لغت اور فرہنگ میں فرق
لغت اور فرہنگ ایک ہی شے کے دو نام نہیں بلکہ ان میں لطیف سا فرق موجود ہے جسے یونیورسٹی سطح کے طلبا بھی محسوس کرنے سے اکثر قاصر رہتے ہیں۔یہاں تک کہ انگریزی میں بھی دونوں کے لیےالگ الگ الفاظ مستعمل ہیں ۔انگریزی میں لغت کو Dictionary اور فرہنگ کو Glossary سے موسوم کیا جاتا ہے۔ذہن میں رہے کہ لغت میں زبان کے تمام الفاظ بلاتخصیص درج کر لئے جاتے ہیں ۔ اس میں ایسے الفاظ کا اندراج بھی ہوتا ہے جو متروک ہو چکے ہیں اور وہ الفاظ بھی شامل ہوتے ہیں جو جدید ہیں۔لغت میں لفظ کی تعریف یا وضاحت نہیں دی جاتی بلکہ لفظ کے سامنے اس کے مترادفات درج کر دیے جاتے ہیں۔ آسان الفاظ میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ لغت کسی زبان میں استعمال شدہ الفاظ اور اس کے معنی کو محیط ہوتی ہے۔اس میں الفاظ کے عمومی معنی کے علاوہ اس قدر کو بھی بیان کیا جا تا ہے جو اسے بالائی طبقے اور اعلا تعلیم یافتہ افراد نے عطا کی ہوتی ہے۔فرہنگ میں ایسا نہیں ہوتا ، اس میں صرف و ہی معنی دیے جاتے ہیں جن میں، وہ لفظ اس خاص متن میں استعمال ہوا ہے۔
لغت اگر پوری زبان کا احاطہ کرتا ہے تو فرہنگ ایک شاعر، ایک موضوع یا ایک کتاب پر مبنی ہوتی ہے۔فرہنگ نویس الفاظ کے صرف وہ معنی درج کرتا ہے جن معنوں میں وہ لفظ کسی خاص موقع پر استعمال ہوا ہے خواہ وہ معنی متروک ہی کیوں نہ قرار دیے گئے ہوں ۔فرہنگ نویس کو مشکل اس وقت پیش آتی ہے جب ایک لفظ متنوع معنی کا حامل ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اسے تفکر سے کام لینا پڑتا ہے،کیوں کہ ایک معمولی سی غلطی مفہوم کو کہیں سے کہیں پہنچا سکتی ہے۔ یہ کام انتہائی تحقیق طلب ہوتا ہے،ادبی اور غیر ادنی معنوں کی چھان پھٹک کرنا پڑتی ہے۔خاص متن کے موضوعات سے متعلق کہاوتوں ، محاوروں، تراکیب، اصطلاحوں اور علامتوں کو ایک نظام میں رکھ کر دیکھا جاتا ہے۔ اس طرح فرہنگ نویس کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے ، کیوں کہ قلم کی ہلکی سی لغزش اسے کہیں سے کہیں لے جا سکتی ہے۔ فرہنگ میں کسی زبان کے عام یا تمام الفاظ کے بجائے صرف مخصوص الفاظ ، تراکیب اور اصطلاحات کو شامل کیا جاتا ہے۔یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس میں متعلقہ یا مرادی معنوں کی وضاحت کی جاتی ہے۔اب تک کی گفتگو سے ہم کہ سکتے ہیں کہ لغت عمومیت کا حامل ہوتا ہے اور اس میں زبان کے الفاظ بغیر تخصیص کے جیسے ، قدیم و جدید اور مستعمل و متروک وغیرہ ،درج کر دیے جاتے ہیں۔لغت کے برعکس فرہنگ خصوصیت کی حامل ہوتی ہے۔یہاں الفاظ کا انتخاب ایک خاص زاویے سے کیا جاتا ہے۔اس میں کسی خاص فن ،شعبہ علم یا مخصوص مضمون کے مشکل اور نامانوس الفاظ و مصطلحات پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ایک اچھا فرہنگ نویس ہمیشہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ الفاظ کے پوشیدہ معنی سامنے آجائیں اور قاری متن کو پڑھتے ہوئے سمجھ جائے کہ مصنف نے یہ لفظ کیوں استعمال کیا ہے۔فرہنگ نویس کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کہ متن میں موجود الفاظ کے لفظی اور محاوراتی معنی کیا ہیں۔ وہ متن کو دیکھ کر نتیجہ نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔
اردو میں فرہنگ نویسی اور لغت نویسی کی روایت خاصی قدیم ہے۔یہ سلسلہ خالق باری،لغاتِ گجری اور واحد باری سے شروع ہو کر آج کے جدید طرز کے لغات اور فرہنگوں تک پہنچتا ہے۔ڈاکٹر عطش درانی کے بقول اردو کا پہلا لغت ہنری ہیرس نے 1790ء میں مدراس سے شائع کیا ۔ڈاکٹر ایس ڈبلیو فیلن کیA New Hindustani English Dictionary لندن سے1879 میں شائع ہوئی جس میں ذخیرہ الفاظ کو متنوع بنانے کے ساتھ ساتھ اس میں تذکیر و تانیث کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔اردو لغت نویسی میں انشاء اللہ خان انشاء کی دریائے لطافت سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کے علاوہ امیر مینائی کی امیر اللغات کو بھی اردو نویسی کی روایت میں فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔سید احمد دہلوی کا لغت فرہنگِ آصفیہ بھی اس حوالے سے اہمیت کا حامل ہے جس نے طویل عرصے تک اپنا اجارہ قائم رکھا ۔دورِ حاضر میں اردو لغت کے عنوان سے ترقی اردو بورڈ کراچی نے بھی لغت شائع کیا ہے، اس کی بنیاد بابائے اردو مولوی عبدالحق نے رکھی تھی۔
اردو میں فرہنگ نویسی کا سلسلہ اٹھارہویں صدی عیسوی سے شروع ہوتا ہے۔یہ روایت اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ اب یونیورسٹیوں میں ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح کے کام کے لئے فرہنگ نویسی کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ہندوستان میں فرہنگِ جہانگیری پہلی فرہنگ ہے جس میں فرہنگ نویسی کے فن کے اصولوں کو مدِ نظر رکھا گیا ہے۔اب تک اردو کے تقریباً تمام کلاسیکی شعرا کے کلام کی فرہنگیں تیار کی جا چکی ہیں جن کے نام گنوانے کے لئے کئی صفحات درکار ہوں گے ۔فرہنگ نویسی کے حوالے سے مولوی عبدالحق کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں جنھوں نے مختلف موضوعات پر فرہنگیں تیار کرا کے انجمنِ ترقئ اردو سے شائع کرائیں ۔


