ایمن آباد، چندراوتی اور قدرت اللہ شہاب


لاہور سے گوجرانوالہ بذریعہ جی ٹی روڈ سفر کریں تو تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر جی ٹی روڈ سے دائیں جانب تقریباً چار کلومیٹر اندر جائیں تو ایک تاریخی قصبہ ہمیں ملتا ہے جس کا نام ’ایمن آباد‘ ہے۔ ایمن آباد اور اس کے گرد و نواح کا علاقہ شاندار چاول پیدا کرنے کے لیے مشہور ہے۔ کبھی ایمن آباد انتہائی سرسبز و شاداب ہوا کرتا تھا، مگر پھر سرمایہ داروں نے یہاں فیکٹریاں لگا کر سارے سبزے کو سیاہ کر دیا اور ایمن آباد کو ایک آلودہ قصبہ بنا کر رکھ دیا۔ ایمن آباد کی تاریخ تو بہت ہی قدیم ہے کہتے ہیں کہ سیالکوٹ کے راجہ نے اسے پہلی صدی قبل از مسیح میں سید پور کے نام سے آ باد کیا تھا۔

پھر سولہویں صدی عیسوی میں مغل شہنشاہ نے حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا اور بابا گرو نانک کو یہاں قید کر دیا جو کہ سکھوں کے پیشوا ہیں۔ وہ یہاں پتھر کوٹا کرتے تھے اور جس جگہ وہ پتھر کوٹا کرتے تھے اس جگہ پر آج بھی ایک گوردوارہ روڑی صاحب کے نام سے موجود ہے۔ کچھ کہانیوں کے مطابق بابا گرو نانک کو چکی پیسنے پر بھی لگا دیا گیا اور کہتے ہیں کہ چکی خود بخود چلا کرتی تھی، اس جگہ پر بھی سکھوں نے یادگار کے طور پہ ایک چھوٹا سا گوردوارہ بنایا ہوا ہے جس کا نام گوردوارہ چکی صاحب ہے۔ ان کے علاوہ بھی یہاں پر چند ایک مقدس مقامات ہیں جہاں ہر سال سکھ، اپریل کے مہینہ میں عموماً آیا کرتے ہیں، یہ وہ مہینہ تھا جب فصل کی کٹائی کے بعد بیساکھی کا میلہ لگا کرتا تھا۔ اب بیساکھی کا میلہ تو نہیں لگتا مگر اپریل اور مئی کے مہینے میں سکھ زائرین زیادہ تر کینیڈا سے تشریف لایا کرتے ہیں۔

کبھی ایمن آباد کو آس پاس کے علاقوں میں مرکزی حیثیت حاصل تھی، عدالتیں اور سرکاری نظام یہیں ہوا کرتا تھا۔ پھر شیر شاہ سوری نے جی ٹی روڈ بنا کر ایمن آباد کی تزویراتی اہمیت ختم ہی کر ڈالی۔ آج بھی ایمن آباد میں چھوٹی اینٹوں سے بنی ہوئی عمارات موجود ہیں جو کہ پرانے وقتوں کی یاد دلاتی ہیں، ان اینٹوں کو یہاں کے لوگ ایمن آبادی اینٹ کہتے ہیں، ایسی اینٹیں آپ کو لاہور کی پرانی عمارات جیسے شاہی قلعہ اور شالیمار باغ میں بھی ملیں گی۔ ایمن آباد کے گرد ایک فصیل بھی تھی جس کے آ ثار آج بھی مل جائیں گے۔ پرانے بابوں کے مطابق یہاں کبھی ایک خوبصورت باغ بھی ہوا کرتا تھا جسے ٹاہلی والا باغ کہتے تھے، جہاں کبھی مسرت نذیر کی فلم یکے والی کی شوٹنگ بھی ہوئی تھی، بعد میں حبیب جالب کی فلم کالے چور کی بھی کچھ شوٹنگ ایمن آباد میں ہوئی تھی۔

