یہ تصویر تو قابل داد ہے!


ہمارے ملک پاکستان میں کیا کچھ نہیں ہوتا، ہر چڑھتے سورج کے ساتھ کئی عجیب و غریب خبریں بھی نمودار ہوتی ہیں جنہیں سن کر الامان الحفیظ کا ورد کرتے ہوئے حیرت کے جزیروں میں غرق ہونا پڑتا ہے کہ آخر کیوں یہ سماج یہ معاشرہ اس نہج پر آں پہنچا ہے کہ جہاں جھوٹ، بے ایمانی، دھوکہ دہی اور یہاں تک کہ کسی غریب آرٹسٹ کے فن پاروں کی چوری جیسے عمل کو بھی غلط یا گناہ نہیں سمجھا جاتا۔ یہ کہانی جو حال ہی میں سوشل میڈیا سے پھر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی زینت بنی ہے، انتہائی حیرت و حسرت سے بھرپور لگ رہی ہے، ہوا کچھ یوں کہ سندھ کے ضلع گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے ایک غریب آرٹسٹ صفدر عرف سیفی سومرو کے بہترین تخلیقی ذہن اور قلم کی امتزاج سے کینوس پر دو شاہکار اترے، ایک حساس دل آرٹسٹ کے لیے اس سے بڑھ کر اور کوئی خوشی نہیں ہوتی کہ اس کے تخلیق کردہ فن پارے عوام الناس کے سامنے نمائش کے لئے رکھے جائیں تاکہ اور کچھ نہ سہی تھوڑی بہت داد ہی حصہ میں آ جائے۔

اسی سوچ کو لے کر وادیٔ سندھ کے آرٹسٹ سیفی سومرو سال 2017 ء میں اپنے فن پاروں کے ساتھ گھوٹکی سے نکل کر صوبہ کے دارالحکومت کراچی پہنچے جہاں تاریخی عمارت فریئر ہال میں آرٹ کی منعقدہ نمائش میں انہوں نے انتظامیہ کو اپنے فن پارے عیاں کرنے کی گزارش کی، یوں سیفی سومرو کی شاہکار پینٹنگز فریئر ہال میں جاری نمائش کا حصہ بنیں، چوں کہ سیفی سومرو کے فن پارے غربت، تنگدستی اور احساسات پر مبنی تھے تو شرکاء کی جانب سے انہیں خوب داد دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور تمام شرکاء بقول کسی شاعر یہ کہتے رہے کہ:

’ یہ فنکار کی اک حسیں یاد ہے،
کسی بھوکے ننگے کی فریاد ہے،
یہ تصویر تو قابل داد ہے،
اسے دیجئے آپ پہلا انعام۔ ’

مگر افسوس کہ سیفی سومرو کو انعام سے نوازنا تو دور کی بات الٹا نمائش کا انعقاد کرنے والے نام نہاد آرٹ پروموٹرز نے ان کے دونوں فن پارے یہ کہہ کر واپس کرنے سے ہی انکار کر دیا کہ ’آپ کے فن پارے گم یا چوری ہو گئے ہیں، جب ملیں گے تو واپس کر دیں گے‘ ، گاؤں کا حساس اور سیدھا سادہ آرٹسٹ سیفی سومرو شاید شہری شاطروں کے ہتھے چڑھ گیا تھا جنہیں ایک دور دراز علاقے سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت اور اعلیٰ درجے کی تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال آرٹسٹ کی محنت کا کوئی احساس تک نہ تھا اور ان کے دل میں اس حد تک لالچ بھرا ہوا تھا کہ سیفی سومرو کی پینٹنگز چوری کر کے بیچ ڈالیں اور ایک غریب آرٹسٹ فریئر ہال کی نمائش سے پراسرار طور پر گم کی گئیں اپنی پینٹنگز واپس کرنے کے لئے یکے بعد دیگرے چکر لگاتا رہا اور بے حس انتظامیہ کی منتیں کرتا رہا مگر بعض نام نہاد آرٹ پروموٹرز تو یہ نمائشوں کے کام شاید صرف دکھاوے کے لئے کرتے ہیں اور فنڈز کے نام پر اپنی جیبیں گرم کر کے سیفی جیسے مصوروں کو ان کا حق دینا تو دور پینٹنگز چوری کرتے بھی نہیں شرماتے کہ ویسے بھی اس آرٹ مخالف معاشرے میں بھلا کیا ہو گا زیادہ سے زیادہ بدنامی، بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا؟

مصور سیفی سومرو اپنی گمشدہ پینٹنگز کی تلاش میں مسلسل 7 برس خاک چھانتے رہے، آرگنائزرز کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہ ملنے پر کراچی میں منعقد کی جانے والی ہر نمائش میں گئے کہ شاید کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی کونے میں اسے اپنی تخلیق کردہ پینٹنگز لٹکی ہوئی نظر آ جائیں مگر ہر جگہ سے مایوسی ہی پلے پڑ رہی تھی۔ جب سب کوششیں بیکار ہوئیں تو ایک آرٹسٹ نے بوجہ مایوسی تھک ہار کر چپ سادھ لی مگر اچانک اسے اپنی پینٹنگز پاکستان کے معروف نجی ٹی وی چینل کے مشہور ڈرامہ سیریل ’کبھی میں کبھی تم‘ میں اسکرین پر نظر آ گئیں اور یوں یہ فریئر ہال سے فن کی چوری میں ملوث ’نامعلوم افراد‘ کی کارستانی کا سات سال بعد قوم کو پتہ چلا کہ ایسا بھی ہوتا ہے۔

اگرچہ آرٹ دشمنوں کے اس مکروہ عمل کا حکومت سندھ کی جانب سے نوٹس لیا گیا ہے اور معاملہ زیر تفتیش ہے مگر باوجود اس کہ فریئر ہال کی انتظامیہ اس چوری پر کوئی موقف دینے سے گریز کر رہی ہے جو کسی بھی طور پر بجا نہیں ہو گا کیوں کہ فریئر ہال ایک ایسی جگہ ہے جہاں کم و بیش ہر دوسرے دن آرٹ و ادب سے منسلک کوئی پروگرام، تقریب یا نمائش وغیرہ کا انعقاد ہوتا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ شرکت بھی کرتے ہیں تو اس تسلسل کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ فن پاروں کی چوری جیسے اہم معاملے پر خاموشی اختیار کرنا یا اسے ایک گاؤں کے آرٹسٹ کا معاملہ سمجھ کر نظرانداز کرنا کوئی مثبت عمل کہا جائے گا۔

نہ صرف سندھ پر ملک کے طول و عرض سے آرٹ کے دلدادہ افراد کی جانب سے سیفی سومرو کی پینٹنگز کی چوری جیسے منفی عمل کو کوسا جا رہا ہے اور متاثرہ آرٹسٹ سے بھرپور ہمدردی و حمایت کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے جو عمل امید افزاء ہے۔ لہٰذا حکومت سندھ کے متعلقہ حکام کو آرٹ کی چوری کے معاملے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کر کے نہ صرف ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے مگر سزا کا مستحق بھی ٹھہرایا جائے تاکہ آئندہ کسی بھی آرٹسٹ کے فن پاروں کے ساتھ سیفی سومرو کی طرح ’امیروں کی شام، غریبوں کے نام‘ جیسا سلوک اختیار نہ کیا جا سکے۔

Facebook Comments HS