جاوید اختر چودھری کے افسانوں کا مجموعہ: لوحِ طلسم


”لوح ِطلسم“ جاوید اختر چودھری کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔ انھوں نے اپنے افسانوی مجموعوں ”اک فرصت ِگناہ“ ، ”حرفِ دعا“ اور ”ٹھوکا“ کو یکجا کر کے کلیات کی شکل میں شائع کیا ہے۔ لوح ِطلسم کے پہلے حصہ میں ”اک فرصتِ گناہ“ کے 9 افسانے ہیں اور دوسرے حصہ میں ”حرف ِدعا“ کے 8 افسانے شامل ہیں۔ تیسرا حصہ ان کے 2012 ء میں شائع ہونے والے افسانوی مجموعے ”ٹھوکا“ کے 19 افسانوں پر مشتمل ہیں۔ 318 صفحات پر مشتمل ”لوحِ طلسم“ کو پنجاب یونیورسٹی لاہور کے پریس اینڈ پبلیکیشن ڈیپارٹمنٹ نے شائع کیا ہے۔ آویز احمد کے بنائے خوبصورت سرورق اور فوٹو آفسٹ عمدہ کاغذ پر چھپی یہ ایک جاذب نظر کتاب ہے۔

میں سمجھتا ہوں کسی بھی کتاب پر اُس کے مصنف کی زندگی کے حالات و واقعات سے جُڑی بہت سی یادوں اور اُس کے فکر و فن کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ میں کتاب پڑھتے ہوئے اور پسند آ جانے پراس پر تبصرہ کرتے ہوئے مصنف کی شخصیت کو ضرور ذہن میں رکھتا ہوں۔ دو ماہ پہلے برمنگھم کی ادبی تنظیم ”رومی سوسائٹی“ کے زیرِ اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والی ایک کتاب کی تقریبِ رونمائی اور محفلِ مشاعرہ میں جاوید اختر چودھری سے میرا ایک سرسری سا تعارف ہوا۔ پچھلے ہفتے اُن کے برمنگھم کے علاقہ یارڈلے میں واقع گھر میں ممتاز شاعر ناصر علی سید اور اُن کی اہلیہ کے ہمراہ ان سے ایک لمبی نشست میں ان کے بارے میں جاننے کا موقع ملا۔ ان کی اہلیہ ممتاز ادبی شخصیت سلطانہ مہر ناسازیٍ طبع کے باوجود اس نشست میں موجود رہیں۔ جاوید اختر پہلی ملاقات میں مجھے بڑے دھیمے لہجے میں بات کرنے والے بردبار، سچے اور کھرے انسان نظر آئے۔

جاوید اختر چودھری کا خاندان 1947 ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر کے پنجاب کے خطہِ پوٹھوہار کے قصبے سوہاوہ میں آباد ہوا۔ ہجرت کے وقت ان کی عمر سات سال تھی۔ مقامی طور پر گریجویشن کرنے کے بعد انھوں نے منگلا ڈیم اور پھر تربیلا ڈیم کی تعمیر کے منصوبوں پر کام کیا۔ 1970 میں اُنہوں نے پاکستان سے ہجرت کی اور ڈنمارک پہنچے، وہاں اُن کا دل نہیں لگا تو دو سال بعد ایک بار پھر ہجرت کر کے برطانیہ آ گئے اور پچھلے پچاس سال سے برطانیہ کے دوسرے بڑے شہر برمنگھم میں آباد ہیں۔

