صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 21 : انجم بھائی
”مجھے اپنے دل پر مہر کی طرح باندھ لے، اپنے بازو پر مہر کی طرح؛ کیونکہ محبت موت کی طرح طاقتور ہے، حسد قبر کی طرح بے رحم ہے۔ اس کی چمک آگ کی چمک کی مانند ہے، رب کی شعلہ زن آگ۔ بہت سا پانی محبت کو بجھا نہیں سکتا، اور نہ ہی سیلاب اسے بہا سکتا ہے۔“ غزل الغزلات 8 : 6۔ 7
گورا چِٹّا رنگ، بھاری بھرکم بدن، لمبی لمبی مونچھیں، کانوں کے سِروں سے نکلے ہوئے بال جن کی وہ پرورش کرتے تھے اور باقاعدہ تیل مل کر چھوٹی سی کنگھی سے کاڑھتے تھے۔ موٹے فریم کے چشمے کے پیچھے سے اُن کی بڑی بڑی، زندگی سے بھر پور آنکھیں جھانکتی تھیں۔ چال ڈھال اور گفتگو سے انجم بھائی کوئی پرانے زمانے کے نواب لگتے تھے۔ ان کی زندگی حکیم کے نسخے کی مانند تھی جس میں اجزا کو کوٹنا، ابالنا اور چھاننا شامل تھا، مگر ان کا کام صرف ہدایات دینا تھا۔
باقی سارا کام دانی ایل اور ندیم کرتے تھے۔ انجم بھائی نماز پابندی سے پڑھتے تھے۔ ظہر کی نماز دفتر میں ہی پڑھ لیتے تھے۔ چوں کہ ان کا عقیدہ تھا کہ پتلون میں نماز نہیں ہوتی لہٰذا پتلون کے نیچے پاجامہ پہنتے تھے اور نیت باندھنے سے پہلے پتلون اتار کر کرسی پر لٹکا دیتے تھے۔ گھر پہنچتے تو برآمدے میں ان کا بستر ہر وقت بچھا ہوا ملتا تھا۔ دفتر سے آتے ہی قمیص اتار کر سرہانے کی دیوار پر لگی کھونٹی پر لٹکا دیتے اور پتلون تہہ کر کے تکیے کے نیچے رکھ دیتے تاکہ اگلی صبح تک اس کی سلوٹیں دور ہوجائیں۔ گھر میں ان کا لباس پاجامے اور بنیان پر مشتمل ہوتا تھا۔
انجم بھائی کی عمر ساٹھ پینسٹھ برس کی رہی ہوگی۔ ایک مرتبہ ریٹائر ہونے کی کوشش کرچکے تھے مگر ان کی کمپنی نے انہیں جانے نہیں دیا۔ وہ بھی رکنے کے لیے تیار ہو گئے کیوں کہ انہیں کرنے کے لیے کوئی اور کام نہیں تھا۔ انہوں نے جوانی میں شادی بھی نہیں کی تھی۔ بقول ان کے، خدا ان کا جوڑا بنانا بھول گیا تھا۔ ان کے عزیزوں کا بھی کوئی اتا پتا نہیں تھا۔ کہتے تھے کہ پیدائش سے پہلے وہ مٹر کی پھلی کا ایک دانہ تھے۔ جب پھلی سوکھ کر پھٹی تو وہ اس میں سے گر کر زمین پر آ پڑے اور دیکھتے دیکھتے بڑے ہو گئے۔ دانی ایل اور ندیم انہیں اپنا بزرگ سمجھتے تھے۔
وہ دفتر سے آنے کے بعد کتاب لے کر سرہانے گاؤ تکیہ سے ٹیک لگا کر نیم دراز ہوتے تو اگلی صبح ہی اٹھتے تھے۔ صرف کھانا کھانے، نماز پڑھنے اور ٹوائلٹ جانے کے لیے وقفہ کرتے تھے۔ انہیں چائے بھی بستر پر ملتی تھی اور اگر کبھی وہ کام میں ہاتھ بٹانا بھی چاہتے تو دانی ایل اور ندیم انہیں اس طرح ڈانٹ پلا کر روک دیتے جیسے کسی بچے کو ایسا کام کرنے سے روکا جاتا ہے جس میں اسے چوٹ لگ جانے کا احتمال ہو۔ غرض ندیم اور دانی ایل ان کی خدمت میں لگے رہتے تھے۔ انجم بھائی عمومی طور پر کم گو اور فلسفی ٹائپ کے تھے مگر جب گفتگو کے دوران ان کا کوئی پسندیدہ موضوع چِھڑ جاتا تو فوراً گاؤ تکیے کا سہارا چھوڑ کر بیٹھ جاتے اور علم کے دریا بہا دیتے۔ ایک مرتبہ انہوں نے مجھے چے گَیوارا پر پورا لیکچر دیا تھا جو ارجنٹینا کا انقلابی لیڈر تھا۔
