پاکستانی میڈیا پر چھایا جمود
یوں تو میڈیا ہر دور میں خود کو ریاست کا چوتھا ستون کہتا آیا ہے مگر موجودہ دور میں کسی بھی قوم کی رائے بنانے سے اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے تک ہر جگہ میڈیا کا ہی عمل دخل نظر آتا ہے۔ جب میڈیا کی بات کی جائے تو اس میں روایتی میڈیا (اخبار، ریڈیو، ٹیلی ویژن، سینما، کتابیں ) ڈیجیٹل میڈیا (سوشل میڈیا، ویڈیو پلیٹ فارمز، ویب سائٹس، سرچ انجنز وغیرہ ) اور تشہیری ذرائع (بل بورڈز، پینا فلیکسز ڈیجیٹل سکرینز وغیرہ) تینوں آتے ہیں۔ لہذا اگر ریاست کا ستون کہلوانا ہی ہے تو ریاست پر قوم کی اصلاح کی اخلاقی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔
آئیے جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا میڈیا یہ ذمہ داری نبھانے کے قابل ہے یا اسے خود اصلاح کی ضرورت ہے؟
روایتی میڈیا میں سوائے ریڈیو کے سب اپنی جگہ پر موجود ہیں مگر یہ ڈیجیٹل میڈیا کا محتاج ہو چکا ہے۔ یعنی اب فلم دیکھنی ہویا ڈرامہ، سیاسی ٹاک شو دیکھنا ہو یا میچ، کتاب پڑھنی ہو اخبار سب یو ٹیوب اور گوگل کے ذریعہ ہو گا۔ اس قدر آسان رسائی کے باوجود روایتی میڈیا دیکھنا تقریباً لوگ چھوڑ چکے ہیں اور ڈیجیٹل میڈیا پر ایسے مواد کی کمی ہے جس سے عوام کی اصلاح ہو سکے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر موجود لوگوں کو ٹریننگ کی ضرورت ہے۔ یہ بات درست ہے مگر میرے خیال میں اس سے پہلے روایتی میڈیا سے جڑے سینیئر اور تجربہ کار لوگوں کو سنجیدہ کوشش کرنے کی اور اپنی اصلاح کی ضرورت ہے تا کہ دوسرے ان سے سیکھیں۔ پاکستان میں تقریباً 100 سے زیادہ نیوز چینلز ہیں جو ٹی وی پر نہیں تو یو ٹیوب پر ضرور دیکھے جاتے ہیں۔ ان پر دن بھر کیا چلتا ہے؟ یہی کہ آج کس سیاستدان نے کیا بیان دیا؟ فلاں جج نے یہ کہا، آرمی چیف نے فلاں جگہ کا دورہ کیا وغیرہ وغیرہ۔
اس کے بعد رات کے ٹاک شوز کی بات کریں تو آٹھ، نو اور دس بجے کے ان اڑھائی سو پرائم ٹائم ٹاک شوز میں گھما پھرا کر ایک ہی موضوع پر بات کی جاتی ہے اور وہ 99.5 فیصد سیاسی موضوع ہوتا ہے جسے لوگ پہلے ہی سوشل میڈیا پر دیکھ اور سن چکے ہوتے ہیں۔ کیا خبر صرف سیاست ہے؟
کتنے ٹاک شوز میں یہ بحث ہوتی ہے کہ کھیلوں کو کیسے بہتر بنانا ہے اور اس سے جڑے مسائل کیا ہیں (سوائے کرکٹ کے ) ؟ تعلیمی میدان میں ہم پیچھے کیوں کھڑے ہیں اور ریفارمز کون کرے گا؟ بے روزگاری کا حل کیا ہے؟ اداروں کو کیسے درست کرنا ہے؟ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہم کہاں ہیں؟ کسان کے مسائل کیا ہیں اور ان کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟ شدت پسندی کے پیچھے کیا وجوہات ہیں اور ان سے کیسے نبٹا جائے؟ ادویات کی قیمتیں اور صحت کا شعبہ کہاں کھڑا ہے؟ بطور قوم ہمارے مسائل اور چیلنجز کیا ہیں؟
اور اگر ہوتی بھی ہے تو کیا ان لوگوں کو بلایا جاتا ہے جو واقعی غیر جانبدار ہوں اور ایسے موضوعات پر اچھی بات چیت کر سکتے ہیں؟ کسی تھنک ٹینک سے کسی کو ٹاک شو میں بلایا جاتا ہے؟ یا صرف ”میری پارٹی نے یہ کیا، میری پارٹی نے وہ کیا“ والے ہی ہوتے ہیں؟
میڈیا کا دوسرا اہم کردار ہمارے یو ٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز ہیں۔ ان کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ بڑے بڑے یو ٹیوب چینلز یا تو سیاست پر بات کرتے ہیں یا فیملی ولاگنگ اور اسی طرح کی فضولیات۔ اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سیاست پر پھر سے وہی لوگ بات کر رہے ہوتے ہیں جو پہلے ٹاک شو میں کہہ چکے ہوتے ہیں۔ گویا:
حالات بھی سبھی ایک، حوادث بھی سبھی ایک
خبریں بھی سبھی ایک ہیں، اخبار بہت ہیں
مطلب اگر ویلاگ کرنا ہی ہے تو کچھ اور موضوع بھی تو ہو سکتا ہے۔ لہذا لوگ سیاست کی بجائے فیملی ولاگنگ والوں کو ترجیح دیتے ہیں اور نتیجہ کے طور پر سکرین ٹائم سے کچھ بھی سیکھ نہیں پاتے۔
تیسرا اور انتہائی اہم کردار رائٹرز کا ہے۔ چاہے وہ ڈرامہ اور فلمز رائٹرز ہوں یا کتابیں لکھنے والے۔ انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے رائٹرز آج بھی بیسویں صدی کی ذہنیت میں جی رہے ہیں۔ تاریخ اور اخلاقیات پر کتابیں لکھنے والے انتہائی جانبدار ہیں اور فکشن لکھنے والوں کے پاس گھسی پٹی محبت کی کہانیوں کے علاوہ کچھ نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے موجودہ دور کا مشاہدہ کرنے کی بجائے وہ صرف انیسویں اور بیسویں صدی کا ادب پڑھ کر ہی لکھاری بن گئے ہیں۔ شاعر محبوب کی زلفوں سے نکلنے کو تیار نہیں اور ڈرامہ اور فلمز رائٹرز گھر اور ساس بہو سے۔ ان کا مقصد صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے شادی۔ منفی رویہ ہر کہانی کا بھر پور حصہ ہے اور پھر ایک ہیپی اینڈ۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو براہ راست بہت بڑے طبقے کو متاثر کر رہے ہیں۔ آن لائن ویب سائٹس اور اخبارات کے لئے لکھنے والے کچھ حد تک بہتر ہیں۔
اس کے بعد وہ معاشرے سے مثبت رویے اور عزت کی توقع بھی رکھتے ہیں اور شدت پسندی کا خاتمہ بھی چاہتے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے؟
اس لیے ان لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ ڈیجیٹل دنیا میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کیسے بچانی ہے ورنہ نوجوانوں سے یہ گلہ ترک کر دیں کہ وہ ان کی عزت نہیں کرتے۔ قوم کی مجموعی سوچ اور پہچان ایک لیڈر، مولوی یا سیاستدان کی تقریر سے نہیں بلکہ اس کے متوسط پڑھے لکھے طبقے کے رویے اور اس کی اصلاح کرنے والوں کی مجموعی سوچ سے ہوتی ہے۔


