جرمنی کی آئینی عدالت کے اختیارات کا ایک جائزہ
وطن عزیز میں آئینی عدالتوں کے نام پر نظام عدل اور عدالتوں کا حلیہ مزید بگاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے آسان لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ انتہائی پراسرار انداز اور عجلت میں ایک بل آئینی ترامیم پاس کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ مقننہ اگر محسوس کرے کہ ملک کے معروضی حالات کے تحت آئینی عدالت کے قیام کی ضرورت ہے تو وہ اس عدالت کے قیام کے لئے قانون سازی کر سکتی ہے۔ لیکن یہ جتنا حساس اور بڑا موضوع ہے اس کے لئے ضروری تھا کہ یہ بل بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ ممبران پارلیمنٹ کے سامنے رکھ کر باریک بینی سے اس کا جائزہ لیا جاتا۔
اس کے ایک ایک لفظ پہ بحث کرائی جاتی، ترامیم ہوتیں اور پھر اس پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں ہوتیں۔ ہوا اس کے برعکس کہ حکومت انتہائی بھونڈے پن سے اتفاق رائے سے شروع ہوئی اور حکومتی اراکین بلکہ مبینہ طور پر وزیر قانون تک بھی یہ مسودہ اس دن پہنچایا گیا جس دن اسے پیش کرنا تھا۔ اس لئے طریق کار اور مسودے کے مواد سے کوئی نیک نیتی، اصلاح یا بہتری نظر نہیں آ رہی۔
خیر ہم دنیا میں قائم اہم ممالک میں سے ایک جرمنی کی آئینی عدالت کے خد و خال اور دائرہ کار کا جائزہ لیتے ہیں۔ چند دن قبل ایک کالم ””آئینی عدالتیں : عالمی مثال اور پاکستان میں ان کا قیام“ کے عنوان سے لکھا تھا لیکن مزید تفصیل کی ضرورت تھی۔
دنیا میں آسٹریا پہلا ملک تھا جس میں پہلی علیحدہ وفاقی آئینی عدالت قائم ہوئی، بعد میں کچھ دیگر ممالک نے بھی یہ عدالتیں قائم کیں۔ جرمنی میں یہ عدالت 1951 سے قائم ہے۔ یہ عدالت جرمنی میں کسی بھی وزارت کے ماتحت نہیں بلکہ اس کی ایک خود مختار انتظامیہ ہے۔ عدالت کا سالانہ بجٹ 2023 میں چالیس ملین یورو (بارہ ارب روپے سے زائد) تھا۔ عدالت کے دو سینٹ (یا بنچ کہہ لیجیے ) ہیں۔ دونوں میں آٹھ آٹھ ججز ہیں۔ ایک کی سربراہی عدالت کا صدر اور دوسرے کی سربراہی نائب صدر کرتا ہے۔ دونوں سینیٹ میں 8 مرد جج اور 8 ہی خواتین ہیں۔ یہ سارے ہی پی ایچ ڈی اور پروفیسرز یعنی انتہائی پڑھے لکھے قانون دانوں پر مشتمل عدالت ہے۔ صرف موجودہ نائب صدر کی ہی بات کی جائے تو پروفیسر ڈاکٹر ڈورس کونیگ ماحولیاتی قانون، سمندری قانون، انسانی حقوق اور یورپین انضمام کے قانون کی ماہر ہیں۔
یہ ججز پارلیمنٹ منتخب کرتی ہے۔ اپوزیشن اور حکومت دونوں طرف کے پیش کردہ نام اس وقت عدالت کے جج ہیں۔ ان ججوں کی تقرری عموماً بارہ سال کے لئے ہوتی ہے۔ ان میں سے کچھ ججز سیاسی وابستگی بھی رکھتے رہے یا مختلف اسمبلیوں کے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔ اس عدالت کے دائرہ کار میں مندرجہ ذیل چیزیں آتی ہیں :
آئینی شکایات
کوئی بھی شخص اگر یہ محسوس کرے کہ اس کے بنیادی حقوق آئین کے برخلاف سلب کیے جا رہے ہیں تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ عام عدالتوں کے فیصلوں میں میں بھی بنیادی طور پر یہی دیکھا جاتا ہے لیکن یہ عدالت غیر معمولی حالات میں یہ جانچتی ہے کہ آیا کسی آئینی شق کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی؟ اسی ضمن میں سب سے زیادہ درخواستیں آئینی عدالت کو موصول ہوتی ہیں جن کی تعداد سالانہ 6,000 تک پہنچ چکی ہے۔
