تاریخ کے نئے اور پرانے زخم
نریندر مودی کے متعصبانہ رویے نے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا دی ہیں ایک مرتبہ پھر بھارت کو ماضی کے تلخ دور کی طرف دھکیل دیا ہے جو انسانی زندگی کے لیے کربناک ثابت ہوا تھا ثابت قدم لوگ ڈر اور خوف کا شکار ہو گئے تھے انسانی زندگی پر شب خون مارا گیا تھا کئی ریاستوں کے لوگوں کے زبردستی حقوق چھینے گئے تھے ان ریاستوں میں حیدر آباد دکن، جونا گڑھ اور جموں و کشمیر شامل ہیں۔
بھارتی انتہا پسند جماعت بی جے پی دس سال سے اقتدار میں ہے مگر جنوبی ہند کی ریاستوں میں آج تک اپنی گرفت مضبوط نہیں کر سکی تلنگانہ ہو آندھرا پردیش ہو یا کرناٹک آج بھی وہاں لیبرل جماعتوں کے اتحاد سے حکومتیں قائم ہیں مگر مودی کا مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ رویہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے مساجد کی جگہ مندروں کا قیام جس کی واضح مثال بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر ہے اب بات صرف مذہبی جذبات تک محدود نہیں رہی بلکہ ماضی کی یادداشتوں میں پڑے ہوئے مظالم نئے زخموں کی طرح اذیت دینا شروع ہو گئے ہیں قارئین آج آپ کی توجہ ان مظلوم ریاستوں کی طرف کراتے ہیں جہاں بھارت نے طاقت کا استعمال کر کے انسانی جذبات مجروح کیے تھے۔
17 ستمبر 1948 ء کو بھارت نے ریاست حیدرآباد دکن پر فوج اور پولیس کے ذریعے طاقت کا استعمال کر کے قبضہ کیا تھا ورنہ حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ قبضہ ہندوستانی فوج نے کیا جسے آپریشن پولو کہا جاتا ہے جو جنرل چودھری کی قیادت میں کیا گیا۔ اس آپریشن کی یاد میں بھارتی انتہا پسند جماعت بی جے پی نے اس دن کو حیدرآباد لبریشن ڈے کے طور پر منانا شروع کیا (بی جے پی جان بوجھ کر 17 ستمبر کو حیدرآباد کی آزادی کا دن مناتی ہے ) جبکہ لیبرل جماعت کانگریس کی زیر قیادت حکومت تلنگانہ نے اسے جمہوریت ڈے کے طور پر منایا۔ بی جے پی قیادت اور وفاقی وزیر کشن ریڈی کا اس بارے میں کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے حیدرآباد لبریشن ڈے نہ منانا اُن لوگوں کی توہین ہے جنھوں نے حیدرآباد دکن کو فتح کرنے کے دوران میں اپنی زندگیوں کی قربانیاں دیں ہیں۔
بہرحال دوسرے ایسے بھی لوگ ہیں جو اسے نہرو اور پٹیل کا اسلام فوبیا قرار دیتے ہیں جو ہندوستان نے ایک مسلم ریاست کو طاقت کے ذریعے ضم کیا۔ ان میں اکثر دلائل یک طرفہ یا متعصبانہ ہیں۔ کیا ایک ریاست جس کی حکمرانی ایک مسلم حکمران کرتا ہو ایک مسلم اسٹیٹ (حیدرآباد) کہلا سکتی ہے؟ جس کی آبادی کی اکثریت ہندو تھی؟ کیا ایک مسلم اکثریتی ریاست جس کا راجہ ہندو ہو (کشمیر) اسے ایک ہندو ریاست کہا جاسکتا ہے؟ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ بعض دانشور اسے مذہب کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ حقیقت میں ایک طرف اہم عنصر یا پہلو جغرافیائی ہے اور دوسری طرف یہ زمیندارانہ و جاگیردارانہ نظام سے جمہوریت کی طرف منتقلی بھی ہے۔
کشمیر میں اس میں سے کتنا کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے یہ مشکوک ہے کیونکہ اس خطے کے عوامل یہ تھے کہ لوگ پاکستان سے متاثر تھے۔ پاکستان اسے حقیقت میں ایک مسلم ریاست بنانا چاہتا تھا اور مسلم اکثریتی کشمیر کو جناح کے دو قومی نظریہ کے مطابق پاکستان میں ضم ہوتے دیکھنے کا خواہاں تھا اور جبکہ کشمیری عوام اور قیادت کی بھی یہی خواہش تھی۔
سوال یہ ہے کہ پھر نہرو نے کشمیر کو ہندوستان میں ضم یا الحاق سے دلچسپی کیوں لی؟ کیا یہ محض جغرافیائی توسیع پسندی تھی؟ کیا جاگیردارانہ بادشاہت کے خلاف جمہوری تحریک کی تائید و حمایت تھی؟ اور کیسے جاگیردارانہ نظام و بادشاہت کا رُخ جمہوریت کی جانب موڑا جائے؟
