افسران، ڈاکٹران اور وکلا وایا بٹھنڈا
اخبارات میں خبر چھپی ہے لیکن خبر کی تفصیل آخر میں پہلے چند مُشاہدات۔
رانا صاحب زمیندار تھے، سیاست کا شغل بھی فرماتے رہتے تھے، اور ایک وکیل دوست کے پاس اکثر حاضِر ہوتے، روزانہ وکلاء کی محفل کا اثر یوں ہوا کہ ایل ایل بی کرنے کی ٹھان لی لیکن مسئلہ یہ کہ نہ تو رانا صاحب پڑھنے لکھنے کے شوقین نہ یہ توقع کہ پیپر دیں گے تو کوئی ایک آدھ صفحہ ہی لِکھ پائیں گے۔ اوپر سے ہینڈ رائیٹنگ موسیٰ اور خُدا (مُو سا۔ خود آ) کے روحانی تعلق کی عملی مثال۔
سو فیصلہ ہوا کہ سِندھ کی کسی یونیورسٹی سے ”فیضیاب“ ہوا جائے۔ اگلی کئی فصلوں کی نقدی سِندھ سے حصولِ علم میں کام آئی اور کئی سال کی ”محنت“ کے بعد وکیل قرار پائے۔ یہ اور بات کہ کیس ڈرافٹ کرتے ہوئے Necessary کا تلفظ ”نِکی سِری“ ادا کرتے رہے۔ یہ خیر اُن کا اور اُن کے کلائنٹس کا ذاتی معاملہ ہے۔
ملک صاحب ہمارے مُخلص دوست اور یونیورسٹی فیلو تھے، تب ایم اے انگلش کے بعد ایل ایل بی کرنا ایک فیشن تھا۔ سو وہ ایل ایل بی میں ہمارے کلاس فیلو ہو گئے، ایل ایل بی کے پیپرز ہو سکتا ہے اب کوئی پڑھائی شڑھائی کر کے دیتا ہو لیکن تب پیپر سے چند گھنٹے پہلے علمی والوں کا ایک چھوٹا سا کتابچہ پڑھا اور پیپر دے آئے۔ بد قسمتی سے ہمارے موصوف دوست دو سال ایل ایل بی کی ریگولر کلاسز اٹینڈ کر کے بھی ناکام رہے تھے، سو اگلے سال نئی لگن سے سوئے امتحان تھے۔
جذبے ویسے ہی جوان تھے بس اس بار لائحۂ عمل ذرا مختلف تھا۔ اب کی دفعہ فیصلہ ہوا کہ تمام پیپرز ”خریدے“ جائیں گے، غالباً چند دوست احباب نے مِل جُل کر پچیس ہزار فی پیپر کے حساب سے سودا طے کیا اور ”محنت“ سے تیاری میں جُت گئے۔ ملک صاحب کی محنت کا انداز البتہ ذرا جُدا سا رہا۔ بجائے یہ کہ ملک صاحب گیس (Guess) کی صورت بتائے گئے سات سوال تیار کرتے، وہ تمام رات جاگ کر اُن سوالات کی ”بوٹیاں“ بناتے اور پیپر دے آتے۔
پر اللہ جانے ایگزامنرز کو اُن سے کیا پرخاش تھی، نا معقولوں نے ملک صاحب کو پھر سے فیل کر دیا یعنی ایز اے ہول قرار پائے۔ یوں کُچھ عرصہ ایل ایل بی سے کنارہ کش ہو کر ساری توجہ بزنس پہ مرکوز کردی۔ بزنس میں بلا مبالغہ کروڑوں کمائے لیکن ایل ایل بی کی محبت دِل سے نہ نکال سکے۔ سُنا ہے ایک بار پھِر ہمارے سِندھ والے بھائی اُن کے کام آئے اور وکیل کہلوانے کی اُن کی دیرینہ خواہش پائے تکمیل کو پہنچی۔
دور کیوں جائیں خود سی ایس ایس اور پی ایم ایس کی تیاری کرتے انگریزی کے پہلے پیپر کی رات افواہ پھیلی کہ پیپر آؤٹ ہو گیا ہے۔ ایک تو بے یقینی کی کیفیت اوپر سے اس افواہ کی آمد ہمارے ہاں رات بارہ بجے ہوئی۔ تب تک نہ ہِمت تھی نہ دماغ کام کر رہا تھا۔ لیکن اگلے دِن کا مضمون واقعی چونکا دینے والا تھا۔ کئی خوش قِسمت لوگوں کو گیس بڑا مُستند مِلا تھا۔ ایسے حالات میں کامیاب اُمیدواران کی لِسٹ میں ہمارا نام آنا اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت اور معجزہ ہی تھا۔ ٹریننگ کے لئے اکیڈمی آئے تو حیران کُن چہ مگوئیاں سُنیں۔ یقیناً مُشتاق احمد یوسفی کے بعد ”وایا بٹھنڈا“ کی مُشکل اصطلاح کو ہمارے بیچ کی وجہ سے پذیرائی مِلی۔
ذرا اور وقت گُذرا تو افواہوں کو حقیقت بنتے دیکھا۔ سی ایس ایس کے پیپرز آؤٹ کرنے والے خُدائی خِدمتگار پکڑے گئے اور افسران وایا بٹھنڈا کے بُرے دِن آ گئے۔
میڈیکل کے اینٹری ٹیسٹ میں یہ بزنس ہمیشہ پھلا پھولا ہے۔ سالوں پہلے سکارف کی آڑ میں موبائل کان پہ رکھوا کر کسی خاتون اُمیدوار کو اینٹری ٹیسٹ پاس کروانے کی کہانی تو ہم نے بڑے باوثوق ذرائع سے سُنی تھی۔
ایسے ہی ایک ذریعے سے یہ کہانی حالیہ میڈیکل ٹیسٹ کے متعلق بھی شنید میں آئی۔ دروغ بر گردنِ راوی۔ مددگار لوگوں نے اس دفعہ پیپر کی فیس پچیس لاکھ روپے مقرر تھی لیکن طریقہِ کار میں ذرا تبدیلی کی گئی تھی۔ پرانے تجربات کو مِدِنظر رکھتے ہوئے اس بار پیپر شیئر کرنے کی بجائے رات گیارہ بجے کے بعد اُمیدواران کو کسی خاص مقام پہ بُلا کر پیپر حل کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن بُرا ہو چند ”حاسد“ سرکاری اداروں کا کہ جن کو کہیں سے اُن خدمت گزاروں کی سُن گُن مِل گئی اور انہیں اس عوامی خدمت سے پہلے ہی سرکاری مہمان خانے مُنتقل کر دیا گیا۔
سو اے پیارے پڑھنے والو۔ افسران اور ڈاکٹران اور وکلاء وایا بِٹھنڈا ایک حقیقت ہیں۔ آپ مانیں یا نہ مانیں۔ ہاں افسران و ڈاکٹران و وکلاء کا طریقہ ہائے خدمت و علاج آپ کو بتائے گا کہ افسر و طبیب و وکیل کا تعلق کِس کیٹیگری سے ہے، آپ البتہ اپنے مشاہدے کی حِس کو تیز کرنے کے لئے ہمدرد کی خمیرہِ گاؤ زبان ٹرائی کر سکتے ہیں۔

