پولیو ورکر کا ریپ: پدر سری معاشرے کی بد صورتی کی بدترین مثال


کوئی دن جاتا ہو گا جب انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے کسی نہ کسی متاثرہ شخص کو انصاف دلوانے کے لئے آواز نہ اٹھاتے ہوں۔ ایک حالیہ واقعہ جیکب آباد کے ایک گاؤں میں پولیو مہم کے دوران 11 ستمبر کو پیش آیا جب ایک خاتون پولیو ورکر کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور اس پدرسری معاشرے کی بدصورتی کی بد ترین مثال اس وقت سامنے آئی جب اس واقعہ کا علم ہونے کے بعد ان کے شوہر نے انہیں طلاق دے کر گھر سے نکال دیا۔ اور انہیں ”کاری“ قرار دے دیا۔ ایک مرحلہ ایسا آیا کہ وہ ریپ کی رپورٹ واپس لینے پر مجبور ہو گئیں اور اسے صرف لوٹ مار کا واقعہ قرار دے دیا۔ لیکن پھر وہ اپنے اصلی موقف پر پلٹ آئیں۔ اس وقت وہ دارالامان میں ہیں اور میڈیا کی تشہیر کے باعث ان کی جان کو خطرہ ہے۔ دوسری طرف متاثرہ خاتون کے شوہر، دیور اور اس کے بیٹے کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز یونین کی صدر بشری ارائیں اور ان کی ساتھی متاثرہ خاتون کو انصاف دلانے کے لئے مظاہرے کر رہی ہیں۔

ہم نے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا: ”اس مہم میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ساتھ ”ع“ نامی پولیو ورکر خاتون بھی تھیں۔ 11 ستمبر کو جب وہ ایک مرد کولیگ کے ساتھ ایک گھر میں بچے کو پولیو کے قطرے پلا کر واپس آ رہی تھیں تو ایک لڑکا وہاں پہنچ گیا اور کہنے لگا کہ آگے اور بھی گھر ہیں اور انہیں وہاں بھی جانا چاہیے۔ ’ع‘  نے اپنے انچارج کو فون کیا تو اس نے انہیں واپس آنے کے لئے کہا، اس پر اس لڑکے نے پستول نکال لیا۔ مرد پولیو ورکر سے نقدی اور موبائل چھین کر اسے بھگا دیا اور ’ع‘ کو گھسیٹتا ہوا جنگل میں لے گیا جہاں تین نقاب پوش مرد ان کے منتظر تھے۔ وہاں ’ع‘ کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور موبائل پر وڈیو بھی بنائی گئی۔ پولیو ورکر لڑکے نے دفتر پہنچ کر اس واقعے کی اطلاع دی تو ہم نے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا اور بات وزیر اعلی تک پہنچی۔ ڈپٹی کمشنر نے لڑکی کو بازیاب کر کے سیف ہاؤس پہنچایا۔“

اس سارے معاملے میں جہاں ایک طرف سسرال والوں کا ظالمانہ رویہ سامنے آیا وہیں حکام نے اپنے امیج کی خاطر واقعے کو دبانے کی کوشش بھی کی اور ایف آئی آر میں بھی ریپ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

متاثرہ لڑکی کو بیان بدلنے پر مجبور کیا گیا لیکن سول سوسائٹی اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مظاہروں کی وجہ سے بات دب نہ سکی۔ سیشن جج سید مشرف دین نے واقعے پر سو موٹو ایکشن لے لیا اور متاثرہ خاتون نے انہیں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی سے آگاہ کیا۔ سسرال والوں نے اس کے بچے بھی چھین لئے تھے جو عدالت نے واپس دلوا دیے ہیں۔ اس علاقے کے رکن صوبائی اسمبلی شیخ مغیری نے ’ع‘ کو ایک لاکھ روپے دیے ہیں اور ماہانہ بیس ہزار روپے کا راشن دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

سول سوسائٹی اور لیڈی ہیلتھ ورکرز یونین کا مطالبہ ہے کہ پولیو ورکر ’ع‘ کے ساتھ سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران یہ واقعہ پیش آیا اس لئے اسے جانی اور مالی تحفظ اور مستقل سرکاری ملازمت فراہم کی جائے۔ پولیس نے جو ایف آئی آر کاٹی ہے اس میں ریپ کا سیکشن بھی شامل کیا جائے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ ملک بھر میں پولیو ورکرز کی حفاظت کے انتظامات کیے جائیں، مالی مدد کے ساتھ میڈیکل لیگل ایڈ اور ذہنی اور نفسیاتی دباؤ کے علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں : چاروں ملزمان میں سے ابھی تک صرف ایک کو گرفتار کیا گیا ہے، باقی تینوں کو بھی گرفتار کیا جائے اور جس موبائل پر ریپ کی وڈیو بنائی گئی تھی، اسے برآمد کیا جائے

Facebook Comments HS