بل بمع ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔

پاکستان میں عوام پر ، بجلی کے بلوں کی مد میں وہ ظلم ڈھایا جا رہا ہے، جس کی نظیر آپ کو پورے خطے میں نہیں ملتی۔ عالم یہ ہے کہ پچھلے مہینے 4 لوگوں نے صرف صوبہ پنجاب میں خودکشیاں کی، جس میں ایک بیوہ خاتون بھی تھی جنھوں نے بجلی کے دفتر سے باہر آنے کے بعد نالے میں چھلانگ لگا دی۔ اسی طرح ایک گھر میں بجلی کے بل پر بھائیوں میں ان بن ہوئی تو چھوٹے بھائی نے اپنے کمرے کے پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرلی باقی دو واقعات بھی ایک دوسرے سے مماثلت رکھتے ہیں۔

بھارت میں بجلی 16 روپے 80 پیسے فی یونٹ، بنگلہ دیش میں 22 روپے 40 پیسے فی یونٹ، افغانستان میں 5 روپے فی یونٹ اور سری لنکا میں بجلی 25 روپے فی یونٹ ہے جبکہ سری لنکا ڈیفالٹ کر چکا ہے۔

پاکستان کی سب سے بڑی انڈسٹری ٹیکسٹائل انڈسٹری ہے اور پاکستان اس انڈسٹری سے بھاری زر مبادلہ کماتا ہے لیکن انھیں بھی سبسڈی کے بعد بجلی 47 روپے 60 پیسے فی یونٹ کے حساب سے فروخت ہو رہی ہے جو کہ خطے کے دیگر ممالک سے دو گنی قیمت ہے۔

عالمی بینک کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران پاکستان میں 5 فی صد سے زائد غربت میں اضافہ ہوا ہے اور غربت کی شرح 34.2 فی صد سے بڑھ کر 39.4 فی صد ہو گئی ہے۔ اسی رپورٹ میں عالمی بینک نے یہ بھی کہا ہے پاکستان میں خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ 25 لاکھ ہو گئی ہے جبکہ ساڑھے نو کروڑ سے زائد کی یومیہ آمدنی 3.20 ڈالر یعنی تقریباً 950 روپے سے بھی کم ہے۔ یہ پاکستان کی مجموعی آبادی کا ایک تہائی سے بھی زائد حصہ بنتا ہے۔ ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان ترقی کی دوڑ میں دیگر ممالک سے پیچھے رہ گیا ہے، جب کہ ایک چھوٹے سے طبقے کو ترقی کے فوائد غیر متناسب طور پر حاصل ہو رہے ہیں۔

یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ پاکستان کی آدھی سے زائد آبادی کی یومیہ آمدن ایک ہزار سے بھی کم اور مہنگائی کی شرح تقریباً 30 فیصد ہے تو سوچئے اس وقت عوام کی مشکلات کس نقطے پر پہنچیں ہوئی ہیں، جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ سری لنکا میں مہنگائی کی شرح 20 فیصد ہے جبکہ سری لنکا ڈیفالٹ کرچکا ہے۔

عالمی بینک نے یہ بھی کہا ہے کہ غربت میں اضافے کی وجہ صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی خدمات کی عدم فراہمی ہے۔ اس کے علاوہ سماجی تحفظ کے ناکارہ نظام، بڑھتے ہوئے غیر ضروری حکومتی اخراجات، غیر مساوی ٹیکس نظام، غیر پیداواری معیشت، کم پیداوار دینے والے زرعی سیکٹر، مہنگی توانائی اور اس کے باعث قرضوں کے بڑھتے بوجھ اور اشرافیہ کے زیر اثر کام کرنے والے غیر موثر پبلک سیکٹر شامل ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ افرادی قوت کی صلاحیت انتہائی کم ہونا ہے۔ دس سال سے ملک میں بے روزگاری کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور شہروں میں رہنے والے نوجوان لڑکے 7.4 فیصد اور 10.4 فیصد نوجوان خواتین بے روزگار ہو رہی ہیں۔ دوسرا اہم مسئلہ غیر پائیدار مالی خسارا ہے جب کے غربت میں اضافے کی وجہ خراب پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری کا فقدان اور برآمدات میں کمی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 1980 کی دہائی میں پاکستان کی فی کس آمدنی جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ تھی لیکن اس وقت خطے میں کم ترین کم آمدن والے ممالک میں پاکستان کا شمار ہو رہا ہے۔

عالمی بینک کی تازہ رپورٹ اور بھی خطرناک صورتحال بتا رہی ہے، 2024 کی رپورٹ کے مطابق ملک میں غربت کی شرح 51 فیصد ہو چکی ہے۔ غربت میں مسلسل اضافے کی وجہ محدود وسائل، آبادی میں تیز رفتار اضافہ، جہالت و ناخواندگی اور انسانی وسائل میں ٹیکنالوجی اور انتظامی صلاحیتوں کے فقدان اور نا اہلی ہے۔