کسی قانون یا آرڈیننس سے متاثرہ شخص یا گروہ غیر معمولی معاملات میں، آئینی شکایت کے ساتھ ان قوانین کو چیلنج کر سکتا ہے۔ تاہم عام طور پر، قانون سازی کو صرف اس صورت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے جب اسے عوامی نمائندوں یا عدالتوں کے فیصلوں کے ذریعے عمل میں لایا گیا ہو۔ ایسے فیصلوں سے متاثر ہونے والے افراد پہلے مجاز عدالتوں سے رجوع کریں گے اور اعلی عدالتوں کے فیصلے سے مطمئن نہ ہونے کے بعد ہی آئینی عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اگر آئینی عدالت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی محسوس کرے تو وہ قانون کی تشریح یا اسے کالعدم کر سکتی ہے۔
مخصوص آئینی قوانین کا عدالتی جائزہ
چونکہ وفاقی آئینی عدالت کو ہی آئین کی تشریح یا وضاحت کی اجازت ہے اس لئے اگر کوئی دوسری عدالت کسی معاملے میں سمجھے کہ یہ آئین کے متصادم ہے تو وہ خود کوئی فیصلہ کرنے کی بجائے آئینی عدالت سے رجوع کرے گی۔ ایک اور اہم بات یہ کہ یہ عدالت پارلیمنٹ کے کسی بھی فیصلے کو آئین سے متصادم سمجھتے ہوئے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
وفاق اور ریاستوں (صوبوں ) کے درمیان آئینی تنازعات
اگر صوبوں اور وفاق کے درمیان کوئی آئینی تنازعہ پیدا ہو جائے تو یہ عدالت اسے حل کرتی ہے۔ اسی طرح صوبوں کے آپسی اختلافات میں ثالثی کرتی یا فیصلہ سناتی ہے۔
اعلی اداروں کے درمیان تنازعات
مختلف اعلی وفاقی اداروں کے قوانین اور دائرہ اختیار سے متعلق بحث، ثالثی اور فیصلے اس عدالت میں ہوسکتے ہیں۔ خصوصاً اس وقت جب ایک ادارہ دوسرے کی حدود میں مداخلت کرے یا ادارے اپنی حدود سے متعلق متفق نہ ہوں۔ اس طرح کے کیسز عدالت میں بہت کم آتے نہیں کیونکہ اداروں کی حدود و قیود پہلے ہی آئین واضح طور پر طے کرچکا ہے اور ان پر عمل ہوتا ہے۔
ماضی میں اداروں کے جن اہم تنازعات کو اس عدالت نے حل کیا ہے ان میں : پارلیمانی گروپوں اور ارکان پارلیمنٹ کی قانونی حیثیت، سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ، انتخابی حدوں کی اجازت کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ میں نشستوں کی تقسیم، جرمن پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کی آئینی حیثیت، بین الاقوامی معاہدوں میں پیش رفت اور یورپی یونین کے معاملات پر ممبران پارلیمنٹ کا تمام معاملات کو جاننے کا حق (رائٹ ٹو انفارمیشن) شامل ہیں۔
ایک بہت اہم بات یہ ہے کہ وفاقی آئینی عدالت ان اداروں کی جن درخواستوں میں آئین کی خلاف ورزی نہیں پاتی انہیں بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیتی ہے۔ لیکن اگر کوئی درخواست کامیاب ہو جاتی ہے تو، وفاقی آئینی عدالت صرف نشاندہی کرتی ہے کہ یہ عمل یا کوتاہی بنیادی قانون کی شق کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ آئینی عدالت ازخود قوانین کو تبدیل نہیں کرتی ہے اور نہ ہی یہ جواب دہندہ کو مخصوص کارروائی کرنے کا پابند کرتی ہے۔ تاہم، آئینی ادارے وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے پر غور کرنے اور جہاں ضروری ہو اس پر عمل درآمد کرنے کے پابند ہیں۔ یوں یہاں اس کی حیثیت صلاح کار کی ہوتی ہے۔
سیاسی جماعت پر یا اس کو رقم کی فراہمی (فنڈنگ) پر پابندی
