خیبرپختونخوا کے مسائل اور عوام کا غلط سیاسی انتخاب
خیبرپختونخوا پاکستان کا سب سے خوبصورت اور دلکش صوبہ مانا جاتا ہے۔ اس کی خوبصورتی کو دیکھنے کے لئے اندرون ملک سمیت باہر ممالک سے بھی لوگ سفر کر کے آتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے لوگوں کی مہمان نوازی کے پوری دنیا میں چرچے ہیں مجھ سمیت اس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا لیکن اس خوبصورتی اور مہمان نوازی کو برقرار رکھنے کے لئے کوئی ٹھوس پلان موجود نہیں ہے البتہ مہمان نوازی کا پلان جیسے پہلے تھا ابھی بھی ویسا ہی ہے کیونکہ مہمان نوازی پختون قوم کی ایک پہچان ہے۔
اس جدید دور میں خیبر پختونخوا میں پینے کا صاف پانی، روڈز، ہسپتال، کھیلوں کے میدان سمیت کسی بھی شعبے میں شہریوں کے لئے سہولیات میسر نہیں۔ ہسپتال، روڈ اور پینے کا صاف پانی تو الگ بات، وہاں کے باسی پچھلے چالیس سال سے بدامنی، جنگ اور ٹارگٹ کلنگ کا مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔ اس وقت خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں لوگ امن کی بھیک مانگ رہے ہیں، عوام کی زندگیاں تو ویسے ہی اجیرن بنا دی گئی ہیں لیکن چند روز قبل لکی مروت پولیس نے بھی دہشت گردوں کی کارروائیوں سے تنگ آ کر دھرنا دیا تھا جو چند روز تک جاری رہا لیکن بالآخر کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا۔
پولیس کا دھرنا تو ختم کروایا گیا لیکن وہ مقامی لوگ جو ہر روز امن کی بھیک مانگ رہے ہیں ان کی فریاد کون سنے گا؟ وزیرستان سے لے کر باجوڑ تک ”امن پاسون“ کے نام سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ ان لوگوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمیں امن چاہیے امن کے علاوہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے کیونکہ جب امن ہو گا تب ہسپتال، روڈز، اسکولز اور کالجز بھی بن سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں پچھلے دس سالوں سے پی ٹی آئی کی حکومت رہی ہے اور ابھی بھی پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہے۔ نو دس سال حکومت کرنے کے باوجود نا تو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت دہشت گردی پر قابو پا سکی ہے اور نہ ہی شہریوں کی زندگیوں کو آسان بنانے کے لئے کوئی میگا پروجیکٹ لائی ہے۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے لوگوں کو اب تک کیوں سمجھ نہیں آ رہی کہ پچھلے دس گیارہ سال سے ہم ایک ہی پارٹی کو ووٹ دے رہے ہیں لیکن وہ پارٹی اب تک ہمارے مسائل کو حل کرنے میں کامیاب کیوں نہیں ہو سکی؟ ایسے سوالات اگر خیبر پختونخوا کے لوگوں سے پوچھیں گے تو وہ آپ کو گالیاں دینا شروع کر دیں گے کہ ہمیں کچھ نہیں ہمیں بس ”خان“ چاہیے۔ خان کو سپورٹ کرنا ہے جس کسی کو بھی سپورٹ کرنا ہے پہلے تو اپنے گھر کے حالات دیکھ لو کہ ہمارے لوگ اس وقت کس قدر اذیت سے دوچار ہیں تب جا کے خان کو ووٹ دینا ہے دیں۔
ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود نہیں چاہتے کہ خیبرپختونخوا ترقی کرے یا امن سکون اور شانتی آ جائے۔ کیونکہ ہم جہالت کے ایسے دور سے گزر رہے ہیں کہ اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ ہر کوئی آ کے ہمارے لوگوں کو استعمال کر کے چلا جاتا ہے اور ہمیں جب استعمال کر کے چلا جاتا ہے تب انگشت بدنداں ہو کر ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے دیکھتے ہیں کہ یہ کیا ہوا۔ لہذا جب کسی کو سپورٹ کرنا ہے اسے پہلے اس کے بیک گراؤنڈ کو چیک کیا کریں کہ یہ بندہ ماضی میں کیا کیا کرتا رہا ہے لیکن مجال ہے کہ کوئی اس کے ماضی پہ نظر دوڑائے۔ میں تو کہتا ہوں کہ بس بہت ہو گیا اب مزید شخصیات کی بجائے علاقائی مسائل کو ترجیح دیں۔