اُن کا محبوب موضوع تصوف تھا۔ مثنوی مولانائے روم ان کی میز پر مستقل رہتی تھی اور وہ ہر آنے جانے والے کو اس میں سے دو ایک حکایتیں سنا دیتے تھے خصوصاً مثنوی کی پہلی نظم ”بانسری کی فریاد“ ان کی محبوب ترین نظم تھی جو وہ جھوم جھوم کر ایرانی لہجے میں پڑھتے اور پھر اس کا اردو ترجمہ سناتے ہوئے آب دیدہ ہو جاتے تھے۔
انجم بھائی دفتر سے واپسی پر جب اپنے گھر کی گلی میں مڑتے تو نکّڑ پر فضلو کی کیبن سے کے ٹو کے دس دس سگرٹوں کے دو پیکٹ خرید لیتے جنہیں اگلے چوبیس گھنٹوں میں ختم کرنا ضروری تھا۔ ان کے بستر کی ایک جانب چھوٹی سی میز تھی جس پر رکھے ہوئے بجلی کے پنکھے کا سوئچ آن کرتے اور میز کو اپنے دیگر لوازمات سے بھر دیتے جن میں سگرٹ کے پیکٹ، ایش ٹرے، لائٹر، چشمہ، گھڑی، خلال کی ڈبیہ، رومال، کچھ کتابیں اور نہ جانے کیا کیا الا بلا شامل ہوتی۔ ندیم ان کی میز کو زچّہ کی میز کہتا تھا کیوں کہ زچہ کے لیے بھی تمام انتظام اس طرح کیا جاتا ہے کہ اسے بستر سے نہ اٹھنا پڑے۔
***
باہر موٹر سائیکل کی آواز آئی تو انجم بھائی سمجھ گئے کہ دانی ایل واپس آ گیا ہے۔ دفتر سے اس کی سالانہ چھٹیاں باقی رہتی تھیں لہٰذا اس نے ایک ہفتے کی چھٹی لے لی تھی اور ان دنوں مریم کے ساتھ آسمانوں میں اڑا پھر رہا تھا۔ اس نے دوستوں کو بتا دیا تھا کہ اس نے مریم کو شادی کی پیش کش کردی ہے اور جواب کا انتظار کر رہا ہے۔ دوستوں کا اصرار تھا کہ وہ مریم سے ان کی ملاقات کرائے اور اس نے وعدہ کر لیا تھا کہ جوں ہی وہ ہاں کہے گی، وہ اسے سب سے ملائے گا۔
انجم بھائی اس وقت عبداللہ حسین کا ناول ”اُداس نسلیں“ پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے ورق موڑ کر کتاب بند کی اور میز پر رکھ کر دروازے کی طرف دیکھنے لگے۔ جب دروازہ کھلا تو اندر داخل ہونے والی مریم تھی اور اس کے پیچھے دانی ایل تھا۔ انجم بھائی بجلی کی سی سرعت سے اٹھے اور کھونٹی سے اپنی قمیص اتار کر پہننے لگے۔ مریم بھی ٹھٹھک کر دروازے پر رک گئی۔
”عزیزِ من، اگر تم کسی خاتون کو یہاں لے کر آرہے ہو تو کم ازکم پہلے گھر میں جھانک کر دیکھ تو لو،“ انجم بھائی نے جلدی میں دایاں بازو بائیں آستین میں ڈال لیا تھا اور اب اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے چہرے پر شرمندگی کے آثار تھے مگر جھینپے ہوئے انداز میں مسکرا بھی رہے تھے۔
”ارے پریشان نہ ہوں انجم بھائی، میں نے پہلے بھی مَردوں کو قمیص کے بغیر دیکھا ہے،“ مریم نے قہقہہ مارکر کہا۔
”عزیزۂ من، مجھے افسوس تو یہ ہے کہ اب جب بھی تم مجھے یاد کرو گی تو میں تمہیں بنیان میں ہی نظر آؤں گا،“ انجم بھائی نے قمیص کے بٹن لگاتے ہوئے جواب دیا۔
”پریشان نہ ہوں۔ میں خود ہی آپ کو قمیص پہنا دیا کروں گی۔“
”آئی ایم سوری، انجم بھائی۔ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، مجھے پہلے خود گھر میں جھانک لینا چاہیے تھا،“ دانی ایل نے انجم بھائی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
