آگ کتنی روشن ہے: اختر حسین جعفری صاحب کی نظم پر ایک تاثریہ


زندگی کے سفر میں اپنی تنہائی کو مہکانے کا جو نسخہ میرے ہاتھ لگا ہے وہ یہ ہے کہ کسی اچھی نظم کے ساتھ وقت گزارا جائے اور اگر وہ اجازت دے تو اس سے مکالمہ کیا جائے۔ ایسے میں میں نے محسوس کیا ہے کہ نظم پڑھتے ہوئے میرا ذہن تخیل کے پروں پر سوار ہمیشہ کسی نئے سفر پر روانہ ہوجاتا ہے۔ کبھی منظروں میں کھو جاتا ہے اور کبھی مصرعوں کے ساختیاتی حُسن میں گُم ہو جاتا ہے۔ کبھی الفاظ و تراکیب کی نشست و برخاست کی چوٹیوں اور ڈھلانوں پر لڑھکتا جاتا ہے اور کبھی کسی مخصوص لفظ کے چناؤ کا جواز تلاش کرنے میں سرگرداں ہو جاتا ہے۔

حال ہی میں جب اردو کے عہد ساز نظم نگار اختر حسین جعفری صاحب کے فن و شخصیت پر ڈاکٹر خالد سہیل اور امیر حسین جعفری صاحبان کی مرتبہ انگریزی کتاب
Akhtar Hussain Jafri: Life & Legacy
پڑھنے کا موقع اور اس پر اظہارِ خیال کا دعوت نامہ ملا تو میں ایک بار پھر جعفری صاحب کی دلکش شاعری کے دل فریب مناظر سے گھوم پِھر آیا۔ ان کی نظموں کے انگریزی اور جرمن تراجم سے بھی حظ اٹھایا اور حسب ِ فہم و توفیق ایک مضمون بھی قرطاس پر اتار دیا مگر ذہن جعفری صاحب کی نظموں کی کیفیات اور ان کے لسانی و اسلوبی سحر سے آزاد نہ ہوسکا

ان کے شہرِ اظہار کی گلیاں میرے احساس کو کبھی کسی سورج کی نارنجی دہلیز پر جا اتارتی ہیں اور کبھی کسی سمندر کے نیلے ساحل پر ۔ کہیں پیاس کی بوندیں ٹپکتی دکھائی دیتی ہیں اور کہیں بے وطنی تلمیحاتی رنگ بکھیرتی محسوس ہوتی ہے۔ نظم "آگ کتنی روشن ہے” دیکھیے :

چمنیوں کے رستے سے
لفظ، آدمی، رشتے
ہانپتے ہوئے طائر
آسمان کی چھت سے
روز جا لپٹتے ہیں
آسمان جو نیلے
پانیوں کا دھوکا ہے
بوند بوند پیاسی ہے
موج موج صحرا ہے
طائرانِ تشنہ کی
خنجروں سی منقاریں
آئنوں کے سینے میں
روز و شب اترتی ہیں
اور تلاش کرتی ہیں
چاہ، جس کے اندر ہیں
لاکھ بے وطن یوسف

نگاہ دیکھتی ہے کہ جعفری صاحب کی یہ نظم نہ طویل ہے اور نہ صناع بدائع سے بوجھل مگر پر تاثیر اتنی کہ جعفری کے دونوں مترجمین یعنی سلیم الرحمٰن صاحب اور Hilde-Habiba Khatoon صاحبہ نے انگریزی اور جرمن زبانوں کے قالب میں منتقل کرنا ضروری سمجھا۔ میں نے نظم پڑھی۔ پِھر سے پڑھی اور پھر نظم کا مصرع مصرع بہاؤ وہیں بیٹھے بیٹھے مجھے جانے کہاں سے کہاں لے گیا۔ ایک دلکش سفر جو تخلیقی عمل کی پراسرایت کی راہداریوں سے ہوتا ہوا کبھی آسمان کی بے کنار وسعتوں سے آشنا کرتا ہے اور کبھی زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں خوابیدہ خوابوں کا سراغ عطا کرتا ہے۔ اس سفر کی منزل کیا اور کہاں تھی یا ہوگی مجھے معلوم نہیں۔ ہاں، اتنا ضرور محسوس ہوا کہ اس میں پڑاؤ جا بجا آتے ہیں جہاں سوچنے والا ذہن اور شوق رکھنے والا احساس دم لینے کو دو گھڑی ٹھہر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ٹھہراؤ میں اپنے پہلو میں ایک غیر محسوس سا بہاؤ سمیٹے ہوئے ہوتا ہے۔

میں پہلے پڑاؤ پر ٹھہرا تو ذہن نظم کے عنوان کی معنویت اور جواز کے سوالات کے مقابل تھا۔ سوچا، ایک ممکنہ جواز یہ ہو سکتا ہے کہ شاعر یہ نظم ایک فائر پلیس یا آتش دان کے پاس بیٹھا سوچ یا قلمبند کر رہا ہے۔ آتش دان، اور یک دم ذہن میں جعفری صاحب ہی کی ایک اور نظم ”سکول“ کی گھنٹیاں بج اٹھیں :

کل جب راتیں
راکھ کی صورت بجھ جائیں گی
اس ایندھن کے سوکھے پتے
آتش دان کے کام آئیں گے

تخیل ”سکول“ سے لوٹتا ہے تو شاعر وہیں لوِنگ روم میں بیٹھا دکھائی دیتا ہے۔ وہاں بیٹھے ہوئے اس کی نگاہ روشن آگ کو دیکھتی ہے اور تخیل دھوئیں کی صورت چمنی سے باہر کا نظارہ کرتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ حرف، آدمی اور رشتے ہانپتے ہوئے پرندوں کی طرح اُڑے جاتے ہیں۔

