پنڈی جو اک شہر ہے۔.۔۔۔۔۔۔اختتام
میرے لڑکپن تک کا زمانہ پرانے پنڈی شہر کی شاہراہوں، گلیوں اور بازاروں میں گزرا۔ اس لیے ذرا دور کی آبادیوں کا ذکر اس کہانی میں نہیں ملتا۔ پرانے پنڈی میں اور بھی کئی مشہور آبادیاں تھیں جیسے صدر، ٹنچ بھاٹہ، چوہڑ، لالکرتی، ، جھنڈا چیچی اور اسلام آباد کی سمت سیٹلائٹ ٹاؤن، صادق آباد، شمس آباد پنڈوڑہ اور فیض آباد وغیرہ۔ 1970 کے بعد اور بہت سی آبادیاں وجود میں آئیں۔ نوکری کے زمانے میں صدر آنا جانا بڑھ گیا، کبھی گھومنے کے لیے ، کبھی انگریزی فلم دیکھنے کے لیے اور کبھی نیشنل سینٹر میں کسی ادبی تقریب میں شرکت کے لیے ۔ ایسے ہر دورے کے موقع پر کریم کے سموسوں کا چٹخارہ بینک روڈ پہ کھینچ لے جاتا تھا۔ راولپنڈی کے کچھ کھابے بھی اپنی اپنی جگہ بے حد مقبول تھے۔ ایک کشمیری بازار کی نہاری اور دوسرے صدر مارکیٹ میں جہانگیر کے مرغ چھولے۔ آج جہاں اس نام سے ایک بڑا ریستوران ہے تب اس کے مقابل دو گیراج نما دکانوں میں پھٹوں کی بنی ہوئی میز کرسیوں کے ساتھ ایک ڈھابہ تھا۔ اب اس ریستوران کی پنڈی میں ایک اور شاخ کے ساتھ ساتھ ایک شاخ عرصہ سے بلیو ایریا اسلام آباد میں بھی موجود ہے۔ اسی طرح لیاقت مارکیٹ کے سیور فوڈ نے بھی بے حد مقبولیت اور ترقی پائی۔
1970 کے انتخابات اچھی طرح یاد ہیں۔ پولنگ کے دن سکستھ روڈ والے بوتھ پہ ایر مارشل اصغر خان دورے کے لیے آئے کہ وہ اس حلقہ سے قومی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ ان کے مقابل پنڈی کے ایک گمنام وکیل خورشید حسن میر پی پی پی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے تھے۔ پنجاب بھر میں جیالوں کا جوش اس سطح پہ تھا کہ ڈل ڈل پڑتا تھا۔ سکستھ روڈ پر اس شخص کو پا کر کہ جو اپنے ماضی کے اعتبار سے ہمارا قومی ہیرو تھا جیالوں نے اپنے ”فن“ کا خوب خوب مظاہرہ کیا اور اصغر خان یہ سب بس دیکھتے رہ گئے۔ خورشید حسن میر کامیاب ہوئے اور وزیر بھی بنے۔ وہ و زیرِ بے محکمہ تھے۔ یہ اصطلاح ہم نے پہلی بار سنی تھی اور اس حیثیت کو نا پسندیدہ سمجھا تھا۔
وہ جوش جو کہ سڑکوں اور گلی محلوں میں بھٹو صاحب کے حق میں بپا دیکھا تھا بس چھ سال بعد 1977 کی پی این اے کی تحریک کے سمے اس نے مخالف سمت جا ڈیرے ڈالے اور پھر وقت نے ایسی ایسی کروٹیں لیں کہ ہم بحیثیت قوم کیا سے کیا ہو گئے۔
میں کچھ کہہ نہیں سکتا کہ قومی سطح پر ہماری جہادی پالیسی اس کی ذمہ دار تھی یا پنجاب، خاص طور پر لاہور میں بدمعاشی کا وہ کلچر جس کا گڑھ چوبرجی اور قرب و جوار کا علاقہ رہا تھا، ہماری پنجابی فلموں کا ماسوائے تشدد کے اور کوئی موضوع ہی نہ رہا۔ یوں ہنرمندوں کو گھروں کے چولہوں کو جلائے رکھنے کو کیا کیا جبر سہنے پڑے۔ اور کیا بات کروں کیا کبھی ایسا سوچا جا سکتا تھا کہ ”گنڈاسا“ نامی فلم کے گیت وہ شاعر لکھے گا جس نے ”ترنجن“ تخلیق کی اور جو مرزا جٹ اور ہیر رانجھا کا گیت نگار تھا۔ شاید اسی لیے اسے یہ کہنا پڑا۔
میرا رب کرے انہا ں راہواں دا کوئی راہی نہ ہووے ہور