وہ بنیادی طور پر ایک افسانہ نگار ہیں۔ انھوں نے چند دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مل کر برطانیہ میں ادب کے فروغ کے لیے بہت کام کیا۔ خود کھرے اور سچے آدمی ہیں اس لئے سچی بات منہ پر کہہ دیتے ہیں۔ لوح ِطلسم کے دیباچہ میں وہ لکھتے ہیں ”پچاس ساٹھ سال پہلے نقاد اور محقق کتابیں خرید کر پڑھتے اور تبصرے لکھتے تھے۔ اُن دنوں لکھنے والے کم اور پڑھنے والے زیادہ تھے اب صورت حال مختلف ہے۔ لکھنے والے بہت زیادہ ہیں اور پڑھنے والے بہت کم ہیں“ ۔ جاوید چودھری کی زندگی کا زیادہ عرصہ برطانیہ میں گزرا ہے۔ ان کے افسانوں کے کردار اس جیتی جاگتی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ بلکہ میں تو کہوں گا کہ انھوں نے سچی کہانیوں کو افسانے کا رنگ دیا ہے۔ ان کرداروں میں سے بیشتر پاکستانی تارکین وطن کمیونٹی کے جیتے جاگتے افراد ہیں۔ ان کا مشاہدہ بہت ہی زبردست ہے۔ پاکستان میں جاگیرداری نظام اور دیہاتی رہن سہن کو انھوں نے بڑے قریب سے دیکھا ہے۔ برطانیہ میں پاکستانی تارکین وطن کمیونٹی میں دو غلہ پن، برادری سسٹم، پیر پرستی، برطانوی حکومت سے جعلی طور پر سہولیات کا حصول، نسل پرستی اور تجارت میں بے ایمانی کا بڑی باریک بینی سے مشاہدہ کر کے انھیں اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔ اِس لیے اُن کے افسانے اور اُن کے کردار حقیقت سے قریب تر نظر آتے ہیں۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں اردو اور پنجابی اشعار کا بڑا بر محل استعمال کیا ہے۔ اشعار کا انتخاب بھی بڑا کمال کا ہے بلکہ احمد ندیم قاسمی کا ایک شعر انھوں نے دو افسانوں میں لکھا ہے۔ افسانوں میں بینک اور میڈیکل سے متعلقہ معلومات باقاعدہ ریسرچ کر کے شامل کی ہیں جس سے کہانی میں حقیقت کا رنگ نمایاں ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر فرمان فتح پوری ان کے افسانوں کے بارے میں لکھتے ہیں۔ ”جاوید اختر کے افسانے علمی و فکری اور فلسفیانہ و تاریخی نوعیت کے بجائے ان کے گرد پھیلی ہوئی زندگی اور سماج کے ترجمان ہیں اور اُن افسانوں میں ہمیں وہ تمام حالات و واقعات اور وہ تمام فضا پوری طرح نظر آتی ہے جو جاوید اختر کی نظر و فکر اور احساس سے ہم آہنگ بھی ہے اور برسرپیکار بھی۔“

جاوید اختر نے بچپن میں والدین کے ساتھ ہندوستان سے ہجرت کے دوران خونچکاں مناظر کو بڑے قریب سے دیکھا۔ ترکِ وطن کر کے نو زائیدہ پاکستان کے ابتدائی سالوں کی جد و جہد، نئی جگہ پر رہن سہن اور بود و باش کو اپنانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ منگلا اور تربیلا ڈیم میں ملازمت کے درمیان انگریزوں کے کام اور اپنی افسر شاہی کی کارستانیوں کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد پھر ہجرت کا ارادہ کیا۔ ایمان داری سے بہتر زندگی اور اچھا مستقبل بنانے کی خواہش نے انھیں پھر ہجرت پر اُکسایا اور وہ یورپ میں ڈنمارک آ گئے۔ پرندوں کی طرح رزق کی تلاش انھیں ڈنمارک سے برطانیہ لے آئی اور پھر وہ وہیں کے ہو کر رہ گئے۔

”قصہ ایک عشق کا “ میں خاتون خانہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ وہ تو Domestic Engineer یعنی گھریلو خاتون ہیں۔ اس افسانے میں انھوں نے بینک میں سرمایہ کاری کے بارے میں جو باتیں لکھی ہیں وہ کوئی ماہر بینکار ہی لکھ سکتا ہے۔ ان کے مشاہدے اور معلومات کی داد دینا پڑتی ہے۔ جب عورت مردوں سے دھوکا کھاتی ہے تو وہ اپنی جنس کی طرف راغب ہوتی ہے۔ شادی شدہ مردوں کے عشق کے بارے میں وہ لکھتے ہیں۔ ”ہمارے ہاں کے مرد جب عشق و عاشقی کا کام کرتے ہیں تو اُن کی گھریلو زندگی کا اُن پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ بچے اُس دوران میں بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ بیوی کا بس کام یہ ہے کہ وہ بچے پیدا کرے اور اُن کی پرورش کرے۔ وہ ساری زندگی بچوں کے والد کی آؤ بھگت میں مصروف رہتی ہے۔“ مردوں کی نفسیات پر بڑی گہری بات کی ہے جو کم لوگوں کی سمجھ میں آتی ہے۔

