پاکستان کی اشرافیہ کے نام ایک خط
جان کی دشمن پاکستان کی ”پیاری“ اشرافیہ!
السلام علیکم! امید نہیں بلکہ یقین ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گیں کیوں اس عہدِ پُر فتن میں اگر کسی کو عافیت حاصل ہے تو وہ آپ ہیں۔ میں جب بھی ملک کے ابتر معاشی حالات دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کو بے یقینی اور بدحالی کے گرداب سے نکالنے کے لیے مختلف ادوار میں چند دردِ دل رکھنے والے اربابِ اختیار (جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ) نے بھر پور کوشش کی مگر انھیں منہ کی کھانا پڑی۔
مجھ سمیت ہر باشعور شہری کی نظر میں اِس ناکامی کی بنیادی وجہ پاکستانی اشرافیہ یعنی آپ ہیں۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ کیوں نہ بذریعہ مراسلہ آپ کی بارگاہ میں رحم کی اپیل کروں۔ میں نہایت ادب سے عرض گزار ہوں کہ پچھلی سات دہائیوں سے ہم اپنے منہ کا نوالہ آپ کو کھلا رہے ہیں۔ بحیثیت قوم ہم نے آپ کے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے کبھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں ر کھا۔ ہمیشہ باقاعدگی سے ٹیکسز ادا کیے تاکہ آپ کے بچے بین الاقوامی یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کر اپنے خاندان کے مالی اثاثوں میں اضافہ کر سکیں۔
ہم نے آپ کی زندگی کو مزید پُر آسائش بنانے کے لیے عالمی اداروں سے قرض لیا تاکہ آپ کے اللے تللے جاری رہیں۔ ہم نے فنڈز کی تقسیم کا نا قص نظام متعارف کروا کر آپ کے لیے کرپشن کے مواقع بھی پیدا کیے۔ تاکہ آپ کرپشن کی بہتی گنگا میں نہ صرف ہاتھ دھو لیں بلکہ جی بھر کر اشنان بھی کر لیں۔ کرپشن کی فیوض و برکات سے آپ نے اندرونِ ملک اور بیرون ِملک قیمتی جائیدادیں بنائی۔ ہماری خون پسینے کی کمائی سے آپ کے وہ بچے بھی آج فیکٹریوں اور ملوں کے مالک ہیں جن پر دولے شاہ کے چوہوں کا گمان ہوتا ہے۔
خدا کے فضل و کرم سے آپ کا ہر فرد اپنی جگہ بددیانتی اور بے ضمیری کی روشن مثال ہے۔ خدا نے آپ کو سرخ و سپید چہرے دراز قد، سڈول جسم اور مضبوط اعصاب کے ساتھ ساتھ بے پناہ شیطانی فراست بھی عطا کی ہے۔ آپ نے کرپشن کرتے ہوئے ہمیشہ عاجزی، انکساری اور پردہ داری کو ملحوظ خاطر رکھا اگر دائیں ہاتھ سے نوٹ بٹورے ہیں تو بائیں ہاتھ کو پتہ نہیں لگنے دیا۔ بلاشبہ یہ اقدام لائق ِتحسین ہے۔ ماشاء اللہ آپ نے جس طرح ملکی وسائل کو لوٹا ہے اس کی مثال رواں صدی میں نہیں ملتی۔
ملک کے قدآور ادارے آپ کی شبانہ روز کرپشن کی بدولت زمین بوس ہو گئے ہیں۔ آپ نے کمال مہارت سے کسان دشمن پالیسیوں کا نافذ کر کے ایک زرعی ملک کو گندم درآمد کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ بڑے نہری نظام رکھنے والے ملک کے کھیت کھلیانوں کو قلت ِآب کا شکار کر دیا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہنر مند افراد بے روزگاری کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں۔ لوگ بجلی کے بلوں سے تنگ آ کر بجلی کی تاروں سے جھول کر خود کشیاں کر رہے ہیں۔
بلا شبہ یہ سب آپ کی شبانہ روز کرپشن کی بدولت ہی ممکن ہو سکا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ ملک آپ کے لیے جنت سے کم نہیں ہے۔ اس ملک میں رہتے ہوئے آپ کی ہر شب شبِ برات اور ہر روز روز ِعید ہے۔ اس ملک میں آپ کو وہ تمام نعمتیں میسر ہیں جو کسی دور میں بادشاہوں کو ہوا کرتی تھیں مثلاً مال و دولت جاہ و حشمت اقتدار و اختیار، شہرت و عزت رعب دبدبہ وغیرہ۔ رہا قانون تو وہ بیچارا آپ کے لیے موم کی ناک ہے۔ آپ جس طرح چاہیں اس کو موڑ سکتے ہیں۔
میں آپ کی بارگاہ میں نہایت ادب سے عرض گزار ہوں کہ اب صورت حال یکسر بدل گئی۔ کمر توڑ مہنگائی نے ہمارے منہ سے وہ نوالہ بھی چھین لیا ہے جو ہم آپ کو کھلاتے تھے۔ ہم میں اب اتنی معاشی سکت نہیں رہی کہ آپ کے لیے کرپشن کے مزید مواقع پیدا کرنے کے لیے عالمی اداروں سے قرض لیں۔ ملک دیوالیہ ہو نے کے قریب ہے۔ عالمی ادارے ہم کو قرض دینے سے کترا رہے ہیں۔ ہم نے ستر سال آپ کی خدمت کی ہے۔ آپ نے کئی دہائیوں تک جونکیں بن کر ہمارا خون چوسا ہے۔
ہم نے بھی مروت اور صبر کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور آپ کو ہمیشہ اپنا تازہ خون پیش کیا ہے۔ مگر اب ہماری رگوں میں خون کی وہ فراوانی نہیں رہی۔ رگیں خشک ہو رہی ہیں۔ ہماری آپ سے گزارش ہے کہ آپ کسی دوسرے ملک میں تشریف لے جائیں۔ اللہ کی زمین بہت بڑی ہے۔ دنیا کے نقشے پر پونے دو سو سے زائد ممالک ہیں ان میں سے بیشتر قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہیں نیز ان کی عوام آپ جیسے بے ضمیر حکمران اشرافیہ کا بوجھ اٹھا لینے کی جسمانی سکت بھی رکھتی ہے۔ بے پناہ مالی وسائل کی بدولت آپ کو کسی بھی ملک کی شہریت آسانی سے مل جائے گی۔ بیرون ملک منتقل ہونے سے آب و ہوا بھی تبدیل ہو جائے اور پینے کے لیے آپ کو تازہ خون بھی میسر آ جائے گا۔ امید ہے کہ آپ ہماری تجویز پر عمل کرتے ہوئے ہمیں اپنے آہنی شکنجے سے رہائی عطا فرمائیں گے۔
والسلام
آپ کے غلام
پاکستانی عوام


