طلاق: بالکل نہیں


اِن دنوں کورٹ جانا روز کا معمول تھا۔ بعض دفعہ ایک دن میں چھے کیس لگے ہوتے تھے۔ سارا دن کیسز کی پیشی میں بر وقت حاضری کو یقینی بنانے میں گزر جاتا تھا۔ عدالتی کیس میں حاضری کا عمل اس قدر اہم ہے کہ ذرا سی دیر ہونے سے ریڈر صاحب غیر حاضری لگا دیتے تھے۔ کیسز کی آئے روز تاریخ پڑنے سے میں خاصا پریشان تھا۔ ملازمت رِسک پر تھی جبکہ بے عزتی کا گراف انتہائی اونچے لیول پر متمکن تھا۔

ایک روز کا واقعہ ہے تین مختلف کورٹس میں صبح کی حاضری لگوا کر میں کورٹ سے متصل چائے خانہ میں ابھی جا کر بیٹھا تھا کہ ناواقف نمبر سے کال آئی۔ آپ جناب بول رہے ہیں، جی ہاں! فلاں کورٹ میں فوراً تشریف لائیں۔ چائے کا کپ میز پر میرے ہونٹوں کا لمس چکھنے کی آرزو لیے رہ گیا۔ میں 4 جی کی برق رفتار سے دوڑ کر کمرہ عدالت پہنچا۔

جج صاحب تشریف فرما تھے، مجھ سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے آپ کے وکیل کہاں ہیں، آج آپ کی طرف سے بحث ہے، انھیں بُلائیں، مجھے یہ کیس نمٹانا ہے۔ میں نے کہا :مائی لارڈ :وہ تو ہائی کورٹ گئے ہیں، دس بجے تک تشریف لے آئیں گے، جج صاحب نے کہا:، آپ انھیں کال کریں اور جلد بلوائیں، مجھے آج یہ کیس سُن کر فیصلہ کرنا ہے۔ کیس کیا تھا، بیٹی کے نان و نفقہ کے یک مُشت حصول کے حوالے سے محترمہ نے اپنے محکمہ سے تگڑی سفارش کروائی تھی۔ میں اپنے وکیل سے یہی تکرار کرتا تھا کہ میں نے بیگم کے خلاف کوئی کیس نہیں کرنا۔ ہم دونوں میں نباہ نہیں ہو سکا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ گیارہ بارہ کیس بیگم نے مجھ پر کیے ہیں، پانچ چھے کیس میں اُس کے خلاف کر دوں اور سارا دن کورٹ میں کبھی یہاں اور کبھی وہاں حاضری لگوانے، ڈانٹ سُننے اور گھنٹوں فضول انتظار کرنے میں گزاروں۔

وکیل صاحب چونکہ دوست تھے وہ خود بھی اسی سانحہ سے گزر چکے تھے۔ فرمانے لگے :پروفیسر صاحب! یہ پاکستان ہے، یہاں اینٹ کا جواب پتھر سے دینا پڑتا ہے، آپ جنھیں بیگم صاحبہ کہہ کر پکار رہے ہیں وہ آپ کے خلاف گیارہ مقدمات میں مدعی ہے اور آپ اُس کے ملزم ہیں۔ کورٹ میں میاں بیوی کا رشتہ نہیں دیکھا جاتا، یہاں مدعی اور ملزم کی حیثیت سے کیس کو دیکھا جا تا ہے۔ یہاں جذبات کی کوئی اہمیت نہیں، یہاں صرف حقائق پر بات ہوتی ہے، ثبوت جھوٹے ہوں یا سچے، جعلی ہوں یا خریدے ہوئے، کورٹ کو اس سے کوئی غرض نہیں۔

