کراچی سے لکسمبرگ براستہ استنبول روانگی

موبائل کی گھنٹی بجی فون اٹھایا تو بدر بول رہا تھا ابو دو بج رہے ہیں ائر پورٹ جانے کی تیاری کریں۔ اچھا یار چلے جاتے ہیں صبح 6 بجے فلائٹ ہے 2 بجے جا کر وہاں کیا کروں گا۔ انٹرنیشنل فلائٹ پر جانے کے لیے چار گھنٹے پہلے جانا ہوتا ہے۔ اس لیے اب مزید دیر نہ کریں اور فوراً ائر پورٹ پہنچیں۔ ہم ابھی باتیں کر ہی رہے تھے کہ شاہد بھی میرے کمرے میں پہنچ گیا اور مجھ سے بولا کہ تیار ہو جائیں ہم ائر پورٹ نکلنے والے ہیں۔ دس منٹ کے بعد ہم ائر پورٹ کی طرف رواں دواں تھے۔ ٹریفک نہ ہونے کی وجہ سے پندرہ بیس منٹوں کے بعد ہم ائر پورٹ میں داخل ہو گئے۔ سامان ٹرالی پر رکھنے اور شاہد کو خدا حافظ کہنے کے بعد میں چیکنگ کے لیے لائن میں لگ گیا۔ تقریباً دس منٹ کے بعد یہاں سے فارغ ہو کر آگے چلا گیا۔
ترکش ائر لائن والوں کی ونڈو ابھی تک بند تھی تھوڑی دیر کے بعد ونڈو کھل گئی اور میں اس ونڈو پر پہنچنے والا پہلا مسافر تھا۔ وہاں پر بیٹھے ہوئے ڈیوٹی افسر نے مجھے بغور دیکھتے ہوئے پوچھا بزنس میں نے ترنت جواب دیا کہ نو ریٹائرڈ سرکاری ملازم۔ اس نے برا سا منہ بنا کر دوبارہ پوچھا آپ کے پاس بزنس کلاس کا ٹکٹ ہے میں نے نفی میں سر ہلا دیا۔ وہ بولا کہ آپ ساتھ والی کھڑکی پر تشریف لے جائیں وہاں پر بیٹھی ہوئی لیڈی کو میں نے اپنا پاسپورٹ اور ٹکٹ نکال کر دے دیا اور ساتھ ہی اس سے درخواست کی کہ مجھے کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ دے دینا اس نے وضاحت کی، آپ کی سیٹ پہلے سے ہی بک ہے اور وہ کھڑکی کے ساتھ ہی ہے۔
جب جہاز کے اندر پہنچا تو معلوم ہوا جہاز کے اندر تین تین سیٹوں کی تین قطاریں تھیں دو قطاریں تو دونوں اطراف کے شیشوں کے ساتھ ساتھ تھیں۔ جب کہ تیسری لائن درمیان میں تھی اور میری سیٹ شیشے کی سائیڈ پر موجود قطار میں تو تھی۔ لیکن شیشے کے ساتھ والی نہیں تھی بہرحال یہاں سے میں نے بورڈنگ کارڈ حاصل کیا سامان بک کروایا پچھلے تجربے کی بنیاد پر میں نے اپنا ہینڈ کیری بھی بک کروا دیا اور خود خالی ہاتھ لاؤنج میں چلا گیا۔ لاؤنج میں خاصا رش تھا میں سامان کی ذمہ داری سے فارغ ہو کر خود کو بہت ہلکا پھلکا اور ریلیکس محسوس کر رہا تھا۔ میں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے پورے لاؤنج کا جائزہ لے رہا تھا۔ وقفے وقفے سے مختلف پروازوں اور اُن کے متعلقہ گیٹس کے بارے میں اعلانات ہو رہے تھے اور بعض اوقات اُن مسافروں کے نام بھی پکارے جا رہے تھے جو ابھی تک اپنے متعلقہ جہاز تک نہیں پہنچ پائے تھے۔
زیادہ تر پروازیں عرب ریاستوں کو جا رہی تھیں میں لاؤنج میں گھومتے گھماتے ایک جگہ پر پہنچا جہاں ایک کونے میں مسجد کے لیے جگہ مختص کر کے نماز کی ادائیگی کے انتظامات کیے گئے تھے۔ تھوڑا سا اور آگے بڑھا دو تین باتھ روم نما دروازوں کے اوپر واضح الفاظ میں برائے احرام لکھا ہوا تھا۔ اُن کے ساتھ ہی وضو کے لیے صاف ستھری جگہ بنی ہوئی تھی اور ایک طرف عام روٹین سے سائز میں بڑے بڑے شینک فٹ کیے ہوئے تھے۔ یہ ماحول مجھے باقی سارے ماحول سے بالکل علیحدہ انتہائی صاف ستھرا بلکہ انتہائی پاک اور صاف محسوس ہو رہا تھا۔
