سزائے موت پر پابندی کیوں ضروری ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال بانو تھک چکی ہیں۔ اقبال بانو گزشتہ سولہ برس سے ہر ہفتے اپنے بیٹے سے ملنے کوٹ لکھپت جیل جا رہی ہیں، مگر جوڑوں کے مستقل درد، بے خوابی اور محدود آمدنی کے باعث اب یہ ہفتہ وار ملاقات خاصی تھکا دینے والی ہوتی ہے۔ حالات اجازت دیں تو اس ملاقات کے لیے وہ رکشہ کرا لیتی ہیں، لیکن جیل کے گرد سخت حفاظتی انتظامات کے باعث انہیں اپنے اکلوتے بیٹے سے ملاقات کے لیے جیل میں داخل ہو کر کم از کم ایک میل پیدل چلنا پڑتا ہے۔

اقبال بانو کا بیٹا خضر اپنے دوست کے قتل کی پاداش میں 2003 سے کال کوٹھڑی میں ہے۔ اسے جیل میں قید ہوئے سولہ سال سے زائد عرصہ بیت چکا ہے۔ قید و بند کے ان سولہ برسوں میں خضر کی صحت مزید بگڑتی چلی گئی ہے۔

خضر حیات اب پچاس برس کا ہے۔ ملاقات کے موقعے پر وہ اکثر و بیشتر اپنی ماں کو بھی نہیں پہچان پاتا۔ شیزوفرینیا کا مرض آپ کی یادداشت کو یونہی دھندلا دیتا ہے، یہاں تک کہ آپ کی اپنی ماں آپ کے لیے اجنبی بن جاتی ہے اور بعض نامراد دن تو ایسے بھی آتے ہیں جب آپ کو وہ اپنے دشمن کے روپ میں دکھائی دیتی ہے۔

رواں برس جنوری میں حکومت نے تیسری مرتبہ خضر کی سزائے موت کا دن مقرر کیا۔ جب اقبال بانو نے اس بارے میں خضر کو بتایا تو وہ ‘ڈیتھ وارنٹ’ کا مطلب سمجھنے سے قاصر رہا۔ خضر نے ڈیتھ وارنٹ کا مطلب اپنی کوٹھڑی کی دیواروں سے پوچھنے کا فیصلہ کیا۔ جب آپ کا ذہنی فتور آپ کو اس احساس سے ماورا کر دے کہ آپ جیل میں ہیں تو پھر یہ سمجھنا ممکن نہیں رہتا کہ آپ کو تختہ دار پر لٹکایا جانے والا ہے۔

ذہنی طور پر بیمار اکثر ملزمان مجرمانہ ارادے کے تحت جرم کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ یہ حقیقت بھی ذہن میں رہے کہ ان کی ذہنی بیماری انہیں ارتکابِ جرم پر مجبور کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذہنی امراض کے شکار مجرموں کو سزائے موت دینا مسائل کا باعث بنتا ہے۔

اس کے باوجود، خضر کی کہانی صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، پاکستانی کال کوٹھڑیوں میں ایسی ہی کئی کہانیاں موجود ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستانی جیلوں میں قید ذہنی طور پر بیمار قیدیوں کی درست تعداد سے متعلق مستند اور تازہ ترین اعدادوشمار دستیاب نہیں۔ فوجداری نظام انصاف میں ذہنی صحت کی جانچ اور علاج کی سہولیات نہ ہونے کی بنا پر یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ قانونی کارروائی کے دوران بہت سے قیدیوں کے ذہنی امراض کی تشخیص ہی نہیں کی جا سکی۔ ذہنی امراض کے شکار افراد کے لیے یہ سہولیات پاکستان بھر میں عام نہیں۔

