پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
ملک عزیز اس وقت اپنی 77 سالوں پر محیط تاریخ کے بدترین بحران سے گزر رہا ہے جس نے زندگی کے ہر شعبے کو اپنی آہنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ بدقسمتی سے اس بحران کی شدت ہر آنے والے دن بڑھتی جا رہی ہے جس نے ملک کے سماجی، اقتصادی اور سیاسی نظام کو کچھ اس طرح سے جکڑا ہوا ہے کہ فی الوقت اس سے نکلنے کی بظاہر کوئی راہ نظر نہیں آ رہی ہے۔
ملک میں گزشتہ دو سالوں سے آئین شکنی، عدالتی فیصلوں کی تضحیک اور حکم عدولی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کے حق رائے دہی کو بزور طاقت چھیننے کے بدترین واقعات تواتر کے ساتھ وقوع پذیر ہو رہے ہیں جو کہ طاقت اور اقتدار کے نشے میں چُور حکمرانوں اور ان کے سہولت کاروں جس میں اب اعلیٰ عدالتوں کے کچھ جج بھی شامل ہیں کے قریبی گٹھ جوڑ کا شاخسانہ ہے۔ اس تمام تر صورت حال کے باعث ملک اقتصادی اور سماجی طور پر مکمل دیوالیہ ہو گیا ہے۔ اگر چہ مانگے تانگے کی رقوم اور دوست ممالک کی طرف سے دیے گئے قرضہ جات کی بدولت ملک نے وقتی طور پر ڈیفالٹ ہو جانے کے خطرے کو ٹال دیا ہے لیکن متعدد مستند اور قد آور غیر جانب دار معاشی ماہر ملک کی مجموعی معاشی صورتحال سے کسی طور پر مطمئن نہیں ہیں۔
بد قسمتی سے موجودہ حکمران اس حقیقت کے باوجود کے ان کا اقتدار میں آنا محض فارم 47 کا کارنامہ ہے۔ ملک کی تیزی سے بگڑتی ہوئی معاشی اور سیاسی صورتحال سے مکمل صرف نگاہ کرتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ اور توانائیاں حکومت مخالف عوامی آراء کو کچلنے کے لیے ملکی ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطے کے اہم ذرائع پر قومی سلامتی کی آڑ میں ناروا پابندیاں لگانے پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں سماجی رابطے کی ممتاز سائیٹ X پر کئی ماہ پر محیط غیر علانیہ بندش قابل ذکر ہے۔ بعد ازاں سماجی رابطے کے ذریعے اٹھنے والی عوامی آراء کو ختم کرنے کے لیے 30 ارب کی لاگت سے فائر وال نصب کرنے کا حکومتی اقدام جس نے ملکی سلامتی کو مضبوط کرنے کی بجائے ملک میں ابھرتی ہوئی آئی ٹی کی صنعت کو سست انٹرنیٹ سپیڈ کی بدولت کئی سو ملین ڈالر کے نقصان سے دو چار کر دیا ہے۔ چنانچہ متعدد ملکی اور بین الاقوامی کمپنیوں نے پاکستان میں جاری اپنے کاروبار کو بند کرنے اور کسی اور ملک میں منتقل کرنے کو ہی غنمیت جانا جو کہ ملک کی کمزور معیشت کے لیے کسی بھی طور خوش آئند نہیں ہے۔
موجودہ حکمران ٹولا اور ان کے حقیقی سہولت کار جنہیں اس بار اعلیٰ عدلیہ کے کچھ ججز اور ایک انتہائی جانب دار الیکشن کمیشن کی مکمل اعانت حاصل ہے ملک میں جاری سنگین صورت حال کا صحیح ادراک کرنے سے مکمل طور پر قاصر ہے۔ چنانچہ ہوس اقتدار اور اس میں من چاہی طوالت کے لیے اس بار اس نے ملک کے آئینی ڈھانچے کو مکمل طور پر تبدیل کرنے اور اعلیٰ عدلیہ کو زیر نگین کرنے کی مذموم خواہش کو پورا کرنے کے لیے 50 سے زائد آئینی ترامیم کو منظور کرانے کے لیے ایک مربوط مہم کا آغاز کر دیا ہے اس تمام تر مہم کی سرخیل مسلم لیگ نون کو جمہوریت اور جمہوری اقدار کی خودساختہ چیمپین پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، عوامی نیشنل پارٹی، باپ، مسلم لیگ ق اور حکومت میں شامل تمام جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