نئی نظم کے قاری کے طور پر میرا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ میں کہانی کی طرح اس میں شاعر کے کردار اور اس کی لوکیشن ڈھونڈنے میں کھو جاتا ہوں۔ دیکھا جائے تو یہ مسئلہ اس حد تک تو جینوئن ہے کہ وہ شاعر کی وساطت سے دراصل اپنی لوکیشن کا تعین کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ قاری کئی کیا ایک منظر بھی ٹھیک طور سے نہیں دیکھ سکتا جب تک وہ اپنے پاؤں جمے ہوئے نہ محسوس کر لے اور لوکیشن کا اپنے تئیں صحیح صحیح تعین نہ کر لے۔ اس میں جلد بازی یا ناکامی پر ، وہ اسی مرحلے میں، مخمصے یا جھنجھلاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے اور اپنے چکراتے ہوئے ذہن کی ہدایت پر وہ نظم کو بے سروپا یا مبہم قرار دے دیتا ہے۔ نئی نظم کی تفہیم کے مسائل میں، میرے احساس کے مطابق، یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور اگر مجھ پر برادری ازم کا الزام نہ لگایا جائے تو میں عرض کروں گا کہ اس میں شاعر کا کچھ قصور نہیں۔ تخلیق کار اور قاری کی سوچ کی رفتار ہمیشہ سے مختلف رہی ہے۔ میں یہاں قاری کو زمانے سے تشبیہ دوں تو خالد احمد صاحب کے الفاظ میں کہہ سکتا ہوں :

”اس بات کا تعین کہ کسی فن پارے کے رنگوں کی چمک کب تک نگاہوں کو خِیرہ رکھے گی؟ اِس سوال کا جواب اہلِ فن کی تیز گامی اور اہلِ زمانہ کی سست روی کے درمیان ایک نئے توازن کے قیام پر مبنی ہوتا ہے۔“

اب یہ سوال سامنے ہے کہ اس توازن کا قیام شاعر کی ذمہ داری ٹھہرتا ہے یا قاری کی؟ یا دونوں کی؟ یہاں اصیل نقاد کا کردار ابھرتا ہے۔ تنقید سے تعارف ہوتا ہے۔ نقاد کی ضرورت پڑ سکتی ہے اگر قاری نقاد کی رائے پر اعتماد رکھ سکتا ہے اور اس کے بیان کردہ معانی اور متعین کردہ رُخ اس کے دل کو اچھے لگتے ہیں۔ ذہن ان خیالات سے الجھتا ہوا اگلے پڑاؤ پر جا رکا۔ "آگ کتنی روشن ہے” نظم کی سیر پھر آغاز ہوتی ہے۔

پرندے جو لفظ، آدمی اور رشتوں کی نمائندگی کر رہے ہیں آسمان یعنی بلندی کی طرف، عروج کی طرف، عرفان کی جانب پرواز کرتے ہیں۔ آسمان کی طرف جو بلندی کا استعارہ ہے۔ معراج کی علامت ہے۔ تقدس کا مقام ہے۔ وہاں پہنچ کر انہیں علم ہوتا ہے کہ آسمان نیلا ضرور ہے مگر یہ سمندر نہیں۔ پانی نہیں۔ سراب ہے۔ اگر یہ سمندر ہے تو پیاس کا سمندر ہے جس کی ہر ہر موج ایک صحرا اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔

چنانچہ پرندوں کی پیاس نہیں بجھتی۔ پیاسے پرندے جن کی منقاریں خنجروں کی سی تیز اور چمک دار ہیں، ذہن میں رہے کہ یہ پرندے الفاظ ہیں، آدمی ہیں اور رشتے ہیں جن کے دہن خنجروں کی طرح کاٹ دار ہیں اور ان منقاروں سے وہ نیلے آسمان کو یا آئینہ آئینہ آب یا سمندر کی سطح کو چھو رہے ہیں۔ آبِ خنجر اور آبِ آئینہ بھی سامنے رہے، تو وہ ان آئینوں پر چونچیں مار رہے ہیں۔ وہ پانی یا سمندر تو ہے نہیں۔ شاعر روشن آگ کی جس انگیٹھی کے پاس بیٹھا ہے اس کے کارنس پر ایک پینٹنگ دھری ہے، میری چشمِ تصور یا متخیلہ کے مطابق، جس پر نیلا آسمان بھی واضح ہے۔ وہ اُس پینٹنگ کو الٹا کر دیکھتا ہے۔ ہم بھی تصور کر سکتے ہیں۔ اب آسمان ایک نیلے سمندر میں بدل جائے گا۔

نہیں کیا؟
”وہی فلک جو کھڑے پانیوں میں دیکھ چکے“

لیکن وہ سمندر تو صحرا ہے جس میں پرندے پانی تلاش کر رہے ہیں کہ چلو کوئی کنواں ہی مل جائے۔ کنواں بھی ملتا ہے تو وہ جس میں کچھ رشتے ایک آدمی کو جو لاکھوں انسانوں کی نمائندگی کرتا ہے، پھینک گئے ہیں اور اس کا پانی بھی زہریلا ہے۔ اب صحرا میں پانی بھرے کنووں کا بلندی سے نظارہ کیا جائے تو وہ پانی کی جھلکتی چمک کے باعث وہ آنکھیں ہی تو دکھائی دیں گے۔ یہاں سے شاعر کا تخیل واپس اپنے لونگ روم میں لوٹ آتا ہے اور دیکھتا ہے کہ
”آگ کتنی روشن ہے۔“

Facebook Comments HS