شیخ سعدی، افغان اور عمران
ہمارے کرکٹ میچز یا ورلڈ کپ کے دوران اکثر افغان ٹیم کے مقابل پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو پاکستان میں بسنے والے افغان مہاجرین کے وہ بچے جنہوں نے نہ کبھی افغانستان دیکھا ہے اور نہ ہی وہ افغانستان میں پیدا ہوئے مگر افغان ٹیم کے مقابل پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی کھل کر شدید مخالفت کرتے ہیں، جو ملک میں افغان مہاجرین کے بارے میں ایک عجیب سماجی کشمکش اور تناؤ پیدا کرنے کا سبب بنا رہتا ہے، جب میں نے اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کی تو مجھے شیخ سعدی یاد آ گئے۔
اس مرحلے پر مجھے اس بات کا قطعی علم نہیں کہ شیخ سعدی سے منسوب ”اول افغان دوم کمبوہ اور سوم کشمیری“ والی حکایت یا عمیق مشاہدہ کیونکر آج کے زمانے تک چلتا چلا آ رہا ہے اور کیوں نہیں شیخ سعدی کی مذکورہ حکایت کو آنے والے دانشوروں یا زعما نے اب تک تبدیل نہیں کیا یا اس کو مسترد کرتے ہوئے اس کے مقابل کوئی مضبوط حکایت نہ لا پائے، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ شیخ سعدی کے علم و مشاہدے کو زمانے نے تسلیم کر لیا ہے اور ارد گرد کے حالات و واقعات کے تناظر میں اس حکایت کو جوں کا توں اس کی حقانیت کی بنیاد پر برقرار رکھا ہوا ہے، چونکہ علم و کسب کا دورانیہ طویل ہوتا ہے اور اس طوالت کی بنیادی وجہ علم کو جاننے کی وہ کھلی کھڑکی ہوتی ہے جس کا ایک پٹ ہمیشہ کھلا رکھا جاتا ہے تاکہ اس کی دانش سے ہر زمانہ فیضیاب ہوتا رہے اور شاید یہی انسان کے ذہنی ارتقا کا ایک مثبت پہلو ہوتا ہے کہ جس سے ”ردِ علم“ کی قوتوں کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔
یوں تو تاریخ نہ شیر شاہ سوری کے افغان ہونے کو بُھلا پائی ہے نہ اس کے قزاق ہونے اور برصغیر پر قبضے کی حکمرانی کے دور میں گرانڈ ٹرنک روڈ (جی ٹی) کی تعمیر کو نظر انداز کر پائی ہے، مگر ان تمام کے باوجود شیر شاہ سوری پر قزاق کا دھبہ چھوٹ نہیں پایا ہے، بالکل اسی طرح ہمارے سماج کی نئی نسل نے افغان مہاجرین اور افغان طالبان کی دہشت اور وحشت میں آنکھ کھولی اور اب تک طالبان دہشت گردی اور انتشار پسندی کے عذاب میں رہ رہے ہیں، بھلا ہو آمر جنرل ضیا کا کہ اس نے امریکی مفاد اور اپنے تنگ نظر مقاصد کی خاطر وطن کی مٹی میں افغان جہادیوں کی آمیزش کی اور بعد کو آمر جنرل ضیا کی یہ وراثت یا تحفہ ہمارے سماج کی رگ و پے میں ”ریاستی پالیسی“ کے طور پر شامل رہا جس کی انتہائی شکل طالبان دہشت گرد ہیں جو اب بھی افغان طالبان کی سر پرستی میں وطن کی زمین کو کشت و خون اور انتشار سے نہلا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ان طالبان دہشت گردوں کے سزائے موت کے مجرمان کو عمران خان اور صدر عارف علوی نے نہایت ہی سفاکانہ طریقے سے طالبان کی محبت میں معافی دی بلکہ اپنے اقدام کو وطن اور خطے میں امن کی ضرورت سے تعبیر کر کے دراصل طالبان دہشت گردوں کے سہولت کار بنے اور اب تک خود کو ان ”فتنتہ الخورج“ کے حامی و مددگار ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہیں جس کے نتیجے میں تحریک انصاف نے ملک کو سیاسی انتشار، جھوٹ اور فریب کی دلدل میں دھنسا کر وطن کے معاشی استحکام کو دریدہ کیا ہوا ہے اور دہشت گردوں کی حمایت کرنے پر بڑی ڈھٹائی سے جتے ہوئے ہیں۔