بیٹی کا خرچہ تو آپ کو ادا کرنا ہو گا، چونکہ آپ کی بیگم صاحبہ ایک عورت ہے، اس لیے کورٹ میں عورت کی ہر جگہ سنوائی اور پذیرائی ہے۔ پاکستان میں عورت ہونا کافی ہے، باقی سب اضافی ہے۔ اگر آپ عورت ہیں، خوبصورت ہیں، پڑھی لکھی ہیں اور ملازمت بھی کرتی ہیں، علاوہ ازیں منہ پھٹ مزاج کے ساتھ شوریدہ سر بھی ہیں تو کس کی مجال ہے کہ آپ کے خلاف کوئی اقدام کر سکے۔

پروفیسر صاحب! آپ کو یہاں آتے ہوئے دو جمع دو چار دن ہوئے ہیں، ہماری زندگی کا دو تہائی حصہ یہاں گزر چکا۔ ہم وکلا بھی عجیب مخلوق ہیں، روزی روٹی کے لیے کبھی مدعی کی طرف تو کبھی ملزم کی طرف۔ میں جانتا ہوں کہ آپ پر کیے گئے سبھی کیسز جھوٹے اور من گھڑت ہیں اور بہت جلد آپ کو ان سے رہائی مل جائے گی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے ایک عورت سے پنگا لیا ہے اور وہ بھی پاکستانی عورت سے جو خوبصورت ہونے کے ساتھ پڑھی لکھی ہے اور اعلیٰ سرکاری عہدے پر براجمان ہے۔

اگر تم اسی طرح شرافت دکھاتے رہو گے اور رحم کی نگاہ سے اِسے دیکھتے رہو گے تو یہ عورت تمہیں اس قدر ذلیل اور رُسوا کرے گی کہ نانی یاد آ جائے گی، تمہیں اس کے آگے گِڑگڑا کر معافی مانگنا ہوگی اور محترمہ کی مرضی کے مطابق ڈیل کر کے وہ سب کچھ دینا ہو گا، جس کا مقدمات میں تفصیلاً ذکر موجود ہے۔

وکیل صاحب نے ڈانٹ نما نصیحت اس انداز میں گوش گزار کی کہ میرے تو اوسان خطا ہو گئے۔ میں نے کہا کہ یار! مجھے یہاں آ کر یہ احساس ہونے لگا ہے کہ جو کام گھر کی چار دیواری میں باہمی رضا مندی سے مصلحتاً منت سماجت اور پاؤں پکڑ کر ہو سکتا تھا وہ کام اب کورٹ میں ہر روز کی تذلیل اور شرمندگی سے نا ہوتا ہوا دیکھ کر بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ مجھ ایسا دھتکارا ہوا شخص جو خود کو تیس مارخان سمجھتا تھا، بے کس عالم میں خس و خاشاک کی طرح یہاں وہاں ہچکولے کھاتا پھرتا ہے۔

وکیل صاحب چونکہ زِیرک تھے اور وسیع تجربہ رکھتے تھے، انھوں نے کہا پروفیسر صاحب! معاف کیجیے گا آپ لوگ دو ، چار کتابیں پڑھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سے بڑا کوئی سمجھ دار اور باشعور نہیں ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ جیسے سو کالڈ پڑھے لکھے جاہلوں کی وجہ سے پاکستان کی فیملی عدالتیں بھری رہتی ہیں جس سے ہمارا رزق لگا رہتا ہے۔ آپ گھر میں شیر اور یہاں بھیگی بلی بن جاتے ہیں، آپ گھر میں ناسور اور یہاں قابلِ رحم دکھائی دیتے ہیں، آپ گھر میں فرعون اور یہاں مسکین نظر آتے ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں عورت سے نکاح کر کے اِس کو غلام بنا لیا ہے جو من چاہے گا ویسا سلوک کریں گے۔

