جب میں نے مائیکل اینجلو کو مسکراتے دیکھا
قائد اعظم ڈرامیٹک کلب اینڈ مووی سوسائٹی ہر سال و ائیوا لی فسٹا کے عنوان سے اپنا دو روزہ ایونٹ سٹیج کرتی ہے، جس میں پہلا دن شارٹ موویز، کلچرل ڈانسز اور لپ سنک بیٹل کے لیے مختص ہوتا ہے اور دوسرا دن موب ڈانس، ڈراموں اور ڈی جے نائٹ کے لیے۔ شعبہ اناٹومی کی سربراہ، ڈاکٹر صباحت گل اِس کی پیٹرن ہیں اور فائنل ائر ایم۔ بی۔ بی۔ ایس کے سٹوڈنٹ ارحم بن ریاست اِس کے صدر، جبکہ ڈائریکٹر ڈرامیٹکس کا چارج سید نور علی کے پاس ہے!
پچھلے سال جب نوشیر خان اور قاضی مجیب نے مجھے وی ایل ایف کی ڈرامہ نائٹ میں بہ طور جج انوائٹ کیا تو مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ قائدِ اعظم میڈیکل کالج بہاول پور کی ثقافتی زندگی اتنی گہری اور تہہ دار ہوگی، چنانچہ میں ایک شدید کلچرل شاک سے دوچار ہوا۔ اس رات اگر عاقب قریشی وہاں موجود نہ ہوتا، تو عین ممکن ہے میں رشک سے مغلوب کر اپنے تمام ڈرامے عاق کر دیتا، اور بعد میں روتا پھرتا۔
اِس بار میں خوب تیاری کے ساتھ میدان میں اُترا۔ یہ اطمینان بھی تھا کہ وجیہہ الحسن نامی ایک نابغہ ہمراہ ہے، جو میری ذہنی رو کو بھٹکنے نہیں دے گا۔ صاحبِ حال و قال، جناب ریان مصطفیٰ بھی ہماری معاونت کے لیے موجود تھے۔ ہم نے تسلی کے ساتھ بیٹھ کر سارے ڈرامے دیکھے اور طویل مشاورت کے بعد اپنا فیصلہ سنایا۔
جب تک ڈراموں کا سلسلہ جاری رہا، میں نے سنجیدگی اور بردباری کا نقاب چڑھائے رکھا، تاہم ڈی جے نائٹ شروع ہوتے ہی میرے اندر کا لڑکا چھلانگ لگا کر باہر آ گیا۔ اِس سے پہلے کہ میں اُس کی مشکیں کستا، اُس نے ایک قلابازی کھائی اور پنڈال میں جا گرا۔ میں نے لاکھ سمجھایا، بچی کچھی عزت کے واسطے دیے، بزرگی اور موٹاپے کا رونا رویا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ تب تک ناچا جب تک اس کا بدن نڈھال اور پاؤں شل نہ ہو گئے! ۔ کیا وہ ”میں“ تھا؟ کیا ”میں“ ”میں“ تھا؟ ہم تھے بھی سہی کیا، یا ہونے کا التباس لے کر زندگی کے پنڈال میں الٹی سیدھی قلابازیاں کھا رہے تھے؟
”ٹو بی“ اور ”ناٹ ٹو بی“ کی گردان تو صدیوں سے جاری ہے، لیکن میں اب تک یہ سوچ کر حیران ہوں کہ آخر کیا وجہ تھی کہ چودہ ستمبر کی رات کو قائد اعظم میڈیکل کالج کے اوپن ائر سٹیج پر پیش کیے جانے والے چاروں ڈرامے وجودی بحران کا نوحہ تھے؟ معلوم نہیں یہ ہماری ذہنی بلوغت کا اظہار ہے یا تیزی سے بڑھتے ہوئے سماجی انتشار کا شاخسانہ کہ ہم شعر کہنے اور اداس پھرنے کی عمر میں ازلی تنہائی، بیگانگی اور وجودی کرب جیسے پیچیدہ موضوعات کا سامنا کرنے پر مجبور ہوئے۔
فرسٹ ائر کے ”خاموش“ سے ابتدا کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسے فرد کا ماجرا ہے، جس نے سماج کا مکروہ چہرہ دیکھا اور اُس سے بغاوت کا اعلان کر دیا۔ وہ ایک ایسا باغی ہے جس کے پاس بے چینی اور اضطراب تو ہے، لیکن کوئی واضح آدرش یا کسی مثالی سماج کا تصور موجود نہیں۔ وہ اپنی آواز کو اپنا اظہار بنانے کی کوشش کرتا ہے، مگر کوئی بھی اس کی بات سننے پر آمادہ نہیں۔ سب بہرے ہونے کی اداکاری کر رہے ہیں۔ تھکنے سے ذرا پہلے، وہ اپنے اندر کی ساری آوازوں کو جمع کر کے ایک چیخ بناتا ہے اور اسے پوری قوت سے ہوا میں اچھال دیتا ہے!