”خیر جب اگلی بار مریم آئیں تو مجھے پہلے سے اطلاع دے دینا،“ انجم بھائی نے بستر پر بیٹھتے ہوئے کہا اور مریم کر کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
”انجم بھائی، آپ میرا نام بھی جانتے ہیں؟“ مریم نے کہا۔
”کیوں نہیں، اس گھر میں تو دانی ایل کے ہر سانس سے مریم کا نام نکلتا ہے،“ انجم بھائی نے جواب دیا، پھر دانی ایل سے پوچھا جو مریم کے پیچھے کھڑا تھا، ”کیوں بھئی، اگر ہاں ہو گئی ہو تو مبارک باد دے دوں؟“
”نہیں نہیں، ابھی نہیں،“ دانی ایل نے گھبرا کر کہا۔
”خدایا، آپ لوگ تو سب کچھ جانتے ہیں،“ مریم نے مسکرا کر کہا۔
”ابھی مریم مجھے اچھی طرح چھان پھٹک رہی ہے۔ دو ہفتے تو ہو گئے ہیں۔ میں نے بھی کہہ دیا ہے کہ میں قیامت تک انتظار کرنے کو تیار ہوں۔“
”بھئی مریم، اگر آپ کو کوئی سفارشی چاہیے تو میں اس بات کی گواہی دینے کو تیار ہوں کہ دانی ایل جیسا شریف لڑکا میں نے آج تک نہیں دیکھا،“ انجم بھائی نے کہا۔
”میں آپ کی اس گواہی کی تصدیق کرنے کے لیے تیار ہوں،“ مریم نے جواب دیا۔
”لو بھئی دانی ایل، معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا کام بن گیا،“ انجم بھائی نے دانی ایل کو مخاطب کر کے کہا۔
”انجم بھائی، فی الحال تو دعاؤں پر گزارہ ہو رہا ہے۔“
”بس اللہ میاں کو ٹکٹکاتے رہو، دعا قبول ہو ہی جائے گی۔“
مریم خاموشی سے اُن کی باتیں سنتی رہی۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی مگر اس نے ان کی گفتگو میں دخل نہیں دیا۔ انجم بھائی کو محسوس ہوا کہ مریم بور ہو رہی تھی لہٰذا وہ اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔
”دانی ایل بتا رہا تھا کہ تم اردو میں ایم اے کرنا چاہتی ہو۔“
”جی۔“
”پروفیسر مجتبیٰ اور میں تصوف کے ایک ہی سلسلے سے وابستہ ہیں۔ میں باقاعدگی سے ان کی محفلوں میں شرکت کرتا ہوں۔“
”جی، میرا پروفیسر مجتبیٰ کی نگرانی میں ایک تحقیقی مقالہ لکھنے کا پروگرام ہے۔“
”مجھے یقین ہے کہ تم ان سے بہت کچھ سیکھو گی۔“
”چلیں؟“ دانی ایل نے پوچھا۔
”انجم بھائی، یقین کریں کہ آپ سے مل کر بے حد خوشی ہوئی،“ مریم نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا۔
”آتی رہنا،“ انجم بھائی نے جواب دیا، ”دانی ایل، ندیم تو اپنے کسی عزیز کے گھر گئے ہوئے ہیں۔ تم کھانے کے وقت تک آ جاؤ گے؟“
”نہیں، انجم بھائی ہمارا پروگرام آج باہر کھانا کھانے کا ہے۔ ندیم آپ کے لیے کھانے کا انتظام کر کے گئے ہیں نا؟“
”ہاں، تم میری فکر مت کرو۔ ندیم پکا کر رکھ گئے ہیں اور گرم کرنے کی ہدایات بھی دے گئے ہیں،“ انجم بھائی نے جواب دیا، پھر مریم کی طرف دیکھ کر کہا، ”یہ لوگ مجھے بالکل بچہ سمجھتے ہیں۔“ مریم بس مسکرا کر رہ گئی۔
باہر نکل کر جب دانی ایل نے اپنی اسکوٹر اسٹارٹ کی تو مریم نے پشت کی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا، ”انجم بھائی بڑے پیارے انسان ہیں۔“

