خوش نصیب موسیقار اختر اللہ دتّہ


فن و موسیقی سے پیار کرنے والے ای ایم آئی سے متعلق تنویر آفریدی اور پی ٹی وی کے پروڈیوسر قیصر امام نقی صاحبان سے علم ہوا کہ میرے پیارے دوست اختر اللہ دتہ کراچی میں علیل ہیں۔ تب سے میں اُن کے بیٹے علی سے رابطہ میں ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ انہیں صحت عطا فرمائے۔ آمین!

اختر صاحب سے میری پہلی ملاقات

مجھ کو پی ٹی وی کراچی کے شعبہ پروگرام میں آئے ابھی دو ہی ماہ ہوئے تھے جب محمد علی شہکی کو ٹیلی وژن کی گزر گاہ میں آتے دیکھا۔ زمانۂ طالبِ علمی میں وہ این ای ڈی یونیورسٹی اور میں جامعہ کراچی میں تھا۔ شہکی جامعہ کراچی کے مختلف شعبوں میں ہونے والے فنکشنوں میں فن کا مظاہرہ کرتا اور میں بھی بینڈ کے ساتھ اسٹیج پر لائیو گاتا، اِس طرح ہماری اچھی دعا سلام تھی۔ پھر پی ٹی وی کراچی کے موسیقی کے پروگراموں کی وجہ سے شہکی کی شہرت ہو گئی۔ اُس دِن شہکی نے بتایا کہ وہ اللہ دتّہ گروپ کے ساتھ اسٹیج پر گا رہا ہے۔ اُسی شام شہکی نے ایک ہونے والے فنکشن میں آنے کی دعوت دی۔

وہاں پہنچتے ہی دو چیزوں نے سیکنڈوں میں میری توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی۔ ایک ساؤنڈ سسٹم دوسرا میوزک! یوں محسوس ہوا جیسے بارش کے بعد فضاء نکھر جائے، آسمان اور پھولوں کے رنگ اپنی اصل رنگت میں نظر آئیں! بس ویسا نکھار گانے والے اور تمام سازوں، بشمول ڈرم سیٹ کی آواز میں محسوس ہوا۔ میں تو مبہوت ہو کر رہ گیا۔ الیکٹرانک کا جدید سامان، پھر اُس کا درست استعمال، یہاں برابر کی چوٹ تھی! اِسی نے تو شہکی کے گانے کو تڑکا لگا دیا۔ گیت کے اختتام پر میں اسٹیج کے قریب آ گیا اور شہکی کو اشارہ کیا۔ وہ بہت خوش ہوا اور مجھے اوپر بُلوایا۔ سب سے پہلے اُس نے جاوید اللہ دتّہ المعروف جاوید بھائی سے ملاقات کروائی پھر اُن کے چھوٹے بھائی اختر اللہ دتّہ سے۔ یہ اختر صاحب سے میری پہلی ملاقات کی تمہید ہے۔

موسیقی میں تجربے

جاوید اللہ دتّہ شاید بڑا بھائی ہونے کی وجہ سے سنجیدہ شخصیت کے مالک تھے جبکہ اختر صاحب سے بہت جلد دوستانہ ہو گیا۔ اُسی زمانے میں خاتون پروڈیوسر سلطانہ صدیقی کے ساتھ ہفتہ وار موسیقی کا پروگرام ’سُر سنگم‘ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اِس 20 منٹ کے پروگرام میں دو یا ڈھائی منٹ کے 10 گیت شامل کرنے کا تجربہ کیا گیا۔ پہلے پروگرام کی طرزیں اختر صاحب نے بنائیں۔ اِس میں شاعر محمد ناصر ؔ نے دھنوں پر 10 گیت لکھے۔ کہنے کو یہ معمولی کام لگتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں! مثلاً ایک گیت ٹینا ثانی کی آواز میں تیار کیا۔ اس میں مغربی گائیکی کی طرح، پورے گیت ہی کو سیکنڈ اور تھرڈ کیا گیا:

پلکوں کی چھاؤں میں دھوپ نہیں تیرا ہی روپ ہے
جیون اِک آس ہے یہ آس ہے یہ کوئی بھول نہیں
سوچوں تو کچھ نہیں دیکھوں تو رنگ ہے چاہت کا سنگ ہے