یہ گویا کٹھ پُتلی ہے جسے اپنی مرضی سے نچائیں گے، بات بات پر اس کو ذلیل کریں گے، اس کے جذبات و احساسات سے کھیلیں گے، اس کی عزت نفس کو مجروح کریں گے، اس کے جسمانی خد و خال کی تابنکاکی کو وحشی کُتوں کی طرح بھنبھوڑیں گے۔ آپ یہ بھول جاتے ہیں عورت جب تک بندھن کے پوتر رشتے کے تقدس کی چار دیواری میں مقید رہتی ہے تب تک وہ انتقام کے روپ کو اختیار کرنے سے حتی الامکان گُریز کرتی ہے۔ جب آپ اپنی حرکات سے اسے یہ احساس دلا دیتے ہیں کہ تم جیسی بے وقوف، جاہل، گنوار اور اُجڈ لڑکی نے میری زندگی حرام کر دی ہے، میرا سکون برباد کر دیا ہے۔ والدین نے پتہ نہیں کیا دیکھ کر تمہیں میرے پلے باندھ دیا ہے نہ مرتی ہے نہ جان چھوٹتی ہے۔

میں سمجھ سکتا ہوں عورتوں کی صنف میں چند ناسور قسم کی عورتیں ایسی بھی ہیں جنھوں نے خلع اور طلاق کو مذاق سمجھ رکھا ہے۔ آئے روز سوشل میڈیا پر خلع و طلاق لے کر اسے سلیبریٹ کیا جاتا ہے۔ اس ٹولے کا مقصد پدر سماج نظام کو یہ باور کروانا ہے کہ ہم آپ کے نرغے میں اب زیادہ دیر نہیں رہنے والی۔ انٹرنیشنل لابی اور فنڈڈ این جی اوز بھی اس مد میں لاکھوں ڈالرز خرچ کرتی ہے، عورت مارچ ٹائپ اس مخلوق نے گھروں میں چین سے بیٹھی عورتوں کے ذہنوں کو کافی حد تک خراب کیا ہے۔ طلاق کی نسبت خلع کی شرح بڑھ چکی ہے، نمود و نمائش کی چکاچوند میں اکثر پڑھی لکھی خواتین اپنا گھر اُجاڑ لیتی ہیں پھر کورٹ میں مقدمے بازی کر کے شریف النفس خاوندوں کو اس قدر زچ کرتی ہیں تاکہ آئے روز کورٹ کی پیشیاں بھگتنے کی سزا سے عاجز آ کر یہ ہمیں کچھ دے دلا کر اپنی خلاصی کروالے۔

نوجوان لڑکے لڑکیوں کو خلع و طلاق ایک کھیل معلوم ہوتا ہے۔ مزے مزے میں گھر اُجاڑنے کے بعد جب یہ لڑکے لڑکیاں وحشت زدہ چہرے لیے ہمارے پاس آتے ہیں تو زار و قطار روتے ہیں، اپنا سر پیٹتے ہیں اور دہایاں دیتے ہیں کہ ہماری خلاصی کرا دیں مجھ پر ظلم ہو گیا ہے، مجھ سے سراسر زیادتی ہوئی ہے، میں بے گناہ ہوں، میں بے قصور ہوں۔

میں حیران تھا کہ وکیل صاحب مجھے یہ باتیں کیوں بتلا رہے ہیں۔ پیشی کے انتظار میں بیٹھا میں اکثر وکیل کی باتوں پر سوچتا تھا اور اپنے کیے ہوئے فیصلے کا تجزیہ کرنے کی کوشش کرتا رہتا۔ چند دنوں بعد جب میں جذباتی کیفیت سے باہر نکل آیا اور بالکل ٹھنڈا پڑ گیا تھا تو مجھے احساس ہوا کہ میں نے حقیقت کے بر عکس جذباتی فیصلے کیے جس کی سزا مجھے ملنی چاہیے تھی جو کہ مل رہی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ طلاق دیتے ہوئے میں فرعون بن گیا تھا اور سمجھتا تھا کہ یہ ایک بے جوڑ رشتہ ہے، اس سے نجات ضروری ہے، کئی ایک خوبرو لڑکیاں قطار میں کھڑی میرا انتظار کر رہی ہیں۔ اس عمل سے گزرنے کے بعد جب پلٹ کر میں نے انتظار کرنے والی لیلاؤں کی طرف دیکھا تو مایوسی کے سِوا کچھ دکھائی نہ دیا۔