اچانک ہی مجھے ایسے لگا کہ میں احساسات کی کسی اور ہی دنیا میں داخل ہو گیا ہوں میرا رواں رواں احساس بندگی سے بھیگ رہا تھا۔ شاید یہ کیفیت لفظ احرام پھر اس سے وابستہ خانہ کعبہ اور پھر رب ِ کعبہ کے تصور کی بدولت طاری ہوئی تھی۔ دل چاہ رہا تھا کہ اسی جگہ پر اس خالقِ کائنات کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنی عبدیت اور عجز و انکساری کا اظہار کر دوں اور اس وقت تک سجدہ ریز رہوں جب تک اس کی قبولیت کے اشارے نہ مل جائیں۔ ایسی کیفیت مجھے پر بہت ہی کم طاری ہوتی ہے۔
پچھلے سال جب میں میلبورن ائر پورٹ پر اُتر کر تیمور اور اصفیٰ اور بچوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر گھر جا رہا تھا تو ماحول پر چھائی ہوئی صفائی نے یک دم طہارت اور پاکیزگی کی شکل دھار لی اور اسی طہارت اور پاکیزگی کی نسبت سے اس سارے نظام بلکہ کائنات کے خالق کے حضور سجدہ ریزی اور حق بندگی کی ادائیگی کی شدید خواہش پیدا ہوئی۔ چنانچہ گھر پہنچ کر سب سے پہلا کام یہی کیا تھا۔ آج بھی ویسی ہی کیفیت تھی۔ قدم بے اختیار وضو کے لیے واش بیسن کی طرف اُٹھ گئے۔ وہاں پر کھڑے ہو کر میں نے وضو کرنا شروع کر دیا۔ جب پاؤں دھونے کی باری آئی تو واش بیسن کی زمین سے اونچائی کی وجہ سے میرے دل میں خیال آیا کہ یہاں پر پاؤں اچھے طریقے سے نہیں دھوئے جا سکیں گے اس لیے میں ساتھ ہی بنی ہوئی وضو گاہ پر آ کر بیٹھ گیا اور وہاں پر خوب تسلی سے پاؤں کو دھو کر صاف کیا۔ میں اپنی ذات پر چھائے ہوئے خشوع و خضوع کے زیر اثر ہی وضو کے عمل کی انجام دہی میں مصروف تھا۔
وضو سے فارغ ہو کر میں نے مسجد میں پہنچ کر دو رکعت نماز نفل کی نیت کی اور نوافل کی ادائیگی شروع کر دی۔ جوں جوں ارکان نماز کی ادائیگی کرتا جا رہا تھا جذبات کی شدت میں کمی ہوتی جا رہی تھی۔ دو نوافل کی ادائیگی کے اختتام تک وہ جذب کی کیفیت بالکل ہی ختم ہو چکی تھی اور سارے معاملات روٹین میں آ چکے تھے۔ بہرحال اس کے بعد میں نے تین وتر کی ادائیگی کی اور وہیں پر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب میں بیٹھا بیٹھا تھک گیا تو وہیں پر مسجد میں ہی لیٹ کر فجر کی نماز کے وقت کا انتظار کرنے لگامیں لاکھ کوشش کر رہا تھا کہ اسی کیفیت میں دوبارہ لوٹ سکوں۔ بار بار خیالات کو ذات باری تعالیٰ کی طرف مرتکز کرتا لیکن جذب و مستی کی اس کیفیت کا دور دور تک نام و نشان بھی نہیں تھا۔
بہرحال فجر کا وقت ہو گیا جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی کی اور گیٹ نمبر 12 پر آ کر بیٹھ گیا جہاں سے میں نے جہاز پر سوار ہونا تھا۔ سامنے گیٹ سے مسافر جہاز کی طرف جا رہے تھے۔ میرا خیال تھا کہ شاید یہ کسی اور فلائٹ کی سواریاں ہیں۔ میرے پاس ہی چائے کا سٹال تھا میں نے وہاں سے چائے کا ایک کپ لیا قیمت ادا کرنا چاہی تو پتہ چلا کہ چائے مسافروں کو فری پلائی جاتی ہے۔ پھر مجھے خیال آیا کہ جہاں پر میں نے وضو کیا تھا وہاں پر واش بیسن پر ہینڈ واش بھی موجود تھا۔ صفائی ستھرائی کا انتظام بھی بہت اچھا تھا مسجد کا ماحول بھی خوب تھا۔ لاؤنج میں بیٹھنے کے انتظامات بھی کافی اچھے لگ رہے تھے۔