”ایک فرصت گناہ میں“ میں انھوں نے اِس فلسفہ کو اجاگر کیا ہے کہ عورت اپنی زندگی میں آنے والے پہلے مرد کو کبھی نہیں بھولتی اور مرد اپنے اعتبار کو ٹھیس پہنچانے والی خاتون کو کبھی معاف نہیں کرتا۔ عورت مرد کے نرم و نازک رشتوں اور جذبات سے جڑی یہ ایک بہت اچھی کہانی ہے۔ ”وصیت“ میں انھوں نے برطانیہ میں پلی بڑھی نئی نسل کی نفسیات کو بڑی سچائی سے بیان کیا ہے۔ پرانی نسل کا اس ملک کو اپنانا سمجھنے کی سوچ کو نئی نسل نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ نئی نسل اب برطانیہ کو ہی اپنا ملک سمجھتی ہے۔

”زخمِ دل“ پاکستان کے جاگیردارنہ نظام میں جوان ہونے والی ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو اپنی زندگی اپنے طور پر گزارنا چاہتی تھی۔ اسے ادب، خوشبو اور سرخ گلاب بہت پسند تھے۔ وہ کہتی تھی ”پھول توڑنے کے لیے نہیں ہوتے، صرف دیکھنے کے لیے ہوتے ہیں۔“ اس نے جن دو مردوں کو ٹوٹ کر چاہا وہ دونوں ہی بہت کمزور اور ناتواں نکلے۔ بالآخر اس نے اپنی زندگی تنہا گزارنے کا فیصلہ لیا۔ مرد و عورت کے نازک اور جذباتی رشتے میں گندھی یہ ایک خوبصورت لیکن المیہ کہانی ہے جس میں پاکستان میں اشرافیہ کی معاشرت اور برطانیہ میں پاکستانی معاشرت کو بڑی سچائی سے بیان کیا گیا ہے ۔

برطانیہ اور دوسرے ممالک میں بسنے والے پاکستانی تارکین وطن کی طرح جاوید چودھری کو بھی اپنے وطن سے بہت محبت ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ یورپ اور برطانیہ کی طرح اُن کے ملک میں بھی قانون کا راج ہو، ایمانداری ہو، لوٹ کھسوٹ، اقربا پروری اور نا اہلی نہ ہو۔ اپنے مختصر سے افسانے ”تھکاوٹ“ میں انھوں نے پاکستانی معاشرت کے بخیے ادھڑ کر رکھ دیے ہیں اتنا سچا، برمحل اور اہم تجزیہ پہلے میری نظر سے نہیں گزرا۔ اتنا کڑوا سچ بھلا ہم کب ہضم کر سکتے ہیں۔

”آخری جپھا“ میں انھوں راولپنڈی ڈویژن کے دیہات کے نوجوانوں کو ملازمت میسر نہ ہونے کی وجہ بیرون ممالک جانے کی وجوہات پر روشنی ڈالی ہے۔ اُنھوں نے دیہاتی معاشرت کو بڑی باریک بینی سے لکھا ہے لیکن پتہ نہیں کیوں مجھے اِس افسانے کی سمجھ نہیں آئی ورنہ جاوید چودھری کا پیغام تو بڑا واضح ہوتا ہے۔ ہم بیرون ملک جا کر جھوٹ، دغا بازی اور دھوکا دہی کی بنیاد پر جو عمارتیں وہاں کھڑی کرتے ہیں وہ بوسیدہ اور نازک بنیادوں کی وجہ سے بہت جلد گر جاتی ہیں۔ جس سے ہماری کمیونٹی اپنے ملک کی بدنامی کا باعث بنتی ہے۔ جعلی ڈاکٹروں، حکیموں اور پیروں کی ایک بڑی تعداد برطانیہ میں اپنے وطن کی عزت خراب کرنے میں ملوث رہی ہے جس کو جاوید چودھری نے ”رزق کی دھوپ“ میں قلمبند کیا ہے۔