بِلا شبہ یہ خاصا مشکل کام تھا۔ اِن تینوں آوازوں کے لیول کو پورے گیت میں یکساں رکھنا وہ بھی اِس طرح کہ مین آواز کا لیول باقی دو سے زیادہ ہو۔ سیکنڈ کا لیول اُس سے کم اور تھرڈ کا خفیف۔ ایسا کام پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا فلموں اور ٹی وی میں ضرورتاً ایک آدھ مصرعے یا شعر میں کبھی کبھار سُننے میں آ تا تھا۔ لیکن ایک پورا گیت ہی سیکنڈ اور تھرڈ کے کاؤنٹر کے ساتھ کرنا کم از کم میرے لئے ایک بالکل ہی نئی اور حیران کُن بات تھی۔ ٹینا نے بلا شبہ جی توڑ کر اِس گیت پر محنت کی۔ اختر صاحب کے لئے تو ایک زبردست چیلنج تھا کہ ایسا کام اِس سے قبل کراچی مرکز میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ شالیمار ریکارڈنگ کمپنی کے ریکارڈنگ انجینئر شریف اور سلیم قریشی صاحبان نے اختر اللہ دتّہ کے اِس خواب کو پورا کر کے کمال کر دیا اور توقع سے زیادہ خوبصورت نتائج دیے۔

اختر صاحب نے میرے ساتھ کئی ایک پروگرام کیے ۔ پھر میرا بیرونِ ملک جانا ہوا۔ وہاں سے بھی اُن سے رابطہ نہیں ٹوٹا۔ یہ بھی دل چسپی کی بات ہے کہ حضرت ”سرود“ بہت پُر اثر انداز میں بجاتے ہیں۔ پچھلی مرتبہ یہ مجھے اپنے گھر لے گئے اور اپنے ہاتھ سے بہت ہی لذیذ مچھلی بنا کر کھلائی۔ پھر انہوں نے سرود ٹیون کر کے راگ پیلو سُنایا۔ یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔ اختر صاحب ٹیلی وژن پروگراموں میں کئی مشہور گلوکاروں کو گوا چکے ہیں جیسے مہناز، عالمگیر، محمد علی شہکی، گلشن آرا سید، وہاب خان، غلام عباس، گُل بہار بانو، مجیب عالم وغیرہ۔ ماشاء اللہ اختر اللہ دتہ خوش نصیب موسیقار ہیں کہ جو طرز یا دھن سوچتے ہیں ہو بہو ویسے ہی صدا بند بھی کروا لیتے ہیں! یہ کام اُن کی دسترس میں ہے کیوں کہ وہ خود ایک ماہر ساؤنڈ انجینیئر ہیں اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر لیتے ہیں۔

کہانی کا آغاز

اختر صاحب نے مجھے اپنی کہانی سناتے ہوئے بتایا۔ میری کہانی کا آغاز ریفریجریٹر اور ائر کنڈیشنر کا کام سیکھنے سے ہوا۔ پھر والد صاحب انتقال کر گئے۔ میں اُس وقت ساتویں جماعت میں تھا۔ جہاں میں کام کرتا وہاں کچھ ایسے مسائل ہو گئے کہ مجھ سمیت سب کارکنوں نے استعفے دے دیے۔ اب میں نے تعلیم کے ساتھ گٹار بجانا شروع کر دیا اور آہستہ آہستہ فنکشنوں میں جانے لگا۔ سب سے زیادہ فنکشن لیاری میں ہوتے تھے۔

” ارے واہ! “ ۔ میں نے حیرت سے کہا۔

” جی ہاں! کون سا ایسا بڑا سنگر ہے جس نے لیاری میں نہیں گایا! اُستادوں نے بھی وہاں گایا جیسے اُستاد قدرت اللہ خان صاحب! وہاں کے لوگ سننے والے تھے۔ اب تو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے! پھر ٹیلی وژن اور فنکشنوں کا کام شروع کیا۔ اُس وقت ساز بجانے والے کم تھے۔ بعض کے پاس کی بورڈ یا گٹار نہیں ہوتے لہٰذا میوزیشن کرایہ پر ساز لاتے۔ پھر الیکٹرک گٹار کا رواج ہوا جس کے ساتھ ایمپلی فایئر بھی ضروری تھا جو ہمارے پاس نہیں تھا اس لئے ہم بھی یہ کرایہ پر لے کر ٹی وی کے پروگرام کرتے تھے“ ۔