آج مجھے یہاں پر ہر چیز کے مثبت پہلو زیادہ نظر آرہے تھے اور یہ سب کچھ مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا میں انہی خیالوں میں گم تھا کہ مجھے احساس ہوا کہ کہیں پر میرا نام پکارا جا رہا ہے۔ غور کرنے پر پتہ چلا کہ سپیکر پر مجھے جہاز میں سوار ہونے کے لیے بلایا جا رہا ہے کیوں کہ باقی سبھی لوگ اپنی اپنی جگہوں پر پہنچ چکے تھے۔ میں بھی اُٹھ کر جہاز میں سوار ہونے کے لیے چل دیا۔ ہینڈ کیری کی غیر موجودگی میں میں اپنے آپ کو بہت ریلیکس محسوس کر رہا تھا۔ میں سیٹ پر جا کر بیٹھا ہی تھا کہ جہاز نے اُڑان بھرنے کے لئے تیاری شروع کر دی۔ جونہی جہاز فضا میں بلند ہوا تو ہوائی میزبانوں نے شیشوں کے آگے پردے گرا کر اندھیرا کر دیا۔ جو اس بات کا اعلان تھا کہ مسافر سو جائیں سو انہوں نے ایسا ہی کیا۔
ڈیڑھ دو گھنٹوں کے بعد ناشتے کی سروس شروع ہو گئی مجھ سے آ کر پتہ نہیں ائر ہوسٹس نے کیا پوچھا میں نے بغیر سمجھے اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس نے پھر کچھ پوچھا میں نے پھر سر ہلا دیا۔ آخر کار اس نے پیپسی کی بوتل اُٹھا کر مجھے دکھائی۔ مجھے یوں لگا کہ محترمہ اسے میرے سر پر دے مارے گی۔ میں نے سر ہلا کر اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کی طرف اشارہ کیا جو ناشتہ کر رہا تھا۔ میرا مطلب تھا کہ جو کچھ اسے دیا ہے وہی مجھے دے دو ۔ بہرحال نامعلوم میں نے کیا کہا اور اس نے کیا سمجھا۔ بہرحال تھوڑی دیر کے بعد ایک چھوٹی سی گلاسی میں تھوڑی سی پیپسی کے ساتھ ہوائی مہمانوں کے لیے ہوائی ناشتہ موجود تھا۔ بہرحال ناشتہ کچھ سمجھ میں آیا اور زیادہ تر نامحرم سا ہی لگا۔ اس کے باوجود ہم نے ناشتے کی ٹرے کو ایک طرف سے خالی کرنا شروع کر دیا اور آخر میں ڈبل روٹی کھا کر مکھن کو چھری کے ساتھ چاٹ کر ٹرے کو تقریباً خالی کر دیا۔ کوئی چھوٹی موٹی پڑیاں سی پڑی ہوئی تھیں انہیں کھولنے زحمت اس لیے بھی نہیں کی کہ پتہ نہیں اس سے کیا برآمد ہو جائے۔ بہرحال ناشتے کے برتن اٹھا لیے گئے اور اس کے بعد چائے آ گئی۔ اسی طرح کھاتے پیتے ہی سفر تمام ہوا اور جہاز استنبول میں لینڈ کر گیا۔
اب یہاں سے میں نے لکسمبرگ کی فلائٹ پکڑنا تھی۔ بچوں نے یہاں پر میرے لیے وہیل چیئر اس خوف سے ریزرو کروا دی تھی کہ بابا کہیں غلط جہاز میں بیٹھ کر کہیں اور ہی نہ پہنچ جائیں۔ عشا نے اس سلسلے میں میری خصوصی ٹریننگ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ برادر ترک انگلش بالکل نہیں جانتے اس لیے آپ نے جہاز کے عملے کی اس وقت تک جان نہیں چھوڑنی جب تک آپ کرسی تک نہیں پہنچ پاتے وہ لوگ وہیل چیئر کی بجائے اسٹنس بولنے سے بہتر طور پر سمجھ جائیں گے۔ آپ نے زبان سے انہیں بتانا ہے کہ آپ کو اسٹنس درکار ہے اور ہاتھوں سے اشاروں کی زبان میں وہیل چیئر کے متعلق بتانے کی کوشش کرتے ہی رہنا ہے۔ لوگ جہاز سے نیچے اُتر رہے تھے لیکن میں بدستور اپنی سیٹ پر موجود تھا۔ جب سواریاں جہاز سے نیچے اُتر چکیں تو میں اپنی جگہ سے اُٹھ کر گیٹ کے پاس کھڑے ہوئے ہوائی میزبان کے پاس گیا اور انگریزی میں اُسے مدعائے دل کہہ سنایا اس نے مجھے واپس جہاز کے اندر ہی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ یہاں پر پانچ خواتین و حضرات اسٹنس کے امیدوار پہلے سے ہی موجود تھے میں بھی اُن کے ساتھ شامل ہو گیا۔
پندرہ بیس منٹ کے بعد ایک کارندہ ہمارے پاس آیا اس نے جہاز کا ایمرجنسی گیٹ کھلوایا اور وہاں سے ہمیں جہاز سے نیچے اتار کر گیٹ پر کھڑا کر دیا۔ وہ بھی ہمارے ساتھ ہی کھڑا تھا۔ پندرہ بیس منٹ یہاں بھی گزر گئے۔ میرے علاوہ سبھی لوگ جسمانی طور پر واقعی کمزور تھے اور اُن کے لیے اتنی دیر تک کھڑے رہنا بھی کارِ دارد تھا۔ انہوں نے ہمارے گائیڈ کے سامنے احتجاج بھی کیا لیکن بے سود۔ بہرحال خدا خدا کر کے آخر کار ایک وہیل چیئر وہاں پر آ ہی گئی جو وہیل چیئر کم اور مذاق زیادہ دکھتی تھی۔ یہ بچوں کی چلانے والی سکوٹی سے مشابہہ تھی جس کے اوپر ایک کی بجائے دو افراد کے کھڑا ہونے کی گنجائش تھی۔ اس نے ایک آدمی کو لیا اور یہ جا وہ جا۔ اسی طرح اس نے ہم سب کو ایک ایک کر کے وہاں سے اٹھا لیا۔ سب سے آخری فرد میں تھا مجھے اٹھا کر اس نے تھوڑی ہی دور ایک لفٹ کے دروازے پر لا کھڑا کیا جہاں پر ہمارے ساتھی پہلے سے موجود تھے۔ اس کے بعد اس نے لفٹ کی طرف اشارہ کر کے تین انگلیاں دکھا کر گویا تیسرے فلور پر جانے کو کہا اور خود اپنی سکوٹی بھگا کر نکل گیا۔
یہ لوگ بے چارے ایک بار پھر پریشان ہو گئے کیوں کہ ان میں سے اکثریت کو تو لفٹ آپریٹ کرنا بھی نہیں آتی تھی اس موقع پر ہماری قائدانہ صلاحیتیں خواب خرگوش سے بیدار ہوئیں اور ہم نے اس گروپ کی قیادت سنبھال لی۔ لفٹ کے بارے میں کچھ شدھ بدھ تھی جس کے ساتھ میرا سب سے پہلے واسطہ انمول ہسپتال میں پڑا تھا جہاں میں نے اپنی مسز کو چیک کروانا تھا۔ مائرہ ہمارے ساتھ تھی ہمارا ڈاکٹر فرسٹ فلور پر بیٹھتا تھا مائرہ نے ہمیں تو لفٹ کے سامنے کھڑا کر کے لفٹ کے ذریعے آنے کو کہا اور خود سیڑھیاں چڑھ کر ڈاکٹر سے ملنے چلی گئی۔
یہ ہماری لفٹ سے پہلی ملاقات تھی جو خاصی ناخوشگوار رہی اوپر نیچے جانے کی ایک لمبی داستان ہے۔ حاصل نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ مائرہ مایوس ہو کر واپس گراؤنڈ فلور پر آئی اور خوش قسمتی سے ہم اُسے یہاں لفٹ کے باہر مل بھی گئے اور پھر وہ ہمیں اپنے ساتھ فرسٹ فلور پر لے کر گئی۔ بہرحال قصہ مختصر یہ کہ ہم لوگ لفٹ کے ذریعے تھرڈ فلور پہنچ گئے اب ہم لوگ یہاں منہ اٹھا کر کھڑے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک موٹر وہیل چیئر آ کر رکی جس پر آٹھ دس لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی اور کچھ لوگ اس پر پہلے سے ہی سوار تھے۔ ہم لوگوں میں سے چار کے بیٹھنے پر لفٹ میں مزید گنجائش ختم ہو گئی اور چیئر اُن چاروں کو لے کر آگے بڑھ گئی اور اب گروپ لیڈر اپنے گروپ کے صرف ایک رکن کے ساتھ کھڑا تھا۔ گویا کہ ہمارا گروپ پہلے مرحلے پر ہی تتر بتر ہو چکا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک اور موٹر وہیل چیئر آئی اور ہمیں بھی بٹھا لیا۔ چیئر کے ڈرائیور نے ہم سے پاسپورٹ اور بورڈنگ کارڈ لے کر اپنے قبضے میں کر لیے اور تھوڑی دیر کے بعد ہمیں ایک اور جگہ لا بٹھایا جہاں پہلے سے ہی کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے ہمارے کاغذات ہمارے حوالے کیے اور شاید اور لوگوں کو لانے کے لیے کہیں اور چلا گیا۔ ہمیں لینڈ کیے ہوئے تقریباً آدھ پون گھنٹہ گزر چکا تھا۔
مجھے واش روم جانے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی واش روم میں جا کر یورپین سٹائل کے بغیر مسلم شاور کے کموڈ دیکھ کر برادر ترک اسلامی ملک کے اندازِ فکر پر شدید افسوس ہوا۔ یورپ میں تو چلیں اس بات کو اہمیت نہیں دی جاتی لیکن اسلام نے تو صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے۔ جو پانی کے استعمال کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اسے یورپ کی اندھا دھند تقلید کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ بہرحال انہی گلے شکوؤں والے ماحول میں جیسے تیسے کر کے واش روم سے فارغ ہو کر باہر آیا تو گھر رابطہ کرنے کا قصد کیا۔ موبائل نکال کر چیک کیا استنبول ائر پورٹ کا وائی فائی نیٹ ورک تو موجود تھا جسے کنیکٹ کرنے کے لیے پاس ورڈ درکار تھا۔ ادھر اُدھر سے پوچھ تاچھ کر کے وائی فائی ملانے کے لیے مطلوبہ مقام پر پہنچا تو وہاں پر درمیانے سے سائز کے فرج کی شکل و صورت اور جسامت کی ایک مشین خاموش کھڑی تھی اور اس کے اوپر وائی فائی کا بڑا سا سائن بنا ہوا تھا۔ اب اس سے کیا کہوں ناچار ایک طرف کھڑا ہو کر انتظار کرنے لگا۔ اتنی دیر میں ایک آدمی تیزی سے چلتا ہوا وہاں پر آیا اس نے اپنا پاسپورٹ نکال کر مشین کو سنگھایا جواباً مشین نے کاغذ کی ایک چٹ برآمد کی موصوف نے وہ چٹ وصول کی اور یہ جا وہ جا۔
اس کی تقلید میں میں نے بھی اپنا پاسپورٹ مشین کی ناک پر رکھا غالباً ہمارے پاسپورٹ کی بو اس کی طبع نازک پر ناگوار گزری اور اس نے کسی بھی قسم کے ردِ عمل سے گریز کیا اور اس سے مطلوبہ چٹ برآمد نہ ہوئی۔ میں نے دو تین بار پھر یہی عمل دہرایا لیکن جواب ندارد۔ اتنے میں ایک صاحب اور آ گئے انہوں نے بھی مروجہ طریق کار کے مطابق اپنی چٹ برآمد کی اس سے پہلے کہ وہ یہاں سے چلتے بنیں میں نے جھٹ اپنا پاسپورٹ اُن کے ہاتھ میں دے کر مشین کی طرف اشارہ کیا انہوں نے بغور ہماری طرف دیکھا۔ پاسپورٹ کا مشین کو دیدار کروایا اور مشین سے برآمد ہونے والی چٹ ہمارے ہاتھ میں دے کر چلتے بنے۔
