انسانی ترقی یا تنزلی؟


چشمِ فلک نے ہزاروں برس پہلے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب اِنسانی زندگی کا ابتدائی دور تھا۔ انسان اکیلا رہنا پسند کرتا تھا۔ وہ ہمیشہ دوسرے انسان سے خائف رہتا کہ کہیں دوسرا انسان اسے کوئی نقصان ہی نہ پہنچا دے۔ اُس کا مسکن غار تھے اور خوراک شکار کیے ہوئے جانور، جب کہ اّس کی زندگی کے دو ہی مقاصِد تھے۔ پہلا اپنی ذات کی حفاظت اور دوسرا زندہ رہنے کے لئے خوراک کا حصُول۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگ آہستہ آہستہ ایک دُوسرے سے مانوس ہوتے گئے اور چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹ کر رہنے لگے۔ یہ گروہ کسی بھی قسم کا خطرہ بھانپ کر اپنی رہائش کی جگہ بدل لیا کرتے اور جہاں اپنے آپ کو پُرسکون اور محفوظ محسوس کرتے وہیں رہنے لگ جاتے۔

اِنسانی تاریخ کے مطالعے سے یہ پتا چلتا ہے کہ بنی نوع انسان اپنے شعور کی ارتقائی منازِل طے کرنے کے دوران بہت سے اتار چڑھاؤ گزار کر بالآخر دس ہزار سال قبلِ مسیح میں زراعت کی طرف متوجّہ ہوا۔ جِس کی وجہ سے انسانی آبادیوں کی ابتدا ہوئی اور شاید پہلا انسانی معاشرہ وجود میں آیا۔ رفتہ رفتہ اِنسان ایک دوسرے کے ساتھ مِل جُل کے رہنے کی ضرورت محسوس کرنے لگا اور غالِب امکان یہی ہے کہ اسی ضرورت کے مثبت اثرات نے اِنسان کے دِل میں یہ بات راسخ کردی کہ معاشرتی زندگی میں ہی بقا اور ترقّی کا راز مضمِر ہے جب کہ تنہا اِنسان سب کچھ خود نہیں کر سکتا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب اِنسانی آبادی میں اضافہ ہونے لگا تو بہت سے نظام اور زندگی گزارنے کے طور طریقے وجود میں آئے، گاؤں، دیہات، شہر، صوبے، ملک اور سلطنتیں وجود میں آئیں۔ قوانین بنے، دستور بنائے گئے، سماجی زندگی کے اصول وضع کیے گئے لیکن سب کی بنیادی اکائی ماضی میں بھی معاشرہ ہی تھا اور آج بھی معاشرہ ہی ہے۔

دُنیا میں موجود کسی بھی معاشرے کو جسم سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، اگر جسم کے تمام اعضاء بوقتِ ضرورت اپنے اپنے حصّے کے افعال خوش اسلوبی سے سر انجام دیتے رہیں تو جِسم فعال اور صحتمند رہتا ہے اور اگر کوئی عضو بیمار یا ناکارہ ہو جائے تو جسم بیمار یا مفلوج ہو جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر معاشرہ قانون کی پاسداری کرے اور درست طریقے سے حقوق و فرائض کی انجام دہی پر کاربند رہے تو ایسا معاشرہ ایک مثالی اور خوشحال معاشرہ تصوّر کیا جاتا ہے جب کہ اگر معاشرے کا کوئی طبقہ اپنے حصّے کا کام مروّجہ اصولوں کے مطابق انجام نہیں دیتا تو معاشرے میں بِگاڑ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اور آہستہ آہستہ وہ معاشرہ تنزّلی کا شکار اور بدحالی کی تصویر بن جاتا ہے۔ جس طرح جسم کو مِلنے والی خوراک اور آکسیجن اس کے زندہ رہنے کے لئے بنیادی کردار ادا کرتی ہے بالکل اِسی طرح معاشرے کی زندگی بھی قانون اور اخلاقیات سے مشروط ہے۔

ایک صحت مند معاشرہ بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھنے کے بعد ہی اپنی ارتقائی منازِل طے کرتا ہوا بام عروج پر پہنچتا ہے۔

اگر ماضی قریب اور دورِ حاضر کے معاشرتی رویّوں کا بہ نظرِ غائر جائزہ لیا جائے تو یہ عقدہ کشائی ہوتی ہے کہ ہمارے معاشرے کی اخلاقی انحطاط پذیری کا گراف گزشتہ چند سالوں میں بہت ہی تیزی سے اوپر کی طرف گیا ہے۔ اور بلاشبہ اِس کی ہمہ جہت لاتعداد وجوہات ہیں جو قابلِ توجّہ بھی ہیں اور قابلِ اصلاح بھی، لیکن بدقسمتی سے ان کا بروقت تدارک نہیں کیا جا سکا۔ نتیجتاً آج ہمارے معاشرے میں لاقانونیت اور اخلاقی پستی جِس سطح پر پہنچ چکی ہے وہ ہماری معاشرتی زندگی کی تنزّلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

