ووکسمیرین: مشرقی جرمنی کی فراموش کردہ بحریہ


ووکسمیرین کی کہانی کافی دلچسپ ہے کیونکہ میرا مشاہدہ ہے کہ یہ سابق مشرقی جرمنی [جرمن ڈیموکریٹک رپبلک یا جی ڈی آر] کی مسلح افواج کا ایک ایسا حصہ ہے جس کا قومی فوج، نیشنل وولکس آرمی (این وی اے ) ، مشرقی جرمن ائر فورس، یا سرحدی محافظوں کے برعکس شاذ و نادر ہی ذکر کیا جاتا ہے اس کی وجوہات جن پر شاذ و نادر ہی بحث کی جاتی ہے، ہم آگے بڑھتے ہوئے تلاش کریں گے، لیکن اس سے پہلے، جی ڈی آر اور اس کی مسلح افواج کی تاریخ کا مختصر جائزہ سود مند ہو گا۔

آئیے اس کہانی کو اپریل 1945 کے آخر میں شروع کرتے ہیں۔ نازی جنگی قوت کو مغرب میں امریکیوں اور مشرق میں سرخ فوج کے ساتھ مشترکہ اتحادی افواج نے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سوویت یونین برلن پر توپ خانے کے گولوں سے بھاری بمباری کر رہا ہے اور فضائی حملے بھی ماضی کے اس طاقتور شہر، جرمنی کے فخر کو ایک کھنڈر میں تبدیل کر رہے ہیں۔ اس سب کے درمیان اس تباہی کے منصوبہ ساز ایڈولف ہٹلر نے خود کشی کر لی اور اس کی پیروی کرتے ہوئے اس کے جانشین جوزف گوئبلز نے فاشسٹ جرمنی کی حکومت کو نازی جرمنی کے صدر کارل ڈوئنٹز کے ہاتھوں میں چھوڑ دیا جو شمال میں امریکیوں سے لڑنے میں مصروف تھا۔ 8 / 9 مئی کو، اس نے بھی اپنے ہتھیار ڈال دیے جس کے نتیجے میں جرمنی نے مکمل گھٹنے ٹیک دیے جرمنی کی مسلح افواج کے تینوں حصوں اس وقت مندرجہ ذیل کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ویہرماچ، کریگزمیرین اور لفٹ وافی۔

جنگ کے بعد ، جرمنی کو 4 ٹکڑوں میں تقسیم کیا جانا تھا، فرانسیسی، برطانوی، امریکی اور سوویت۔ ان میں پہلے تین بون میں دارالحکومت قائم کر کے وفاقی جمہوریہ جرمنی کے نام سے متحد ہو گئے اور مؤخر الذکر 1949 میں جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک بن گیا۔ تاہم، اس کے باوجود، کوئی بھی فریق جنگ کے بعد جرمنی کو فوری طور پر دوبارہ مسلح کرنے کا خواہاں نہیں تھا کیونکہ یقیناً دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک جرمن فوجی قوت کا خیال بہت سے لوگوں خاص طور پر فرانسیسیوں کے لئے تشویش ناک تھا کیونکہ ان کے جرمنی کے ساتھ 1871 سے تنازعات چلے آ رہے تھے۔

سوویت اور امریکیوں دونوں کی اپنے متعلقہ حصوں میں بڑی تعداد میں فوجی موجودگی کے باوجود یہ ضروری سمجھا گیا کہ دونوں ممالک کو حملے سے اپنے اپنے علاقوں کا دفاع کرنے کے لئے دوبارہ مسلح کیا جائے۔ اس طرح کا پہلا سنجیدہ قدم مغرب نے فیڈرل بارڈر سروس کیے قیام کی شکل میں اٹھایا تھا اور مشرق نے سوویت انتظامیہ کے تحت اپنی نیشنل پیپلز پولیس بنا کر اس اقدام کی پیروی کی تھی۔ یہ جاننا دلچسپ ہو گا کہ ان افواج اور ان کے جانشینوں یعنی بنڈس ویر اور نیشنل وولکسرمی کی اعلی کمان میں سابق نازی جرنیل شامل تھے۔ ان کی دوبارہ بھرتی کے پیچھے کہانی یہ تھی کہ یہ جرنیل جنگی تجربہ کار اور اعزاز یافتہ افسران تھے، جن کی، ان نئی جرمن فوجوں کی کمان کرنے کے لیے ضرورت تھی۔

تاہم ان پرانے جرنیلوں کو شامل کرنے کے لئے مشرق اور مغرب دونوں میں ایک معیار پر عمل کیا جانا تھا۔ خیال یہ تھا کہ ایسے جرنیلوں کو تلاش کیا جائے جو قابل ہونے کے باوجود نسبتاً صاف ستھرے ریکارڈ رکھتے تھے اور ہٹلر حکومت کے ساتھ نسبتاً کم قریبی تعلقات رکھتے تھے، اس معیار کے نتیجے میں مٹھی بھر جرنیل ملے جنہیں مستقبل میں مغربی جرمن فوج کی کمان کرنا تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہی جرنیلوں نے جنگ عظیم کے دوران فیلڈ اسٹاف کے ساتھ مل کر فرانس اور ناروے پر حملوں کی منصوبہ بندی میں مدد کی تھی اور انہوں نے ایک آپریشن میں کچھ ظالمانہ کارروائیاں بھی کی تھیں جس کے نتیجے میں سوویت بیلاروس میں متعدد بے گناہ افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم، انہیں بنڈس ویر کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا اور وہ 1957 سے 1961 تک اسی طرح رہے۔

مشرق نے ان جرنیلوں کو دوبارہ خدمت میں داخل کرنے اور ایک فوج بنانے کے لئے ایک دلچسپ طریقہ کار اپنایا۔ ان کی پولیس 1949 میں تشکیل دی گئی تھی اور ان کے پاس سوویت طرز کی وردی اور ساز و سامان تھا جو بعد میں تبدیل کر دیے گئے۔ لہٰذا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 1950 کی دہائی کے اوائل میں بننے والی مسلح افواج کے ساتھ اتنے سارے سابق نازی جرنیلوں اور کمانڈروں کو ایک کمیونسٹ قوم کی فوج میں کیسے شامل کیا گیا۔ اس کا جواب بہت آسان ہے۔ یہ اسٹالن گراڈ میں جرمن جرنیلوں کی گرفتاری کی طرف جاتا ہے جنہوں نے ہٹلر کو ان کی گرفتاریوں اور انتظامی غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جس سے کمیونسٹوں کو انہیں ”کمیونزم میں تبدیل کرنے کی کوشش کرنے کی اجازت ملی“ حالانکہ درحقیقت یہ کوشش جنرل والتھر وان سیڈلٹز کٹزباخ کے علاوہ بڑی حد تک ناکام رہی۔

اس طرح جن لوگوں کو مشرقی جرمنی کی مسلح افواج کے کمانڈر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا وہ کم از کم فاشسٹ مخالف تھے اگر مکمل طور پر کمیونسٹ نہیں تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جی ڈی آر نے نئی مسلح افواج میں پرانی جرمن روایات کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی تاکہ جی ڈی آر کو ”اصلی“ جرمنی کے طور پر ظاہر کیا جا سکے۔ 1956 میں پہلی مشرقی جرمن مسلح افواج تشکیل دی گئیں جس میں فوج کے پہلے چیف آف اسٹاف جنرل ونسنز مولر تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ بحریہ بھی قائم کی گئی تھی جو اس مضمون کا بنیادی موضوع ہے۔ بحریہ کا آغاز فوج کی طرح تھا لیکن اس نے ترقی کے ایک دلچسپ راستے کی پیروی کی۔

تشکیل اور کمانڈ کی ساخت:

مشرقی جرمن بحریہ یا ووکسمیرین کو 1956 میں رسمی طریقے سے قائم کیا گیا تھا، اس کا پہلا (کم از کم برطانوی رینک کے مطابق) چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل والڈیمر ورنر تھا۔ ایڈمرل آف دی فلیٹ یا مارشل جیسے عہدوں کی موجودگی کے باوجود مشرقی جرمنی کی مسلح افواج میں یہ اعلی ترین رینک کی سطح تھی۔ اس کے باوجود، مجموعی طور پر 37 ایڈمرلز نے خدمات انجام دیں جن میں تھیوڈور ہوف مین جیسے قابل ذکر کمانڈر شامل تھے جو ایک بہت ہی معتبر نیول چیف تھے۔ مشرقی جرمنی میں رواج تھا کہ جو شخص جی ڈی آر کے چیف آف دی نیول اسٹاف کی حیثیت سے خدمات انجام دے گا وہ جی ڈی آر کا نائب وزیر دفاع بھی ہو گا۔

