بلوچستان کا مسئلہ اور بڑھکیں
یہ پنجابی فلموں کے عروج کا زمانہ تھا۔ سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی جب ہیرو اور ولن کے رُوپ میں آمنے سامنے ہوتے تو مار کٹائی سے بھی زیادہ بڑھکیں مارتے اور فلم بین ہر بڑھک پر اُچھل اُچھل کر پاگل ہو جاتے وہ یوں سمجھتے کہ جیسے ہیرو اور ولن اپنی بڑھکوں سے امریکہ بھی فتح کر لیں گے۔ یہ تو ماضی تھا، حال میں بڑھک بازی کی بہترین مثال واہگہ بارڈر ہے جوں جوں پرچم اُتارنے کا وقت قریب آتا ہے، طرفین کی فوجیں ایک دوسرے کو خون خوار نظروں سے گھورنے لگتی ہیں، زمین پر پاؤں مارنے کے مقابلے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی خواہش اور کوشش اتنی شدید ہوتی ہے کہ زمین سے پٹرول نکلنے کی امید جاگ جاتی ہے، ٹانگیں بھی ایک دوسرے سے بلند کرنے کا مقابلہ جوش و خروش سے جاری ہوتا ہے مگر جیسے ہی پرچم نیچے آتے ہیں، تمام جذبات جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں۔ انڈیا والے پاکستان اور پاکستان والے انڈیا فتح کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں، یہ نمائشی میچ مُسکراہٹوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے تو طرفین کے عوام اپنی اپنی فوجوں کو داد دیتے اور اُن کی تعریفیں کرتے رُخصت ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں بیٹھے بٹھائے یہ بڑھک میں کیوں دلچسپی پیدا ہو گئی ہے اور ہم کیوں سلطان راہی اور سرحدوں کے محافظین کی مثالیں دے رہے ہیں تو حضور سُن لیں اس کی وجہ ہمارے وزیر داخلہ جناب مُحسن نقوی صاحب ہیں جنہوں نے بلوچستان کے متعلق یہ بڑھک ماری کہ بلوچستان کے حالات تو ایک ایس ایچ او بھی ٹھیک کر سکتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب وہ یہ بڑھک مار رہے تھے تو اُن کے پہلو میں وزیر اعلیٰ بلوچستان بھی کھڑے تھے۔ چونکہ دونوں کی تاریں ایک ہی ڈائریکٹر ہلاتا ہے اس لیے دونوں کا ایک پیج پر ہونا بنتا بھی ہے لیکن بدقسمتی سے اُس وقت وزیر اعلیٰ کی باڈی لینگویج چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ وہ وفاقی وزیر داخلہ کے اس داخلی بیان سے بالکل بھی متفق نہیں ہیں اور بلوچستان کے حالات سے واقف کوئی شخص اس بیان سے متفق ہو بھی کیسے سکتا ہے۔ حیرت تو اُن صاحب پر ہے جو و زیراعلیٰ بلوچستان ہیں اور جو وزیرداخلہ کے پہلو میں خاموش کھڑے تھے حالانکہ وہ بلوچستان کے حالات سے اچھی طرح واقف تھے۔
شاید مُحسن نقوی صاحب کو علم نہ ہو کہ بلوچستان کا مسئلہ قیام پاکستان سے ہی وجود میں آ گیا تھا۔ بلوچستان کا صرف کُچھ حصہ برٹش انڈیا کی عمل داری میں تھا باقی بلوچستان چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم تھا اور وہاں سرداری یا نوابی نظامِ حکومت تھا۔ تقسیم کے بعد پاکستانی حکومت اور اداروں نے کوشش کی کہ بلوچستان کی آزاد ریاستوں کو پاکستان میں ضم کیا جائے۔ ایسا ہی لائحہ عمل صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا ) کی آزاد ریاستوں کے بارے میں بھی بنایا گیا لیکن خیبر پختونخوا کے مقابلے میں بلوچستان میں پالیسی سازوں کو زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ اکثر بلوچ سردار پاکستان کے ساتھ انضمام کے حق میں نہیں تھے۔ ایسے موقع پر اکبر بُگٹی نے اہم کردار ادا کیا اور اُنہوں نے باقی سرداروں کو بھی انضمام پر آمادہ کیا۔ حکومت پاکستان اور مجاز اداروں نے تمام سرداروں سے معاہدے کیے اور اُن معاہدوں میں جھوٹے سچے کئی وعدے، بدقسمتی سی پہلے ہی سال اُن معاہدوں پر عمل درآمد نہ ہوا اور سرداروں سے اختلافات شروع ہو گئے۔ یہ اختلافات بڑھتے بڑھتے مسلح مزاحمت تک جا پہنچے جو کئی سالوں سے جاری ہے۔ اسی مسلح مزاحمت کی تحریک کے دوران پاکستان کا سب سے بڑا حامی اکبر بُگٹی ایک فوجی آپریشن میں مار دیا گیا جس کے بعد اس مزاحمت میں شدت آ گئی اور اب صورت حال یہ ہے کہ پڑھا لکھا بلوچ بھی اس شدت پسندی کا حامی نظر آتا ہے۔
