استاد کا احتساب ہونا چاہیے


الحمدللہ رب العالمین ہمیں مسلمان اور حضرت محمد ﷺ کا امتی ہونے پر فخر ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبین ﷺ تک تمام انبیاء علیہم السلام نے اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کیا اور تیار بھی رکھا۔ حضرت محمد ﷺ کی زندگی میں بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ آپ ﷺ کے اکثر ارشادات احتساب ہونے یا کرنے پر موجود ہیں۔ میں صرف دو صحابہ رسول کی زندگی میں احتساب کی مثال پیش کروں گا اور پھر اساتذہ کے احتساب پر اپنے خیالات قلمبند کروں گا۔

حضرت ابو بکر صدیق کو ایک بار کچھ میٹھا کھانے کی خواہش ہوئی۔ آپ نے یہ خواہش اپنی زوجہ محترمہ کو بتائی۔ راشن میں شیرہ نہ ہونے کی وجہ سے آپ نے صبر کیا۔ چند دن بعد جب کچھ میٹھا کھانے کو ملا تو آپ نے زوجہ محترمہ سے استفسار کیا کہ یہ میٹھا کہاں سے آیا ہے۔ تو آپ کی زوجہ محترمہ نے جواب دیا کہ میں نے روزانہ چند دن ایک مٹھی راشن بچانا شروع کیا تھا۔ اب جتنا راشن جمع ہوا تھا اس کو فروخت کر کے شیرہ منگوا کر میٹھا بنایا ہے۔

جس پر آپ نے فوراً بیت المال کے انچارج کو حکم صادر کیا کہ میرے راشن میں سے ایک مٹھی راشن کم کر دیا جائے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے احتساب کی یہ بہترین مثال قائم کی۔ حضرت سیدنا عمر فاروق کے پاس کچھ کپڑے آئے جنہیں صحابہ کرام میں تقسیم کیا گیا، ہر آدمی کو ایک ایک کپڑا ملا، اس کے بعد آپ منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے اور آپ نے ان تقسیم کردہ کپڑوں کا جوڑا پہن رکھا تھا، آپ منبر پر فرما رہے تھے۔ اپنے امیر اور حاکم کی بات سنو، اور اطاعت شعار بنو، تو سیدنا سلمان کہنے لگے کہ ہم تو نہیں سنیں گے، تو سیدنا عمر نے پوچھا کہ اے ابو عبداللہ! سمع و طاعت سے انکار کس لئے، جناب سلمان کہنے لگے جناب جو کپڑے تقسیم کیے گئے وہ سب کو ایک ایک کپڑا ملا جبکہ اس وقت آپ نے ان کپڑوں کا جوڑا زیب تن کر رکھا ہے، سیدنا فاروق نے اپنے صاحبزادے جناب عبداللہ کو کہا کہ بیٹا تجھے قسم دے کر کہتا ہوں بتاؤ کہ یہ جو دوسرا کپڑا اس وقت میں نے پہن رکھا ہے، یہ وہی ہے جو تیرے حصہ میں آیا تھا، عبداللہ نے تصدیق کی کہ ہاں یہ وہی کپڑا ہے، یہ سن کر سیدنا سلمان کہنے لگے کہ ہاں اب ٹھیک ہے ہم آپ کی بات سنیں گے بھی اور اطاعت بھی کریں گے۔

احتساب پہلے حکمران دیتے ہیں پھر عوام سے کرتے ہیں۔ استاد اور معلم سے احتساب ضرور کریں مگر پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ اساتذہ کا احتساب ضرور ہونا چاہیے۔ اساتذہ کمیونٹی اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کرتی ہے۔ احتساب کریں کہ وہ اکیلا سکول کیوں چلا رہا ہے۔ احتساب ہونا چاہیے کہ وہ چھ چھ کلاسز کو اکیلا کیوں پڑھا رہا ہے۔ احتساب اس بات کا بھی ہونا چاہیے کہ وہ خاکروب، مالی، چوکیدار کے فرائض کیوں ادا کر رہا ہے۔