نیول ہیڈ کوارٹر شمالی مشرقی جرمنی کے میکلنبرگ صوبے میں روسٹاک۔ گیہلسڈورف میں واقع تھا۔ مختلف بیڑوں یا فلوٹیلا کی ساخت مندرجہ ذیل تھی۔ پہلا فلوٹیلا بحیرہ بالٹک کے قریب پینیمونڈے میں تھا۔ چوتھا فلوٹیلا نیول ہیڈ کوارٹر کے قریب تھا اور چھٹا روگن جزیرے کے قریب بگ میں تھا اور چھٹی سرحدی بریگیڈ بھی روسٹاک میں تعینات تھی۔ اس کے علاوہ ساحلی افواج یا ساحلی مدد میں ساسانیٹز میں ایک تارپیڈو سپورٹ کمپنی اور پارو اور لاگ میں دو نیول ایوی ایشن ونگ شامل تھے۔ ان پوزیشنوں میں سب سے قابل ذکر لڑاکا تیراک، یا امریکی اصطلاح میں میرین رجمنٹ تھی جو روسٹاک کے قریب کوہلونگزبورن میں تعینات تھی، اس کی شہرت کی وجہ کا ذکر بعد میں کیا جائے گا۔

آپریشنز اور ساز و سامان

وارسا معاہدے کا رکن ہونے کی وجہ سے مشرقی جرمنی سوویت اسلحے سے مستفید ہوا تھا لہذا قدرتی طور پر، وہ سوویت ایم آئی۔ 8 طرز کے 14 لڑاکا ہیلی کاپٹروں سے لیس تھا، لڑاکا بمباروں کو ایس یو 22 طیارے اور چھوٹے ہتھیاروں میں اے کے 47 اور دیگر اسالٹ رائفلوں کے لئے اور مکاروف 8 راؤنڈ آٹومیٹک پستول سے مسلح کیا گیا۔ جہاں تک تربیت کا تعلق ہے تو اس ادارے کے لئے تین اہم تربیتی اسکول تھے۔ بحریہ نے ریگا کلاس کے کئی فریگیٹ بھی چلائے جن میں سے بہت سے مشہور جرمن کمیونسٹوں جیسے کارل مارکس، فریڈرک اینگلز، کارل لیبکنیچٹ اور ارنسٹ تھلمین کے نام پر تھے۔ اس کے علاوہ، اس نے کئی انٹیلی جنس جہازوں کو بھی چلایا جن میں کچھ بارودی سرنگیں صاف کرنے والے اور کچھ دوسرے شامل تھے جن میں 3 کونی کلاس فریگیٹ کے ساتھ ساتھ کچھ آبدوز شکن جہاز بھی شامل تھے۔ یونیفارم تقریباً سوویت بحریہ سے ملتے جلتے تھے لہذا بحریہ کی وردی کے موضوع پر بتانے کے لئے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا زیادہ تر حصہ آج ختم کر دیا گیا ہے یا اسے نئی متحد جرمن بحریہ میں شامل کیا گیا ہے یا انڈونیشیا جیسے کچھ ممالک کو فروخت کر دیا گیا ہے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ ووکسمیرین نے، این وی اے کے برعکس جس نے 1953 کی بغاوت یا 1963 میں چیکوسلواکیہ پر حملے میں لڑائی کا سامنا کیا تھا، کبھی بھی کوئی فعال لڑائی نہیں دیکھی بلکہ اس نے صرف نگرانی کے احکامات کی پیروی کی تھی۔ اس فورس کے لئے نامزد آپریشن زون بحیرہ بالٹک تھا کیونکہ یہ وارسا معاہدے کے متحدہ بالٹک بیڑے کے اتحاد کا رکن تھا۔ جنگ کی صورت میں، اس کا بنیادی مقصد سوویت بحریہ کے لئے حملے کے راستے کھلے رکھنا طے کیا گیا تھا، اس کے باوجود کہ وارسا معاہدے کی ہائی کمان کو اب بھی یہ یقین تھا کہ اگر کوئی مغربی حملہ شروع ہو گا تو یہ آسٹریا یا مین لینڈ مغربی جرمنی سے زمینی حملے کی شکل میں آئے گا لہذا میری ذاتی رائے میں بحریہ، جرمن جمہوری جمہوریہ کی مسلح افواج کا ایک نظر انداز کردہ محکمہ بھی تھا کیونکہ یہ دفاع کے لئے بنیادی فورس نہیں تھی۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بحریہ نے سرے سے کوئی کارروائی نہیں دیکھی۔