میرا مسئلہ جوں کا توں تھا میں نے چٹ کو کھول کر دیکھا اس پر لکھا ہوا تھاKeochler KT 55 FA umur اور یہی بار بار لکھا ہوا تھا۔ یہ پاس ورڈ تو نہیں ہو سکتا پھر سوچا ہو سکتا ہے کہ پاس و رڈ ہندسوں کی بجائے لفظوں میں ہی دیا گیا ہو۔ بہرحال اس عبارت کو پاس ورڈ کے طور پر آزمانے کی بار بار کوشش کے باوجود نتیجہ صفر ہی رہا۔ اب میں نے پھر ایک اور آدمی کو پکڑ لیا اور جب وہ چٹ میرے حوالے کر کے جانے لگا تو میں نے جو اباً اپنا موبائل اس کے حوالے کرتے ہوئے اُسے وائی فائی ملانے کو کہا اس نے فون لیا چٹ کو الٹا کیا تو وہاں پر خوب نمایاں انداز میں درج تھا Password اور اس کے نیچے آٹھ ہندسی عدد درج تھا۔ اس نے پاس ورڈ ملا کر وائی فائی ملا دیا اور فون میرے حوالے کر کے چل دیا۔
اب میں نے یہیں پر ایک تصویر کھینچ کر فیملی گروپ پر لگا دی اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ استنبول ائر پورٹ پر پہنچ چکا ہوں۔ اس کے بعد بدر، بلال، اضفیٰ، آمنہ، مائرہ سبھی لوگوں کو واٹس ایپ کال کر کے تسلی دی کہ بخیریت یہاں تک پہنچ گیا ہوں اور مزید تسلی کے لیے یہ بھی اضافہ کر دیا کہ لکسمبرگ جانے والی فلائٹ کے گیٹ پر بیٹھا ہوا ہوں۔ اس کام سے فارغ ہو کر واپس پہنچا تو معلوم ہوا کہ میرے گروپ میں باقی رہ جانے والا فرد واحد بھی مجھے چھوڑ کر اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔ بہرحال اس وہیل چیئر کے چکر نے ہمیں وہ چکر دیئے کہ ہم واقعتاً ہی چکرا کر رہ گئے۔ کبھی اس فلور پر کبھی اس فلور پر کبھی اس کاؤنٹر پر کبھی اس کاؤنٹر پر یوں لگتا تھا کہ پورا ائرپورٹ دکھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ بہرحال اگر کوئی فیملی سفر کر رہی ہو جس میں ایک فرد وہیل چیئر پر ہو تو یہ بات اس خاندان کے ذہن میں موجود ہونی چاہیے کہ ٹرانزٹ میں وہیل چیئر والے فرد سے ملاقات صرف اگلی فلائٹ کے وقت ہی ہوگی۔ باقی سارا عرصہ اپنے خاندان سے الگ ہی رہے گا۔
کیونکہ ہمارے پاس کوئی سامان موجود نہیں تھا اس لیے ہم اس صورت حال کو بھی انجوائے کر رہے تھے اسی ائر پورٹ پر ایک سٹال پر ہمیں کھانے پینے والی دیگر چیزوں کے علاوہ شیشے کے بڑے بڑے گھڑوں میں جوس پڑے ہوئے دکھا دیے۔ ان جوس کے برتنوں سے تو ہماری پرانی رسم و راہ چلی آ رہی تھی۔ بابا حاجی شیر کے میلے پر رنگ برنگے جوسوں سے بھرے ہوئے ایسے ہی برتن جگہ جگہ موجود ہوا کرتے تھے اور ایک شخص سپیکر پر انہیں کچھ اس طرح کی آوازیں لگا کر بیچا کرتا تھا آنے دا، بھٹی آنے دا، سجناں نوں آنے دا، بیلیاں نوں آنے دا، اسی آواز کے زیر اثر میں نے یہاں پر ایک گلاس جوس کا آرڈر کر دیا۔ جوس کا گلاس وصول کر کے اس کا بل دس یورو ادا کر کے واپس اپنی سیٹ پر آ کر بیٹھ گیا۔ جوس پیتے ہوئے میں نے دس یورو کو تین سو روپوں سے ضرب دی جواب تین ہزار آنے پر جوس کا گھونٹ میرے حلق میں پھنس گیا۔ اب میں نے فیصلہ کیا کہ یہاں پر کسی بھی چیز کی قیمت روپوں میں تبدیل کر کے نہیں دیکھی جائے گی۔
