عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر: سعدی یوسف
”دیکھو نا۔ ماموں نے میری طرف دیکھا تھا۔ یہ کیسی بدقسمتی ہے کہ آپ اپنے وطن نہ جا سکیں۔ صدی کا چوتھائی حصّہ یعنی پورے پچیس سال ہوتے ہیں وہ عراق نہیں گیا۔ اس نے بغداد نہیں دیکھا۔ وہ بصرہ نہیں گیا۔ بصرہ جہاں اس نے جنم لیا، جہاں اس کا بچپن گزرا، جہاں اس کا خاندان ہے، جہاں اس کی ماں جیسی بڑی بہنیں اس کی راہ تکتی ہیں۔ اس کا گہرا دوست الجواری بھی ابھی تک دمشق میں ہی ہے۔
ہاں ماموں نے جب یہ کہا کہ اب جب صدام اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے تو اس کی واپسی کا امکان بھی بڑا روشن ہے۔ چلو میں نے تھوڑی سی خوشی محسوس کی۔
میں سالوں تک یہ نہ جان سکی کہ انہیں اپنے وطن جانا نصیب ہوا یا نہیں۔ میرے رشید ماموں فوت ہو گئے تھے۔ اگست 2003 میں اُن کو دل کا دورہ پڑا تھا۔ اور سچی بات ہے میری زندگی اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا کی تفسیر بنی ہوئی تھی۔ ستم ہائے روزگار نے ذرا سی فراغت دی تو دل عراق جانے کے لئے مچلنے لگا۔
سعدی یوسف کے وطن عراق۔ اپنے خوابوں کے شہر بغداد کو دیکھنے کی کتنی آرزو تھی۔ معلوم نہیں ظالموں نے اُس کا کیا حشر کیا تھا۔
انہی دنوں 2006 کے لگ بھگ جب میں بغداد کے کے لئے کِسی ساتھی خاتون کی تلاش میں تھی۔ پاکستان کے خوبصورت شاعر شہزاد نیئر نے مجھے طارق علی کی کتاب Bush in Babylon پڑھنے کو دی۔ کتاب کے مطالعہ نے مجھے بتایا کہ شاعر تو اپنے وطن جا ہی نہیں سکا کہ نئے آقاؤں کے گماشتوں نے اُسے بین کروا دیا تھا۔
لندن میں اپنے گھر میں بیٹھے جب وہ ٹی وی پر لندن کے ہی ایک ہوٹل میں عراقی غداروں اور عراقی سامراجی پٹھووں کو نئی گورننگ باڈی میں میٹنگ کرتے دیکھتے ہیں تو حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ اُن کے تصور میں ایکا ایکی وہ منظر ابھرتا ہے جو اُن کے بصرہ اور اس کے مضافات میں گرمیوں کی راتوں میں کھلے آسمان تلے سوتے معصوم دیہاتیوں کی نیند خراب کرنے گیدڑوں کے غول آتے تھے۔ یہ کچھ غل غپاڑہ مچاتے، کچھ لڑتے جھگڑتے، کچھ جاگنے والے کِسی دیہاتی سے اینٹ روڑا کھاتے تھے۔ تو یہ منظر بھی بعینہٰ ویسا ہی تھا۔ وہ اپنے گہرے دوست مظفر النواب کو مخاطب کرتے ہیں۔
او مظفر النواب! میرے عزیز دوست۔
”اس گیدڑوں کی بارات کا کیا کریں۔“
تمہیں یاد ہیں وہ پرانے دن
شام کی لطیف سی ٹھنڈک میں
بانس کی چھت تلے روئی سے بھرے تکیوں سے ٹیک لگائے
قہوے کی چسکیاں
دوستوں کے جمگھٹے میں
رات کتنی نرمی سے ڈھلتی چلی جاتی ہے
جیسے زبان سے نکلے الفاظ
مٹی سے دھویں کے مرغولے اٹھتے ہیں
تب
لمبی گھاس اور کھجور کے درختوں کے عقب سے شور آتا ہے
گیدڑوں کی بارات
او مظفر النواب
آج کیا گزرا ہوا کل ہے
سچ یہ ہے کہ ہم اِن گیدڑوں کی دعوت ولیمہ میں آئے ہیں
ان کا دعوت نامہ پڑھا ہے
آؤ اک معاہدہ کرتے ہیں
تمہاری جگہ اِن سے ملنے میں جاؤں گا
میں اِن گیدڑوں کے منہ پر تھوکوں گا
میں اِن فہرستوں پر تھوکوں گا
میں انہیں بتاؤں گا
ہم اہل عراق
ہم جو اس دھرتی کی تاریخ کے وارث ہیں
ہمیں اپنی بانس کی معمولی چھت پر فخر ہے
