سی ایس ایس کے امتحان میں ناکامی کے اسباب


بلاشبہ سی ایس ایس کو تحریری مقابلوں کے امتحانات میں سب سے مشکل سمجھا جاتا ہے۔ عموماً سی ایس ایس میں پاس ہونے والے امیدواروں کی شرح دو فیصد سے کم ہوتی ہے۔ دوسری طرف ہر سال سی ایس ایس کے امتحان میں قسمت آزمائی کرنے والوں کی تعداد بڑھتی رہتی ہے۔ پچھلے سال سب سے زیادہ تیرہ ہزار امیدواروں نے تحریری امتحان دیا اور ان میں سے صرف دو سو دس خوش قسمت کامیاب قرار پائے۔ اگرچہ سی ایس ایس کے امتحان کے طریقہ کار، سلیبس اور امیدواروں کی ذہنی صلاحیتوں کو جانچنے کے عمل پہ کچھ سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔

کچھ نقاد اس پورے امتحانی عمل کو عصر جدید کے تقاضوں کے ہم آہنگ بنانے کے لئے اس امتحان کے ازسر نو جائزے کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں۔ دوسری طرف کچھ نقاد اس امتحان کو امیدواروں کی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ مشکل قرار دے کر فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے اس میں کچھ ایسے ترامیم کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں تاکہ اوسط درجے کے امیدوار بھی اس کو پاس کرنے کے قابل ہو جائے۔ ان تمام تجاویز اور اعتراضات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے 2019 کے امتحان کے بعد ایک کمیٹی تشکیل دی جس کی بنیادی ذمہ داری امیدواروں کے ناکامی کے اسباب معلوم کرنا تھے۔

اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں امیدواروں کے ناکامی کے چند بنیادی اسباب بیان کیے تھے جن میں سے مضامین کی بنیادی سمجھ بوجھ، تجزیاتی صلاحیتوں اور علم کا عصر حاضر کے حالات و واقعات پہ لاگو کرنے کے ہنر کا فقدان قابل ذکر ہیں۔ اگرچہ سی ایس ایس کے امیدواروں میں یہ تمام کمزوریاں پائی جاتی ہیں لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امیدوار ان کمزوریوں کو سدھار کیوں نہیں پا رہے ہیں؟ یہی سوال پچھلے کچھ عرصے سے میرے ذہین میں آ رہا تھا اور اپنی سمجھ بوجھ اور تجربے کی بنیاد پر میں نے اس کی جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔

سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری کروانے والے ایک معروف اکیڈمی میں تین سال پڑھانے کے بعد میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ تقریباً پچاس فیصد امیدوار کسی معاشرتی دباؤ کی وجہ سے امتحان میں قسمت آزمائی کرتے ہیں ورنہ نہ تو وہ اس امتحان کو پاس کرنے کے قابل ہوتے ہیں اور نہ ہی سنجیدہ۔ اس صورتحال میں والدین کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر اپنے بچوں کو سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری کے لئے مجبور نہ کریں۔ بلکہ وہ اپنے بچوں کی ایسی حوصلہ افزائی کریں کہ ان کا بچہ جس فیلڈ میں دلچسپی رکھتا ہے اسی میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔

دوسرا اہم نقطہ جس کی وجہ سے امیدوار اپنی کمزوریاں سدھار نہیں پا رہے وہ سی ایس ایس کی تیاری کے نام پر کھولے گئے اکیڈمیز کا غیر پیشہ ورانہ طرز عمل ہے۔ اکیڈمیز کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں پہ سبجیکٹ سپیشلسٹ کی خدمات نہیں لی جاتی جو بچوں کو کسی مضمون کا بنیادی عمل دے سکے۔ اکثر اکیڈمیز میں بیوروکریٹس پڑھاتے ہیں جو پروفیشنل ٹیچرز نہیں ہوتے۔ اکیڈمیز اس لئے بیوروکریٹس سے پڑھاتے ہیں کہ وہ برینڈ بن چکے ہوتے ہیں۔