بھارت، افغانستان اور ایران بھی اس شدت پسندی کو ہوا دیتے ہیں اور اپنی اپنی پسند کے گروپوں کو مالی سپورٹ کرتے ہیں جس سے یہ مزاحمت کاری اب دہشت گردی بن چُکی ہے اور دہشت گردوں سے سرکاری اہلکاروں اور فوجی افسران و جوانوں کے علاوہ عام شہری بھی محفوظ نہیں۔ یہ عام شہری باقی صوبوں کے رہائشی بھی ہیں اور خود بلوچستان میں رہنے والے وہ بلوچ اور پٹھان بھی جو پاکستان کے حامی ہیں اور پاکستان کے ساتھ رہ کر اپنے حقوق کی جدوجہد کرنا چاہتے ہیں۔
مُحسن نقوی صاحب! آپ کا ایس ایچ او تو کچے کے ڈاکوؤں سے نہیں نمٹ سکتا وہ بلوچستان کے دہشت گردوں سے کیسے نبرد آزما ہو گا۔ آپ شاید جانتے نہیں کہ بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں نے مسلسل لوگوں کی ذہن سازی کی ہے اور اس پر کثیر سرمایہ اور وقت لگایا ہے۔ انہوں نے بلوچوں کے سامنے بلوچستان کی محرومیوں کا تذکرہ کیا، یہ بیان کیا کہ بلوچستان کی سرزمین سونا اگلتی ہے لیکن وہ سونا پنجاب لے جاتا ہے، وٹس ایپ پر لاہور کی تصویریں شیئر کر کے بتایا جاتا ہے کہ لاہور میں لگنے والا یہ سرمایہ بلوچستان کی معدنیات اور قدرتی گیس سے کمایا گیا ہے۔ یہ پروپیگنڈے کی صرف ایک قسم ہے، اس طرح کے کئی پروپیگنڈے کیے جاتے ہیں اور بلوچوں کو ورغلایا جاتا ہے۔
پھر بلوچستان کی جغرافیائی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں اور اگر آپ سوچتے ہیں کہ دونوں ممالک میں آپ کی دوست حکومتیں ہیں تو آپ غلط فہمی کا شکار ہیں کیوں کہ دونوں حکومتوں کو آپ کے مفادات سے زیادہ اپنے مفادات عزیز ہیں اور وہ اپنے مفادات کے لیے آپ کو دہشت گردی میں الجھائے رکھیں گی۔ اب آپ ہی بتا دیں کہ ان حالات میں ایک ایس ایچ او صاحب کیا کر سکتے ہیں؟
جناب وزیر داخلہ صاحب بلوچستان کے پیچیدہ مسئلے کو سلجھانے کے لیے آپ کو ایک ساتھ کئی محاذوں پر لڑنا ہو گا۔ فوری کرنے والا کام یہ ہے کہ بلوچستان کے شہروں اور شاہراہوں کو محفوظ بنائیں، اس کام کے لیے اگر کوئی الگ فورس بنانا پڑتی ہے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ شاہراہوں پر اگر مناسب فاصلے پر ایسے چوکیاں بنائی جائیں کہ جن کا مسلح اور تربیت یافتہ عملہ اپنی حدود میں آنے والی شاہراہ پر ایسے گشت کرے کہ شاہراہ کے ہر حصے میں کم از کم وہ ہر پندرہ منٹ بعد ضرور پہنچے تو سفر کے مسائل حل ہوجائیں گے۔ جب سفر کے مسائل حل ہوں گے تو بلوچستان کے عوام بھی بلوچستان سے باہر محفوظ سفر کر سکیں گے اور باقی صوبوں کے لوگ بھی آزادانہ بلوچستان آ سکیں گے۔ یہ باہمی تجارت اور دوسرے صوبے کے لوگوں سے میل جول بلوچستان کے عوام کی ذہن سازی میں معاون ثابت ہو گا اور دہشت گردوں کا پروپیگنڈا بے اثر ہو گا۔
اگر آپ مزید آپریشن کریں گے اور اُس آپریشن میں پھر بے گناہ مارے گئے تو نفرت مزید بڑھے گی۔ اس لیے سمجھداری کا مظاہرہ کریں اور بڑھکوں سے گریز کر کے مسائل کو سمجھیں اور اُن کے حل کی طرف توجہ دیں۔