تاہم یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ خضر واحد مریض قیدی نہیں۔ خضر سے قبل امداد علی کا معاملہ سامنے آ چکا ہے۔ امداد علی کے مقدمے نے فوجداری نظام انصاف میں رائج ذہنی بیماری کے ناقص تصور کو بری طرح آشکار کیا ہے۔ اس مقدمے میں سپریم کورٹ نے شیزوفرینیا کو ذہنی مرض تسلیم نہیں کیا تھا۔ یہ فیصلہ امداد علی اور اس جیسے لاکھوں افراد کے مصائب اور تکالیف کی توہین کے مترادف تھا۔ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اگر عدالتِ عالیہ کے اس فیصلے پر شدید تنقید نہ کی جاتی تو یقیناً امداد علی کو اب تک تختہ دار کے سپرد کر دیا جاتا۔ تصور کیجیے کہ سزائے موت کی صورت میں امداد علی یقیناً اپنی علالت کے باعث یہ سمجھنے سے قاصر رہتا کہ اسے کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔

امداد سے قبل منیر حسین کے معاملے میں بھی ایسی ہی انتظامی غفلت کا مظاہرہ کیا جاچکا ہے۔ منیر کے حصے میں پشاور حملے کے بعد سوویں پھانسی جیسا تکلیف دہ ‘اعزاز’ بھی آیا، سزائے موت پر عائد پابندی اٹھنے کے بعد یہ تعداد اب 428 ہو چکی ہے۔

عالمی قوانین جن میں سے زیادہ تر کی توثیق پاکستان کر چکا ہے، ذہنی امراض کے شکار افراد کی سزائے موت پر بڑی صراحت سے پابندی عائد کرتے ہیں۔ پاکستان اگر عالمی قوانین کے تحت عائد ہونے والی ذمہ داریاں پوری کرنے کا خواہاں ہوتا تو خضر اور امداد اس وقت ایسے محفوظ ماحول میں زیرِ علاج ہوتے جہاں وہ اپنے لیے یا کسی اور کے لیے خطرے کا باعث نہ بن پاتے، اگر پاکستان عالمی قوانین پر عمل درآمد کرتا تو منیر کو پھانسی نہ چڑھایا گیا ہوتا۔

ناقص نظام انصاف کی بھینٹ چڑھنے والے طبقات میں ذہنی امراض کے شکار افراد کے علاوہ بھی کئی سماجی گروہ شامل ہیں۔ دسمبر 2014 میں پاکستان نے سزائے موت پر عائد غیر رسمی پابندی اٹھا لی تھی، ابتداء میں یہ پابندی صرف دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والوں کے لیے اٹھائی گئی تھی تاہم 10 مارچ 2015 کو ریاست نے 27 دیگر جرائم کے تحت سزا پانے والوں کی سزائے موت پر بھی عملدرآمد شروع کر دیا تھا۔ اس اقدام کے لیے ریاست کی جانب سے کسی قسم کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی۔

428 کا عدد دل دہلا دینے والا ہے۔ اس عدد کی وحشت ناکی میں تب مزید اضافہ ہو جاتا ہے جب یہ بات سامنے آتی ہے کہ پھانسی پانے والوں میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو جرم کے وقت نابالغ تھے، جسمانی طور پر معذور ہیں یا ذہنی امراض کے شکار ہیں۔ بہاولپور جیل میں گیارہ سال سے قید دو بھائیوں کو سپریم کورٹ نے گزشتہ برس نومبر میں بری کیا۔ یہ کس قدر خوفناک ہے کہ بریت کا نوٹیفیکیشن جیل انتظامیہ تک پہنچنے سے پہلے ہی دونوں بھائیوں کو اکتوبر 2015 میں پھانسی دے دی گئی تھی، جیل انتظامیہ کے مطابق ان کی رحم کی اپیل صدر ممنون حسین کی جانب سے مسترد کی جا چکی تھی۔

صدر کا بروقت جواب اپنی جگہ ایک منفرد واقعہ ہے، کیوں کہ صدر کو بھجوائی جانے والی زیادہ تر رحم کی اپیلوں پر برسوں کوئی جواب نہیں دیا جاتا۔

بہاولپور کے ان دونوں بھائیوں کا معاملہ بھی خضر، امداد اور سرفراز کی طرح محض ایک واقعہ نہیں۔ یہ سب افراد ایک ایسے نظام کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں جو انہیں انصاف مہیا کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ پاکستان میں آٹھ ہزار سے زائد افراد سزائے موت کے منتظر ہیں۔ ان سب کے مقدمات میں ایک قدر مشترک ہے، وہ یہ کہ یہ سب غریب ہیں اور خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے وکیل کرنے یا انصاف خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ کال کوٹھڑیوں میں کوئی لکھ پتی یا ارب پتی نہیں۔

اصولی طور پر سزائے موت صرف ایسی صورت میں ہی دی جانی چاہیئے جب جرم کی نوعیت نہایت سنگین ہو۔ سزائے موت شفاف اور قائدے کے مطابق کارروائی کے بعد ہی دی جا سکتی ہے جس کے دوران ملزم کے حقوق کی پاسداری کی گئی ہو اور اپیل کا حق موثر اور بامعنی انداز میں مہیا کیا گیا۔ مگر پاکستانی نظام انصاف انحطاط پذیر ہے، انصاف فراہم کرنے والے ادارے سرخ فیتے کا شکار ہیں اور یہ ادارے طاقتور کے سامنے گٹھنے ٹیکتے ہیں۔ نظام قانون و انصاف کی یہ مخدوش صورتِ حال ناانصافی اور ظلم کی وجہ بن رہا ہے۔

ایسا نہیں کہ پاکستانی حکام ان نقائص سے آگاہ نہیں۔ اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے تینتیسویں اجلاس میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے نمائندے نے فوجداری نظام انصاف میں اصلاحات کی پاکستانی خواہش کا اظہار کیا۔ پاکستانی مندوب کے مطابق پاکستان سزائے موت کے حامل جرائم کی تعداد میں کمی پر تیار ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی ریاست فوجداری نظامِ انصاف کے نقائص سے پوری طرح آگاہ ہے، یہ آگاہی سزائے موت پر عمل درآمد کو مزید ناقابل برداشت بنا دیتی ہے۔

ایسے میں سزائے موت پر غیر رسمی پابندی عائد کرنا ضروری ہے۔ سزائے موت پر غیر رسمی پابندی (Moratorium)  بحال نہ کرنے کا مطلب مزید ایسے افراد کو تختہ دار پر لٹکانا ہے جن کے حقوق گرفتاری سے لے کر سزا تک، ہر مرحلے پر پامال کیے گئے ہیں۔ کسی ایک بے گناہ کی سزائے موت پر عمل درآمد بھی اس پابندی کو بحال کرنے کے لیے کافی تھا، لیکن حکومت بہاولپور میں قید دو بھائیوں کو پھانسی دے چکی ہے۔ سزائے موت اور فوجداری نظامِ انصاف مفصل جائزے اور اصلاحات کے متقاضی ہیں۔ اور ان اصلاحات کے نفاذ تک خضر، امداد اور ان جیسے دیگر افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ حکومت سزائے موت پر غیر رسمی پابندی عائد کرے۔

_________________________________________________________

رمل محی دین کا یہ مضمون انگریزی روزنامے دی نیوز میں شائع ہوا تھا۔

رمل جسٹس پراجیکٹ پاکستان سے وابستہ ہیں۔ جسٹس پراجیکٹ پاکستان سزائے موت پانے والے غریب اور نادار پاکستانی قیدیوں کو قانونی مشاورت، نمائندگی اور تحقیق کی خدمات بلا معاوضہ فراہم کرتی ہے۔ ان قیدیوں میں بیرونِ ملک قید پاکستانی بھی شامل ہیں۔ 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رمل محی دین کی دیگر تحریریں