” لاہور فلم انڈسٹری سے منسلک ہونے کا پس منظر کیا ہے؟“ ۔

” کراچی میں کچھ ملے جلے مسائل پیدا ہو گئے جن کی وجہ سے ہمیں لاہور منتقل ہونا پڑا۔ وہاں فلموں کے بہت سے گانے بجائے۔ تقریباً سب ہی میوزک کمپوزر کے ساتھ کام کیا۔ جیسے بزمی صاحب، نذیر علی، خلیل احمد، بخشی وزیر وغیرہ۔ پھر پاکستان ٹیلی وژن لاہور مرکز میں بھی کام کیا“ ۔

پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز میں بحیثیت میوزک کمپوزر:

” پھر میں کراچی آ گیا۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ پی ٹی وی میں پروڈیوسر عارفین کی کسی میوزک کمپوزر سے اَن بَن ہو گئی۔ اُنہوں نے مجھے کہا کہ تم ایک پروگرام بحیثیت میوزک کمپوزر کرو۔ میں پہلے تو ڈر گیا کیوں کہ میری بھی روزی روٹی یہ ساز بجانا ہی تھی۔ اس پر عارفین نے کہا کہ کچھ نہیں ہوتا۔ یہاں سے میں نے کمپوزر کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ یہ 1976 کی بات ہے اور پروگرام کا نام“ فروزاں ”تھا۔ اس کے ساتھ ہی مجھے پروڈیوسر شعیب منصور کا میوزک پروگرام“ جھرنے ”بھی مل گیا۔ اُس میں عالمگیر کی آواز میں میرا گانا ’ایک ہی نام کے کتنے چہرے، چہرے یاد رکھوں یا نام‘ اللہ کے کرم سے خاص و عام میں مقبول رہا۔ اس گیت کے بارے میں انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ محمد ناصرؔ پہلے ہی لکھ چکے تھے، میں نے بعد میں دھن بنائی۔ اختر صاحب نے سلطانہ صدیقی اور میرے موسیقی کے پروگراموں میں محمد ناصرؔ کے ساتھ بہت زیادہ کام کیا۔ انہوں نے ریحان اعظمی، صابرؔ ظفر، اسد محمد خان وغیرہ کے ساتھ بھی پروگرام کیے۔

اختر صاحب نے ٹی وی کے کئی ایک گانے اور ڈراموں کے تھیم سونگ بھی موزوں کیے۔ ’یہ زندگی ہے‘ ڈرامے کا بھی ٹائٹل سونگ مہناز کی آواز میں کیا : ’زندگی کے سب لمحے یادگار ہوتے ہیں۔ ‘ ۔

” آپ نے اس میں بیس گٹار کو ایک خاص پیٹرن/ انداز سے بجوایا۔ جو ہم نے اس سے قبل نہیں سُنا۔ یہ کیا کہانی تھی؟“ ۔

” ( ہنستے ہوئے ) بنیادی طور پر تو میں گٹارسٹ ہی ہوں۔ انگلش میوزک پیٹرن کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔ جیسے مائیکل جیکسن کا مشہورِ زمانہ ’بِلی جین ‘ Billie Jean۔ تو میں نے سوچا کہ میرا بھی کوئی گانا اس طرح کے پیٹرن پہ ہونا چاہیے۔ یہ پیٹرن بھی آٹھ ماترے کا ہے یعنی تین تال میں پورا ہے، جب کہ وہ غزل ہے! اس کو سننے کے بعد انور مقصود بہت خوش ہوئے ”۔

اپنا ذاتی آڈیو اسٹوڈیو بنانا:

” ہم لوگ شاداب اسٹوڈیو میں ریکارڈنگ کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میں ’فروزاں‘ کی ریکارڈنگ کرنے پہنچا تو اسٹوڈیو والوں نے کسی اور کو بکنگ دے رکھی تھی۔ ہم سب وہاں ہونے والی صدا بندی کے اختتام تک انتظار کرتے رہے۔ تب میں نے سوچا کہ کچھ کرنا چاہیے! ذہن میں ایک خیال آیا کہ میں اپنا اسٹوڈیو بناؤں۔ شاید میں پاکستان کا پہلا میوزیشن ہوں گا جس نے اسٹوڈیو بنایا! اس نے 1985 میں کام شروع کیا۔ اداکار اسلم پرویز کا بیٹا ریمِل ایک دن میرے پاس آ یا اور مجھ سے ایک جِنگل کروایا۔ بس یہ جِنگل کیا کیا جِنگلوں کی لائن لگ گئی اور میں ایڈورٹائزنگ کی طرف چلا گیا۔ ڈینڈی چیونگم، باٹا بائے چوائس، باٹا اسکول، گُل احمد کی لان، شربتِ جامِ شیریں وغیرہ۔ پھر تو اللہ کے کرم سے یہ لائن بہت خوبصورت چلی۔ اسی اسٹوڈیو میں پھر نئے گلوکار آڈیو کیسٹ ریکارڈ کرنے آنے لگے اور یہ سلسلہ چل نکلا“ ۔

” کبھی اپنی مرضی سے بھی کمپوزیشن کیں؟“ ۔

” مرضی سے کمپوزیشن نہیں ہو سکتیں! یہ ضرور ہے کہ کہیں چلتے ہوئے، بیٹھے ہوئے یا کسی ہورڈنگ سائن کو دیکھ کر ، کوئی شاعری دیکھ کر فوراً کوئی ٹیون خیال میں آ گئی۔ یہ آمد کی بات ہے! اب اگر دھن بنانے کے لئے خاص طور پر بیٹھیں گے تو وہ میکانکی عمل ہو گا ذہنی اختراع نہیں ہو گی! “ ۔

میں نے اختر صاحب کو لکھے ہوئے کی دھن بناتے اور دھن پر لکھواتے دونوں طرح سے دیکھا ہے۔ جب پوچھا کہ کون سا کام زیادہ آسان لگتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا:

” ظاہر ہے لکھے ہوئے کی دھن بنانا آسان ہوتا ہے۔ لکھے ہوئے کو اچھی طرح پڑھیں کہ اس کے احساسات کیا ہیں! کیا لکھا ہوا ہے۔ مثلاً ’سَت رنگی میری اوڑھنی کا اِک اِک رنگ میرا۔ ‘ اس مکھڑے میں ایک ہلکی پھلکی سی بات ہے۔ اب سمجھانا ہے کہ میری ست رنگی اوڑھنی کے کون کون سے خوش نُما رنگ ہیں اور بتانا ہے کہ وہ اتنی اچھی کیوں لگ رہی ہے! یہ ہی دھن کی اصل خوبصورتی بھی ہے۔ دھن اچھی ہی تب لگے گی جب بول اچھے لکھے ہوں گے۔ جو بول لکھنے سے پہلے ٹیون بنتی ہے وہ بھی اچھی ہوتی ہے“ ۔

” میوزیشن کی حیثیت سے آپ نے بہت سے موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔ کس کے ساتھ کام کرنا اچھا لگا؟“ ۔

” سہیل رعنا بھی بہت اچھے تھے۔ تمام موسیقار اپنی اپنی کلاس میں خوب تھے۔ دیبو بھٹہ چاریہ تو اپنا سارا میوزک خود بناتے تھے۔ یہ نہیں کہ ارینجر کو کہہ دیا کہ میوزک بناؤ! وہ ٹیون بھی خود بناتے تھے“ ۔

” نئے پرانے بہت سے گلوکاروں کے ساتھ آپ نے کام کیا۔ ایک تاثر ہے کہ مہناز نے آپ کی کمپوزیشن کا حق ادا کر دیا۔ یہ بات کہاں تک صحیح ہے؟“۔