مگر بھلا ہو قدرت اللہ شہاب صاحب کا جو قیام پاکستان سے قبل لاہور سے سائیکل پر اپنی پیاری چندراوتی کو ملنے سائیکل پر ایمن آباد آتے تھے۔ کبھی کبھار تو سائیکل پر بٹھا کر لے بھی آتے تھے۔ آج گاڑی پر آئیں تو بھی 70 کلومیٹر کا فاصلہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوتا ہے مگر جناب عاشقی میں فاصلے اور تکلیف کہاں محسوس ہوتے ہیں۔ ہاں اگر شہاب صاحب آج کل چندرا وتی کے ساتھ آتے تو ہم دونوں کی بھائی دتو کی برفی سے تواضع کرتے، جو کہ اب یہاں کی خاص سوغات ہے۔ جانے ان دنوں ایمن آباد میں کیا مشہور چیز تھی کھانے کی؟ تقسیم سے قبل ایمن آباد میں متمول ہندوؤں کی ایک معقول تعداد رہائش پذیر تھی جنہیں یہاں کے لوگ دیوان کہا کرتے تھے۔ ان کی شاندار حویلیوں کے پرشکوہ نشانات آج بھی موجود ہیں۔ پھر تقسیم کے بعد جس کے ہاتھ جو لگا۔ حویلیوں میں یار لوگوں نے گائے بھینسیں باندھ لیں۔ وقت بھی بھلا کسی کا ہوا ہے؟ کہتے ہیں کہ دیوان لوگوں کی عورتیں پردہ کیا کرتی تھیں۔ جب تقسیم کا شور مچا تو ہندو یہاں سے ہجرت کر گئے۔ ایمن آباد والوں نے انہیں بحفاظت ٹرین پہ سوار کرایا، عورتوں کو عزت و احترام اور پردے کے ساتھ ہی رخصت کیا۔ شہاب صاحب کی چندراوتی بیچاری تو خون تھوک تھوک کر تپ دق سے مر گئی۔ مگر شہاب صاحب نے ایمن آباد کا ذکر اپنی خود نوشت شہاب نامہ میں کر کے ہمیں بھی متجسس کر دیا۔ چونکہ ہمارا تعلق بھی ایمن آباد ہی سے ہے تو ہم نے برسوں پہلے اپنے ایک کزن کے ساتھ چند ایک بار اس مکان کی بہت تلاش کی کہ جہاں پر چندراوتی رہائش پذیر تھی۔ مگر وہ مکان نہ مل سکا جو نقشہ شہاب صاحب نے کھینچا تھا اس کے مطابق تو وہ موڑ ایمن آباد جو کہ قصبے سے پہلے ریلوے پھاٹک کے آس پاس آباد ہے یہیں رہتی ہو گی۔ ہم نے بہت ڈھونڈا، ہمیں وہ منڈی بھی مل گئی جس کا ذکر انہوں نے کیا اور اس کے دائیں بائیں بہت سارے گھر بھی موجود ہیں مگر واللہ علم۔ سائیکل پر لاہور سے ایمن آباد جب شہاب صاحب آتے تھے تو وہ کس مکان میں آتے تھے ہمیں تو وہ مکان نہ مل سکا، مگر محبوب کی قربت میں شہاب صاحب بہت دور کا سفر بڑے آرام سے طے کر لیا کرتے تھے۔ شہاب صاحب نے لاہور سے ایمن آباد آنے جانے اور چندراوتی کو سیر کروانے کے لئے ٹیوشن پڑھا کر ایک سائیکل خریدی تھی اور وہ سائیکل پھر شہاب صاحب نے چندراوتی کی وفات کے بعد بیچ کر اس کی ماں کو گنگا یاترا پہ روانہ کر دیا۔ انہیں اس سنہری لڑکی کی رفاقت تو بہت کم ہی نصیب ہوئی۔ فراز نے کیا خوب کہا تھا

تیری قربت کے لمحے پھول جیسے
پھولوں کی عمریں مگر مختصر ہیں

Facebook Comments HS