سہما ہوا صوفی سندھ
میر مرتضیٰ بھٹو کی اٹھائیسویں برسی سے ایک دن قبل سارا سندھ سہما ہوا جاگا تھا۔ خوف و ہراس کی فضا میں لپٹے سندھ واسیوں کو لگ رہا تھا کہ اگلی باری ان کی ہے آدمی آدمی سے خوف کھا رہا تھا۔ فیس بک پہ سارا دن صرف ایک ہی کاپی پیسٹ پوسٹ پڑھنے کو ملی ”آئی ڈیز ہیک ہو رہی ہیں میرا یہ بیان ریکارڈ پہ رکھا جائے“ سب اپنے سچے مسلمان ہونے کا یقین دلا رہے تھے۔ مگر کسی کو بھی یہ علم نہیں تھا کہ وہ یقین دلا کس کو رہے ہیں۔ اس بے نام ہجوم کو جس کی ساری شکلیں جانی پہچانی ہیں اور کوئی چہرہ شناسا نہیں۔ جن کے پاس عقیدے کے آگے تحقیق و تفتیش قانون کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
اور کیا اگر کسی کی کوئی بھی آئی ڈی ہیک ہوتی ہے اور اس آئی ڈی سے خدا نخواستہ کوئی نازیبا یا گستاخانہ مواد شیئر ہوتا ہے تو کیا مشتعل ہجوم پہلے جا کر اس آئی ڈی کی تفتیش کرے گا کہ آیا آپ اس جرم کے مرتکب ہوئے ہیں کہ نہیں اس کے بعد آپ کو قانون کے حوالے کرے گا یا آپ کو اپنے حق میں صفائی کا موقع دیے بنا خود ہی جج اور جلاد بن کر آپ کو زندہ جلا دے گا۔ اپنے گلے میں اپنے ہاتھوں سے لکھ کر لٹکائے ہوئے قسم ناموں کی کوئی حیثیت نہیں آپ صرف ایک افواہ کی دار پہ لٹکے ہوئے ہیں۔
اٹھارہ اور انیس ستمبر کی درمیانی شب توہین مذہب کے ملزم ڈاکٹر شاہنواز کمبھار کو سندھڑی پولیس نے مبینہ مقابلے میں ہلاک کر دیا۔ عمر کوٹ کے چھوٹے گاؤں جانہیرو سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شاہنواز کمبھار کے خلاف 17 ستمبر کو توہین مذہب کا مقدمہ مقامی مسجد کے خطیب کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
مقدمے کے اندراج کے بعد ڈاکٹر شاہنواز کمبھار کی کراچی کے کسی ہوٹل سے ایک وڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ جس فیس بک آئی ڈی سے گستاخانہ مواد شیئر ہوا ہے وہ کافی عرصے سے میرے استعمال میں نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ اس نے فیس بک استعمال کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ڈاکٹر شاہنواز نے اپنے وڈیو پیغام میں مزید کہا کہ پولیس ایف آئی اے یا رینجرز کو اپنا کام کرنے دیں ساری چیزیں واضح ہو جائیں گی۔ مگر چیزیں واضح ہونے سے پہلے ہی ڈاکٹر شاہنواز کمبھار کو ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔
ڈاکٹر شاہنواز کی ہلاکت کے حوالے سے میرپور خاص پولیس کا دعویٰ ہے کہ سندھڑی کے مقام پر پولیس معمول کے گشت پر تھی، ڈاکٹر شاہنواز نے پولیس موبائل دیکھ کر اس پر فائرنگ شروع کر دی اور اپنے ہی ساتھی کی گولی سے ہلاک ہو گیا اور اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ ڈاکٹر شاہنواز کے ایک قریبی رشتے دار کے حوالے سے بی بی سی نے رپورٹ کیا ہے کہ ”ڈاکٹر شاہنواز کے خاندان والوں نے خود رضاکارانہ طور پہ ڈاکٹر شاہنواز کو کراچی میں پولیس کے حوالے کیا اور کہا کہ سکیورٹی اب پولیس کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اس کے باوجود ڈاکٹر شاہنواز کو جعلی مقابلی میں ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر شاہنواز کے والد پولیس کی حراست میں تھے اور ان کی رہائی بیٹے کی گرفتاری سے مشروط کی گئی تھی ۔”
واقعے کے دوسرے دن ڈاکٹر شاہنواز کی پولیس کو سپردگی کے حوالے سے عمر کوٹ سے تعلق رکھنے والے وزیر تعلیم سندھ سید سردار شاہ نے سندھ اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا ”عمر کوٹ پولیس ڈاکٹر شاہنواز کو اریسٹ کر کے کراچی سے لے جا رہی تھی راستے میں میرپور خاص پولیس نے اس کا انکاؤنٹر کر دیا۔ لوگ پروٹیکشن کے لئے پولیس کے پاس آتے ہیں اگر پولیس ہی انہیں قتل کر دے تو پھر لوگ کدھر جائیں گے۔ ” اسی تقریر میں سردار شاہ نے کہا تھا کہ انہوں نے ایس پی کو ڈاکٹر شاہنواز کو اریسٹ کر کے کراچی میں رکھنے اور کورٹ میں پیش کرنے کو کہا تھا۔ ”
سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پولیس کو عمر کوٹ میں اشتعال انگیزی کا علم تھا ڈاکٹر شاہنواز کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں مشتعل ہجوم نے پولیس موبائل تک نظر آتش کر دی تھی اور وہاں کسی صورت بھی ڈاکٹر شاہنواز محفوظ نہیں ہو سکتا تھا تو ڈاکٹر شاہنواز کو عمر کوٹ لے جانے کا کیا مقصد تھا۔ سردار شاہ نے ڈاکٹر شاہنواز کے کردار اور خاندان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ ڈاکٹر شاہنواز کا تعلق مذہبی گھرانے سے تھا وہ خود بھی صوم و صلوٰة کا پابند تھا۔
ڈاکٹر شاہنواز طالب علمی کے زمانے میں ٹاپ ٹین اسٹوڈنس میں شمار ہوتا تھا۔
2020 سے وہ کراچی کے نجی ہاسپٹل سے نفسیاتی بیماری کا علاج کروا رہا تھا۔ ”
قتل کے بعد جب ڈاکٹر شاہنواز کمبھار کی میت اپنے آبائی گاؤں جانہیرو لائی گئی تو مشتعل ہجوم کی جانب سے کسی بھی قبرستان میں ڈاکٹر شاہنواز کی میت کو تدفین کی اجازت نہ ملنے پر ان کے والد اس کی لاش کو کار میں لے کر اپنی زمین پر گئے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب لاش کو کار میں لے جایا جا رہا تھا تو لاش کی ٹانگیں کار کی کھڑکی سے باہر نکلی ہوئی تھیں۔ ڈاکٹر شاہنواز کے والد کی ذاتی پراپرٹی میں تدفین سے قبل مشتعل لوگوں نے ورثا سے لاش چھین کر اس کو آگ لگا دی۔ جس کے بعد میں پولیس کی نگرانی میں تدفین کی گئی۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے ڈاکٹر شاہنواز کمبھار کے ماورائے عدالت قتل کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ کو انکوائری کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کیس کی تحقیق و تفتیش کو غیرجانبدار بناتے ہوئے ہر ممکن قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ وزیر داخلہ سندھ نے ڈی آئی جی، ایس ایس پی اور ملوث پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔ جبکہ مذہبی تنظیموں کی جانب سے ڈاکٹر شاہنواز قتل میں ملوث اہلکاروں کو پھولوں کے ہار پہنائے جا رہے ہیں مبارکباد دی جا رہی ہے ماتھے چومے جا رہے ہیں۔
اس واقعے نے صوفی عدم تشدد کی پرچارک سندھ کی چھ ہزار سالہ تاریخ پہ سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ لوگوں کو ایک انجانے خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس سے بڑا کوئی المیہ ہو سکتا ہے کہ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کو یقین دلانا پڑ رہا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ میں اس لاتعلقی کاپی پیسٹ سوشل میڈیا اسٹیٹس سے دو چیزیں سمجھ پایا ہوں ایک ڈر بے پناہ ڈر، ڈر مگر کس سے؟ خود سے، خود جیسوں سے، بڑھتی ہوئی انتہا پسندی سے، مقدس تلوار سے۔ دوسری بات جو میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ کہ جو لوگ فیس بکس آئی ڈیز ہیک ہونے سے قبل اس کی صفائیاں دے رہے ہیں لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں وہ لاشعور طور پر یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ڈاکٹر شاہنواز کمبھار کی آئی ڈی بھی ہیک ہو سکتی ہے۔ مگر اس کی منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کرنے کی جراؑت نہیں کر پا رہے ہیں۔
ملزم کو مجرم ثابت کرنا اور سزا دینا عدالت کا کام ہے پولیس یا کسی مشتعل ہجوم کا نہیں۔ اگر ڈاکٹر شاہنواز کیس کی منصفانہ جانچ نہ ہوئی تو کل کسی کو اس کے اہل خانہ سے اس کی لاش کی تدفین اور سوگ منانے کا حق بھی چھین لیا جائے گا خواہ وہ بے گناہ ہو کہ گناہ گار۔

