مولانا طارق جمیل نے بھی ہیئر ٹرانسپلانٹ کروا لیے
سائنس و ٹیکنالوجی کا شکریہ کہ جس کی بدولت یہ دنیا روز بروز خوبصورت بنتی جا رہی ہے اور سائنس کا سب سے بڑا معجزہ اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ بغیر کسی ترغیب و تلقین کے یہ ہماری زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ یہ سائنس و ٹیکنالوجی کا کمال ہی تو ہے کہ ایک 70 سال کا بزرگ بھی اپنے گنجے سر پر بال اگا سکتا ہے، بالوں کو کلر کر کے اپنے بڑھاپے پر پردہ ڈال سکتا ہے۔ یہ تو خیر چھوٹی موٹی سی باتیں ہیں، سائنس تو بہت آ گے نکل چکی ہے اور اس کا سفر یونہی چلتا رہے گا۔
کرشنا مورتی کے مطابق سچ ایک ”پاتھ لیس“ مظہر ہے جس کا کوئی کنارہ یا اختتام نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر خالد سہیل کے مطابق "دنیا میں اتنے ہی سچ ہیں جتنے انسان اور اتنی ہی حقیقتیں ہیں جتنی دیکھنے والی آنکھیں“ لیکن آج کے دور کا سچ سائنس میں پنہاں ہے، یہ دنیا کا واحد میدان ہے جس میں شک، سوال اور چیلنج کو کھلے دل سے خوش آ مدید کہا جاتا ہے اور کوئی بھی کسی بھی وقت اپنے ماحصل کو تجرباتی بنیادوں پر سامنے لا کر ہزاروں سالوں کی تحقیق کو جھوٹا ثابت کر سکتا ہے اور سائنس دان ہر نئی تحقیق کو قبول کرنے کے لیے ہر وقت ذہنی طور پر تیار رہتے ہیں۔
جب دنیا بھر میں کرونا کی مہلک وبا پھیلی تو ہمارے مذہبی دوستوں نے اسے قادر مطلق کی ناراضی کہا اور کچھ نے تو اس بیماری کے وجود کو ہی سرے سے تسلیم نہیں کیا لیکن وقت کا ستم دیکھیے کہ جب کرونا ویکسین آئی تو سب سے آ گے ہمارے یہی مذہبی دوست ہی تھے جو ویکسین سے مستفید ہو رہے تھے۔ ہمیں اچھی طرح سے یاد ہے مولانا طارق جمیل نے بھی انہی دنوں ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کروایا تھا جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ کوئی وبا وغیرہ نہیں ہے۔ لیکن جب خود اس وبا کا شکار ہوئے تو انہوں نے فرمایا کہ یہ واقعی وبا ہے، ویکسینیشن کروائیں اور ایس او پیز کا خاص خیال رکھیں۔
جو سچ ہوتا ہے وہ دنیا کے ہر حصے میں سچ ہی ہوتا ہے اور اسے خود کو منوانے کے لیے کسی بریگیڈ یا محافظین کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ سچ ہی کیا ہوا کہ جس کی تلقین و ترویج یا تبلیغ کرنا پڑے اور تسلیم کروانے کے لیے کبھی لوگوں کی منت سماجت کرنا پڑے تو کبھی ڈنڈے یا اسلحہ کے زور پر زبردستی تسلیم کروانا پڑے۔
ہمیں مولانا کے بال لگوانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے بس گزارش اتنی سی ہے کہ یہ آسانیاں لوگوں میں بھی تقسیم کریں، ان کو بھی بتائیں کہ وہ بھی اپنی زندگیوں میں راحت کا سامان کر سکتے ہیں۔ ان کو سادگی کا درس دیں اور عذاب سے ڈرا دھمکا کر انہیں پوری طرح سے جینے نا دیں اور جناب خود لطف اندوزیاں خوب کریں تو کھلا تضاد نہیں ہو گا؟
ہمیں ان لوگوں پر بھی حیرت ہوتی ہے جو ذرا سی تنقید پر سیخ پا ہو جاتے ہیں اور مولانا طارق جمیل کے ترجمان بن کر اپنی طرف سے ہی وضاحتیں دینا شروع ہو جاتے ہیں اور موقف اختیار کرتے ہیں کہ مولانا پر تنقید کرنے والے ان کی ذات سے بغض رکھتے ہیں۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے جو ان کی دو دو گھنٹوں کی تقریریں سنتے ہیں اگر وہ تنقید کر لیں تو سرکار ظرف بھی تو بڑا رکھنا چاہیے نا۔ ہم تو بس اتنا چاہتے کہ اپنے چاہنے والوں پر بھی نظر کرم فرمائیں اور ان کو خوف کے ماحول سے باہر نکالیں تاکہ وہ بھی آپ کی طرح کھل کے جی سکیں۔
ایک انٹرویو کے دوران جگنو محسن نے مولانا فضل الرحمان سے پوچھا تھا کہ آپ کا ذریعہ معاش کیا ہے؟ تو مولانا نے ارشاد فرمایا تھا کہ قدرت کی طرف سے انہیں غیبی رزق یا امداد ملتی ہے، اس پر جگنو نے کہا تھا کہ مولانا وہ فارمولا ہمیں بھی بتا دیں تا کہ ہم بھی فیض یاب ہو سکیں۔ ایم ٹی جے کے سربراہ سے بھی یہی گزارش ہے کہ آپ کی اقتدا میں نمازیں پڑھتے والوں اور دست بوسی کرنے والوں کو بھی خوشحالی کا کوئی وظیفہ بتا دیں جس کی مدد سے وہ بھی آپ ایسی پُرسکون سی زندگیاں جی سکیں۔
انہیں بتائیں کہ سادگی کی تعلیمات کے باوجود بھی من چاہی زندگی گزاری جا سکتی ہے جیسے آپ گزارتے ہیں، جو گنجائش یا سہولت دین داری کے باوجود آپ کو میسر ہے ان سے سادہ لوح عوام بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔ انہیں بتائیں کہ گڈ لکنگ یا ڈیشنگ نظر آ نے کے لیے آج کی سہولیات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ عوام کو بتائیں کہ بھلے یہ عارضی سی زندگی ہے لیکن اس کو بھی زندہ دلی کے ساتھ جینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔



باکمال تحریر۔ بہت شکریہ