اب میں نے سوچا کہ گھر میں ایک بار پھر کال کر لوں۔ موبائل کھولنے پر پتہ چلا کہ وائی فائی کنکشن منقطع ہو گیا ہے۔ مسٹر وائی فائی کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ ترک برادر ملک صرف ایک گھنٹے کے لیے فری وائی فائی مہیا کرتا ہے۔ اب اگر آپ نے مزید وائی فائی استعمال کرنا ہے تو اس کے الگ سے پیسے دینا ہوں گے۔ فون تو میں استعمال کرنا چاہتا تھا لیکن وائی فائی ملانے کے جھنجھٹ میں نئے سرے سے ایک بار پھر پڑنے کی بجائے میں نے اس سے احتراز کرنے کو ہی بہتر خیال کیا۔ جس جگہ پر میں بیٹھا ہوا تھا وہاں کئی اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے جنہوں نے مختلف فلائٹس پر سفر کرنا تھا۔
ترک مسلم بھائیوں کا انگریزی تلفظ بھی اپنی نوعیت کا انوکھا ہے۔ کاؤنٹر سے پاسپورٹ ہاتھ میں لیے ہوئے ایک ترک بھائی پکا رہا تھا۔ پارون آکھاٹارکافی دیر پکارنے پر بھی کوئی فرد اٹھ کر کھڑا نہیں ہوا۔ اس پر ایک پاکستانی آگے بڑھا اس نے پاسپورٹ دیکھا اور آواز لگائی پروین اختر۔ فوراً ہی ایک خاتون کھڑی ہو گئی ترک بھائی پچھلے دس منٹ سے اسی خاتون کا نام بگاڑ کر پکار رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد اُس نے پکارا جاوڈ کہائی میں بے فکری سے بیٹھا رہا جب پانچ چھ بار پکارنے پر بھی کوئی آدمی کھڑا نہ ہوا تو مجھے شک ہوا کہ پکارے جانے والے نام کا پہلا لفظ شاید جاوید پکارا جا رہا ہے۔ میں اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اس کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے پاسپورٹ پر نظر ڈالی تو وہ میرا پاسپورٹ تھا۔ میں نے اُسے اشارے سے بتایا کہ یہ میرا پاسپورٹ ہے وہ میرے تاخیر سے آنے پر خاصا برہم تھا۔ اپنے اچھے خاصے نام کو اس برے طریقے سے پکارنے پر خفگی تو مجھے بھی تھی لیکن یہاں پر میں نے اس کا اظہار کرنا مناسب نہ سمجھا۔
وہ مجھے ساتھ لے کر اپنی موٹر تک پہنچا اور مجھے اس میں بٹھا کر آگے چل دیا۔ وہ مختلف لوگوں کو مختلف سٹیشنوں پر چھوڑتا ہوا ہمارے گیٹ پر پہنچ گیا۔ اس نے اشارے سے ہمیں بتایا کہ اس گیٹ سے ہم نے جہاز کے اندر داخل ہو نا ہے۔ استنبول ائر پورٹ پر ایک جہاز سے دوسرے جہاز پر پہنچنے کا یہ سفر تقریباً تین گھنٹوں پر محیط تھا۔ یہ ایک تھکا دینے والا اور اکتا دینے والا عمل تھا۔ میں پچھلے سال انہی دونوں آسٹریلیا گیا تھا۔ بنکاک میں تین گھنٹے کا ٹرانزٹ تھا۔ میں نے وہاں پر بھی وہیل چیئر بک کروائی ہوئی تھی۔ جب ہم لوگ بنکاک پہنچے تو ایک اور وہیل چیئر والی خاتون بھی ہمارے ساتھ مل گئی۔ وہاں پر جونہی ہم دونوں ایمرجنسی گیٹ سے باہر نکلے وہاں پر تین وہیل چیئرز پہلے سے ہی موجود تھیں۔ ایک میرے نام سے ایک اس مذکورہ خاتون کے نام سے ریزور تھی اور تیسری پر لکھا ہوا تھا کہ آٹھ ڈالر کے عوض یہ وہیل چیئر حاصل کی جا سکتی ہے۔ ہم لوگ اپنی اپنی چیئرز پر بیٹھ گئے یہ مینوئل چیئر تھیں۔ چیئر چلانے والے نے زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس منٹوں میں ہمیں تمام مراحل سے گزارتے ہوئے اپنی اگلی فلائٹ کے گیٹ پر لا کر بٹھا دیا تھا۔ جبکہ ترک برادر ہمیں تین گھنٹوں تک فضول میں گھماتے پھراتے رہے۔