سیکنڈ ائر کا ”عہدِ الست“ دو ایسے عیاش نوجوانوں کی کہانی ہے، جو حواس کی تسکین کو ہی تسکینِ ذات سمجھتے رہے، یہاں تک کہ ایک قریبی دوست کی حادثاتی موت نے انہیں ایک ایسی ندامت، شرمندگی اور احساسِ گناہ میں مبتلا کر دیا کہ وہ اپنے وجود کی پاتال میں جا گرے۔ ان کا روحانی کرب اور باطنی انتشار اِتنا شدید تھا کہ وہ زندوں میں رہے، نہ مُردوں میں۔ ان میں سے ایک ملالِ ماضی کی بھول بھلیوں میں الجھ کر اپنے ہی ہاتھوں مارا گیا۔ دوسرے نے عہدِ الست کو شناخت کیا اور حصارِ ذات سے رہائی پا لی!
تھرڈ ائر کا ”سوال“ ایک ایسے فرد کی ظاہری اور باطنی کشمکش پر استوار ہے، جو اپنے جذبات سے خوفزدہ ہے لہٰذا وہ اپنی زندگی کا سٹیئرنگ اپنی آلٹر ایگو کے حوالے کر دیتا ہے۔ اس کی آلٹر ایگو، اس کے اندر کا وہ انسان ہے جو اسے اذیت سے بچانے کا وعدہ کرتا ہے اور بدلے میں اس کی ہر ممکنہ خوشی ہتھیا لیتا ہے۔ جب تک مرکزی کردار کو یہ ادراک ہوتا ہے کہ اس کا مسیحا ہی اس کا قاتل ہے، تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ وہ اپنی آلٹر ایگو کا گلا گھونٹ کر اپنی ایگو کی جان بچاتا ہے، اور پھر اگلے ہی لمحے اُسے بھی مار ڈالتا ہے!
فورتھ ائر کا ”زاویے“ ایک ایسی تصوراتی دنیا کی کتھا ہے جہاں موت کو شکست دی جا چکی ہے، لیکن اِس کے ساتھ ہی زندگی بھی بے مقصد اور بے معنی ہو گئی ہے۔ یہاں کے باسی ایک ایسی ریل گاڑی کے مسافر ہیں، جو کسی منزل کی طرف جانے کے بجائے چھوٹے چھوٹے دائروں میں گھوم رہی ہے۔ اِس دنیا میں پیار، محبت، چاہت، خلوص اور دوستی جیسے حقیر جذبات کی کوئی جگہ نہیں۔ فرزانگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ دیوانگی اور جنون کو لفظوں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے اور آزادی اپنی انتہا پر پہنچ کر غلامی میں بدل گئی ہے۔ آپ جب تک چاہیں جئیں، اور جب بیزار ہو جائیں تو اپنی مرضی کی موت کا انتخاب کر لیں۔ لیکن کبھی یوں بھی تو ہوتا ہے کہ اچانک ایک فرد چیخ مار کر گہری نیند سے بیدار ہوتا ہے اور اپنے حصے کی روشنی اور آکسیجن کا تقاضا کرنے لگتا ہے۔ آپ اسے لاکھ سمجھائیں کہ روشنی اور اندھیرے میں کوئی فرق نہیں یا ہوش مندی اور جنون ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، لیکن وہ آپ کی ہر دلیل کو رد کرتا چلا جاتا ہے۔ وہ نطشے کا ابرمنش اور اِس میٹرکس کا ”نیو“ ہے۔ آپ جب تک اسے اپنی شرطوں پر جینے کا حق نہیں دیں گے، وہ یہیں کھڑا رہے گا، آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے۔ آپ اسے مار تو سکتے ہیں لیکن اس کی روح نہیں چھین سکتے۔
پہلے تینوں پلے بہت ویل میڈ، مگر ڈِپریسنگ تھے۔ میں اور وجیہہ الحسن، بار بار پہلو بدلتے رہے۔ مجھے ایک ایسا ڈرامہ چاہیے تھا جو سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ عطا کرے، لیکن ہر بار مجھے خودکشی کا دعوت نامہ پکڑا دیا گیا۔ میں انتظار ہی کرتا رہا کہ کب وہ کردار سامنے آئیں گے، جو نہ ہونے کی آگہی سے ہونے کا گمان کشید کریں گے، اور جن کے پاس اپنے معنی خود تخلیق کرنے کی آشا ہوگی۔ مجھے ایک ایسے انسان کی تلاش تھی، جو اپنی اذیت کا ملبہ تقدیر کے سر منڈھنے کے بجائے اپنے ہر فعل کی ذمے داری خود قبول کرے! ۔ میں زندگی میں کئی بار نِراش ہوا ہوں، لیکن کم از کم اُس رات نہیں! ۔ مجھے خوشی ہے کہ میں طلحہ حبیب اور ”زاویے“ کو ایک ساتھ دیکھ پایا، خاص طور پر تب، جب انہوں نے ”کری ایشن آف ایڈم“ کو ری کرئیٹ کیا! ٹھیک اسی لمحے میں نے مائیکل اینجلو کو مسکراتے دیکھا اور طمانیت کے احساس سے مغلوب ہو کر آنکھیں موند لیں۔


