سندھ کے معروف لوک گلوکار: فقیر امیر بخش


تحریر: شیخ عزیز

ترجمہ: یاسر قاضی

سندھی موسیقی کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کی ماہیت کسی اور خطے کے نظامِ موسیقی سے مستعار لی ہوئی ہے، بجا نہ ہوگا۔ کیونکہ سندھی موسیقی کی ترتیب اور اندازِ پیشکش کچھ اس قسم کا ہے، کہ اس کو کُلی طور پر لوک موسیقی میں بھی شامل نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی اس کو خالصتاً کلاسیکی موسیقی میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ اس کی جگہ پر اُسے باآسانی تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک موضوع کے لحاظ سے وہ راگنیاں، جو مختلف شعراء نے اپنے کلام کے ذریعے کہیں اور وہ مخصوص دُهنوں میں سما کر اس کلام کے زیرِ عنوان آگئیں۔ دُوسرا حصہ وہ، جو ہماری روزمرہ کی زندگی اور روزانہ کے مختلف شعبہ جات کی عکاسی کرنے والے موضوعات سے پُر ہے اور اُسی سے متاثر ہے۔ اس حصے میں لوک گیت، سہرے، مزاحیہ طرزیں وغیرہ آ جاتی ہیں۔ جبکہ ہماری موسیقی کا تیسرا خاص حصّہ مذہب سے زیادہ متاثر محسُوس ہوتا ہے۔ صوفیانہ اندازِ گائیکی اس تیسری قسم سے نکلا ہوا انداز ہے، جو ہمارے گائکوں اور موسیقاروں کی برسوں کی محنتوں اور رياضتوں کے بعد موجودہ معیار پر آن پہنچا ہے۔ اس کو اس نہج پر پہنچانے کے لیے سندھ کے فقیروں، درویشوں، صوفیاء اور شاعروں میں سے جس جس نے کمال محنت کا ثبوت دیا ہے، ان میں منٹھار فقیر راجڑ کو بھی ایک اہم رتبہ حاصل ہے۔ منٹهار فقیر کو ان کی شاعری خواہ موسيقی کے ایک اعتبار سے ایک بہت بڑے مکتبِ فکر کی حیثیت حاصل ہے اور آج فقیر امیر بخش ہی واحد گائک ہیں، جو منٹھار فقیر راجڑ کے انداز کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ عوامی فنکار آج سے تقریباً 50 سال پہلے (1918ء میں: مترجم) سندھ میں ضلع سانگھڑ کے تعلقہ سنجھورو کے کلوئی خاندان کے خوشحال شخص، رئیس بخشن خان کے گھر گوٹھ بخشن خان کلوئی بلوچ میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے فقیر صاحب کو موسیقی کے ساتھ غیر معمولی لگاؤ اور شغف تها۔ اوپر سے سونے پہ سہاگا، اُن کو اس وقت کے نامور عوامی گائکوں کی مجلسوں میں اٹھنے بیٹھنے اور ان کے اندازِ گائیکی کو دل سے سُننے کا موقع میسر ہوا، تو اس نے ان کے سنگيت کے شوق کو جِلا بخش کر بہت حد تک تقویت پہنچائی۔ یہی وجہ ہے کہ فقیر امير بخش باقاعدہ موسیقی سیکھنے کے لیے مجبور ہو گئے۔

وہ اپنے گرد و نواح کی کشش کے پیش نظر سندھ کے معرُوف بزرگ اور شاعر فقیر منٹھار راجڑ مرحوم کے خاص شاگرد گائک چ
ِبهڑ فقیر بِھیل کے بیٹے پريل فقیر بِھیل کی شاگردی میں داخل ہو گئے اور کافی عرصہ سخت محنت اور مُشقت کرنے کے بعد موسیقی میں دسترس حاصل کر کے سندھ کے نمائندہ لوک گائک بن گئے۔ لوک پسند انداز میں گانے والے سندھ کے معروف گائک کی حیثیت سے فقير امير بخش مغربی پاکستان کے تمام ریڈیو اسٹیشنز سے اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مغربی پاکستان کے جن جن علاقوں اور مشہور شہروں میں ثقافتی میلے منعقد ہوتے ہیں، وہاں کے راگ رنگ کی محفلوں میں بھی ان کی شرکت کو یقینی سمجھا جاتا ہے۔ فقیر امیر بخش کا اندازواسلوبِ گائیکی موجودہ دور کے سندھی گائکوں کے ڈھنگ سے بالکل نرالا ہے۔ ان کی آواز میں درد، سوز، تڑپ اور مِٹھاس بہت حد تک موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے اندازِ گائیکی اور ادائیگی میں قدیم زمانے کی ٹھیٹھ اور خالص سندھی گائیکی کا رنگ بھی جَھلکلتا ہے۔ روایتی سنگیت کے سازوں میں سے فقیر امیر بخش یکتارو (اِکتارے)، کھڑتال، چهير (گُھنگھرُو) بَندهے ڈنڈے اور گھڑے کو اپنے لیے بہت پسند فرماتے ہیں اور ہمیشہ ان ہی سازوں پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔

(
نوٹ: فقیر امیر بخش کے حوالے سے یہ تحریر 1968ء کے آسپاس شیخ عزیز صاحب نے لکھی، جو اس دور کے ايک معرُوف سندهی رسالے میں شائع ہوئی۔ یاد رہے کہ فقیر امیر بخش کا انتقال 1986ء میں ہوا تها۔ "انسائیکلوپیڈیا سِندهيانا” کے مطابق فقير امير بخش بیرانی (علاقے) کے پریل فقیر کے مُريد بنے۔ امير بخش کو شاعری اور راگ اپنے والد سے وراثت میں ملے، جو منٹھار فقیر راجڑ کے شاگرد تھے۔ اس نسبت سے منٹھار فقیر ان کے "دادا مُرشد” ٹھہرے۔ امير بخش نے منٹھار فقیر کے کلام کو بھی کثرت سے گایا۔ امير بخش نے 1958ء سے ریڈیو کے ذريعے اپنا فن عوام تک پہنچانا شروع کيا۔

Facebook Comments HS