” اس میں کوئی شک نہیں ہے! مہناز بہترین گانے والی تھی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اُس کی اردو بہت اچھی تھی۔ لگتا تھا کہ واقعی یہ ہی اردو گانا ہے! وہ جب گاتی تو گانا پڑھا لکھا لگتا! مجھے یاد نہیں کہ کبھی لمبی ٹیک ہوئی ہوں۔ ایک دفعہ ریہرسل اور پھر براہِ راست ریکارڈنگ“۔

ایک سوال کے جواب میں اختر صاحب نے کہا : ”اب تو اتنی آسانیاں ہیں کہ آپ بے سُرا گائیں، میں اس کو بھی سُر میں کر دوں گا“ ۔

” بے تالے کے لئے کیا کہیں گے؟ کیا وہ تال میں لایا جا سکتا ہے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

اختر صاحب نے بے ساختہ ہنستے ہوئے کہا: ”بے تالے کو صحیح نہیں کر سکتے لیکن بے سُرے کو سُر میں کر سکتے ہیں“ ۔

” جس بے سُرے سنگر کو آپ نے سُر میں کروا کر ریکارڈ کیا، وہ اسٹیج پر لائیو گائے تو ۔ ؟“۔

” تو وہ بے سرا ہی گائے گا وہاں جو ہے وہ ہی رہے گا“ ۔

” اختر صاحب! سب کچھ پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملا ہو گا۔ آپ نے کٹھن وقت بھی گزارا؟“

” نہیں نہیں! سب کچھ پلیٹ میں رکھا ہوا نہیں ملا! ہم نے بڑا سخت وقت گزارا۔ تب ڈھائی ہزار روپے کی ہونڈا 70 موٹر سائیکل آتی تھی۔ ہمارے پاس وہ بھی نہیں تھے۔ ریڈیو پاکستان میں مجھ سمیت وہ میوزیشن جو اسٹاف آرٹسٹ نہیں تھے اُن کی 21 دن کی تنخواہ 300 روپے تھی“ ۔

” جب میرا اسٹوڈیو شروع ہو گیا تو میرے بچوں کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ گھر پر وہ اکیلے ہوتے لہٰذا پڑھنے کے بعد وہ اسٹوڈیو آ جاتے۔ یہاں سے کچھ سیکھنا شروع کیا۔ مشاہدہ کرنے سے شوق بھی پیدا ہوا۔ یوں رفتہ رفتہ ریکارڈنگ کرنا اور تھوڑا بہت بجانا بھی سیکھ گئے۔ کمرشل کی کمنٹری اور وائس اوور بھی سیکھ لیا۔ بڑا بیٹا تو کمنٹری میں چل نکلا۔ دونوں میوزک بھی کر لیتے ہیں۔ اب ماشاء اللہ یہ دونوں اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں۔ بڑا بیٹا بِلال بیک گراؤنڈ میوزک کرتا ہے۔ چھوٹے بیٹے علی کا زمزمہ پر اپنا سیٹ اپ ہے۔ وہ میوزک اور بیک گراؤنڈ کرتا اور گا بھی لیتا ہے ”۔

” کیا آپ مطمئن ہیں؟“

اللہ نے اتنا کچھ دیا ہے کہ میں سوچ بھی نہیں سکتا! ٹھیک ہے ہم سب نے بے حد جدوجہد کی۔ ہمارے پاس کچھ بھی نہ تھا اور اللہ نے سب ہی کچھ دے دیا تو ہم جتنا شکر ادا کریں وہ کم ہے”۔

نگار ویکلی اور نگار ایوارڈ کے بارے میں انہوں نے کہا: ”نگار ویکلی تو بچپن سے دیکھتے اور پڑھتے آئے ہیں۔ میٹروپول ہوٹل میں یہ ایوارڈ ہوتا تھا۔ ہم بھی کسی طرح اندر جانے کے لئے بے چین ہوتے اور بہترین کپڑے پہن کر نگار ایوارڈ دیکھنے جاتے۔ مجھے آج تک نگار ایوارڈ کا میٹروپول ہوٹل میں ایک بہت بڑا فنکشن یاد ہے جس میں طافو صاحب بھی بجانے کے لئے لاہور سے آئے تھے۔ میں دعا گو ہوں کہ وہ زرین دور پھر سے پلٹ کر آئے اور یہ ایوارڈ شروع ہو”۔

Facebook Comments HS