لکھنے میں شانتی ہے


Noor ul Huda Chaudhary

میں آٹھویں جماعت میں تھی جب پہلی بار میں نے ایک شعر لکھا، ”نور ابھی چھوٹی ہو“ ، ابھی کچھ پڑھ تو لو پہلے ”، لکھنے کے لیے عمر پڑی ہے کورس کی کتابوں سے دل لگاؤ“ میرے لیے یہ بڑی بات تھی کہ علامہ اقبال کے مضمون کے علاوہ اگر دو ٹوٹے پھوٹے مصرعے میں نے لکھ لیے تو کیا ہو گیا سب کو! میں نے جتنی خوشی سے سبھی کو بتایا اتنی ہی میں افسردہ ہو گئی۔ بہرحال میری اماں نے مجھے سراہا، میں آڑا ترچھا جیسا سمجھ آیا لکھتی رہی۔

وقت کے ساتھ مجھے لفظوں کی کمی شدت سے محسوس ہوئی چونکہ میرے گرد کتابوں کے شوقین موجود تھے تو گھر میں نونہال، تعلم و تربیت، پھول، سنڈے میگزین سب آتا اور میں پڑھتی پر مجھے حکایت (خواتین ڈائجسٹ) پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس میں گھریلو ٹوٹکوں سے لے کر ازدواجی زندگی کے مسائل رومینٹک سٹوریز ہوتیں اور آخری چند صفحوں پر شاعری ہوتی، اماں حتی الامکان یہ کوشش کرتیں کہ نور اسے نہ پڑھے۔ پر۔ میں تو میں ہوں چپکے سے شاعری اور ایک آدھ چھوٹی کہانی ضرور پڑھتی، شاعری کا شوق پیدا ہوا تو مجھے ہر طرف دو مصرعے نظر آتے کہیں بل بورڈز پر، کبھی دکانوں پر اشتہاری شاعری کہیں بینرز پر سیاسی بول آویزاں ہوتے، یہاں تک کے ٹرکوں کے پیچھے لکھی دو نمبر سی شاعری بھی مجھے اچھی لگتی، وقت گزرا میٹرک میں کچھ دوستوں نے ناول نامی عظیم شے سے متعارف کروایا گمنام رائٹرز کی لکھی وہ کہانیاں جو بڑے پیمانے پر کبھی پبلش ہوئی ہی نہیں، ہلکے سے کاغذ کی وہ چھوٹی سی کتاب جس کو ایک سکول کی لڑکی کچھ دن کی پاکٹ منی سے خرید سکتی تھی جسے موڑ توڑ کے بستے میں رکھا جا سکتا تھا اور ان کتابوں کی خوشبو کچھ الگ ہی تھی۔ وہ کتاب چند دن ایک دوست کے پاس کبھی دوسری کے پاس اور کبھی مانگ تانگ کے میرے پاس۔ وہ گمنام سے لکھاری بلا کی منظر کشی کرتے یوں لگتا ہم اس کہانی کا کوئی حسین کردار ہیں۔ ناولز کے نام ہاہاہاہا ایسے جیسے کسی دل جلے نے غصے اور غم کی حالت میں جو پہلا لفظ کہا وہ کتاب کا نام رکھ دیا۔ ”چوٹ“ ، ”دل اور خنجر“ ، ہچکیاں محبت کی ”، کیسے لاگی یاری“ وغیرہ وغیرہ میں نے رنگ برنگی ڈائریاں خریدیں اور کبھی کبھی ان پر لکھنا مجھے اچھا لگتا تھا وہ احساس ہی کچھ الگ تھا پر وہ اممو کے علاوہ میں نے کبھی کسی کو نہیں دکھایا ان میں سے وہ غلطیاں بھی نکالتیں مجھے غصہ آتا تو کہتیں کہ تنقید برداشت کرو گی تو بہتر لکھو گی۔ تھوڑا وقت اور گزرا انٹر تک آتے میں عمیرہ احمد کے فینٹسی ورلڈ کو بھی وزٹ کر چکی تھی پر بتانا یہ مقصود تھا کہ میں بہت اچھا تو نہیں پر اتنا تو لکھ سکتی تھی کہ کوئی پڑھ لے تب میرے پاس فون کی سہولت موجود تھی گاؤں جاتے سفر کے دوران ایک اشتہار دیکھا جس میں لکھا تھا کہ اس پر اپنی لکھی کہانی ارسال کریں جسے ان کے آفیشل پیج پر شائع کیا جائے گا۔ میں نے سفر کے دوران ہی ایک کہانی لکھی اور اسے ارسال بھی کر دیا مجھے راستے میں ہی اپنی میل کا جواب موصول ہوا جس میں میری حوصلہ افزائی بھی تھی اور میری تفصیل پوچھی گئیں میں نے جب جواب دیا تو بڑا کرخت سا جواب آیا کہ ”کسی کی لکھی گئی تحریر کو اپنا نہیں بتاتے یہ اخلاقی جرم ہے وغیرہ وغیرہ۔