اس کو تو تنخواہ صرف پڑھانے کی دی جا رہی ہے، دوسرے فرائض ادا کرنے پر اس کا احتساب کیا جائے اور اس کو تعریفی سرٹیفکیٹ دینے کی بجائے اس نے جتنے اضافی فرائض سر انجام دیے ہیں ان کا معاوضہ دیا جائے۔ استاد کا احتساب ہونا چاہیے کہ اس نے سکول کی جگہ، چار دیواری اور عمارت کے لیے مخیر حضرات سے تعاون کی درخواست کی۔ اس نے اپنی جیب سے غریب اور مستحق بچوں کو یونیفارم اور سٹیشنری دے کر پاکستان کے آئین پر حملہ کیا ہے۔

احتساب کی عدالت میں استاد سے پوچھا جائے کہ اس نے کم وسائل میں غریب اور مستحق طلباء کو تعلیم دینے کا عمل کیوں جاری رکھا۔ مخیر حضرات کے تعاون سے صاف پانی کا انتظام کرنے پر استاد پر فرد جرم عائد ہونی چاہیے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کو لازمی اساتذہ کا احتساب کرنا چاہیے۔ یہ قوم کے غریب بچوں کو تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے طلباء اور قوم میں امن کا درس دیا۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی طرح طلبا اور قوم میں انتشار اور انقلاب کی فضا پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔

انہوں نے امن اور استحکام کو فروغ دیا۔ اخلاقیات اور انسانیت کا درس دیا۔ پاکستان کے بھاری بھاری فیسوں والے سکولوں کے مقابلے میں سرکاری سکول کے پوزیشن ہولڈر طلباء کھڑے کیوں کیے۔ دانش سکول سسٹم اور پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے بہتر نتائج حاصل کیے۔ ان اساتذہ کے احتساب کے لیے کڑی سے کڑی شرائط رکھی جائیں تاکہ باقی سکول بھی جلد از جلد پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور دانش اتھارٹی کو سپرد کیے جائیں۔ اساتذہ کا احتساب ہونا چاہیے کہ یہ ”سب اچھا ہے“ کہنے کے عادی کیوں ہیں۔

یہ پنجاب حکومت کی غلط پالیسیوں پر عمل پیرا کیوں ہیں۔ ان کا احتساب ضرور کریں کہ یہ کیوں ڈینگی ایکٹیویٹی سے مچھروں کو مار رہے ہیں۔ یہ ناقص عمارتوں میں بہترین کارکردگی پیش کر رہے ہیں۔ ان کے ہونہار طلباء تمام بورڈز سے پوزیشن حاصل کر رہے ہیں۔ یہ الیکشن کے ووٹ بنا رہا ہے، یہ ووٹ ویری فیکیشن بھی کر رہا ہے۔ یہ فری آٹا تقسیم کرنے کی بھی ڈیوٹی کر رہا ہے۔ الغرض پنجاب حکومت کی ہر سرگرمی اور حکم نامے پر لبیک کر رہا ہے۔

اس کی فرمانبرداری اور تابعداری کا احتساب ہونا چاہیے۔ اس کا احتساب ہونا چاہیے کہ یہ والدین کی منتیں بھی کر رہا ہے اور افسر ان بالا کی جھڑکیاں کھا کر بھی شعبہ تعلیم میں اپنے فرائض احسن انداز میں ادا کر رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ صاحبہ ان کا احتساب کریں کہ انہوں نے شدید دباؤ کے باوجود بھی فارم 45 درست اور صحیح کیوں فل کیے۔ محکمہ تعلیم کو تباہ و برباد کر کے استاد کی عزت کو تار تار کرنے پر ہم اساتذہ آپ کے مشکور ہیں کیونکہ ہمیں تو ایک مزدور کی حیثیت بھی نہیں دی گئی ہے۔ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں بھرتی ہونے والے کی تنخواہ پر ذرا غور کر لیں۔ برائے مہربانی اس ادارے کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Facebook Comments HS