پاکستان کا عدالتی نظام: آئینی عدالت ہی حل ہے


یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ پاکستان، جس کی آبادی 24 کروڑ سے زائد ہے، عالمی انصاف کے منصوبے کے قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے اشاریے میں 140 ممالک میں سے محض 130 ویں نمبر پر ہے۔ یہ کم درجہ بندی اس کے عدالتی نظام میں پائے جانے والے گہرے مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔ سب سے سنگین مسئلہ مقدمات کے انبار کا ہے۔ خاص طور پر سپریم کورٹ کو 60,000 مقدمات کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے، جن میں سے بہت سے آئینی نوعیت کے ہیں۔ اس بڑے بوجھ کے سبب عدالت کے پاس انفرادی حقوق اور شکایات کو موثر طریقے سے حل کرنے کے لیے وقت نہیں بچتا۔ اس کا نتیجہ شہریوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور عدالتی نظام پر اعتماد کی کمی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

اس بحران سے نمٹنے کے لیے آئینی عدالت کا قیام ایک منطقی اور ضروری قدم ہے۔ ایسی عدالت آئینی تشریحات، بین الحکومتی تنازعات اور آئینی سالمیت کے تحفظ کے لیے ایک مخصوص پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ یہ سپریم کورٹ کے بوجھ کو کم کرے گی، جس سے اسے عام عدالتی کاموں پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملے گا۔ آئینی عدالت کے فوائد بے شمار ہیں۔ یہ نہ صرف سپریم کورٹ کے مقدمات کا بوجھ کم کرے گی بلکہ آئینی معاملات کو خصوصی مہارت رکھنے والے ججوں کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں زیادہ باخبر اور مستقل فیصلے ہوں گے۔ مزید برآں، انفرادی حقوق اور شکایات کو موثر طریقے سے حل کرنے کے ذریعے آئینی عدالت عوامی اعتماد کو بحال کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

کیا پاکستان کا عدالتی نظام اپنے بحران سے باہر نکل سکتا ہے؟

پاکستان کا عدالتی نظام ایک دیرینہ مسئلے کا شکار ہے : مقدمات کا بے پناہ انبار۔ اس مسئلے کے باعث انصاف میں تاخیر ہو رہی ہے، جس سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے آئین کی 26 ویں ترمیم آئینی عدالت کے قیام کی تجویز پیش کرتی ہے۔ یہ مخصوص عدالت آئینی قانون سے متعلق معاملات کو سنبھالے گی اور اس طرح سپریم کورٹ کا بوجھ کم کرے گی۔ آئینی عدالت کا قیام بہت سے جمہوری ممالک میں ایک عام خصوصیت ہے، اور پاکستان میں بھی اس کے قیام کی وکالت کئی سیاسی شخصیات اور تنظیموں نے کی ہے۔

2006 میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہونے والے چارٹر آف ڈیموکریسی نے بھی ایسی عدالت کے قیام کی بات کی تھی۔ یہ عدالت نہ صرف سپریم کورٹ کا بوجھ کم کرے گی بلکہ آئینی معاملات کو خصوصی مہارت رکھنے والے ججوں کے ذریعے حل کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں زیادہ باخبر اور مستقل فیصلے ہوں گے۔

آئینی عدالت کے قیام کے حوالے سے ایک اہم تشویش یہ ہے کہ اس کا عدلیہ کی آزادی پر کیا اثر پڑے گا۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ اس عدالت کا دائرہ کار صرف آئینی معاملات تک محدود ہو گا، جس سے عدلیہ کی آزادی محفوظ رہے گی۔ مزید برآں، آئینی عدالت کے ججوں کی تقرری ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی عمل کے ذریعے ہو سکتی ہے، جو عدلیہ کی آزادی کو مزید محفوظ بنائے گا۔ پاکستان کے عدالتی نظام میں ایک اور متنازعہ مسئلہ فوجی عدالتوں کا قیام ہے۔

اگرچہ ان عدالتوں کو آئین کے آرٹیکل 8 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے، تاہم دہشت گردی کے مقدمات میں سول عدالتوں کی ناکامی کے باعث ان کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل نے ایسے جرائم سے نمٹنے کے لیے ایک موثر نظام کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ فوجی عدالتیں انصاف کی فوری فراہمی کے لیے جانی جاتی ہیں، جو دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورکس کے لیے ایک موثر رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ دیگر ممالک نے بھی بحران کے دوران فوجی عدالتوں کا سہارا لیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایک ٹوٹے ہوئے عدالتی نظام کو بہتر بنا سکتی ہیں۔ تاہم، فوجی عدالتوں کا استعمال ایک عارضی اقدام ہونا چاہیے اور سول عدالتوں کو مضبوط کرنے کی کوششیں کی جانی چاہئیں تاکہ وہ دہشت گردی کے مقدمات کو موثر طریقے سے نمٹا سکیں۔ آخر میں، آئین کا آرٹیکل 63۔ اے، جو اسمبلی کے ان ارکان کو نا اہل کرتا ہے جو اپنی پارٹی کے فیصلوں کے خلاف ووٹ دیتے ہیں، کافی بحث کا موضوع رہا ہے۔ یہ شق جمہوری نظام میں ایک حد تک آمرانہ کنٹرول عائد کرتی ہے، جو انفرادی آزادی اور جمہوری حکمرانی کے اصولوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس آرٹیکل کی منسوخی پاکستان کی جمہوریت کو اس کے اصل نظریات کے قریب لے جانے کے لیے ایک اہم قدم ہو گا۔

آخر میں، آئینی عدالت کا قیام، محدود حالات میں فوجی عدالتوں کا استعمال اور آرٹیکل 63۔ کی منسوخی پاکستان کے عدالتی نظام کی اصلاح کی جانب اہم اقدامات ہیں۔ یہ اصلاحات مقدمات کے انبار کو کم کرنے، عدلیہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور ملک کے جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ تاہم، یہ ضروری ہے کہ ان اصلاحات کو انصاف، برابری اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق لاگو کیا جائے۔ لہٰذا اب عمل کا وقت ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ کو آئینی عدالت کے قیام کے لیے فیصلہ کن اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ اس سے ملک عالمی قانون کی حکمرانی کے اشاریے میں اپنی پوزیشن کو بہتر بنا سکے گا اور اپنے شہریوں کو ایک ایسا عدالتی نظام فراہم کرے گا جو موثر، قابل اعتماد اور ان کے اعتماد کے لائق ہو۔

Facebook Comments HS