یہ نظم تو منٹوں میں بغداد اور بصرہ پہنچ گئی تھی۔ عراق کے گاؤں گاؤں گھومی۔ سعدی یوسف پر لعن طعن کی بوچھاڑ برسنے لگی۔ دھمکیاں ملنے لگیں۔ جن دو ہزار افراد کی عراق میں داخل نہ ہونے کی لسٹیں بنیں اُن میں سعدی یوسف سرفہرست تھا۔ جنرل ٹامی فرینکس کے نام سعدی یوسف کا خط بھی بڑا مشہور ہوا۔ شاعر نے بھگو بھگو کر جوتیاں ماریں۔
اُس کی شاعری کے کوئی تیس کے قریب مجموعے ہیں۔ دو ناول اور پانچ کہانیوں کی کتابیں ہیں۔
سعدی یوسف فیض احمد فیض سے نہ صرف بیروت میں مل چکے تھے بلکہ اُن کا وہ سارا کلام جو انگریزی میں ترجمہ ہو چکا تھا بھی پڑھ بیٹھے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ فیض کے بہت مدّاح تھے۔
یہ 2008 ہے اور میں الف لیلیٰ کے بغداد میں ہوں۔ میرا خوابوں کا شہر کتنی بار اجڑا اور کتنی بار بسا۔ یہ میرے پسندیدہ شاعر سعدی یوسف کا بغداد ہے جسے یہاں سے جاکر واپس آنا نصیب نہ ہوا۔ یہ میرے ماموں رشید کا بغداد ہے۔ اِس کے گلی کوچوں میں کہیں ان کے قدموں کے نشان، اس کی ہواؤں میں کہیں ان کی آواز کی بازگشت مجھے سنائی دیتی ہے۔ یہ وہ شہر ہے جس کی قدامت اور عظمت کے وہ گن گاتے تھے۔
میری یہ کیسی خوش قسمتی کہ مجھے افلاق جیسا بیبا اور پیارا بچہ ڈرائیور کی صورت میں ملا۔ جس نے میری للک دیکھ کر مجھے اس کا چپہ چپہ دکھانے کا وعدہ کیا ہے۔ بغداد ابھی بھی حالت جنگ میں ہے۔ امریکی ابھی بھی ہر اہم جگہ پر جٹ جپھا ڈالے بیٹھے ہیں۔ بہرحال معمولات زندگی اسی انداز میں رواں دواں ہیں۔ راتیں جوان اور دجلہ کی رونقیں تاباں ہیں۔ زندگی یقیناً اسی کا نام ہے۔
میں پرانے بغداد کے اُن کیفوں، قہوہ خانوں اور ادبی کافی ہاؤسوں میں جانے کے لیے مری جا رہی ہوں۔ ایک تو میرے ماموں رشید اِن جگہوں پر جاتے تھے دوسرا میرے اُس شاعر کی جوانی کا عروج انہی جگہوں پر جبر کے تھپیڑے کھاتے گزرا تھا۔ مجھے مُنتدرل زیدی سے بھی ملنے جانا تھا۔ وہی دلبر بچہ بش کے منہ پر جوتا مارنے والا۔
افلاق نے مجھے شہدا برج پر مستنصریہ مدرسہ کی ملحقہ مسجد ال آصفہ میں اُتارا۔ بالعموم میں بغداد کی 55 ڈگری پر پہنچی ہوئی گرم ترین دوپہر کے چند گھنٹے کِسی مسجد کے ٹھنڈے خواتین والے حصّے میں گزارتی ہوں۔
آج لیٹی ضرور تھی مگر نہ آنکھیں بند ہوئیں اور نہ اعضاء نے آرام کی خواہش کی۔ وجہ جانتی ہوں۔ ساتھ ہی المتنابی سٹریٹ ہے نا۔ جہاں کتابوں کی دنیا ہے۔ میں اٹھی اور باہر نکل آئی۔ داخلہ آسمان کو چھوتی محراب سے ہوا۔ کہیں کہیں عمارتوں کی بالکونیاں ایک دوسرے سے جھپّیاں ڈالنے کو مچلتی نظر آئی تھیں۔
عراقی روشن خیال قوم ہے۔ اپنے ثقافتی اور تہذیبی ورثے پر ناز کرنا جانتی ہے۔ انہیں باعزت اور قابل فخر مقام دیتی ہے۔ ماضی کا متنازعہ شاعر ابو نواس ہو، المتنابی ہو، بغداد کے کوچہ و بازار میں عظمتوں کے تاج پہنے کھڑے ہیں۔ بلا سے کوئی مرتد تھا یا پیغمبری کا دعوے دار۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کوفے میں 915 ہجری میں پیدا ہونے والا المتنابی اپنی شاعری میں پختہ کار تھا۔ قصیدہ گوئی میں کمال کو پہنچا ہوا تھا۔ تقریباً ساڑھے تین سو نظمیں اس کی داستان زندگی کی بہت سی پرتوں کو کھولتی ہیں۔ اپنی غیر معمولی ذہانت، حاضر جوابی، بذلہ سنجی اور کلام کی طاقت سے پوری طرح آگاہ تھا۔
جاری ہے۔