”یہ بھی قانون کی ادا ٹھہری“ پاکستانی عدالتی نظام اور یہاں کی پولیس کی کارکردگی پر دل اداس کر دینے والی تحریر ہے۔ میرا اپنا برطانیہ سے والدین کو ملنے پنجاب جانے والا بھانجا ایسے ہی ایک کیس کو سالوں بھگت چکا ہے۔

”ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا“ میں بیان کیے گئے اللہ دتہ کے فراڈ سے ملتے جلتے فراڈ کا شکار راولپنڈی ڈویژن کے ایک بڑے پیر صاحب بھی چند سال پہلے ہوئے تھے۔ برطانیہ میں آباد پاکستانی کمیونٹی کے چند گندے انڈوں کی وجہ سے ساری کمیونٹی کی بدنامی ہوتی ہے۔ جاوید چودھری نے معاشرے میں پھیلے اس ناسور کو اپنے قلم کے نشتر سے قرطاس ابیض پر بکھیرا ہے۔ افسانے آخر میں دی گئی ( 1 ) کی توجیہہ ”ڈھائی گھڑی کا ٹھاہ اٹھا“ کی تو نہیں ہے یا پھر مجھے سمجھ نہیں آئی۔

کچھ دن قبل ڈربی میں ایک جامع مسجد میں امام صاحب نے نماز کی ادائیگی کے بعد برطانیہ کی سلامتی و ترقی کی دعا مانگی تو میرے ساتھ بیٹھے صاحب نے
بڑی حیرانی کا اظہار کیا اور کہا کہ اب مسجدوں میں عیسائیوں کی ترقی کی دعا مانگتے ہیں۔ ”حرام کا مال“ ہماری ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے ہم خود حرام کھاتے ہیں، بہت سے غلط کام کرتے ہیں۔ یہود اور نصاریٰ کی دی گئی سب سہولتوں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور اُن کی ہی تباہی کی دعا مانگتے ہیں۔ ہم ان کا مقابلہ کیوں نہیں کرتے۔

”ہائے کِتھے ہوئے میرا ڈڈیال“ پڑھ کر مجھے بینک کی ملازمت کے دوران ڈڈیال میں گزرا ہوا وقت یاد آ گیا۔ برطانیہ سے اپنے آبائی وطن لَوٹنے والے کیسے چھوٹے چھوٹے سرکاری ملازمین سے اپنی واقفیت پر فخر کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کی دعوتیں کرتے ہیں۔ ان کے لیے قیمتی تحفے لے کر جاتے ہیں۔ انھیں برطانیہ بلا کر گھماتے پھراتے ہیں۔ بدلے میں وہ سرکاری ملازم اُن کی چند چھوٹی موٹی غیرقانونی سرگرمیوں پر دَر گزر کر دیتے ہیں۔ لیکن برطانیہ میں وہ قانون کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے اور پھر وہ بے بسی میں برطانیہ کو برا بھلا کہتے ہیں اور ڈڈیال کو یاد کرتے ہیں۔

دولت پاس آتے ہی ہم آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ ہم جنت اور دوزخ کے فتوے جاری کرنے لگ جاتے ہیں۔ ”کاش وہ“ ! ایسے برطانوی انگریز کی کہانی ہے جو اپنے اندر سمندر کی گہرائی رکھتا تھا۔ اُس نے اپنی زندگی میں لوگوں میں آسانیاں بانٹیں لیکن خود بڑی سادگی سے زندگی بسر کی اور مرتے ہوئے اپنی دولت چیرٹی کے کاموں کے لیے وقف کر گیا۔ جاوید چودھری نے ملاقات میں بتایا تھا کہ ایک سٹور پر (Buy one get one free) ”ایک خریدیں ساتھ ایک مفت حاصل کریں“ کے اشتہار سے متاثر ہو کر انھوں نے یہ افسانہ لکھا تھا۔ اس کا غیر متوقع اختتام پڑھ کر مجھے موپساں یاد آ گیا جو اپنی کہانیوں کے غیر متوقع انجام کے لیے مشہور تھا۔ یورپ امریکہ اور برطانیہ میں آباد پاکستانی تارکینِ وطن سے اپنے ملک میں اُن کے اپنے رشتہ دار، دوست اور دیگر افراد جو فراڈ کرتے ہیں اس کو جاوید چودھری نے ”باشڑ“ میں ماسٹر فضل دین کی کہانی بڑے دلچسپ اور حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کی ہے۔

