امر کوٹ واقعہ: کیا واقعی مذہب کو پیروکاروں سے نہیں پرکھا جاتا؟


چند روز قبل سندھ کے ضلع عمر کوٹ میں توہین کے الزام میں ایک نوجوان ڈاکٹر شاہنواز کمبھر (کمہار) کو توہین کے الزام میں گرفتاری کے بعد پولیس نے مبینہ مقابلے میں قتل کر دیا۔

واقعے کے فوری بعد عاشقان رسول (صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم) نے پولیس افسران و اہلکاروں کے استقبال کے لئے راستوں میں پھولوں کے ڈھیر لگا دیے۔ افسران اہلکاروں پر پھول برسائے گئے ان کی پیشانیاں چومی گئیں اور سوشل میڈیا پر جشن منایا گیا کہ ”ایک اور ملعون واصل فی النار ہوا“ ۔

یہ پولیس مقابلہ رات کے اندھیرے میں ہوا تھا اس لیے صبح تک خامشی رہی البتہ سورج طلوع ہوتے ہی یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اگلے روز پولیس نے لاش ورثا کے حوالے کردی جو ڈاکٹر شاہنواز کی لاش دفنانے کے لئے اپنے آبائی علاقے پہنچے لیکن وہاں عاشقان کا جم غفیر پہلے ہی جمع ہو چکا تھا۔ انہوں نے گستاخ کی لاش کو دفنانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ورثا لاش کو لے کر صحرا میں اپنی آبائی زمینوں کی طرف چل دیے کہ وہیں دفنا دیں گے لیکن عاشقان کو یہ بھی منظور نہ تھا اور ورثا سے پہلے ان صحرائی زمینوں پر پہنچ گئے اور گستاخ ڈاکٹر شاہنواز کی لاش ورثا سے چھین کر اسے آگ لگا دی۔

جس طرح توہین کا الزام، اس کے بعد پولیس مقابلہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا اسی طرح ڈاکٹر شاہنواز کی جلتی ہوئی لاش کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ بعد ازاں ایک طرف سندھ میں گستاخ کے فی النار ہونے پر جشن منائے جا رہے تھے تو دوسری طرف کا سندھ سکتے میں تھا کہ مذہبی رواداری اور اعلیٰ انسانی اقدار کی علامت سمجھے جانے والے صحرائی خطہ تھر میں یہ کیا ہو گیا؟

اس واقعے کے بعد خوف کا یہ عالم تھا کے سندھ کے اچھے بھلے لوگوں نے اپنے سوشل میڈیا وال پر قسم نامے شیئر کر کے عاشقان کو یقین دلانے کے جتن شروع کر دیے کہ؛ ہم پکے سچے مسلمان ہیں لہٰذا کل کلاں کسی سوشل میڈیا پوسٹ کی وجہ سے ہمیں مارکر اسی طرح جلا نہ دیجیو۔

خیر واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور مقامی بیٹھکوں میں ایک ڈیبیٹ شروع ہو گئی آراء بٹی ہوئی تھیں۔ میرے ایک نجفی عالم دین دوست کا خیال تھا کہ خود کو روشن خیال، سیکولر یا لبرل کہنے والوں کو بات کرتے ہوئے احتیاط کرنی چاہیے کیوں کہ مذہب اسلام بہت ہی حساس معاملہ ہے لوگوں کے جذبات اس سے وابستہ ہیں اگر کچھ اونچ نیچ ہو گئی تو لوگ تو برداشت نہیں کریں اور ایسا عمل لوگوں کی نظر میں ناقابل معافی ہے۔ دوسری جانب میرے ایک اور دوست جو کہ پیشے سے صحافی ہیں ان کا خیال تھا کہ یہ پورا واقعہ مذہبی جنونیت کی عکاسی کرتا ہے اور ثابت کرتا ہے جنونیت عام آدمی سے لے کر پولیس جیسے ادارے میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکی ہے۔ انہوں تو یہاں تک کہہ دیا کہ فئر ٹرائل کے بغیر ڈاکٹر شاہنواز کو ماورائے عدالت گولیوں کا نشانہ بنانا ایک قتل ہے اور اس قتل میں پولیس مقابلے میں حصہ لینے والے اہلکار، حکم دینے والے افسران اور الزام لگانے والے جنونی برابر کے شریک ہیں۔

خیر الگ جگہوں پر الگ الگ بحث مباحثے جاری تھے۔ ہمارے آفس کے کیفیٹیریا میں میرے ساتھ ہی کام کرنے والے ایک اور دوست نے معاملے پر اپنی عالمانہ رائے دیتے ہوئے کہا کہ دیکھیں یہ تو عشق کا معاملہ ہے اور دین کا حکم بھی ہے کہ جو توہین کرے گا اس کا سر تن سے جدا کر دیا جائے۔ عشق کے معاملے میں ویسے بھی آئین اور قانون کے ضابطوں کو نہیں دیکھا جاتا۔ اسے برداشت کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔

ساتھ بیٹھے ہوئے ایک اور کولیگ نے آسیہ بی بی سے لے کر سلمان تاثیر، مشعال خان، شمع شہزاد، لاہور میں عیسائی بستیوں کے جلائے جانے، جڑانوالہ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب واقعات دیکھیں اور پھر بتائیں کہ آپ کس طرح دنیا کو باور کروا سکتے ہیں کہ ”اسلام سلامتی کا دین ہے؟“

انہوں نے اخلاق اور علمی معیار کو دامن سے چھوٹنے نہ دیا اور سمجھانے کی غرض سے بڑے ہی احترام کے ساتھ اپنی بات جاری رکھی؛ اگر اسلام کو سلامتی کا دین کہا جاتا ہے تو اس کے لیے دلیل فتح مکہ کی دی جاتی، جس میں سب کے لئے سلامتی تھی۔ لیکن جڑانوالہ میں عیسائیوں کی بستی جلا کر، ان کی مذہبی عبادت گاہوں کو نذر آتش کر کے، شہزاد مسیح اور اس کی حاملہ بیوی شمع کو زندہ جلتی ہوئی بھٹی میں جھونک کر، سلمان تاثیر، مشعال خان اور اب ڈاکٹر شاہنواز کو بے دردی سے قتل کر کے ان کی لاشوں کی بے حرمتی کر کے کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ مذہب اسلام سلامتی کا مذہب ہے؟

اس دوست کی دلیل میں وزن محسوس ہوا لیکن میرا دوسرا دوست بھی کوئی جاہل نہیں تھا اس نے کہا بھائی دیکھیں جہاں تک بات دین اسلام کو پرکھنے کی ہے تو اسے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی زندگی، ان کے اسوہ حسنہ، قرآن مجید کی حکمت بھری تعلیمات اور شریعت کے انسان دوست اور انقلابی احکامات کی بنیاد پر پرکھا جائے گا۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھی؛ آپ مذہب کو اس کے ماننے والوں سے نہیں بلکہ اس کی تعلیمات اس کے نظریات سے پرکھیں گے۔

اب بات تو ٹھیک ہے کہ بھائی سارے ماننے والے من و عن پوری طرح تعلیمات سے مطابقت رکھنے والے تو نہیں ہوسکتے۔ کچھ نہ کچھ اونچ نیچ تو رہے گی۔ اس لیے دین اسلام کی پرکھ مسلمانوں سے نہیں بلکہ اسلام کے حوالوں اور کتابوں سے ہوگی جیسا کہ پوری دنیا میں ہوتا ہے۔

میں تو لاجواب ہو چکا تھا لیکن میرے دوسرے دوست نے دوبارہ بولنا شروع کیا پھر ہم ہندستان کو برا بھلا کیوں کہتے ہیں؟ کیوں کہتے ہیں کہ ہندستان ایک ظالم اور جابر ریاست ہے؟ ایک ایسی ریاست جہاں اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے غیر محفوظ ہیں، انسانی حقوق کی حالت بہت ہی ابتر ہے؟

انہوں نے اپنی بات جاری رکھی آپ کی دلیل کو مان لیا جائے تو پھر تو ہمیں ہندستان کو بھی ہندستانی حکومتوں اور شدت پسند ہندوستانیوں کے بجائے ہندستان کے آئین کے تحت پرکھنا چاہیے جو کہ بالکل سیکولر ہے۔ جس میں مذہب کا ریاستی عوامل میں کوئی عمل دخل نہیں۔ ہر شہری ملک کا برابر کا شہری ہے اور تمام شہریوں کو یکساں حقوق بھی حاصل ہیں تو مذہبی آزادیاں بھی۔

بات جاری ہی تھی کہ باس آ گئے اور انہوں نے گھڑی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بریک کچھ زیادہ ہی لمبا نہیں ہو گیا! باتیں ختم ہو گئی ہوں تو تھوڑا کام بھی کر لیں اور پھر ہم سب اپنے اپنے ڈیسک پر چلے آئے لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ میرا دوست ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا اصل اسلام تو اس کی تعلیمات ہیں اس لیے اسے مسلمانوں سے نہیں پرکھا جاسکتا اور ڈاکٹر شاہنواز اور اس جیسا جو بھی شخص گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے تو ایک پکے سچے مسلمان اور عاشقان میں شامل ایک فرد کی حیثیت میں میرا یہ فرض ہے کہ اس گستاخ کی زبان کو حلق سے کھینچ لیا جائے کیوں کہ یہی تو عشق تقاضا ہے، یہی عشق کی معراج ہے۔

Facebook Comments HS