یہاں پر خاصا رش تھا میں نے دیکھا کہ ایک آدمی ایک گروپ کو ایک طرف گھیرے کھڑا ہے اور اُن کے سامنے دھواں دھار تقریر کر رہا تھا اور حاضرین خاموشی سے کھڑے سن رہے ہیں۔ میں نے بھی سننے کی کوشش کی لیکن حسبِ معمول میرے پلے کچھ نہ پڑا میں خاموشی سے ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد وہی آدمی کچھ اور لوگوں کو اپنی تقریر سنا رہا تھا۔ میں نے اس طرف کوئی خاص توجہ نہ دی لیکن وہاں سے فارغ ہو کر وہ سیدھا میری طرف چلا آیا اور مجھ سے پوچھا کہ آپ انگلش سمجھتے ہیں میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ وہ بولا کہ ہماری یہ فلائٹ اوور لوڈ ہو گئی ہے ہم یہ چاہتے ہیں کہ کچھ لوگ یہ فلائٹ اپنی رضامندی سے مس کر دیں ہم انہیں اگلی فلائٹ تک یہاں ہوٹل اور کھانے پینے کی سہولت فراہم کریں گے۔ میرے جیسے آدمی کے لیے آفر تو بری نہیں تھی لیکن بچوں کی پریشانی کے سبب میں نے فوراً انکار کر دیا۔ ہماری یہ فلائٹ شاید اسی وجہ سے آدھ پون گھنٹہ لیٹ تھی۔ بہرحال خدا خدا کر کے طیارے نے اُڑان بھری۔ چاروں طرف روئی کے بڑے بڑے ڈھیروں کی طرح بادل دکھائی دے رہے تھے۔ میری سیٹ شیشے کے ساتھ والی تھی میں نے شیشے میں سے نیچے جھانکا تو جس پہاڑ کے اوپر ہمارا جہاز محوِ پرواز تھا مجھے اس پہاڑ کے پتھر الگ الگ دکھائی دے رہے تھے ۔
یہ تین گھنٹے کی فلائٹ تھی ہمیں استنبول سے نکلے تقریباً ایک گھنٹہ گزر چکا تھا کہ کھانا آ گیا کھانے میں سیخ کباب، یخنی اور چاولوں کے علاوہ ڈبل روٹی اور سبزی وغیرہ بھی موجود تھی۔ میں نے یہ کھانا ذرا رغبت سے کھایا۔ چاول اور کباب کافی بہتر لگے۔ کھانا وغیرہ کھانے کے بعد میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی پورے کا پورا جہاز گورے اور گوریوں سے بھرا ہوا تھا۔ مجھے اچانک خیال آیا کہ یہ والا کھانا بھی انہی کے لیے بنا ہوا تھا اور میں نے ہوسٹس کو اس بارے میں بتایا بھی کچھ نہیں کہ مجھے حلال کھانا کھانا ہے اس لیے میرے کھانے میں یقینی طور پر خنزیر کا گوشت شامل تھا۔ سیخ کباب چشم تصور میں سرخ لال گوشت کے دکھائی دے رہے تھے اور یخنی کی وجہ سے چاولوں کا ذائقہ بھی اسی کے گوشت کی یخنی کا مرہونِ منت معلوم ہو رہا تھا۔
بہرحال اب کیا ہو سکتا تھا جو کھا لیا سو کھا لیا۔ میں بقیہ سارا وقت اسی سلسلے میں پریشان رہا۔ لکسمبرگ جہاز سے اتر کر اپنے سامان کے ساتھ باہر نکلا تو یہاں پر آمنہ، عمیر اور ضوحا مجھے لینے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ اُن کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر گھر جاتے وقت میں نے اُن لوگوں کو بتایا کہ کس طرح انجانے میں میں کیا کیا کھا چکا ہوں۔ اس پر آمنہ نے مجھے بتایا کہ ابو آپ فکر مت کریں ترکش ائر لائن میں کھانا سب کو حلال ہی دیا جاتا ہے حرام کوئی چیز اس میں شامل نہیں کی جاتی یہ سن کر میری جان میں جان آئی اور میں نے اطمینان کا سانس لیا۔