” ایک طرف تو میں خوش تھی کہ میں نے پہلی بار کچھ کہانی کی صورت لکھا جو اس قابل ہے کہ کسی لکھاری کا معلوم ہوتا ہے اور دوسری طرف مجھے دکھ تھا کہ اس سے میری عمر کا کیا تعلق؟ پھر اسی پہلی کہانی کو پہلی بار 2019 ء میں میرے ایک سینئر نے پڑھا اور اسے اپنے آبائی علاقے کوئٹہ کی ایک اخبار صحافت میں بھیجا جسے میری تصویر سمیت شائع کیا گیا بعد ازاں ایک اور تحریر لکھی، حوصلہ بڑھا پھر میں نے کئی فیسبک پیجز پر مختلف ناموں سے لکھا جس سے پتا نہ لگے کہ نور تھوڑی بہت شاعری بھی کرتی ہے۔

میں نے چونکہ میڈیا کو چنا تو میں اپنے ایچ ای سی پروگرامز کے سکرپٹ بھی خود ہی لکھتی اور تین برس میں میں نے یونیورسٹی کی کئی خبریں خود لکھیں اور ریکارڈ کیں، پھر نا جانے کیا ہوا میں ضرورت سے زیادہ حساس ہو گئی میں زیادہ وقت مائیک اور کیمرہ کو دیتی تھی میری لکھائی صرف شوز کے سکرپٹ تک محدود ہو گئی ایسا نہیں تھا کہ لکھنے کے لیے وقت نہیں تھا بس میرے دل نے مان لیا تھا کہ نور تم لکھنے والی بندی نہیں ہو صرف آواز تمہارا ہنر ہے۔ میرے اردگرد کئی ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے میرے اس جذبے کو نہیں سمجھا مجھے بتایا کہ تم اس فیم گیم کو سمجھو یہ ٹرینڈ نہیں ہے تم بولو تم گاؤ۔

اس میں کچھ شک نہیں کہ مجھے یونیورسٹی نے پلیٹ فارم دیا میں نے بہت کچھ سیکھا پر میں لکھنا بھول گئی ڈگری کے آخری سال مجھے یہ سمجھ آیا کہ لکھنا اسے لیے ضروری نہیں تھا کہ لوگ پڑھ سکیں لکھنا تو مجھے اپنی ذات کے لیے تھا وہ تمام سوچیں جو میرے اندر ہیں ان کو سیاہی دینا میری ذہنی ضرورت ہے میں نے تین سال کچھ نہیں لکھا کچھ محسوس نہیں ہوا پر احساس تب ہوا جب میں نے لکھنا چاہا اور نہیں لکھ سکی میرے پاس ہمہ وقت میری ڈائری ہوتی ہے پر میں جب ایک دن کی بپتا بھی نہ لکھ سکی تو ایک انجانے سے خوف نے مجھے آ لیا، میں نے دیوانوں کی طرح اپنی لکھی ہوئی تحریریں ڈھونڈیں۔

میں تو کہانیوں کی شیدائی تھی عمرو عیار اور چچا بھلکڑ سے فلمی دنیا۔ شرارت، اداسی، خوشی میں تو احساس پڑھتی، دیکھتی اور احساس ہی لکھتی تھی۔ میں نے ایک سال یہی سوچا کہ کیا دور تھا جسے میں پیچھے چھوڑ آئی ہوں، کبھی رجسٹر کے آخری صفحوں پر لکھی تحریر کبھی باربی ڈائری پر رنگ برنگے مارکر سے لکھے وہ بچگانہ سے شعر کدھر ہیں سب؟ کچھ ملا اور زیادہ تر کھو گیا جو بچا وہ بھلا ہو اماں کا جنہوں نے باتھ روم میں بھی چند صفحے اور ایک پنسل رکھنی کہ یہ کچھ لکھے تو محفوظ رہے، شاید وہ جانتی تھیں کہ یہ لکھے گئی تو جیے گی!

