”لٹیرا“ پنجاب
گئے دنوں کی بات ہے، پشتون سٹوڈنٹ فیڈریشن کے دوستوں کے ساتھ ہماری اچھی خاصی بیٹھک ہوا کرتی، شام ڈھلے چائے اور قہوے کی چسکیوں کے ساتھ فلاسفیاں جھاڑا کرتے، پشتونوں کے مسائل پر گفتگو ہوتی، پنجاب کا تسلط موضوع بحث آتا۔
پنجاب سب کچھ کھا رہا ہے، باقی کسی کو کچھ نہیں مل رہا، اسٹیبلشمنٹ کے پرو پنجابی کردار پر بحث ہوتی۔ جو مجھے تو خاص ہضم تب بھی نہ ہوئی مگر میں گفتگو میں بحث کرنے سے عموماً جان ہی چھڑاتا ہوں، شاید سستی کی وجہ سے۔
بہر حال بات پنجاب کی ہو رہی تھی، کیا واقعی پنجاب لٹیرا ہے، وہ واقعی باقی صوبوں کے وسائل ہڑپ کر رہا ہے، کیا ہماری اسٹیبلشمنٹ پنجابی ہے، یہ بات اتنی سادہ نہیں جتنی ہمارے پشتون یا بلوچ قوم پرست پیش کرتے ہیں۔
ملک پر چار مارشل لاء مسلط کرنے والے چار جرنیلوں میں سے ایک بھی پنجابی نہیں تھا، ایوب خان صوبہ سرحد کے ضلع ہری پور کے گاؤں ریحانہ کے ترین قبیلے سے تعلق رکھتا تھا، جنرل یحییٰ خان بھی پنجابی نہیں تھا، وہ پشاور کے رہائشی ایرانی خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ دس سال ملک پر آمریت کے پنجے گاڑنے والا ضیاء الحق بھی مہاجر آرائیں تھا، جو جالندھر سے ہجرت کر کے آیا تھا، آٹھ سال ملک کے سیاہ و سفید کا مالک رہنے والا مشرف بھی پنجابی نہ تھا، وہ بھی کراچی کی مہاجر فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ بہت ہی ڈسپلنڈ ادارہ ہوتی ہے، وہ قومیت کی تفریق کم ہی کرتی ہے تبھی اپنے مفادات میں کامیاب ہوجاتی ہے۔
اس سے آگے چلیے ملک میں عمران سے پہلے تین بڑے کرشماتی قائد آئے، قائد اعظم، بھٹو، ایوب خان باوجود آمریت کے اس کی لیڈر شپ میں کرشمہ تھا آج بھی ٹرکوں کے پیچھے ایوب خان کی تصویر لگی ہوتی ہے جس پر لکھا ہوتا ہے تیری یاد آئی تیری جانے کے بعد ، ان تینوں بڑے قائد ان میں سے ایک بھی پنجابی نہ تھا، قائد نیم مہاجر تھے، ایوب خان سرحد سے تھا، اور بھٹو سندھی۔
پاکستان بننے کے ساتھ جس طبقے کے ہاتھ اقتدار آیا وہ مہاجر تھے یا بنگالی، یا غیر پنجابی، لیاقت علی خان، بوگرہ، سکندر مرزا۔ شازو نادر ہی کوئی پنجابی ملے گا۔ ایک اور مزے کی بات اکتالیس سال جس طبقے نے پاکستان پر حکومت کی، وہ مڈل کلاس غیر پنجابی تھے اور غیر جمہوری طور پر حاکم رہے۔
