26 ویں آئینی ترمیم: بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

پارلیمان میں ’آئینی پیکج‘ دھوم دھام سے پیش کیے جانے کا غلغلہ اور نمبرز پورے ہونے کے دعوے کیے جا رہے تھے مگر وہ پیکج تاحال اسمبلی میں نہیں آیا۔ مسودے کو دلہن کی طرح سات پردوں میں چھپانے والے حکمرانوں کو اب منہ چھپانے کی جگہ ڈھونڈنی مشکل ہو رہی ہے۔ آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں درکار دو تہائی اکثریت ”ہر چند کہیں ہے کہ نہیں“ والا معاملہ بن گئی گویا:
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا
1973 کے آئین میں 25 ترامیم ہو چکیں۔ ترمیم کے لیے قومی اسمبلی میں 224 اور سینیٹ میں 64 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ حکمراں اتحاد کے قومی اسمبلی میں 214 ارکان ہیں۔ نمبرز پورا کرنے کے لیے حکمراں اتحاد کو مولانا فضل الرحمٰن سے قومی اسمبلی کے 8 ارکان کی حمایت کی ضرورت تھی۔ اگر مولانا فضل الرحمٰن حمایت کر دیتے تو حکومت کو دو چار ووٹ مزید درکار تھے۔ آئیے دیکھ لیں کہ اس آئینی ترمیم میں کیا ہے اور حکومت کو اس کی ضرورت کیوں ہے؟ 54 نکات پر مشتمل مسودے کی پیچیدہ آئینی زبان کا خلاصہ سادہ لفظوں میں یہ ہے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے بقول اس کا مقصد حکومت عدلیہ میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ زیر التوا مقدمات فوری نمٹانا اور اعلیٰ عدلیہ میں چیف جسٹس سمیت دیگر ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار وضع کرنا ہے۔
اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی عمر 65 سال سے 68 سال ہوگی۔
آئینی معاملات کے لیے وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی جس کے چیف جسٹس اور جج کی تقرری صدر کریں گے۔ اس میں تمام صوبوں کی برابر نمائندگی ہوگی۔
وفاقی عدالت کے جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 برس البتہ چیف جسٹس بننے پر منصب کی میعاد تین برس ہوگی۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کی میعاد تین برس اور عمر کی حد 65 برس ہی رہے گی۔ ریٹائرمنٹ کی عمر میں منصب چھوڑنا ہو گا۔
پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والے رکن پارلیمنٹ کا ووٹ شمار ہو گا۔ اس پر پہلے سے موجود عدالتی فیصلے اثر انداز نہیں ہوں گے۔
سپریم جوڈیشل کونسل اور ججز کی تعیناتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی فارمیٹ کی تبدیلی۔
•سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے لیے تین نام آئیں گے جن میں سے ایک جج چیف جسٹس کے عہدے پر تعینات ہو گا جس کی مدت تین سال ہوگی۔ • اس وقت سینیئر جج کو ہی چیف جسٹس بنایا جاتا ہے لیکن عملاً ہائی کورٹس میں اس کا مکمل اطلاق نہیں ہوتا جس کی حالیہ مثال لاہور ہائی کورٹ کی سنیارٹی میں چوتھے نمبر کی جج جسٹس نیلم کی ہائی کورٹ میں بطور چیف جسٹس تعیناتی ہے۔
ججز کی تعیناتی کے موجودہ سسٹم میں سپریم جوڈیشل کونسل کسی بھی شخص کو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں بطور جج تعینات کرنے کی منظوری دیتی ہے۔ تو اسے حمتی منظوری کے لیے پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیا جاتا ہے۔ ارکان متعدد بار تحفظات کا اظہار کر چکے کہ ان کا کردار ربڑ سٹمپ کا ہے۔ نام پر اعتراض سے تحریراً، کمیشن کو آگاہ کرنا اور ثبوت بھی دینا ہوتے ہیں۔ تاہم ان اعتراضات اور ثبوتوں کا حتمی فیصلہ بھی سپریم کورٹ ہی کرتی ہے۔
•مسلح افواج سے متعلق موجودہ قوانین آئینی ترمیم کے بغیر تبدیل نہیں کیے جا سکیں گے۔
تحریک انصاف ترمیم کی مخالفت کر رہی ہے حالانکہ وہ اپنے دور میں بندیال کے لیے یہ بھاری پتھر چوم کر رکھ چکی ہے۔ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے 63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اکثریتی رائے سے یہ فیصلہ دیا تھا کہ ووٹ شمار ہو گا نہ رکنیت رہے گی۔ اس کے خلاف حکومت کی دائر کردہ نظر ثانی کی اپیل تا حال سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی۔