دوسری جانب حزب اختلاف میں موجود سب سے بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف جو کہ پہلے سے ہی حکومتی اور ریاستی جور و ستم کا شکار ہے مجوزہ آئینی ترامیم کی بھرپور مخالفت کر رہی ہے۔ لیکن تمام تر حکومتی توقعات کے برعکس جمعیت علما اسلام ف نے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مجوزہ آئینی ترامیم کے مسودے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمان کی زیر قیادت جمعیت علما اسلام ف روایتی طور پر پاکستان تحریک انصاف کی بدترین سیاسی مخالف اور موجودہ حکمران ٹولے او حقیقی حکمرانوں کی حمایت کے لیے جانی پہچانی جاتی ہے۔ لیکن اس بار مولانا فضل الرحمان کی جانب سے لیے گئے اس تاریخی اقدام نے حکومتی ایوانوں میں بھونچال برپا کر دیا ہے جس نے حکومت کے قانونی اور اخلاقی جواز کو نا قابل تلافی نقصان سے دو چار کر دیا ہے۔
اس تمام تر صورتحال میں ملک کے مقتدر سیاسی مبصرین اور عوام الناس کی بہت بڑی اکثریت جہاں مولانا کے اصولی موقف کو بھرپور سراہا رہی ہے وہیں زبردست سیاسی ہزیمت اور شکست سے دو چار ایک غیر حقیقی اور غیر نمائندہ حکومت نے اپنی حقیقی آقاؤں کی بھر پور اعانت سے ایک انتہائی جانب دار اور متعصب الیکشن کمیشن کو مولانا کی مشکیں کسنے کے لیے میدان میں اتار دیا ہے۔ جس نے ابتدائی طور پر جمعیت علما اسلام ف کی جانب سے منعقد کردہ حالیہ جماعتی انتخابات پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اس کی پارٹی رجسٹریشن اور انتخابی نشان کو واپس لینے کی دھمکی دے دی ہے۔ تیزی سے بدلتی ہوئی اس سیاسی صورتحال اور اس سے منسلک آئینی بحران اب اپنے منطقی انجام کی طرف گامزن ہے اور آنے والے دن اس بات کا تعین کر دیں گے کہ ملک عزیز میں حکومت کرنے کا حق عوام الناس اوران کے منتخب کردہ حقیقی نمائندوں کا ہے یا ان کی جانب سے 8 فروری کو منعقدہ انتخابات میں مسترد کردہ اس سیاسی ٹولے کا ہے جو مقتدرہ کی جانب سے فراہم کردہ سیاسی بیساکھیوں کے سہارے اقتدار پر قابض ہے۔
لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی اس صورت حال میں مولانا فضل الرحمان کا کردار بہت اہم ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ مولانا اپنے اصولی موقف پر کب تک ڈٹے رہیں گے۔ درحقیقت قدرت نے انہیں ماضی میں کی جانے والی تمام سیاسی مصلحتوں اور غلطیوں کا ازالہ کرنے کا ایک سنہری موقع عطا کیا ہے۔ یاد رہے کہ اپنی تمام تر بشری کمزوریوں اور غلطیوں کے باوجود قدرت نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور اسلامو فوبیا کے قانون جیسے عظیم کارناموں کو ذوالفقار علی بھٹو اور عمران خان کے ہاتھوں سرانجام پہنچایا تھا۔ اسی طرح بدنیتی اور ذاتی مفاد کو وسیع تر عوامی مفادات پر ترجیح دینے کی مذموم حکومتی سازش کو روکنے کے لیے اس مرتبہ شاید قدرت کی جانب سے مولانا فضل الرحمان منتخب کر لیے گئے ہیں۔ امید واثق ہے کہ مولانا اپنے اصولی موقف کو حقیقی کامیابی سے ہم کنار کرنے کی ہر ممکن کوششیں کرتے رہیں گے
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانے سے