پنجاب اور آزاد کشمیر میں برادری کا بت اتنا طاقتور ہے کہ وہ ہنر مندوں کو آج بھی اپنا کمی کمین سمجھتے ہیں۔ پاکستان اور آزاد کشمیر میں فی زمانہ ان ہنر مندوں کی اولاد برادری کے بت پرستوں سے زیادہ پڑھی لکھی اور اہم عہدوں پر فائز ہے۔ برطانیہ کا پہلا ایشیائی لارڈ میئر بننے پر جب انھوں نے اپنے سنگ تراش والد کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں بلایا اور سب کے سامنے تفاخر سے محنت کش باپ کا بیٹا ہونے پر اپنا تعارف کروایا۔ ”ٹھوکا“ ایسے ہی ان سیکڑوں بہادر ہنرمندوں کی کہانی ہے جنھیں اپنے آبا و اجداد کے پیشے پر فخر ہے۔ برطانوی معاشرے میں ہماری کمیونٹی کو نام نہاد پیروں اور درگاہوں نے کس حد تک جکڑا ہوا اور اپنے جال میں پھنسایا ہوا ہے۔ ”ایک عمر کی اجرت“ اس کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ اسی طرح 2005 ء کے زلزلے کے بعد انسانی رویوں میں منفی اور مثبت تبدیلیوں کو ”زلزلے کے بعد“ میں اتنی سچائی سے بیان کرنے کا انداز سیدھا قاری کے دل میں اتر جاتا ہے۔ ہم تو اس مرحلے سے بہت قریب سے گزرے ہیں۔

عورت مرد کی پہلی نظر سے ہی اس کا ارادہ بھانپ لیتی ہے۔ اچھی نظر پر وہ کھل جاتی ہے اور بری نظر محسوس کرتے ہی وہ اپنے آپ کو سمیٹ لیتی ہے۔ ”وزٹنگ کارڈ“ میں جاوید اختر نے اس فلسفے کو بیان کیا ہے۔ ”ہنر مند“ میں انھوں نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن اور کمیونٹی کی معاشرت، رہن سہن، بود و باش اور کمیونٹی کی نفسیات کو بڑے کھلے ڈھلے انداز میں لکھا ہے۔ اپنے معاشرے پر اتنا تنقیدی جائزہ اور سچائی بیان کرنے پر جاوید چودھری داد کے قابل ہیں۔ ”اندر اور باہر کا موسم“ برطانوی سوسائٹی میں رہنے والی ایک الگ تھلگ شخصیت کی کہانی ہے جس کا نظریہ کھاؤ پیو، عیاشی کرو اور مر جاؤ تھا لیکن خاندان کی زندگی کا جب ان کو ادراک ہوتا ہے موت انھیں آ گھیرتی ہے۔ اس کا انجام بھی مجھے بڑا غیر متوقع لگا ہے۔ بعض دفعہ ہمیں سامنے رکھی سچائی نظر نہیں آتی۔ ہم سامنے والے کے جذبات سمجھ نہیں سکتے یا اُن پر توجہ نہیں دیتے۔ عورت ہمیشہ اپنے جذبات کا اظہار کرنے سے شرماتی ہے اور ظاہر کرنے سے اجتناب بھی کرتی ہے۔ ایسی ہی کہانی ”دروازے کے پیچھے“ پڑھ کر باجی امتیاز کے انجام پر رونا آیا۔

برطانوی اور یورپی سوسائٹی میں اور ہم میں بنیادی فرق قبولیت کا ہے ہم قانون پر عملدرآمد، سچائی اور اپنے ملک کے بارے میں نہیں سوچتے۔ وہ ان باتوں پر عمل کرتے ہیں۔ لوح طلسم کی آخری چھوٹی چھوٹی کہانیاں ”مہذب شہری“ ، ”نئی عورت“ ، ”قانون کا احترام“ ، ”خدمت خلق“ اور ”وقت کی پابندی“ پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ ہم کتنے بُرے ہیں۔ کیا ہمارا کوئی اعلیٰ افسر برطانوی عدلیہ کے ریٹائرڈ افسر کی طرح عوام کی خدمت کر سکتا ہے۔

Facebook Comments HS