عمان ایک مثالی دیس
عمان قدیم تہذیبی روایتوں کا امین ہے۔ عمان لوبان کے درختوں کی سرزمین ہے۔ یہاں شفاف پانیوں کے جھرنوں کے ہمراہ دف کی آواز گونجتی ہے۔ یہاں سخاوت دوستی اور احترام کی بیلیں منڈیر چڑھتی ہیں۔ یہاں ساحلوں کی گل پوش ہوائیں لہروں سے بغل گیر ہو کر رُباب کی دھنوں پر رقص کرتی ہیں۔ یہ سمندری کچھووں کا مسکن ہے یہ عرب چیتوں کا دیس ہے یہ عمان ہے یہ ایک مثالی دیس ہے۔
عمان جزیرہ نُما عرب کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ سلطنت عمان کا کل رقبہ تین لاکھ نو ہزار پانچ سو مربع کلومیٹر ہے۔ عمان کے شمال مغرب میں دوبئی مغرب میں سعودی عرب اور جنوب مغرب میں یمن واقع ہے۔ عمان کی قومی و سرکاری زبان عربی اور قومی نشان خنجر ہے۔ عمان کو پرندوں کا دیس بھی کہا جاتا ہے۔ یورپ اور براعظم افریقہ سے ہزاروں پرندے ہر سال ہجرت کر کے یہاں آتے ہیں۔ عمان میں کسی پرندے کی جان لینے کی سزا 6 ماہ قید ہے۔ عمان کا ذریعہ آمدنی تیل، مچھلی، زرعی اجناس اور سیاحت ہے۔ دنیا بھر کے لاکھوں سیاح ہر سال سیاحت کے لیے اس پُر امن ملک میں آتے ہیں۔ سلطنت عمان کا دارالحکومت مسقط ہے۔ مسقط عمان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ صحابی رسول ﷺ حضرت مازن ؓ بن غضوبہ کا مزار بھی مسقط سے 98 کلومیٹر دور سمائل میں واقع ہے۔
مسقط میں قائم بین الاقومی معیار کی حامل، سلطان قابوس یونیورسٹی ہے جو 1986 میں قائم ہوئی تھی۔ عمان میں تعلیم کی شرح خواندگی 98 فیصد ہے۔ مسقط میں قائم ہونے والا ائرپورٹ فنِ تعمیر کا ایک معجزہ ہے۔ یہ ائرپورٹ وسیع، کشادہ، اور کئی منزلہ ہے۔ عمان کی کل آبادی تقریباً 50 لاکھ ہے۔ جس میں تقریباً 21 لاکھ تارکین وطن ہیں۔ ان تارکین وطن میں انڈین پاکستانی اور بنگلہ دیشی سر فہرست ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا میں عمان کا 123 واں نمبر ہے۔ عمان پہاڑوں کی سر زمین ہے یہاں چھوٹے بڑے زردی مائل، سیاہی مائل، اور سبز پہاڑ موجود ہیں۔ پہاڑوں کو کاٹ کر کشادہ سٹرکیں اور رہائشی کالونیاں اور تجارتی مراکز بنائے گئے ہیں جو پُر کشش اور دل آویز ہیں۔ عمان میں سب سے اونچا پہاڑ جبل الشمس ہے جس کی بلندی تین ہزار دس میٹر ہے۔ تاریخِ انسان کے قدیم ترین غار بھی عمان میں موجود ہیں جو عالمی ورثہ ہیں۔ یہاں پر کہیں طویل صحرا ہیں اور کہیں خشک پہاڑوں کے سلسلے ہیں۔ اِن صحراؤں اور پہاڑوں کا سینہ چیر کر سڑکیں تعمیر کی گئیں ہیں۔ جو فنِ تعمیر کی نادر مثالیں ہیں۔ یہ سڑکیں کشادہ، پختہ اور صاف ہیں۔ ٹریفک کے بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے سڑکوں کی کشادگی کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ عمان میں سڑک پر ہارن بجا نا غیر اخلاقی حرکت سمجھی جاتی ہے۔ انتہائی ضرورت کے وقت ڈرائیور کا ہاتھ ہارن کی طرف اُٹھتا ہے۔ عمان میں سڑک پر کچرا پھینکنا جرم ہے جس کی سزا دس دن قید اور تین سو عمانی ریال جرمانہ ہے جو تقریباً 2 لاکھ 20 بیس ہزار پاکستانی ر و پے بنتی ہے۔
عمان میں کوئی شخص لائسنس کے بغیر گاڑی ڈرائیو نہیں کر سکتا۔ ڈرائیونگ لائسنس لینے کے لیے عملی امتحان پاس کرنا ضروری ہے۔ عملی امتحان دینے سے پہلے منتخب ڈرائیور سے تربیت حاصل کی جاتی ہے۔ عمان میں ہر دو سال بعد گاڑیوں کی عملی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ خراب، پرانی اور حادثے کی شکار گاڑیوں کو سڑک پر چلنے سے روک دیا جاتا ہے تاکہ ممکنہ حادثوں سے بچا جا سکے۔ مسترد شدہ گاڑیاں بعد ازاں ”لوہے کے بھاؤ“ بکتی ہیں۔ عمان میں قائم ہسپتال بین الاقومی معیار کے ہیں۔ بیمار ہونے کی صورت میں ایک ”دیہاڑی دار“ آدمی کا علاج بھی انشورنس کارڈ کی بدولت بین الاقومی معیار کے مطابق ہوتا ہے۔ ہسپتالوں میں جدید مشینری نصب ہے۔ جس کی بدولت مرض کی درست تشخص ممکن ہوتی ہے۔ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف پیشہ ورانہ مہارت کے حامل ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق انڈیا، پاکستان، اور مصر سے ہے۔ پیرامیڈیکل سٹاف کی اکثریت کیرالہ سے تعلق رکھتی ہے۔ سانولی رنگت کے حامل کیرالہ کے لوگ محنتی اور خوش اخلاق ہیں۔ ہسپتالوں کی اندرونی فضا صاف شفاف اور اجلی ہوتی ہے۔ یہاں برآمدوں میں نہ مریضوں کی لمبی قطاریں ہیں اور نہ ڈاکٹرز حضرات کا رویہ غیر ذمہ دارانہ۔ عمان میں ڈاکٹری نسخے کے بغیر فارمیسی سے دوائی نہیں ملتی۔
عمان کا دوسرا بڑا شہر صلالہ ہے۔ یہ شہر سرسبز وادیوں، آبشاروں، جھرنوں اور پہاڑوں سے اٹا ہوا ہے۔ صلالہ کو پیغمبروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں حضرت عمران ( حضرت مریمؑ کے والد )، حضرت ہودؑ، حضرت ایوبؑ اور حضرت اویس قرنی ؓ کے مزار اقدس موجود ہیں۔ صلالہ میں حضرت سلیمانؑ پر ایمان لانے والی ملکہ بلقیس کا محل بھی ہے۔ عمان کی کرنسی دنیا کی تیسری بڑی کرنسی ہے۔ ایک عمانی ریال 731 پاکستان روپے کے برابر ہے۔ عمان میں جرائم کی شرح صفر ہے۔ یہاں مقامی اور تارکین وطن یکساں قانون کا احترام کرتے ہیں اس لیے راوی یہاں چین ہی چین لکھتا ہے۔