ہم اپنے موضوع یعنی مہنگی بجلی پر واپس آتے ہیں عالمی بینک کی رپورٹ کا اگر ہم باریک بینی سے جائزہ لیں تو پاکستان میں غربت کی بڑی وجہ پاور سیکٹر اور انرجی کا خسارا اور نا اہلی ہے۔ جس ملک کا پاور اور انرجی سیکٹر کم پیداوار کے ساتھ انتہائی مہنگی بجلی فروخت کر رہا ہوں تو وہ ملک زراعت، انڈسٹری سے لے کر ٹیکنالوجی تک میں برباد ہی رہے گا۔ 70 کی دہائی کے بعد جن ممالک نے ترقی کی ہے ان کی ترقی کا بنیادی عنصر انرجی اور پاور سیکٹر تھا۔

ہم اپنے پچھلے مضمون ”نجی پاور پلانٹ اور مہنگی بجلی“ میں یہ بتا چکے ہیں کہ پاکستان میں مہنگی بجلی ان معاہدوں کی وجہ سے ہے جو حکومت پاکستان نے 1986 اور 1987 میں غیر ملکیوں کمپنیوں سے کیے تھے یہ تمام معاہدے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خاتمے کے بعد ہوئے، لیکن آہستہ آہستہ پاکستانیوں نے ہی یہ پاور پلانٹس غیر ملکی کمپنیوں سے خرید لیے۔ جو بے رحم شرائط غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ رکھی گئی تھی حکومت پاکستان نے ملکی کمپنیوں کے ساتھ بھی ان ہی شرائط پر نئے معاہدے کیے جس کی وجہ سے ملک پر پاور سیکٹر کا سب سے بڑا قرضہ چڑھ گیا۔ اس وقت 80 کمپنیاں پاور سیکٹر میں کام کر رہی ہے جس میں 75 کمپنیاں پاکستانیوں کی ہیں اور صرف 5 کمپنیاں غیر ملکی ہیں۔ ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں یہ کمپنیاں جو بجلی بنا رہی ہیں وہ واپڈا سے بھی سستی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ پاور پلانٹس کاروبار نہیں کر رہے بلکہ کسی بنیے کی طرح شرائط پر سود پر سود بنا رہے ہیں، پاکستانی ایک سود اتارتے ہیں تو دوسرا سود ان کے سر پر کھڑا ہوتا ہے۔ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف ہوں یا سابقہ وزیراعظم عمران خان دونوں کا ہی کہنا ہے کہ پاور سیکٹر کا قرضہ ادا کرنے کے بعد وفاق کے پاس کچھ نہیں بچتا۔ اسی طرح ڈیفنس سیکریٹری کا کہنا ہے کہ پاور سیکٹر کا قرض ہم نے ڈیفنس بجٹ میں سے دیا ہے یعنی ہمیں اب ڈیفنس بجٹ بھی پاور سیکٹر کی وجہ سے کم کرنا پڑ رہا ہے۔

ستَر اور اسّی کی دہائی میں پانی، کوئلے اور تیل سے چلنے والے پاور پلانٹس لگائے جا رہے تھے لیکن جو ملک نیوکلیئر پاور بن گئے یا جنھوں نے عالمی اداروں سے نیوکلیئر پاور پلانٹس لگانے کی اجازت لے لی، ان ممالک نے ترجیحی بنیادوں پر نیوکلیئر پاور پلانٹس کو ہی لگایا اور آج ایسے تمام ممالک میں پاور اور انرجی کا بحران نہیں ہے۔ دبئی جو کہ نیوکلیئر پاور نہیں ہے اس کے بجلی گھر بھی نیوکلیئر ہیں اور تازہ رپورٹ کے مطابق ان پاور پلانٹس کی حفاظت دبئی نے انڈیا کے حوالے کردی ہے۔

ہم ایک نیوکلیئر پاور ہیں لیکن ان 30 سالوں میں صرف 2 یا 3 پاور پلانٹس لگا سکے ہیں، باقی تمام پاور پلانٹس پرائیویٹ سیکٹر کے ہیں جو تیل پر چلتے ہیں۔ تین دہائیاں گزرنے کے باوجود پرائیویٹ سیکٹر نے اپنے پاور پلانٹس کوئلے یا گیس پر اپ گریڈ نہیں کیے ہیں اور نہ ہی حکومت پاکستان نے نیوکلیئر پاور پلانٹس لگانے میں دلچسپی لی۔ 30 سال میں پاور سیکٹر کے خساروں کی وجہ سے ملکی معیشت اور قوم کا حشر خراب ہو گیا ہے۔ ملکی حالات جس مقام پر پہنچ چکے ہیں اب حکومت کو نجی پاور پلانٹس کے خلاف موثر کارروائی کرنی چاہیے اور جن معاہدوں کی وجہ سے خزانہ اور عوام کی جیب خالی ہو چکی ہے ان معاہدوں کو کالعدم قرار دینا چاہیے۔ (ان کمپنیوں کو ریاستی گارنٹی دینے کی وجہ سے کالعدم قرار دینا بہت مشکل ہے: مدیر)

Facebook Comments HS