اسی طرح مولا جٹ کی موسیقی وہ موسیقار ترتیب دے گا جو اپنے فن کا ماسٹر کہلاتا تھا۔ نام تھا عنایت حسین۔
1977 میں جب میں بی اے فائنل میں تھا تب کے دو واقعات یاد آ گئے۔ ان دنوں امرتسر دور درشن سے لاہور تک دکھائی جانے والی انڈین فلموں کا بڑا چرچا تھا کہ مغلِ اعظم کو جنوری میں دکھانے کا پہلے سے اعلان کر دیا گیا۔ اس موقع پر پنڈی تو بس خالی ہی ہو گیا۔ ہم بھی دو دوستوں کے ہمراہ لاہور روانہ ہو گئے اور ایک دوست کے کزن سپاہی کالا خان کی آر اے بازار میں واقع فوجی بیرک میں جا ڈیرا ڈالا۔ اگلی شام جے سی اوز کے میس میں یہ فلم دیکھی۔ مہمان ہونے پہ ہمیں کرسیوں پر بٹھایا گیا جبکہ جوان زمیں پہ بچھی دریوں پہ بیٹھے۔
برِصغیر میں آج تک مغلِ اعظم جیسی بڑی فلم کوئی نہیں بنی۔ نہ ہی کوئی ایسی فلم کہ جس کی سکرین اور پسِ سکرین مہر و ماہ سمجھے جانے والے فنکاروں نے لو بکھیری ہو لیکن یہ اپنے ہدایت کار کی فلم کہلائی ہو، جیسے مغلِ اعظم کے آصف کی فلم کہلائی۔ وہ کے آصف جس کی واجبی تعلیم کی وجہ سے ان کے اداکار و ہدایتکار ماموں، نذیر نے انہیں درزی کی دکان کھول کے دی لیکن وہ بھاگ گئے۔ ایک روایتی سی ناکام فلم بنائی اور پھر کسبِ کمال کا ایسا مظاہرہ کیا کی آج تک عزیزِ جہاں ہیں۔
مارچ میں کرشن چندر سرگباش ہوئے۔ وہ میرے پسندیدہ ترین افسانہ نگار تھے۔ ان کے ایک افسانے میں ایک کردار بڑی نادر گالی دیتا ہے۔ تیری ماں کے دودھ میں حکم کا اکا۔ وہ رشید احمد صدیقی کی مرضی کے خلاف ان کے داماد بنے لیکن ان کی اور سلمیٰ (وہ آپ کی وفات کے پچاس سال بعد تک زندہ رہیں) کی شادی ”لو جہاد“ نہ قرار پائی کہ تب تک انڈین معاشرہ میں راج نیتی کے ایسے متوالے نہ پیدا ہوئے تھے جو ذاتی مفاد کے حصول کے لیے کسی بھی طرح کے فساد کو جائز سمجھتے تھے اور یوں ہندوستان کو اندھیر نگری بنا ڈالا تھا۔
راجہ صاحب یہاں پہنچ کر خاموش ہو گئے جیسے ان کی کہانی اب ختم ہو گئی ہو۔ میں نے کہا۔ راجہ صاحب سنا ہے کہ فلموں کے کہانی نویس یہ رائے رکھتے ہیں کہ کہانی کے مواد کی نسبت اسے فلمساز کو سنانے کا انداز زیادہ اہم ہوتا ہے اور یہی ہنر اس کہانی کی قسمت کا فیصلہ بھی کرتا ہے۔ آپ نے راولپنڈی کی یادوں میں گندھی ہوئی کہانی جس انداز سے سنائی ہے میرا یقین ہو چلا ہے کی آپ نے اگر کلکتہ دفتر کی بجائے فلمی دنیا کا رخ کیا ہوتا تو آپ اس نگر کا ایک بڑا نام ہوتے۔ وہ میرے تبصرے پر مسکرائے اور بولے، ساحر لدھیانوی نے بمبے میں فلمی مصنفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تنظیم بنائی تھی جس میں تین سو سے کچھ اوپر لکھاریوں نے اپنے آپ کو رجسٹر کرا رکھا تھا۔ کسی نے ان سے پوچھا ان کی اتنی بڑی تعداد فلموں میں بھلا کیسے کھپ پاتی ہو گی۔ جواب دیا۔ ان میں سے زیادہ تر نام کے لکھاری ہیں۔ اپنے پچھلوں کو بس خطوط ہی لکھتے لیکن کہلاتے کہانی نویس ہیں۔ فلم نگری میں ایسا ہی ایک مصنف میں نے بھی ہونا تھا۔ یہ کہہ کر وہ کھلکھلا کے ہنسے۔