پھر پنجاب پر یہ الزام کیوں، میں پنجابی نہیں ہوں کہ ایک قوم پرست کی سطح پر دفاع کروں۔ میں یہ بھی نہیں کہہ رہا کہ پنجاب کی برتری نہیں ہے۔ فوجی لحاظ سے پنجابی فوج کی اصطلاح کسی حد تک درست ہے مگر اس کے لیے ہمیں تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی نے جب برصغیر میں قدم جمانے شروع کیے تو اس وقت دو ہی طاقتور فوجیں برصغیر میں تھیں ایک تھی کمپنی کی فوج اور دوسری مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج، بعد ازاں کمپنی نے خالصہ فوج کو بعد میں ختم کر دیا پنجاب پر قبضے کے بعد ، مگر جب ستاون کا غدر ہوا اس وقت اکثر فوجی کمپنی سے باغی ہو گئے تھے مگر پنجاب کے مسلم فوجی اور گورکھا فوجیوں نے ستاون کی جنگ آزادی میں کمپنی کا ساتھ دیا اور بغاوت نہ کی، بدلے میں کمپنی نے بھی پنجابی فوجیوں کی طرف رویہ نرم کیا۔
مارشل ریس کی پالیسی اپنائی گئی، اس سے پہلے کمپنی صرف اونچی ذات کے ہندوؤں کو فوج میں لیتی تھی مگر مارشل ریس میں کمپنی نے پنجابی اور گورکھا فوجیوں کو فہرست میں رکھا، سندھی اور بنگالی مارشل ریس کے برطانوی نظریے کے تحت فوجی بننے کے لیے کم اہل تھے۔ پنجابیوں میں بھی راجپوت، اعوان، گجر اور پوٹھوہاری جاٹوں کو زیادہ فوقیت ملتی، پاکستان بننے کے بعد بھی زیادہ پنجابی چیف راجپوت ہی تھے، آصف نواز، ٹکا خان، راحیل شریف یہ راجپوت تھے۔ اس لیے فوج میں پنجابیت تو برطانوی سامراج کی دین ہے۔ مگر پاکستان بننے کے بعد پنجابیت کی جگہ غیر پنجابیت زیادہ نظر آتی ہے اقتدار کی دوڑ میں اس وقت تک جب تک سقوط ڈھاکہ نہیں ہوجاتا۔
فرانسیسی فلاسفر فوکالٹ نے bio politics کا فلسفہ پیش کیا ہے، اس کے مطابق ریاستی طاقت کو عوام پر استعمال کرنے کے لیے ان کی حیاتیاتی زندگی کے ساتھ نمٹنا ضروری ہے، اس کی بڑی مثال مردم شماری اور آبادی کا تناسب ہے، حیاتیاتی سطح پر انسانوں کی آبادی کیسے سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اکہتر کے بعد پاکستان میں پنجاب سب سے بڑا نسلی گروپ بن گیا۔ اسی کے ساتھ ہی پہلے پنجابی جنرل کی انٹری ہوتی ہے جنرل ٹکا خان۔ اس موضوع پر نموار رحمان کا بہت ہی کمال کا آرٹیکل ہے Punjab dominance and bio politics of census۔ وہ ضرور پڑھیں انٹر نیٹ پر دستیاب ہے۔
اب اگر پنجاب کسی کو لٹیرا نظر آتا ہے تو یہ ایک سطحی سوچ ہے قوم پرستوں کی۔ اگر پنجاب کو وسائل مل رہے ہیں تو وہ اس کی آبادی کی وجہ سے مل رہے ہیں اس کے لیے ہمیں این ایف سی ایوارڈ کو سمجھنا ہو گیا، جس میں آئین کے تحت آبادی کے تناسب سے وسائل کی تقسیم ہو گئی، این ایف سی ایوارڈ نے بہرحال پنجابی تسلط کو مضبوط ضرور کیا، رہی سہی کثر اٹھارہویں ترمیم نے پوری کر دی۔ اٹھارویں ترمیم جو دو ہزار دس میں منظور ہوئی، دو ہزار دس کے بعد جتنے بھی وزرائے اعظم اور آرمی چیف آئے وہ سب پنجابی تھے اس وجہ سے پنجابی تسلط کا تاثر ملتا تو ہے۔
مگر اسٹیبلشمنٹ ایک بہت مضبوط اور ڈسپلنڈ ادارہ ہے وہ پنجابیت جیسی لسانیت و قومیت سے زیادہ ”پاکستانیت“ پر زور دیتا ہے۔


