ملک میں مذہبی انتہاپسندی اور سندھ


اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے، اور ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جس میں کسی شخص پر مذہبی گستاخی کا الزام نہ لگایا جاتا ہو۔ ہمارے ملک پاکستان میں 97 فیصد مسلمان بستے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہاں ہمیشہ اسلام کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ غیر مسلموں کے ساتھ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جنہیں آج تک عدالتیں ثابت نہیں کر سکیں کہ انہوں نے کوئی توہین کی تھی، مگر اب مسلمان اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر توہین مذہب کا الزام لگا کر اپنی عدالت لگا لیتے ہیں، اور انہیں مار کر جلا دیتے ہیں اور ان کی لاش کی بھی بے حرمتی کرتے ہیں۔ نہ وہ ملکی قانون کو مانتے ہیں اور نہ ہی کسی مذہبی شریعت پر یقین رکھتے ہیں۔

ملک میں گستاخی کے واقعات سب سے زیادہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہو رہے ہیں، مگر بلوچستان اور سندھ میں بھی ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

حال ہی میں عمرکوٹ میں ایک ڈاکٹر شاہنواز کمبھار کو توہین رسالت کے الزام میں میرپور خاص پولیس نے جعلی انکاؤنٹر میں قتل کر دیا۔ جو خبریں سامنے آئیں ہیں، ان میں کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ ڈاکٹر شاہنواز نے کوئی توہین رسالت کی ہو، کیونکہ اس نے فیس بک پوسٹوں میں لکھا تھا کہ اس کی آئی ڈی ہیک ہو چکی ہے اور وہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس کے باوجود مذہبی تنظیموں نے احتجاج کیا اور اس کے قتل کے فتوے دیے۔ احتجاج عمرکوٹ اور میرپور خاص تک پھیل گیا۔ پولیس نے ڈاکٹر شاہنواز کا انکاؤنٹر ظاہر کر کے اسے قتل کر دیا، اور بعد میں مذہبی تنظیموں نے پولیس افسران کا ریڈ کارپٹ پر استقبال کیا۔ ان پولیس افسران نے فخر سے خود کو عاشق رسول کا لقب دیا اور اس قتل کا دفاع کیا۔ ڈاکٹر شاہنواز کے قتل والے دن پورا سندھ خاموش رہا، لیکن اگلے دن سوشل میڈیا پر سندھ بھر میں احتجاج کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس قتل کی تحقیقات کی جائے۔

سندھ کی سول سوسائٹی اور معروف فنکار، جن میں مانجھی فقیر اور خوشبو لغاری شامل ہیں، عمرکوٹ پہنچے اور ڈاکٹر شاہنواز کی جنازہ نماز میں شرکت کی اور وارثوں سے تعزیت کی۔ فنکاروں نے ڈاکٹر شاہنواز کی قبر پر سندھ کے صوفیانہ کلام گائے اور دنیا کو بتایا کہ سندھ میں مذہبی انتہا پسندی کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

سندھ کے اس ردعمل نے پاکستان کے دیگر صوبوں کے لوگوں کو حیران کر دیا ہے، جو اپنے صوبوں میں ایسے واقعات پر خاموش رہتے ہیں۔ انہوں نے اس عمل کو سراہا کہ سندھ کے لوگ اس انتہا پسندی کے خلاف باہر نکلے ہیں۔

ہم سندھ والے پہلے ہی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سندھ ملک کے دیگر تینوں صوبوں سے مختلف ہے۔ سندھ کے لوگ امن پسند ہیں، اور وہ ہر قوم اور مذہب کے لوگوں کی عزت کرتے ہیں۔ یہاں ہندو اور مسلمان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ عید اور ہولی ایک ساتھ منائی جاتی ہیں، اور یہ ہزاروں سال پرانی تاریخ ہے جس پر ہم فخر کرتے ہیں۔ مگر یہ سب کچھ کسی اور صوبے میں ممکن نہیں۔ دیگر صوبوں میں غیر مسلم کو چھوڑیں، وہاں تو فرقہ واریت اور نفرت عروج پر ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہاں گستاخی کے زیادہ واقعات ہوتے ہیں۔ وہاں کی سول سوسائٹی بھی ان واقعات پر خاموش رہتی ہے، اور کوئی اس انتہا پسندی کو روکنے کے لیے سامنے نہیں آتا، مگر سندھ کی سول سوسائٹی مذہب کے نام پر قتل کو برداشت نہیں کرتی اور احتجاج ضرور ریکارڈ کرواتی ہے۔

اب ہم واپس آتے ہیں ڈاکٹر شاہنواز کے کیس پر، جس میں سندھ حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کا ایکسٹرا جوڈیشل قتل کیا گیا ہے اور پولیس نے جعلی انکاؤنٹر ظاہر کر کے اسے قتل کیا۔ اس کا اعلان سندھ کے وزیر داخلہ ضیا لنجار نے وزیر تعلیم سردار شاہ کے ساتھ پریس کانفرنس میں کیا۔ سردار شاہ کا تعلق بھی عمرکوٹ سے ہے، اور انہوں نے ڈاکٹر شاہنواز کے حوالے سے ایک بیان اسمبلی میں بھی دیا۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس بات کی ضرور تحقیقات ہونی چاہیے کہ عمرکوٹ کے ایس ایس پی کو کس نے ہدایت دی کہ ڈاکٹر شاہنواز کو میرپور خاص پولیس کے حوالے کیا جائے؟ کیا یہ ہدایات ڈی آئی جی جاوید جس کا نی نے دیں یا اوپر سے آئیں؟ اگر اس بات کا پتہ چل جائے تو کیس کے پیچھے موجود ہاتھوں کا بھی پتہ چل جائے گا۔

آخر میں، میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس کیس کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور سندھ ہائی کورٹ کے کسی معروف جج سے انکوائری کرائی جائے۔ میرا تو مشورہ ہے کہ یہ تحقیقات جج صلاح الدین پنہور سے کرائی جائیں تاکہ تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کو سزا دی جا سکے۔

Facebook Comments HS