یہ 1980 کی دہائی کا وہ خوفناک المیہ ہے جب ملک جنرل ضیا کے خونیں سفاک پنجوں میں جکڑا ہوا تھا، منتخب وزیر اعظم کو عدالتی سہولت کاری سے سزائے موت دلوا دی گئی تھی اور ملک میں 1977 کی پی این اے تحریک کے نعرے ”نظامِ مصطفی“ کو عملی صورت میں نافذ کرنے کا ڈھونگ رچایا گیا تھا جس میں آج کے جمہوریت اور آئین پرست کہلانے والے مولانا مودودی فکر کے جہادیوں کے ساتھ مل کر آمر جنرل ضیا کی آمریت اور مذہبی جغادری سیاست پر واہ واہ کر رہے تھے، یہی وہ دور تھا جب افغانستان میں نور محمد ترکئی کی قیادت میں افغان عوام نے اپنی سیاسی اور معاشی ترقی کی راہ ہموار کرنے کی ٹھانی تھی اور بادی النظر میں خطے میں جاری امریکی سامراجیت کو چیلنج کیا تھا، افغانستان کے ”انقلابِ ثور“ کی حمایت میں بالعموم دنیا اور بالخصوص پاکستانی جمہوریت پسند اور روشن خیال قوتیں افغان حکومت کی پائیداری کے لئے متحرک تھیں جبکہ دوسری جانب آمر جنرل ضیا کی دھوکہ دہی کی مذہب پرستی کو شاہ احمد نورانی کے سوا تمام مذہبی قوتیں جنرل ضیا کے احتساب اور مذہبی تڑکے میں لپٹے امریکی ڈالرز کی لالچ میں آمر جنرل ضیا کی کھل کر حمایت کر رہی تھیں، جس کے دفاع میں مذہبی جماعتوں کی مدد و حمایت سے گلبدین حکمت یار کی سربراہی میں پاکستان سے ”افعان جہاد“ کا اعلان کیا گیا اور الشمس و البدر کی طرح پاکستان سے ”جہادیوں“ کی کمک افغانستان پہنچانا شروع کی گئی جس کے عیوض اسلامی جماعتوں کو نہ صرف امریکی ڈالرز سے نوازا گیا بلکہ اسلامی جماعتوں کو پاکستان میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مدارس قائم کرنے کے لئے اہم جگہوں پر زمین فراہم کی تاکہ یہ مذہبی جماعتیں تبلیغ اور جہاد کا ڈھونگ کر کے پاکستانی سماج کی سوچ کو تنگ نظر جہادی بنائیں اور سماج میں مذہبی منافرت کا بیج بو کر آمر جنرل ضیا کی حمایت کے ساتھ ساتھ امریکی ڈالر سمیٹیں، اور پھر تاریخ نے دیکھا کہ افغان جہاد بھی ایک فراڈ نکلا اور مذہبی جماعتوں کا بیانیہ بھی ایک دھوکہ لئے عوام کو بیوقوف بنا رہا ہے، 80 کی دہائی میں اُس وقت کے کمیونسٹ ترقی پسند اور جمہوریت پسند قوتیں بار بار انتباہ کر رہی تھیں کہ یہ نہ افغان جہاد ہے اور نہ افغانستان کی آزادی کی جنگ بلکہ یہ جنگ خطے میں امریکی مفادات کو مضبوط کرنے کے لئے لڑی جا رہی ہے جو مستقبل میں پورے سماج کو تنگ نظر سوچ اور دہشت گردی میں مبتلا کر دے گی۔ مگر اس وقت کی جنرل ضیا کے فوجی ٹولے نے جمہوریت پسند قوتوں کو جبریہ طور سے بندی خانوں میں بند کیا اور ریاستی تشدد سے ناصر بلوچ، نذیر عباسی سمیت سینکڑوں جمہوریت پسندوں کو بے دردی سے قتل کیا۔ جنرل ضیا سمیت نامور فوجی جنرل طیارے حادثے کے نتیجے میں مارے گئے اور یوں ملک میں فوجی آمر جنرل ضیا کے افغان جہادی فلسفے کا اختتام ہوا مگر جنرل ضیا کے افغان جہادی فلسفے کے اثرات نے مذہبی تنگ نظر فکر کے اسٹیبلشمنٹ زدہ پالیسی سازوں کو یہ مواقع دیے کہ وہ افغان جہاد میں امریکی ڈالرز حاصل کرنے میں جتے رہیں جس کے لئے پاکستان کی سر زمین پر تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد جنرل حمید گل کی سربراہی میں ڈالی گئی جنہوں نے طالبان فکر کو آگے لے جانے کے لئے عمران خان کا انتخاب کیا جو آج تک امریکی مفادات اور خطے میں معاشی عدم استحکام قائم رکھنے میں امریکی برانڈ افغان طالبان کی حکومتی دہشت گردی کو قائم کرنے کے در پہ ہیں تاکہ خطے کی ترقی کو امریکی مفادات میں روکا جا سکے اور پاکستان کے معاشی استحکام کے منصوبوں ”سی پیک“ ایران روس گیس پائپ لائن ”کو امریکی حمایت یافتہ افغان طالبان حکومت“ کے ذریعے ہر قیمت پر روکا جائے۔
بات اس سے بھی آگے اُس وقت بڑھتی ہوئی محسوس ہوئی جب پشاور میں افغان قونصلر جنرل کو خیبر پختونخوا کے پی ٹی آئی وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایک تقریب میں طلب کیا اور اس تقریب میں ملکی قومی ترانے پر سفارتی آداب کی دھجیاں اڑاتے ہوئے افغان وفد کے ارکان قومی ترانے کے احترام میں دیگر شرکا کے برعکس کھڑے نہ ہوئے، جس پر افغان حکومت کے وفد کی اس غیر سفارتی بدتہذیبی کی ملک بھر میں مذمت کی گئی، مگر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور ان کی پوری جماعت نے افغان وفد کی وضاحت کہ ”پاکستانی ترانے میں موسیقی تھی لہذا ہم کھڑے نہ ہوئے“ کو نہ صرف تسلیم کر لیا بلکہ اس پر پی ٹی آئی نے افغان طالبان کے نکتہ نظر کا دفاع کیا جبکہ پاکستانی وزارت خارجہ اور عوام نے افغان وفد کے اس عمل کو ملک دشمنی اور سفارتی آداب کے خلاف عمل قرار دیا اور افغان حکومت سے شدید احتجاج کیا، افغان وفد کے اس پورے عمل کے پیچھے آمر جنرل ضیا اور ان کی مذہبی باقیات قوتوں کی ایک بھیانک ملک دشمن اور سماج دشمن پالیسی ہے جو ملک کی نسل کو قرون وسطیٰ کی مذہبی تنگ نظری میں لے جانا چاہتی ہے اور اسی افغان جہادی فکر کی ماڈرن شکل اور مدد کی صورت میں ہمارے ہاں افغان مہاجرین کی کاروباری پشت پناہی ہے جو مسلسل تحریک انصاف کی مدد کر رہی ہے، افغان جہادی فتنے کی اس موجودہ شکل سے نجات وقت کی وہ ضرورت ہے جس کے نتیجے میں فتنے کے ہر عمل کی روک تھام کے لئے ریاست کو ٹھوس اور مستقل نجات کی پالیسی بنانا ہوگی وگرنہ ”فتنتہ الخوارج“ سے سماج اور نسل کو بچانا مشکل امر ہو گا۔
آج کل پی ٹی آئی کے اکابرین کہتے پھر رہے ہیں کہ وہ آئین کی بالا دستی کی جنگ لڑ رہے ہیں ”سوال یہ ہے کہ آئین میں کہاں لکھا ہے کہ ملک میں سیاسی، معاشی اور سماجی انتشار پیدا کر کے آئین کو بالادست کیا جائے۔ ؟
صحافتی میل ملاقات کے طور پر پچھلے دنوں کراچی میں آئی ایس پی آر نے اپنے ڈی جی کی ایک نشست کراچی کے صحافیوں کے ساتھ رکھی اور اس نشست کی گفتگو کو آف دی ریکارڈ کے وعدے کے تحت تحریر میں نہیں لایا جا سکتا ہے مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ڈی جی کے عزم میں یہ بات بطور خاص تھی کہ پرانی پالیسیوں کے برعکس اب کسی بھی قیمت پر کسی بھی انتشار پسند فتنے یا ”فتنتہ الخوارج“ کو ملک میں نہیں بخشا جائے گا۔ اب مذکورہ عزم میں باقی کی نشانیاں شیخ سعدی کے قول اول افغان میں آپ خود تلاش کریں۔