ہنستا بستا گھر اُجاڑنے کے بعد انسان سوچتا ہے اگر مجھے اس عمل کے ردِعمل کا پہلے سے علم ہوتا تو میں اپنی زبان کو لگام دیتا، ہاتھوں کو زنجیر پہناتا اور ارادوں کو مقفل کیے رکھتا لیکن علیحدگی کی نوبت کسی صورت نہ آنے دیتا۔ میری نوجوان لڑکے لڑکیوں سے دست بستہ گزارش ہے جو خلع اور طلاق کا ارادہ کیے مناسب موقع کے انتظار میں ہیں، آپ کسی دن وقت نکال کر اپنے شہر کی فیملی کورٹ میں جائیں، خاموشی سے عدالت کے باہر انتظار گاہ میں بیٹھ کر پیشی پر آنے والے لڑکے لڑکیوں کو دیکھیں، ان کے چہروں کو پڑھیں، ان کے پچھتاوے کو محسوس کریں، ان کی اندرونی حالت کی غضبناکی کو بھانپ کر اپنے ارادے کی مذموم تکمیل پر غور کریں کہ میں بھی ان میں سے ایک ہو سکتا ہوں۔

کیا ضروری ہے کہ خلع لے کر ہی سمجھ آئے اور کیا ضروری ہے کہ طلاق دے کر ہی بندے کا پُتر بنا جائے۔ خلع لینے سے پہلے خلع یافتہ لڑکی سے ملیں، اس سے پوچھیں کہ اس سارے معاملے میں آپ کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟ اسی طرح طلاق یافتہ مرد سے پوچھیں کہ میاں! تمہارے ساتھ یہ سانحہ کیوں پیش آیا؟ ستم یہ ہے کہ ہمارے والدین اس معاملے میں سب سے زیادہ جذباتی پائے گئے ہیں، انھیں فرق ہی نہیں پڑتا کہ بچوں کے گھر اُجڑ جائیں۔ ان کے ڈائیلاگ سُننے والے ہوتے ہیں۔

بہن بھائی مل کر آپ کا گھر اُجاڑ ضرور دیں گے لیکن تباہ شدہ گھر کو پھر سے آباد کرنے کی ذمہ داری کوئی نہیں لے گا۔ گھر اُجڑنے کے بعد جو تباہی آتی ہے اُس کے منفی اثرات نسلوں تک اثر رکھتے ہیں۔ خلع لینے والی لڑکی اور طلاق دینے والے لڑکے کو جب اس بات کا احساس ہو گا کہ یہ میں نے کیا کر دیا، اس وقت اِس کے پاس سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں ہو گا۔ یہ پچھتاوا سانپ کی طرح ڈستا ہے لیکن مرنے نہیں دیتا، یہ پچھتاوا جان کا روگ بن جاتا ہے لیکن جان نہیں چھوڑتا۔

خدا کے لیے خود کو اس نہج پر آنے سے روکیے، فیصلہ کرنے سے پہلے مشورہ کیجیے، سوچیے، سمجھیے۔ جب کچھ سمجھ میں نہ آئے تو کچھ دن کے لیے گھر سے غائب ہو جائیے۔ گھر سے فرار ممکن نہیں تو خاموش ہو جائیے، گونگے بن جائیے، زبان پر تالا لگا لیجیے، ہر قسم کی لعن طعن سُنتے رہیے لیکن جواب نہ دیجیے، بے حِس ہو جائیے جس طرح سے بھی ممکن ہو، شادی کے بندھن کو ٹوٹنے سے بچائیے۔

شادی جنسی تسکین کا ذریعہ نہیں ہے، شادی ذمہ داریوں کا گٹھڑ ہے جسے سر پر احتیاط سے اٹھائے رکھنے سے کِشتی پار لگے گی۔ ایک بار اِس بندھن میں بدگمانی کا پیوند لگ گیا پھر نقب زنی کا ایسا رستہ ہموار ہو گا کہ دُنیا چھوٹے سے پیوند میں جوتوں سمیت داخل ہو کر اسے تار تار کر ڈالے گی اور تم روکتے رہ جاؤ گے۔

Facebook Comments HS