نیند سائنسی تناظر میں


ہم انسانوں کا نیند سے بڑا یارانہ ہے۔ تبھی تو ہم زندگی کا ایک تہائی دورانیہ سونے میں گزار دیتے ہیں۔ یعنی روز ہم آٹھ گھنٹے کی نیند کر لیں تو چوبیس گھنٹوں میں ایک تہائی اور اسی حساب سے ساٹھ سالہ زندگی کا بیس سال۔ عموماً انسان تھکاوٹ کے خاتمے کے لئے سونے کی سعی کرتا ہے جس کے پیچھے پوری سائنس ہے۔ مگر ہم نوجوانوں کی اکثریت سو سو کر تھک جاتی ہے۔ اسی کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

نیند کیسے انسان کے اوپر طاری ہوتی ہے؟ اس سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کہ نیند کی افادیت کیا ہے۔ نیند کے دو بہت ہی اہم فائدے ہیں ایک تو دماغ سے متعلق اور دوسرا پورے جسم کے لئے۔ دماغ جسامت کے اعتبار سے چھوٹا سا ہوتا ہے مگر خلیوں کے لحاظ سے سے بہت ہی گنجان آباد ہے۔ بیک وقت سینکڑوں کام لاشعوری طور پر کر رہا ہوتا ہے۔ جب نیند طاری ہو تو دماغ آرام کر لیتا ہے۔

جسم کے دوسرے اعضاء کے لئے نیند کی کیا اہمیت ہے اس کا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ گہری نیند میں دوران خون اور دل کی دھڑکن تیس فیصد تک گھٹ جاتی ہے۔ جبکہ مسلسل جاگتے رہنے سے دل کی دھڑکن بہت حد تک بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ ایک بڑھتی رفتار سے دل حرکت کرتا رہتا ہے جس کی وجہ سے سینے میں جلن اور جکڑن محسوس ہوتی ہے۔ لیکن گہری نیند میں قلب کے مسلز کو زیادہ زور نہیں لگانا پڑتا۔ نیند کا ہمارے جسم کے ہر نظام کے ساتھ تعلق ہے۔ اچھی نیند قوت مدافعت کو بہتر بناتی ہے۔ یہاں تک کہ اچھی نیند نہ ہونے سے ہماری یاداشت بھی بہت حد تک متاثر ہو جاتی ہے۔

نیند کے متعلق ایک تھیوری کے مطابق ہمارے دماغ کا ایک حصہ جسے Reticular formation کہا جاتا ہے۔ جو جاگنے اور ہوشیار رہنے کے لئے آن اور آف سوئچ کی مانند ہوتا ہے۔ مسلسل تھکاوٹ ہونے کے باعث تمام دماغ کے خلیوں کو سست کر دیتا ہے جس سے ہم نیند میں چلے جاتے ہیں۔ دوسری اور زیادہ معتبر تھیوری جس میں دماغ کے تنے کے حصے سے نکلنے والے ہارمون جسے serotonin کہا جاتا ہے اور جب بھی سیروٹونین کا اخراج ہوتا ہے تو نیند کا غلبہ شروع ہو جاتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اگر ان خلیوں کو ہی نکال دیا جائے جہاں سے سیروٹونین خارج ہوتا ہے تو نیند کبھی آئے ہی نہ۔

نیند کی دو اقسام ہیں ایک جسے گہری نیند کہا جاتا ہے اور دوسری غنودگی جس میں دماغ حالتِ حرکت میں ہوتا ہے مگر جسم کے اعضاء حرکت میں نہیں ہوتے۔ گہری نیند کے دوران ہر ڈیڑھ ایک گھنٹے کے بعد یہ والی حالت پانچ سے پندرہ منٹ تک رہتی ہے۔ اسی نیند کے دوران آنے والے خواب یاداشت میں محفوظ بھی ہوتے ہیں۔

جس طرح سے دل کی برقی حرکات کو کمپیوٹر سکرین پر دیکھا جاتا ہے اسی طرح دماغ کی ویوز کو بھی ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ جاگنے کے عمل سے گہری نیند میں منتقلی کے دوران ان ویوز کی ساخت بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ گہری نیند جسے non rapid eye movement sleep کہا جاتا ہے اس میں ڈیلٹا ویوز پیدا ہوتی ہیں اور ان کی تعدد (فریکوئنسی) کم ہو جاتی ہے۔ خواب یاداشت کا حصہ گہری نیند میں نہیں بنتے بلکہ rapid eye movement sleep میں بنتے ہیں۔ اسی لئے ہمیں اکثر خواب جو یاد رہتے ہیں وہ علی الصبح آنے والے ہی یاد رہتے ہیں۔ اس نیند کو پیراڈوکسیکل سلیپ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں دماغ تو کام کرتا ہے مگر عضلات مفلوج ہوتے ہیں۔

نیند کی افادیت جہاں پر مسلم ہے وہیں پر اگر روزانہ اچھی نیند کے اوقات میسر نہ ہوں تو بے شمار امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔ اچھی نیند ایک ڈاکٹر کے ہاں اچھی صحت جانچنے کے آلے کے طور پر کام دیتی ہے۔ اسی لئے روزانہ نیند کا دورانیہ پورا کر کے اپنی زندگی کو پروڈکٹیو بنانے کی کوشش کر لینی چاہیے۔

Facebook Comments HS