مولانا طارق مسعود مسئلے میں، مولوی بمقابلہ مولوی


مولانا طارق مسعود پاکستان کی ایک مشہور مذہبی شخصیت ہیں جن کو سننے اور چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ موصوف کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا میں بھی موجود ہے۔ مولانا طارق مسعود صاحب حالیہ دنوں میں ایک خطاب کے دوران کچھ ایسی باتیں کہ گئے جو کہ دوسرے مذہبی فرقے کے نزدیک توہین اسلام اور توہین پیغمبر کے زمرے میں لی گئیں مگر وہ بات مولانا صاحب کے لاکھوں ماننے اور سننے والوں کے نزدیک ایک معمول کے خطاب سے بڑھ کر کچھ نہیں تھی۔

اس واقع کے بعد مولانا صاحب کا وہ وڈیو بیان سوشل میڈیا پر بھرپور طریقے سے پھیلا دیا گیا اور اب مخالف مذہبی گروہ کی جانب سے شدید ردعمل آ رہا ہے۔ مذہبی گروہ کی جانب سے مذہبی مولانا صاحب کے اپر کراچی کے ایک تھانے میں بلاسفیمی کی ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔اس تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مولانا صاحب اپنے مخالف مولویوں کے لیے خاص طور پر وضاحتی ویڈیو بیان بھی جاری کر چکے ہیں مگر مخالف مولوی وہ سننے اور سمجھنے کو بالکل تیار نہیں کیونکہ ان کا قانون خدا کے قانون سے بھی زیادہ سخت ہے جس میں معافی کی دور دور تک کوئی گنجائش نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مولانا صاحب کو مولانا ہونے کی وجہ سے توہین مذہب کے الزام پر معافی کی گنجائش اور مہلت دی جاتی ہے یا وہ سلوک کیا جاتا ہے جو ایک عام پاکستانی کے ساتھ شدت پسند مذہبی طبقہ کرتا ہے وہ سلوک جو سینکڑوں پاکستانیوں کی بیدردی سے جان لے چکا ہے جس کا حالیہ واقع سندھ میں ایک ڈاکٹر کے ساتھ پیش آیا تھا جس کو سینئر پولیس اہلکار کی جانب سے ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا اور اس پھر اس کی لاش کو جلا دیا گیا۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ واقعہ نا ہی کوئی پہلا ہے اور افسوس کے ساتھ حالیہ دنوں میں ان واقعات میں تسلسل کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس اضافے کی وجہ سمجھ سے باہر ہے آیا وطن عزیز میں اسلام مخالف سوچ میں اِضافہ ہو رہا ہے یا مومنین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وطن عزیز میں اب وہ دن بھی دور نہیں کہ جب کسی محلے میں کسی شخص کو اسلام مخالف کے الزام میں مارا جا رہا ہو گا اور محلے میں رہنے والے تمام لوگ اگر اپنے گھر سے باہر نکل کر اس شخص کو قتل کرنے میں اپنا حصہ نا ڈالیں تو ایسے محلے داروں کو توہین اسلام کا حامی سمجھا جائے گا۔

Facebook Comments HS