اس صورت میں پڑھانے کی صلاحیت سے زیادہ بیورو کریٹ ہونا اہم ہوجاتا ہے۔ عموماً ایسے بیوروکریٹ ہر فن مولا ہوتے ہیں، ایک ہی بندہ انگریزی کا مضمون، سیاسیات، حالات حاضرہ اور اسلامیات پڑھا رہا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور نقطہ بھی غور طلب ہے۔ وہ یہ کہ جب کوئی اکیڈمی مشہور ہو جائے پھر وہ دو تین اچھے ٹیچرز رکھ لیتی ہے جن کی وجہ سے اکیڈمی چلتی ہے اور باقی یاری دوستی اور جان پہچان والوں کو رکھ لیتے ہیں۔ چونکہ آج کل اکیڈمیز بہت بڑا بزنس بن چکے ہیں اس لئے اکیڈمی مالکان اپنے فیملی والوں کو کمانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

جن میں سی ایس ایس کے بچوں کو پڑھانے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ میں نے اکیڈمی کے ساتھ اپنے تین سالہ وابستگی میں اس بات کو نوٹ کیا ہے کہ اکثر طلباء اکیڈمی کے ٹیچرز سے مطمئن نہیں ہوتے لیکن چونکہ اکیڈمی والے ایڈوانس میں فیس لے لیتے ہیں اس لئے طلباء کو چار و ناچار کمپرومائز کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے چند سالوں سے اکیڈمیز سے پڑھ کر پاس ہونے والوں کی شرح بھی کافی حد تک گر گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور نقطہ بھی توجہ طلب ہے۔

ہم پاکستانی بحیثیت قوم محنت کرنے سے کتراتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہر جگہ شارٹ کٹ کا استعمال کیا جائے اور یہی چیز سی ایس ایس کے امیدواروں میں بھی نظر آتی ہے۔ اکثر طلباء اچھے اور فیڈرل سروس کمیشن کے تجویز کردہ کتابیں پڑھنے کی بجائے نوٹس اور گائیڈ پہ انحصار کرتے ہیں۔ اور اب رہی سہی کسر چیٹ جی پی ٹی نے پوری کرلی۔ جو تھوڑی بہت پڑھائی ہوتی تھی چیٹ جی پی ٹی کہ وجہ سے وہ بھی نہی ہوتی۔ مثال کے طور پر میری جب بھی طلباء کے ساتھ پولیٹیکل سائنس کے حوالے سے بات ہوتی ہے تو اکثر طلباء نوٹس سے تیاری کر رہے ہوتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ مظہر الحق کو پڑھ لیتے ہیں۔

پچھلے تین سالوں میں شاذ و نادر ہی مجھے ایسے طلباء ملے ہیں جن کو پولیٹیکل سائنس کے غیر ملکی مصنفین کے لکھے ہوئے پانچ مستند کتابوں کے نام یاد ہو۔ لہٰذا پروفیشنل ٹیچرز کی رہنمائی اور مستند کتابیں پڑھے بغیر سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی واقعی سنجیدگی سے سی ایس ایس پاس کرنے کا سوچ رہا ہے تو اس کو اکیڈمیز سے ہٹ کر دیکھنا ہو گا۔ اکیڈمی سے طلباء دو تین روایتی چیزیں تو سیکھ سکتے ہیں لیکن کسی مضمون کا بنیادی علم اکیڈمی سے نہیں سیکھا جا سکتا۔ اس لئے طلباء کے لئے ضروری ہے کہ وہ یونیورسٹی سے اپنا ناتا جوڑے رکھئے۔ ایک اچھا پروفیسر آپ کو پانچ منٹ میں وہ گر سکھا سکتا ہے جو ایک بیوروکریٹ پانچ مہینے میں نہیں سکھا سکتا۔

Facebook Comments HS