میں نے ان سب چیزوں کو ڈھونڈا وہ بچگانہ سی چیزیں تھیں میں انہیں دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی، انہیں کئی بار کھولنا دیکھنا اور واپس رکھ دینا، میں اماں سے یہی کہتی تھی اماں میں نے لفظوں کو ناراض کر دیا ہے۔ مجھے اچھا برا نہیں بس لکھنا تھا وہ نور زندہ رکھنی تھی جو ”کہ“ اور ”کے“ کا فرق نہیں سمجھتی تھی پر لکھتی تھی میں نے اتنے سال پنسل اور صفحے کے تعلق کو کیسے ختم کر دیا؟ اب تو میں بہت کچھ آبزرو کرتی ہوں کتنے لوگوں سے ملتی ہوں!

پھر کدھر ہے نئی سوچ اور کدھر ہے میرا جنون؟ خود سے کئی سوال کیے اور کتنی بار لکھنے کی کوشش کی پر نہیں لکھ پائی مجھے لکھتے ہوئے لگتا تھا میں بھی نہیں ہوں کوئی اور ہے جو لکھ رہا ہے۔ مجھے لکھتے ہوئے سب حسین لگتا ہے آج بھی اندازہ نہیں ہوا کہ میرا پاؤں دو گھنٹے سے ایک ہی پوزیشن میں التجائیں کر رہا ہے کہ مجھے سمیٹ لو میرا پور پور دکھ رہا ہے۔ شاید آپ اس بات کا یقین نہ کریں پر اماں گواہ ہیں جن کے سامنے میں بارہا روئی کہ ایک لائن بھی نہیں بنتی مجھ سے، زبردستی لکھوں تو اس میں اپنا پن ملتا ہی نہیں ہے!

پر آج ڈیڑھ سال بعد میں کچھ کچھ منا چکی ہوں اپنے دل کو اب ڈائری بھی لکھتی ہوں اور تھوڑا بہت بناوٹی بھی لکھ لیتی ہوں۔ مختصر یہ کہ لفظوں کو منانے کی بھر پور کوشش جاری ہے۔ میں اچھا نہیں لکھتی۔ میں کسی کے لیے بھی نہیں لکھتی میں بس اپنے آپ سے بہت سی باتیں دہرانا چاہتی ہوں مجھے لگتا ہے جس لمحے کو میں نے تحریر کیا میں جتنی بار پڑھوں گی اتنی بار اسے جیوں گی۔ میں آپ سب سے گزارش کروں گی کہ آپ کے گرد جو لکھتا ہے اسے اور زیادہ لکھنے کا بولیں اگر وہ اچھا نہیں لکھتا/لکھتی تو اصلاح بھی اس طرح کریں کہ وہ بہتری کی طرف آئے نا امید نہ ہو جو گاتا ہے اسے گانے دیں جو رقص کرنا چاہے اسے اپنی مستی میں رہنے دیں، جو مصوری سے لگاؤ رکھتا اسے مت بتائیں کہ تم آڑی ترچھی لکیریں کھینچ رہے ہو مت بتائیں کہ تمہاری عمر نہیں ہے فلاں کام کر لو، اپنے سے چھوٹوں کو یہ بتائیں کہ ان کے لیے وقت اور اس کی تقسیم اور مینجمنٹ اہم ہے لیکن جو ان کے لیے ضروری ہے انہیں کرنے دیں شاید یہ ان کے سکون کا ایک پہلو ہو جس کو کھونے کے بعد پہلے جیسا نہیں پایا جا سکتا!

Facebook Comments HS