80 کی دہائی میں پیدا ہونے والے افراد اِس بات کی تصدیق کریں گے قطع نظر اِس بات کے، کہ اُن کا بچپن غربت میں گزرا یا آسائشوں کی بھرمار میں، لیکن یہ بات ضرور تھی کہ اُن کے والدین نے اُنہیں جِس وضع داری سے پروان چڑھایا وہ آج کے دور میں عُنقا ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے معاشرے میں اکثریت اُن والدین کی ہی ہے جو 80 کی دہائی میں پیدا ہوئے تھے اور آج نئی نسل کی پرورش کی ذمّہ داری اُن کے کندھوں پر آ چکی ہے لیکن اپنے بزرگوں کی اخلاقی اور معاشرتی اقدار کا امین ہونے کے باوجود یہ لوگ وہ اقدار اپنی نئی نسل کو منتقل کرنے میں پوری طرح کامیاب دکھائی نہیں دیتے۔ جِس میں بہت سے عوامل کے علاوہ سب سے اہم ہمارے رہن سہن اور طرزِ زندگی کا تبدیل ہونا ہے۔

اگرچہ یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں اِس دُنیا نے ترقّی کی منازِل جِس برق رفتاری سے طے کی ہیں وہ ترقی انسانی زندگی کی تبدیلی میں سب سے اہم موڑ ثابت ہوئی ہے۔ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ جِس تیز رفتاری سے ہم نے اپنی اقدار اور وضع داری کا دامن ہاتھ سے چھوڑا ہے یہ بھی ایک المیے سے کم نہیں۔ کیونکہ اِن اقدار کو ترک کر دینے کا نتیجہ ہی ہے کہ آج معاشرے میں لاقانونیت کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جو کہ ہمارے معاشرتی بگاڑ کا سب سے اہم پہلو ہے۔

دورِ حاضِر میں ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کی چکا چوند کے مقابلے میں بالمشافہ سماجی روابط کی کمی نے ہم سب کو بہت زیادہ محدود کر دیا ہے۔ اور صورتحال یہاں تک پہنچ چُکی ہے کہ سالوں بعد مِلنے والے عزیز و اقارب بھی اگر کسی موقع پر اکٹّھے ہو جائیں تو ایک جگہ پر موجود ہوتے ہوئے بھی تھوڑی ہی دیر میں وہ سب ایک دوسرے کی موجودگی کو نظر انداز کر کے اپنے اپنے موبائل کے ساتھ مصروفِ عمل نظر آئیں گے۔ بدقِسمتی سے بنیادی تبدیلی جو ہماری طرزِ معاشرت میں آئی ہے وہ یہ ہی ہے۔

اور اِس میں بچوں یا بڑوں کو کوئی استثناء حاصل نہیں۔ ہم سب ہی اِسی طریقے سے زندگی گزار رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہر شخص کی اپنی اپنی مخصوص دِلچسپیاں ہیں اور وہ اُن ہی میں وقت گزار کر مطمئن ہے جیسا کہ ابتدائی دور کے اِنسان کی دِلچسپی صرف اپنی خوراک کے حصول اور اپنی ذات کی حفاظت تک تھی بالکل ویسے ہی ہم نے بھی اپنی کچھ خود ساختہ دِلچسپیاں بنا لی ہیں اور ابتدائی دور کے اِنسان کی طرح اپنی ذات تک محدود ہو کر رہے گئے ہیں۔

اور اِس میں قصور ڈیجیٹل میڈیا یا سوشل میڈیا کا نہیں ہے بلکہ اُن رویّوں کا ہے جو ہمارے معاشرے میں بہت تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ ہم اب ضرورت یا مطلب کے بغیر کسی قریبی سے قریبی دوست، عزیز یا رشتہ دار کو وقت دینا پسند نہیں کرتے۔ ہم اپنے اردگرد سے بے خبر اور اپنے ماحول سے بے نیاز ایک ہی کام میں لگے ہوئے ہیں اور وہ ہے اپنی ذات کی حفاظت اور اپنی خواہشات کا حصول، شاید انہی رویّوں کے مطابق زندگی گزارنے کو ہم ترقّی سمجھ بیٹھے ہیں۔ جب کہ یہ ہی رویّے ہماری انسان زندگی کے ابتدائی دور میں واپسی کی عکّاسی کرتے ہیں

Facebook Comments HS