سرد جنگ کے دوران، ووکسمیرین غلطی سے پولینڈ میں پومیرانیائی خلیج کے تنازعہ کی وجہ سے متعدد سمندری خلاف ورزیوں کا سبب بنے۔ پوٹسڈیم معاہدے کی شرائط میں ابہام کی وجہ سے یہ مسئلہ دونوں ممالک میں اس علاقے کے ماہی گیروں کے لئے بھی موجود تھا اور اس کے علاوہ مذکورہ بالا لڑاکا تیراکوں نے متعدد خفیہ کارروائیوں میں حصہ لیا تھا، مثال کے طور پر، یہ افواہ ہے کہ ان تیراکوں نے سن سڑسٹھ میں چھ روزہ جنگ کے دوران مصری بحریہ کی مدد کی تھی کیونکہ ناصر کے غیر وابستہ تحریک میں ہونے کے باوجود جی ڈی آر کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔ اس ’تربیت‘ کے نتیجے میں تقریباً 6 اسرائیلی شی ٹیٹ 13 کارندوں کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے سویڈش فیری بوٹ سے ٹکرانے کے بعد آبدوز 844 کے عملے کو بچانے میں بھی مدد کی۔

ایک اور چیز جو یہ تیراک کرتے رہے وہ یہ ہے کہ بیرونی جاسوسی کے محکمے اسٹاسی کے ایجنٹوں کو غوطہ خوری سکھائی گئی۔ کے ایس کے۔ 18 کی طرف سے کی جانے والی غیر جنگی کارروائیوں میں ڈنمارک کے خودمختار پانیوں سے جہاز شکن میزائل وار ہیڈ کی بازیابی بھی شامل تھی جو ایک جنگی مشق میں گم ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی قابل ذکر ہے کہ یہ غوطہ خوروں کی واحد مشرقی جرمن اکائیاں نہیں تھیں۔ فالشچرمجاگر یا پیراٹروپرز ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ایلیٹ پیراشوٹ دستوں میں بھی ان کے لڑاکا تیراک شامل تھے۔ انہوں نے کئی جنگی مشقوں میں بھی حصہ لیا۔ جی ڈی آر سے آبی راستوں کے ذریعے فرار ہونے والے لوگوں کو پکڑنا بھی بحریہ کا ایک کام تھا۔ بحریہ کے پاس دلچسپ چیز اس کا بینڈ بھی تھا جو میرین پریزنٹیشن مارچ یا گانے میٹروسن وان کرونشٹٹ جیسے مارچ کرنے کے لئے مشہور تھا جو کرونشٹٹ بغاوت کے ملاحوں کے نام کیا گیا تھا۔

آخر کار 1989 میں دیوار برلن گرنے اور جی ڈی آر کے خاتمے کے بعد ووکسمیرین کا بھی وہی حشر ہوا جو کمیونسٹ دنیا کے دیگر اداروں کا ہوا۔ وہ ماضی کی ایک یادگار بن گئی اور اسے تحلیل کر دیا گیا اور بقول ٹراٹسکی اسے ”قطعی قابل فراموش قرار دے کر تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال دیا گیا“ ۔ مجھے جرمن زبان نہیں آتی اور شاید انگریزی تک محدود رہنے کے سبب ووکسمیرین کے بارے میں زیادہ مواد دستیاب نہیں ہوسکا، لیکن میں نے ایک دلچسپ کتاب ڈائٹر فلور اور پیٹر سیمن کی 2009 کی مطبوعہ ڈی وولکسمیرین دریافت کی ہے جس کی تلاش جاری ہے۔

Facebook Comments HS

حسین قاضی

حسین قاضی نوجوان طالب علم ہیں۔ آپ مطالعہ تاریخ ، خصوصاً سرد جنگ کے واقعات سے شغف رکھتے ہیں اور اس دور سے متعلق یادگاری عجائبات جمع کرنے کا شوق بھی رکھتے ہیں۔ نو برس کی عمر میں پہلی کتاب "ٹائی ٹینک کی یاد میں" لکھ چکے ہیں اور آج کل اپنے تاریخی مطالعات مدون کر رہے ہیں ۔

hussain-qazi has 5 posts and counting.See all posts by hussain-qazi