اگر کسی سیاسی پارٹی پر اس کے شدت پسندانہ نظریات کی وجہ سے (یہ عام شدت پسندی نہیں بلکہ نازی ازم یا طالبان قسم کے نظریات سمجھ لیں ) پابندی لگانی مقصود ہو تو وہ بھی اسی عدالت کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ ورنہ دائیں بازو کی پارٹیاں نہ صرف موجود ہیں بلکہ اچھے خاصے ووٹ بھی لیتی ہیں۔ 2017 میں ایک ترمیم کے تحت کسی سیاسی پارٹی کو دی جانے والی سرکاری فنڈنگ پر چھ سال کی پابندی لگانے کا اختیار بھی اس عدالت کو دیا گیا۔ جس میں توسیع کی درخواست بھی متعلقہ ادارے ہر چھ سال بعد کر سکتے ہیں۔ اب تک دو دفعہ 1952 اور پھر 1956 میں یہ عدالت دو مختلف پارٹیوں پر پابندی لگا چکی ہے۔ 2017 میں ایک دائیں بازو کی پارٹی این پی ڈی پر اس عدالت نے پابندی نہیں لگائی تھی کیونکہ اس کا کوئی ریاست یا آئین مخالف ایجنڈا ثابت نہیں ہوا۔
انتخابی عمل میں شکایات
اگر کسی وجہ سے انتخابات میں بے ضابطگیاں پائی جائیں تو بھی آئینی عدالت ان پر فیصلہ سنا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر 2023 میں آئینی عدالت نے پہلی بار جرمن پارلیمنٹ کے انتخابات کو جزوی طور پر غلط قرار دیا اور صوبہ برلن (یاد رہے دارالحکومت برلن شہر کی حیثیت ایک صوبے یا ریاست کی بھی ہے ) کے متاثرہ پولنگ اضلاع میں دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا۔
پھر اسی سال کے آغاز میں آئینی عدالت نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر بھی پابندی لگا دی تھی۔ اس کے فیصلے میں لکھا گیا تھا کہ ”ایک جمہوریت میں انتخابات لوگوں کا اجتماعی معاملہ اور تمام شہریوں کی مشترکہ فکر ہے۔ نتیجتاً انتخابی طریقہ کار کی نگرانی بھی ایک عام شہری کا کام ہونا چاہیے۔ ہر شہری کو انتخابات میں مرکزی اقدامات کو سمجھنے اور ان کی تصدیق کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔“
سیاسی پارٹیوں پر پابندی، فنڈنگ، ان کی طرف سے بے ضابطگیوں کے وہ فیصلے جو پاکستان میں الیکشن کمیشن کرتا ہے، جرمنی میں وہ بھی آئینی عدالت کے ذمے ہیں۔
مختصر یہ کہ اگر عدالت کسی قانون کو غیر آئینی پائے تو عام طور پر اسے کالعدم قرار دیتی ہے۔ کالعدم ہونے کا اطلاق ماضی کے فیصلوں پر (retroactively ) بھی ہوتا ہے یعنی جیسے یہ قانون کبھی نافذ ہی نہیں ہوا تھا۔ لیکن بعض معاملات میں، وفاقی آئینی عدالت محض کسی ایک شق کو بنیادی قانون سے مخالف سمجھتی ہے اس صورت میں وہ ایک تاریخ کا تعین کر دیتی ہے جس کے بعد سے اس کا مزید اطلاق نہیں ہو سکتا۔ خاص طور پر ایسا اس صورت میں کیا جاتا ہے جب مقننہ کے پاس آئین کی خلاف ورزی کے تدارک کے لیے دیگر راستے ہوں، یا اگر قانون کے فوری طور پر ختم کرنے سے ہونے والے نقصانات اس کے ابتدائی اطلاق سے وابستہ نقصانات سے زیادہ ہوں۔
سب سے اہم بات یہ کہ نہ یہ عدالت دوسری اعلی عدالتوں کے مقابل پر کوئی عدالت ہے، نہ ان کے ججوں پر نگران ہے، نہ ان کی حدود میں کوئی کام کر سکتی ہے۔ یہ ملک کی بڑی عدالت کے اس فیصلے کو رد کر سکتی جو آئین سے متصادم ہو۔ اس کا کام بہت احسن انداز میں آئین کی تشریح، آئین سے متصادم اقدامات کی روک تھام (خواہ اس سے فرد متاثر ہو یا کوئی ادارہ) ، اداروں، صوبوں اور وفاق کو ان کی آئینی حدود کے اندر رکھنا، بنیادی حقوق کو آئین کے تحت سلب کرنا یا اسے بحال رکھنا شامل ہے۔ اس کے ججز قانون اور آئین کے بہترین ملکی دماغ ہوتے ہیں جن کا ماضی اگر کسی سیاسی پارٹی سے وابستہ رہا بھی ہو تو ان کا سیاسی ایجنڈا نہیں ہوتا۔
(اس مضمون کے لئے جرمن آئینی عدالت کی آفیشل ویب سائیٹ https://www.bundesverfassungsgericht.de سے مدد لی گئی ہے )