آپ کی اطلاع کے لئے یہاں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ شیخ عبداللہ نے دباؤ میں آ کر اپنے تمام جمہوری عزائم کے ساتھ مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس میں تبدیل کیا اور سیکولر اقدار کے حق میں اور اس کے تحفظ میں پوری قوت کے ساتھ کھڑے رہے۔ انھوں نے گاندھی اور نہرو کی طرف سیکولر اور جمہوری اقدار کے لئے دیکھا لیکن مسئلہ اس وقت سنگین رُخ اختیار کر گیا اور صورتحال اُس وقت خراب ہوئی جب بھارت نے کشمیریوں کی آواز کو کشمیری قبائل کا حملہ قرار دیا حالانکہ وہ مداخلت مقامی افراد کی طرف سے کی گئی تھی۔
اس کے بعد خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ کا مسئلہ آتا ہے بادشاہوں اور کئی دوسروں نے بادشاہوں کے مذہب کے ذریعے سلطنتوں پر لیبل چسپاں کیے جبکہ ہندوستانی قوم پرستوں کا خیال تھا کہ خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ و حاکمیت عوام کی ہے بادشاہوں کی نہیں۔ اس پس منظر میں حیدرآباد کو طاقت کے ذریعے ہندوستان میں انضمام کے پیچیدہ مسئلہ کو دیکھنا ہو گا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہو گا کہ جیسے ہی ہندوستان نے انگریزوں کی غلامی سے آزادی حاصل کی 600 سے زائد دیسی یا نوابی ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ یا تو پاکستان یا پھر ہندوستان کے ساتھ الحاق کریں۔ ایسی سلطنتیں اور دیسی ریاستیں جنھیں انگریز سامراج کے دور میں کچھ خود مختاری حاصل تھی۔ ایک عجیب قسم کی صورتحال با الفاظ دیگر ایک مخمصے کا سامنا کر رہی تھیں لیکن ان ریاستوں میں سے اکثر پاکستان میں اور نہ ہی ہندوستان میں ضم ہونے کی خواہاں تھیں بلکہ وہ آزاد رہنا چاہتی تھیں۔ انھیں لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے مشورہ دیا تھا کہ اپنی مرضی کے ساتھ کسی بھی ملک کے ساتھ الحاق کر لیں۔ چونکہ سردار پٹیل بہت زیادہ مداخلت کر رہے تھے۔ چنانچہ انھوں نے دیسی ریاستوں کو صرف دفاع، مواصلات اور خارجی اُمور چھوڑ کر دوسرے معاملات میں نوابوں اور راجوں کو خود مختاری دینے کا وعدہ کیا۔ اس کے عوض انھیں اپنی بڑی جائیدادیں اور بڑے پیمانے پر اپنی دولت رکھنے کا حق دیا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ زیادہ تر شاہی ریاستیں ہندوستان میں ضم ہو گئیں۔ ٹراونکور نے جس پر ایک ہندو راجہ کی حکمرانی تھی، کافی ہچکچاہٹ کے بعد ہندوستان کا حصہ بننے سے اتفاق کیا۔
شروع میں کشمیر کے راجہ ہری سنگھ نے ہندوستان میں ضم ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ ساتھ ہی حیدرآباد کے نظام نے ہندوستان کے ساتھ الحاق سے اتفاق نہیں کیا۔ جیسا کہ سطور بالا میں اشارہ دیا گیا کہ ہندوستانی قائدین یہ سمجھتے تھے کہ حاکمیت عوام کی ہے بادشاہوں کی نہیں۔ اس کے علاوہ ان میں سے اکثر بادشاہ راجے تاج برطانیہ کے وفادار تھے اور پرتعیش زندگیاں گزار رہے تھے۔
آپ کو بتا دیں کہ جونا گڑھ کو فوجی کارروائی کے ذریعہ ہندوستان میں ضم کیا گیا اور اس کے بعد نام نہاد منعقد کیے گئے استصواب عامہ میں ہندوستان کے ساتھ اس کے الحاق کی توثیق کی گئی۔ (اس میں بھی زیادہ تر دروغ گوئی سے کام لیا گیا) ایک اور اہم بات یہ ہے کہ نظام مخالف جدوجہد کو کچھ مقامی لوگوں اور پورے ملک کے مسلمانوں کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل تھی۔ وہی ذریعہ ہمیں بتاتا ہے کہ پٹیل نے بڑی مسرت کے ساتھ حیدرآباد کے سوال پر سہروردی کو غلط بیانی کی کہ حیدرآباد کے سوال پر انڈین یونین کے مسلمان ہماری طرف کھل کر سامنے آئے ہیں اور اس نے یقیناً ملک میں اچھا تاثر پیدا کیا۔ اسی پس منظر میں فوجی کارروائی شروع کی گئی جس میں سندر لال رپورٹ کے مطابق تقریباً 40 ہزار جن میں مسلمانوں کی اکثریت تھی اپنی زندگیوں سے محروم ہو گئے۔
آج بھی یہی صورت حال ہے کہ بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر، ریاست منی پور اور آسام سمیت طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے دنیا بھر کی کئی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔


