عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر سعدی یوسف


عراق داخلی کشمکش کا خونیں انداز میں اظہار کر رہا تھا۔ صدام بائیں بازو کے ترقی پسندوں کا بیج مار دینا چاہتا تھا۔ ترقی پسند بھی سرکشی اور بغاوت کی انتہاؤں پر پہنچے ہوئے تھے۔ عراق کے شاعروں اور ادیبوں نے جھکنے اور مفاہمت کے الفاظ اپنی لغت سے خارج کر دیے تھے۔ اقتدار پر قابض ہونے کے بعد صدام کا فیصلہ تھا کہ وہ بائیں بازو کی قیادت کا خاتمہ کردے گا۔

سعدی یوسف تو بڑی انقلابی نظمیں لکھ رہا تھا وہ راستہ کیسے بدل سکتا تھا؟ بغداد کو خیرباد کہا۔ اور پھر اُسے دوبارہ بغداد اور بصرہ آنا نصیب نہ ہوا۔ اپنے بارے میں اُس نے ایک بار لکھا تھا کہ میں دنیا کا شہری ہوں مگر میری کوئی سرزمین نہیں۔

پھر ان کا لہجہ افسردگی کی تہوں میں جیسے دھنس گیا تھا جب انہوں نے کہا۔
سعدی تو اب بیروت میں ہے۔ وہ بغداد سے عراق سے چلا گیا۔ اس کے ساتھی کچھ بھاگ گئے اور کچھ مارے گئے۔ اچھا ہوا وہ بھی چلا گیا نہ جاتا تو صدام کے ہاتھوں مارا جاتا۔ انہوں نے اُن کی ایک اور نظم گنگنائی۔ یہ عربی میں تھی جس کا مطلب انہوں نے سمجھایا۔ عنوان تھا۔ ”پرندے کی آخری پرواز“

اگر تم چاہتے ہو
تو یاد رکھو
کہ میرے پر پانی میں ہیں
پر کہیں لہروں کے بغیر پانی ہوتا ہے
اور ساحل کے بغیر لہریں کب ہوتی ہیں
میں یہاں آرام کرتا ہوں
مطمئن سا
خوش و خرّم سا
میں آخری ساحل پر پہنچ چکا ہوں
چلاؤ نہیں
میری تو سانسوں کی آواز بھی مجھ تک نہیں پہنچتی

وہ دن میرے چند خوبصورت دنوں میں سے ایک تھا کہ میرے سامنے میری خوابوں کی دنیا کے کچھ منظر آئے تھے۔ شام اور بغداد میرے خوابوں کی سرزمین ہی تو تھی۔

سعدی یوسف وقت کی تیز رفتاری، غم روزگار کی بھول بھلیوں میں کہیں گم ہو کر یادوں کے اُس صندوقچے میں بند ہو گیا تھا۔ جو کبھی کبھی ہی کھلتا ہے۔
سالوں کے بعد ایک جھٹکے سے کُھلا۔ یہ نوّے کی دہائی کا آغاز تھا۔ ایک خاتون دو چھوٹی بچیوں کے ساتھ میرے اسکول آفس میں داخل ہوئی۔ تعارف نے بتایا کہ چھ فٹی قامت کو چھوتی خاتون کویت پر صدام کے حملے سے متاثر لوگوں کی طرح بھاگی ہے۔ خود وہ سکھ، شوہر پاکستانی۔ جائے پناہ سُسرال تھی جو اعوان ٹاؤن میں ہی رہائش پذیر تھی۔ وہ اپنی دو بچیوں کے داخلے کے لیے آئی تھی۔ ایک کربناک داستان سُننے کو ملی تھی۔ ہنستے بستے خوش و خرّم لوگ کیسے اچانک گھر بار چھوڑ کر بھاگے۔ پناہ گزینی کا دکھ جیسے پور پور سے عیاں ہوتا تھا۔ زہرت اظہر خاتون نے اپنا اسلامی نام یہی بتایا تھا کی آنکھوں میں آنسو جھلملاتے جنہیں وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد صاف کرتی۔ کویت کے محکمہ صحت میں اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ میں اچھی ملازمت پر تھی۔ عربی پر بہت عبور تھا۔ انگریزی میں شاعری بھی کرتی تھی۔

اُس کے جانے کے بعد میں بہت دیر تک مشرق و سطیٰ کی سیاست کے اِس اُتار چڑھاؤ کے پیچ و خم میں الجھی رہی۔ ماموں رشید یاد آئے تھے۔ عراق کی سیاست پر اُن کی باتیں اور تجزیئے یاد آئے تھے۔ بڑے دو ٹوک لہجے میں انہوں نے کہا تھا۔ دیکھنا صدام ایک دن کویت پر قبضہ کر لے گا۔ کویت کی ایک آزاد خودمختار ملک کے طور پر موجودگی عراق کے کِسی بھی حکمران سے ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ کویت تو سو فیصد عراقی شہر بصرے کا حصّہ ہے۔ ہر عراقی کی یہی سوچ ہے۔ دراصل کویت تو اِن بڑی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں بنا۔ کویتی شیخوں کی دولت سے برطانیہ کے بینک کالے ہوئے پڑے ہیں۔ ایک دن کوئی نہ کوئی دھماکہ ضرور ہو گا دیکھ لینا۔ اور وہ دھماکہ تو ہو گیا تھا۔

زہرت کے لیے یہ وقت بڑا کٹھن تھا۔ خودمختار عورت روایتی سسرال کی سختیوں، نرمیوں کے مزے چکھ رہی تھی۔ کچھ وقت بعد کویت کو آزاد کرا لیا گیا۔ زہرت کا شوہر چلا گیا اور وہ انتظار میں دن کاٹنے لگی کہ کب وہ اُسے آنے کا اذن دے۔ ایک طویل انتظار بعد اِس کے اِس دکھ بھرے دورانیے کا وقت تمام ہوا اور وہ واپس جانے کے لیے بچیوں کے سرٹیفکیٹ لینے آئی۔ ساتھ ہی اس نے مجھے ایک کیسٹ دی یہ بتاتے ہوئے کہ یہ عراق کے ایک بڑے انقلابی شاعر کا کلام ہے جو صدام کے خوف سے جلاوطن ہے۔ اس کے کلام کی یہ کیسٹ اظہر کے ایک گہرے عربی دوست نے دی تھی جو اس شاعر کا بڑا عاشق ہے۔ اظہر اِسے پھینک دینا چاہتا تھا مگر اتفاقاً وہ ان کے سامان میں آ گئی۔ میں اِسے آپ کو دینے کے لیے لے آئی ہوں۔ سچی بات ہے ہمیں تو عراق سے رتی برابر ہمدردی نہیں۔

اور یہ جلاوطن شاعر سعدی یوسف تھا۔ اور یہ اس کی شہرہ آفاق نظم ”امریکہ امریکہ“ تھی۔

خدا امریکہ کو محفوظ رکھے
میرا گھر، میری جنت
جینز، جاز، خزانوں کے جزیرے
جان سلور کے طوطے اور نیو اورلینز کی بالکونیاں
اُن سے بے پایاں محبت مجھے بھی ہے
مارک ٹوئن، مسِسپی کی دخانی کشتیوں
ابراہم لنکن کے کتوں اور ورجینا تمباکو
اُن سے بڑا ہی پیار ہے مجھے
لیکن میں امریکی نہیں

فینٹم پائلٹ کے لیے اتنا ہی کافی ہے
کہ دھکیل دے پتھر کے زمانوں میں مجھے
تیل کی ضرورت نہیں، نہ ہی امریکہ کی
نہ ہاتھیوں اور نہ ہی گھوڑے گدھوں کی
پائلٹ! میرے گھاس پھونس کی چھت والے گھر
چوبی پل اور مجھ سمیت سب کو چھوڑ دو
تمہارے گولڈن گیٹ اور تمہاری فلک بوس عمارتیں
اُن کی ضرورت کب ہے مجھے
اپنا گاؤں چاہیے، تمہارا نیویارک نہیں

تم مسلّح سپاہی اپنے نویڈا صحرا سے کیوں آئے
تم لوگ اتنی دور سے بصرہ کیا کرنے آئے
ہمارے گھر دروازوں پر مچھلیاں تیرتی ہیں
یہاں سور چارے کی تلاش میں نہیں پھرتے ہیں
میری بید کی چھڑی، جھونپڑی اور ڈوری کانٹا
چھوڑو سب اور چھوڑو مجھے بھی
اپنے سمگل شدہ سگریٹ لے لو
ہمارے آلو ہمیں واپس کر دو
اپنی مشنری کی کتابیں لے لو
اور اپنے کاغذ ہمیں دے دو
کہ ہم تمہیں بدنام کرنے کے لیے نظمیں لکھیں

اپنے جھنڈے کی پٹیاں لے لو
اور ہمیں ستارے دے دو
افغان مجاہدین کی داڑھیاں لے لو
اور ہمیں والٹ وٹمین کی
تتلیوں سے بھری داڑھی دے دو
صدام حسین کو لے لو
اور ہمیں ابراہم لنکن دے دو
اُسے نہیں دینا چاہتے
تو پھر کچھ بھی نہ دو
امریکہ ہم یرغمالی تو نہیں

اور
تمہارے سپاہی کوئی خدائی خدمتگار نہیں
ہم غریب ہیں مگر ہماری
دھرتی غرقاب دیوتاؤں کی ہے
نڈر سانڈ دیوتاؤں کی
آگ دیوتاؤں کی
غم کے دیوتاؤں کی
جو خون اور مٹی کے ملاپ سے
نغمے تخلیق کرتے ہیں
ہم غریب ہیں
ہمارا خدا بھی غریبوں کا خدا ہے
٭٭٭

Facebook Comments HS