19 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اور پارلیمانی کمیٹی کا قیام عمل لایا گیا۔ جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس آف پاکستان بطور چیئرمین کام کرتا ہے۔
سپریم کورٹ کے چار سینئر ترین ججز اور ایک سابق چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کا ایک جج بھی کمیشن کا ممبر ہوتا ہے جسے چیئرمین دو سال کی مدت کے لیے چار رکن ججوں کی مشاورت سے نامزد کرتا ہے۔ جوڈیشل کمیشن میں حکومت کی نمائندگی اٹارنی جنرل اور وفاقی وزیر قانون کرتے ہیں جب کہ پاکستان بار کونسل کا ایک سینئر وکیل بھی کمیشن کا رکن ہوتا ہے۔ ججوں کی تقرری سے متعلق پارلیمانی کمیٹی 8 ارکان اور دونوں ایوانوں میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی مساوی رکنیت پر مبنی ہوتی ہے۔ قومی اسمبلی تحلیل ہو تو پارلیمانی کمیٹی سینیٹ ارکان پر ہی مشتمل ہوتی ہے۔
جوڈیشل کمیشن پیشہ ورانہ اہلیت اور سابقہ واقعات کے جائزے کے بعد اکثریت سے سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کی تقرری کے لیے ایک نام تجویز کرتا ہے۔ یہ سفارشات پارلیمانی کمیٹی کو بھیجی جاتی ہیں۔ نامزدگی کی وصولی کے بعد کمیٹی 14 روز میں اکثریت سے نامزدگی کی تصدیق کر سکتی ہے، ایسا نہ کرنے کی صورت میں نامزدگی کی خود بخود تصدیق تصور کی جاتی ہے۔ ججز کی تقرری کا موجودہ طریقہ کار اسی حکمران اتحاد کا 19 ویں ترمیم میں تجویز کردہ ہے۔ بلا شبہ قانون سازی پارلیمان کا حق ہے جب کہ ججز آئین کے تحت فیصلے دینے کے پابند ہیں۔ ماضی میں عدلیہ کے کئی ایسے فیصلے آئے جن سے آئین دوبارہ تحریر کرنے کا تاثر سامنے آیا۔
ترمیم پر حکومتی موقف ہے کہ یہ ترمیم عدلیہ کی کارکردگی اور شفافیت کی بہتری کے لیے ہے۔ وفاقی آئینی عدالت سے سپریم کورٹ پر دباؤ کم، آئینی مسائل جلد حل اور سپریم کورٹ پر مقدمات کا بوجھ کم ہو گا۔
اپوزیشن کا موقف ہے کہ ترمیم سے عدلیہ کی خودمختاری خطرے میں پڑے گی۔ آئینی عدالت کا قیام عدلیہ میں غیر ضروری تقسیم بڑھائے گا اور سپریم کورٹ کے اختیارات کم ہوں گے۔ دوہری شہریت والے ججز کی نا اہلی کا قانون قابل اور تجربہ کار ماہرین کو عدلیہ میں شمولیت سے روکے گا۔ یہ سیاسی تنازعہ مولانا فضل الرحمان کی حمایت کے بغیر آگے بڑھتا نظر نہیں آتا۔ اس تنازعے کی شدت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ معاملہ نہ صرف عدالتی نظام بلکہ ملکی سیاست پربھی اثر انداز ہو گا۔ اب مولانا کی ناراضگی کی وجوہات پر نظر ڈال لیتے ہیں۔ پی ڈی ایم کے جلسے جلوسوں سے باجوہ اور مسلم لیگ (ن) کے بیک ڈور روابط بحال ہوئے اور عمران حکومت گری۔
فروری 2024 کے انتخابات سے قبل مولانا نون کے ساتھ اتحاد کے خواہاں تھے۔ مولانا سے دانستہ فاصلے پیدا کیے گئے تاکہ بنیاد پرستی کا طعنہ نہ ملے۔
جنرل ضیاء کے دورِ میں تحریک بحالی جمہوریت ( 1988 ء) میں پیپلز پارٹی نے مولانا کے ساتھ جو کیا 2024 ء میں وہی سب کچھ مسلم لیگ (ن) نے مولانا کے ساتھ کیا۔ نتیجتاً تحریک انصاف مولانا کی طرف لپکی تو انہوں نے نئے اتحاد کی تشکیل کے بجائے ایشو ٹو ایشو تعاون کی پالیسی اپنائی۔
سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے متعلق تحریک انصاف کے حق میں فیصلہ دیا تو حکومت نے آئین میں 26 ویں ترمیم لانے کی ٹھانی۔ جس کے لیے حکومت کو مولانا فضل الرحمان کے ووٹ درکار تھے۔ صدر زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی خود مولانا کے پاس گئے مگر خالی ہاتھ لوٹے۔ حکومتی شخصیات کے اس دعوے کے باوجود کہ مولانا فضل الرحمان کو ایسی جگہ سے حکم جاری کروایا گیا۔ جہاں مولانا انکار نہیں کر سکتے۔ اسی غلط فہمی میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا اجلاس بلا لیا گیا۔ مسودہ مولانا نے پڑھا تو انہوں نے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم ہر قیمت پر ترمیم کی منظوری کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ رعونت کی جھلک دیکھنے کے بعد مولانا نے مسودے کو مسترد کر دیا۔ اس انکار پر حکومت ”نا جائے رفتن نہ پائے ماندن“ کی کیفیت سے دوچار ہے۔ دیکھیں اونٹ کب اور کس کروٹ بیٹھتا ہے؟

