قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو
جب بطور لیکچرار میری پہلی تقرری گورنمنٹ کالج کوٹ مومن سرگودھا میں ہوئی تو ہر روز بائیک پر طویل اور تھکا دینے والے سفر سے دوچار ہونا شروع ہوا۔ یہ سفر مسلسل پانچ سال تک جاری رہا۔ جیسے ہی موقع ہاتھ آیا تو ٹرانسفر کے لئے تگ و دو شروع کر دی۔ بات شروع ہوئی اور بنتی محسوس ہوئی تو کان ہر وقت فون کی طرف لگے رہتے کہ کب گھنٹی بجتی ہے۔ ایسے ہی ایک روز شدید گرمی میں دوران سفر گھنٹی بجی تو گرمی سے بے نیاز فوراً سخت دھوپ میں ہی بائیک روک لی ً فون کان سے لگایا اور اسی محویت میں اپنے گردوپیش سے لاتعلق ہو گیا۔
کال بند ہوئی تو حیران ہو کر دیکھتا ہوں کہ گاندھی نما ایک بزرگ بنا قمیض، تہبند باندھے تپتی دھوپ میں میرے ساتھ کھڑے ہیں۔ میں نے ان کی بے موقع، غیر متوقع اور بلاجواز موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے ان کی طرف دیکھا تو وہ پہلے ہی تکلم کے لئے تیار تھے۔ نہایت اخلاص سے تھوڑا آگے سڑک کنارے اپنے کچے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے۔
”بیٹا میں اس ڈیرے سے چل کر آیا ہوں۔ آپ کافی دیر سے دھوپ میں کھڑے تھے تو یہ عرض کرنے آیا ہوں کہ گرمی بہت ہے آپ آئیں اور میرے گھر سے پانی پی کر جائیں۔ وقت ہے تو بیشک تھوڑی دیر آرام بھی کر لیں۔“
ان کے اخلاص نے مجھے بہت متاثر کیا مگر سفر کی طوالت اور جلدی میں ہونے کی وجہ سے ان کا شکریہ تو ادا کیا مگر آفر قبول نہ کر پایا۔
اس کے بعد ہر روز اس مقام سے گزرتے ہوئے مجھے ان کی اس محبت اور مہمان نوازی کا خیال آتا اور میرا دل ان کے لئے احترام سے بھر جاتا۔ نظریں گزرتے وقت ان کے گھر کی طرف اٹھتیں مگر گھر کے باہر کیکر کے نیچے پڑی بان کی چارپائی میرے گزرنے کے وقت خالی ہی نظر آتی رہی۔
تقریباً ایک سال گزرا ہو گا کہ ایک روز وہاں سے گزرتے ہوئے کیکر کے نیچے اور گھر کے پاس بہت سے لوگ موجود نظر آئے۔ غور کیا فاتحہ خوانی ہو رہی ہے۔ میرا پاؤں خود بخود بریک پر آ گیا۔ آگے سے جا کر بائیک واپس موڑی، ہیلمٹ اتارا، دھر ادھر دیکھا مگر وہ شناسا چہرہ نظر نہیں آیا۔ اتر کر میں نے بھی فاتحہ خوانی کے لئے درخواست کی، سب کے ساتھ ہاتھ اٹھائے اور دل سے دعا کی کہ اے مالک اگر یہ وہی بزرگ ہیں تو ان کو حوض کوثر سے ساقیِ ٔ کوثر کے ہاتھوں جام عطا فرما۔ اگر حیات ہیں تو بھی ان کے لئے حیات اور رزق کو کشادہ فرما۔ اس کے ساتھ ہی میں چہ مگوئیاں کرتے اور تفتیشی نظروں سے دیکھتے بابوں کے درمیان سے اٹھا اور بائیک دوڑا دی۔
بہت کم فاتحہ خوانی ایسی ہوتی ہے جو رسمی نہیں ہوتی اور جہاں یہ بات معنی نہیں رکھتی کہ آپ کیا پڑھ رہے، کیا مانگ رہے ہیں مگر دل اس قادر مطلق سے براہ راست درخواست کرتا ہے اور دعا کی قبولیت کا تاثر اور احساس براہ راست دل پر اترتا ہے۔
راہوں میں پانی چھوڑنے والوں، رکاوٹیں پیدا کرنے والوں، خراب کرنے والوں کو بھی اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ ان کی وجہ سے تکلیف میں گزرتا ہر مسافر ان کے لئے بھی کچھ نہ کچھ دل میں عرض کرتا ہے۔ مسافر کی بد دعاؤں میں بھی قبولیت کی تاثیر کا امکان دیکھنا چاہیے۔ آئیں ہم بھی رستوں میں کشادگی اور آسانیاں پیدا کریں۔


