مصنوعی ذہانت۔ مشتری ہوشیار باش


آج کل ہر طرف مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا چرچا ہے۔ جسے دیکھو کوئی نہ کوئی اے آئی ٹول استعمال کرنے میں لگا ہے۔ طلبہ اپنی اسائنمنٹس اور پروجیکٹس بنانے میں استعمال کر رہے ہیں تو احباب تدریسی نصاب اور تحقیق میں اس پر بے دھڑک اعتماد کر رہے ہیں۔ مزید بات کرنے سے پہلے میں اپ کو اے آئی ٹولز کی مختصر سی تاریخ بتا دینا چاہتا ہوں۔

2022 کے آخر میں ہم نے چیٹ جی پی ٹی کا نام سنا، مگر قارئین کو بتا تے چلیں کہ مصنوعی ذہانت پر کام 1950 سے ہو رہا تھا اور یہ کوئی نیا کام نہیں ہے۔ دنیا کا پہلا چیٹ بوٹ 1966 میں الیزا (ELIZA) کے نام سے بنایا گیا تھا۔ 1972 میں دوسرا چیٹ بوٹ آیا جس کا نام تھا پیری (PARRY) ۔ پیری الیزا سے ذرا زیادہ ایڈوانس تھا اور اس کو نفسیات دانوں نے شخصیت کا جائزہ لینے کے لیے بنایا تھا۔ 1988 میں Jabberwacky جیبر ویکی کے نام سے ایک نیا چیٹ بوٹ متعارف کیا گیا۔ 1990 کی دہائی سے انٹرنیٹ کا اجرا ہوا جس سے اس میں مزید ترقی آتی گئی۔ 1991 میں ٹائنی مڈ TINYMUD آیا جس کے بارے میں پہلی دفعہ چیٹر بوٹ کی اصطلاح استعمال ہوئی۔ 1995 میں ایلس ALICE آیا جو کہ انٹرنیٹ پر انحصار کرنے والا پہلا چیٹ بوٹ تھا۔ 2001 میں چیٹ بوٹس کی دنیا میں انقلاب برپا ہو گیا جب سمارٹر چائلڈ SmarterChild متعارف کرایا گیا۔

پھر سمارٹ فونز کا زمانہ آ گیا اور آواز کو سننے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والے چیٹ بوٹس آ گئے جیسے کہ ایپل کا Siri، گوگل کا Google Assistant، آئی بی ایم کا IBM Watson، مائیکروسافٹ کا Microsoft Cortana، اور ایمازون کا Alexa۔ اس ارتقائی عمل سے گزرتے ہوئے بالآخر 2022 میں اوپن اے آئی کمپنی نے چیٹ جی پی ٹی متعارف کرا دیا اور اس کے بعد دیکھا دیکھی گوگل نے جیمینائی، اور مائیکروسافٹ نے کو پائلٹ متعارف کرا دیا اور پھر اس طرح کے کئی چیٹ بوٹس اب مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔

ای اے آئی ٹولز میں چیزوں کو سمجھنے اور ان کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت موجود ہے چونکہ یہ نیچرل لینگویج ماڈل کے اوپر کام کر رہے ہیں اور ان کے پیچھے جو سائنس ہے اس سے یہ خود اپنی تربیت کرنے کے اہل ہیں۔ یہ ان کی بہت اچھی بات بھی ہے اور یہی ان کا سب سے بڑا نقصان بھی ہے یہ ایسی باتیں بھی آپ کو بتا دیں گے جو باتیں موجود نہیں ہیں مگر یہ ان باتوں کو اس طرح منطقی انداز میں لکھیں گے گویا کہ ان باتوں کا وجود ہے کیونکہ یہ ایک ایلگوردم کے اوپر بیس کرتے ہیں اور یہ خود بخود سیکھنے کا عمل جاری رکھتے ہیں۔

1998 میں گوگل بطور ایک سرچ انجن متعارف کیا گیا جس کا کام صارف کی پوچھی ہوئی بات پر ان کی رسائی وہاں تک کرانا ہوتا تھا جہاں پر ان سوالات کا جواب ہوتا تھا جو کہ پوچھے گئے۔ مگر زیادہ تر ذمہ داری صارف کی ہی تھی کہ وہ خود پڑھے اور فیصلہ کرے کہ کہاں کیا بات کس نے کہی ہے اور کب کہی ہے۔ مگر مصنوعی ذہانت پر مشتمل یہ چیٹ بوٹس سوالات کا جواب خود لکھ کر یا بول کر دیتے ہیں اور کسی انسان کی طرح صارف کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں۔ ان کی دی ہوئی معلومات 100 فیصد درست نہیں ہوتیں گو کہ یہ ایک فقرہ آخر میں لکھ دیتے ہیں کہ اس معلومات کی تصدیق خود بھی کر لیجیے۔ مگر احباب اس بات کا بہت کم اہتمام کرتے ہیں کہ ان باتوں کی تصدیق بھی کر لی جائے۔

میں نے یہ تجربہ خود بھی کر کے دیکھا۔ میں نے تین مشہور چیٹ بوٹس جن کی ادائیگی کے بعد رسائی حاصل کی تھی کو سوشل سائنسز کا ایک ہی عنوان دے کر ادبی جائزہ لکھنے کو کہا جسے انگریزی میں لٹریچر ریویو کہتے ہیں۔ بظاہر انہوں نے بہت اچھا ادبی جائزہ لکھ کر دیا اور حوالہ جات میں تحقیقی مقالہ جات اور تحقیق کے جرنلز کے نام اور ان کی تواریخ بھی بتائیں۔ تینوں کو دس دس حوالہ جات لکھ کر دینے کا کہا اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ مگر جب میں نے ہر ایک حوالہ آخر میں اور مضمون کے درمیان ملا کر تصدیق کی تو بہت سارے ایسے حوالہ جات تھے جن کا گوگل سکالر پر کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ کئی ایسے جرنلز انہوں نے خود ہی بنا لیے تھے جو کہ وجود ہی نہ رکھتے تھے۔

میرے لیے یہ بڑی حیرانی کی بات تھی جبکہ جن حوالہ جات کا ذکر کیا گیا وہ حوالہ جات اپنے نام سے، تحقیق کے عنوان سے اور جرنل کے نام سے بہت زیادہ موزوں لگتے تھے۔ مگر درحقیقت ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ اور ایک بار پھر یاد دلاتا چلوں کہ مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس جو میں نے استعمال کیے یہ ادائیگی شدہ تھے مفت والے نہیں تھے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ان کے اندر خود بخود سیکھنے کی صلاحیت موجود ہے اور یہ ایسی بات بنا سکتے ہیں جس بات کا وجود نہ ہو مگر وہ بات آپ کو دیے گئے عنوان سے متعلق اور بالکل نمائندہ بات لگے گی اور بظاہر آپ کو درست لگے گی، منطقی لگے گی اور اسے آپ سچ سمجھیں گے۔ اور ایسی باتوں کو آپ اپنے ادبی جائزے میں شامل کر لیں گے کیونکہ اس کے حوالہ جات بھی ہوں گے۔ اگر کسی نے ان کی اچھی طرح سے پڑتال کی تو یہ اپنے وجود کو ثابت نہیں کر سکیں گے۔ لہذا احباب سے دست بستہ گزارش ہے کہ ان مصنوعی ذہانت کے ٹولز پر اندھا اعتماد نہ کریں اگر ان سے مدد لینی ہے تو اس کی اچھی طرح سے تصدیق کر لیں۔

Facebook Comments HS